,

 اسلحے کی روک تھام کے ضابطوں کی منسوخی: جنوبی ایشیا میں ڈیٹرنس اور سلامتی پر اثرات

 ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے روس کے ساتھ اسلحے کی روک تھام کے دو کلیدی معاہدوں انٹرمیڈیٹ رینج نیوکلیئر فورس ٹریٹی (آئی این ایف) اور حال ہی میں اوپن سکائیز ٹریٹی (او ایس ٹی) سے دستبرداری کے فیصلے نے اسلحے کی روک تھام اور جوہری عدم پھیلاؤ کے ان ضابطوں پر، جو برسہا برس سے عالمی امن و سلامتی کیلئے آفاقی بنیاد رہے ہیں، سوالیہ نشان کھڑے کردیئے ہیں۔ مئی ۲۰۲۰ میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے جوہری تجربوں کو دوبارہ شروع کرنے پر غور کی اطلاعات سے شکست و ریخت کا شکار ان ضابطوں کے حوالے سے تشویش میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ امریکہ نے ان معاہدوں سے دستبرداری اور جوہری تجربوں پر ایک بار پھر غور کے لئے دو بنیادی وجوہات بیان کی ہیں۔ اولاً روس کی جانب سے خلاف ورزیاں یا عدم تعاون؛ دوئم، بیجنگ کا فریق نہ ہونا اور معاہدوں پر دستخط میں ہچکچاہٹ۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ ان معاہدوں میں چین کو گھسیٹنے کی خواہش دراصل اس کی ۲۰۱۷ کی نیشنل سیکیورٹی سٹریٹجی کی اگلی کڑی ہے۔ اس حکمت عملی میں چین کو روس کے ہم پلہ  بنیادی تزویراتی حریف کی حیثیت دی گئی تھی۔

جوہری ہتھیاروں کی روک تھام کے معاہدوں کا خاتمہ چین، بھارت اور پاکستان کی سلامتی تعلقات کی تکون میں بھی مزید پیچیدگیوں کا موجب ہوسکتا ہے۔ جنوبی ایشیاء میں جوہری ہتھیاروں سے لیس ریاستیں اپنی جوہری پالیسی یا تو بین الاقوامی جوہری عدم پھیلاؤ کے ضوابط و روایات کے مطابق بناتی ہیں یا پھر وہ اپنے تزویراتی حریفوں کے حوالے سے جوہری پیش رفت کے مطابق فیصلے کرتی ہیں۔ جوہری عدم پھیلاؤ کے ضابطوں پر توجہ میں عالمی سطح پر کمی تزویراتی عدم توازن کا خطرہ بڑھا سکتی ہے، خطے میں ہتھیاروں کی خطرناک دوڑ کا سبب ہوسکتی ہے نیز خطے کی تمام جوہری ریاستیں یکے بعد دیگر اس کے اثرات کی لپیٹ میں آسکتی ہیں۔

آئی این ایف سے دستبرداری: جنوبی ایشیاء کے تزویراتی ماحول پر اثرات

 جنوبی ایشیا کے تزویراتی ماحول کو امریکہ و چین کے بیچ بڑی طاقت کا مقابلہ اورعالمی جغرافیائی سیاست نیز علاقائی سطح پر چین، بھارت اور پاکستان کے مابین تعلقات کی تکون کی نگاہ  سے دیکھا جاسکتا ہے۔ علیحدہ علیحدہ تزویراتی مفادات، فوج کو جدید ترین بنانے کا عمل نیز ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک ملک کی ترقی دوسرے ملک میں بھی اس جیسی پیش رفت کا سبب بنتی ہے جو نتیجتاً ان ممالک میں سلامتی کے حوالے سے کشمکش کا موجب ہوتی ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اسلحے کی روک تھام کے معاہدوں کا خاتمہ نہ صرف امریکہ، چین، روس کی تکون میں بلکہ چین، بھارت، پاکستان کی تکون میں بھی انارکی اور عدم توازن کا باعث ہوگا ۔ ۲۰۱۷ کی نیشنل سیکیورٹی سٹریٹجی میں چین، ایشیاء پسیفک کے علاقے میں امریکی قومی مفادات کیلئے بنیادی خطرے کے طور پر دیکھا گیا تھا۔ امریکی نقطہ نگاہ سے روایتی میزائلوں کے میدان میں خاص کر زمین سے مار کرنے والے، درمیانی فاصلے کے بیلسٹک اور کروز میزائلوں کے ضمن میں چینی پیشقدمی کو روس کے ساتھ اسلحے کی روک تھام کے معاہدے سے دستبرداری کے فیصلے کا سبب بننے والے بنیادی محرک کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ امریکی اتحادیوں جنوبی کوریا اور جاپان کے علاوہ امریکی علاقے گوام کو میزائلوں سے نشانہ بنانے کی چینی صلاحیت کو ایشیاء پیسیفک کے علاقے میں امریکی سلامتی کیلئے بڑا خطرہ قرار دیا جاتا ہے۔ آئی این ایف سے دستبرداری کے بعد امریکہ اب  زمین سے درمیانے فاصلے تک مار کرنے کے قابل میزائل بنانے اور انہیں انڈو پیسیفک میں ڈییگو گارسیا اور گوام کے علاقوں یا پھر اپنے اتحادیوں کے علاقوں میں نصب کرنے کے قابل ہے۔ اگر امریکہ ایسا کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو یہ چین اور امریکہ کے مابین وسیع تر عسکری مقابلے کو چھیڑ سکتا ہے۔

چین، امریکہ کی آئی این ایف سے دستبرداری کو ایسی چال کے طور پر دیکھتا ہے جو چین کو بنیاد بنا کے چلی گئی اور جو ایشیا پیسیفک میں اس کی سلامتی کیلئے بڑا خطرہ تشکیل دیتی ہے۔ اسی خطرے کو واضح کرتے ہوئے اکتوبر ۲۰۱۹ میں چینی وزارت دفاع کے ترجمان وو کیان نے خبردار کیا تھا کہ چین امریکہ کی جانب سے خطے میں زمین سے مار کرنے والے کروز اور بیلسٹک میزائلوں کی تنصیب کے امکان کا ”مستقل مخالف“ ہے۔ چین کے اطراف میں امریکی میزائل کی تنصیب کی صورت میں چین کا ممکنہ ردعمل،  چینی میزائلوں کی طاقت اور صلاحیتوں میں اضافے پر مبنی جوابی اقدامات کی صورت میں ہوسکتا ہے۔ سلامتی کے تجزیہ کاروں کی رائے میں چین امریکی علاقوں، فوجی اڈوں اور جاپان اور جنوبی کوریا سمیت اتحادیوں کو نشانہ بنانے کیلئے زمین سے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائل (آئی آر بی ایمز) کی تنصیب کی صورت میں ردعمل دے سکتا ہے۔ مزید براں براعظم امریکہ پہلے سے ہی چین کے ڈونگ فینگ ۴۱ انٹرکانٹینینٹل بیلسٹک میزائل (آئی سی بی ایم) کی زد میں ہے۔ ایسی صورتحال میں امریکہ کی میزائل کی پیداوار یا  ایشیا پیسیفک میں اس کی تنصیب اور بیجنگ کا جوابی ردعمل عسکری مقابلے میں شدت پیدا کرسکتا ہے نیز واشنگٹن اور بیجنگ کے مابین عدم استحکام کا سلسلہ طویل عرصے تک باقی رہ سکتا ہے۔

ادھر بھارت، چین  کے زمین سے مار کرنے والے آئی آر بی ایمز کی تنصیب سے خود کو کمزور محسوس کرسکتا ہے۔ چین- امریکہ حکمت عملیاں، بھارت میں اس کی سلامتی اور عظیم قوت بننے کی خواہش کے نتیجے کے طور پر دیکھی جاسکتی ہیں۔ ایسی صورتحال چین اور بھارت کے مابین مقابلے کی فضا گرم کرنے کے قابل بن سکتی ہے خاص کر ایسے میں کہ جب بھارتی تزویراتی ماہر چین کی  درمیانی فاصلے کے میزائلوں کی تیاری کو بھارت اور دیگر انڈوپیسیفک ریاستوں کیلئے خطرے کے طور پر دیکھتے ہوں۔ جوابی تدبیر کے طور پر اگنی-۵ آئی سی بی ایم اور اگنی-۴ آئی آر بی ایم کی تیاری اس تاثر کو مزید تقویت دیتی ہے کہ بھارت، چینی میزائلوں کی تیاری کو اپنی قومی سلامتی کیلئے خطرہ سمجھتا ہے۔ بھارتی نقطہ نگاہ سے چین سے لاحق خطرات، دراصل نہ حل ہونے والے سرحدی تنازعات اور چین و پاکستان کے مابین بڑھتے تزویراتی تعلقات کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں۔ چین تاہم بھارت کی جانب سے بھانپے گئے اس خطرے کو بے بنیاد قرار دیتا ہے جو دراصل اس کی داخلی سیاست اور عظیم قوت بننے کے خواب کا نتیجہ ہے۔ چین کی جانب سے دفاع برقرار رکھنے کیلئے خطے کے دیگر ممالک کیخلاف آئی آر بی ایمز کی تنصیب کے ردعمل میں بھارت چین کی میزائل صلاحیتوں  کا مقابلہ کرنے کی ٹھان سکتا ہے۔ اس کیلئے وہ اپنے میزائلوں کی تعداد، ان کی رینج اور ان کی مستعدی میں اضافہ کرسکتا ہے۔ فرانس سے مبینہ طور پر ”ہیمر“ میزائلوں کی بھارتی خریداری، جو کہ بھارتی افواج کی آپریشنل صلاحیتوں میں اضافے کی صلاحیت رکھتا ہے، کسی بھی بحران میں چینی میزائلوں کو حاصل سبقت کیخلاف ایک موثر اقدام ہوسکتا ہے۔

تاہم، بھارتی میزائل منصوبے کا ہدف محض چینی خطرات کا مقابلہ ہی نہیں ہے۔ ان کی تنصیب کی نوعیت اور میزائلوں کے جدید نظام کا حصول بھارت کو اسی کے ساتھ پاکستان کیخلاف بھی جارحانہ حکمت عملی اپنانے کے قابل بناتا ہے۔ یوں چینی خطرات کا مقابلہ کرنے کیلئے ہتھیاروں کی ترسیل کی جدید صلاحیت کیلئے جدوجہد، زیادہ مہارت  کے حامل طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں کی تیاری نیز بھارت کے دستیاب ہتھیار روایتی حریفوں یعنی پاکستان اور بھارت کے مابین جوہری طاقت میں فرق بھی پیدا کرسکتے ہیں۔ ردعمل میں، پاکستان اس فرق کو ختم کرنے اور بھارت کیخلاف اپنا توازن برقرار رکھنے کیلئے اپنے مختصر فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل اور کروز میزائل کے ذخیرے میں اضافے پر غور کرسکتا ہے۔ اس طرح، علاقائی سلامتی حرکیات اور بھارت و پاکستان کے مابین مسابقت کی نوعیت کے حامل تعلقات نئی دہلی اور اسلام آباد کے مابین جوہری توازن کو مزید کمزور کرسکتے ہیں اور جنوبی ایشیا میں جوہری اشتعال انگیزی کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

جوہری تجربوں کیخلاف ضوابط

 ٹرمپ انتظامیہ کی جوہری ہتھیاروں کے تجربے دوبارہ شروع کرنے کی تجویز کے بارے میں اطلاعات کو بھی ایشیا پیسیفک خطے میں چین اور امریکہ کے مابین بڑھتے ہوئے جغرافیائی تزویراتی اختلافات سے جوڑا جارہا ہے۔ امریکہ میں بعض افراد کی جانب سے یہ نظریہ پیش کیا جارہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ دوبارہ تجربوں کے خطرے کو دراصل اپنے سیاسی ہدف یعنی کہ روس اور چین کے ہمراہ سہ فریقی اسلحے کی روک تھام کے معاہدے کو قائم کرنے کیلئے استعمال کررہی ہے۔ تاہم امریکہ کی جانب سے  جوہری تجربے کے ذریعے ان سیاسی مفادات کو حاصل کرنے کا امکان نہیں بلکہ یہ الٹا امریکہ چین بھارت پاکستان کے بیچ قائم سلامتی کی ایک مسلسل کڑی کے مابین جغرافیائی تزویراتی اختلاف کو مزید ہوا دے سکتی ہے۔

اگر امریکہ تجربے کے اپنے فیصلے کے ہمراہ آگے بڑھتا ہے تو یہ امکان موجود ہے کہ یہ بھارت اور پاکستان کیلئے بھی جوہری تجربوں کے در وا کر دے۔ یہ امر ایک دوسرے کیخلاف تزویراتی توازن برقرار رکھنے کی خواہاں دونوں ریاستوں کے مابین ہتھیاروں کی دوڑ تیز کرسکتا ہے۔ باوجود اس کے کہ بھارت یکطرفہ طور پر جوہری تجربات کی معطلی کا اعلان کرچکا ہے، تاہم اس بارے میں بحث ہوتی آئی ہے کہ بھارت کو اپنی تھرمونیوکلیئر صلاحیت جو کہ ۱۹۹۸ کے تجربوں کے بعد سے کسی حد تک محدود ہے، آیا اس کی جانچ اور اضافے کیلئے اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہئے یا نہیں۔ اگر بھارت اپنی تھرمونیوکلیئر صلاحیت بہتر بنانے کیلئے تجربے کا سلسلہ دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو یہ پاکستان میں سلامتی کے حوالے سے تشویش کو جنم دے سکتا ہے اور وہ بھارت کے نقش قدم پر چلنے کی ضرورت محسوس کرسکتا ہے۔ پاکستان کا جوہری پروگرام اور اس کی پالیسی بالعموم بھارت کی جوہری پالیسیوں میں ہونے والی پیش رفت کے مطابق رکھی جاتی ہے۔ جنوبی ایشیا کی حرکیات کو دیکھتے ہوئے خدشہ ہے کہ تجربے نہ کرنے کے ضوابط کی خلاف ورزی جنوبی ایشیا میں تزویراتی توازن کو کمزور کرنے کی طاقت رکھتی ہے۔

جوہری تجربوں کی دوبارہ بحالی کے حوالے سے موجودہ بحث یہ ظاہر کرتی ہے کہ عالمی سطح پر جوہری عدم پھیلاؤ کیلئے لائحہ عمل میں موجود کمزوریاں ریاستوں کو اپنے مفادات کے تحت فائدہ اٹھانے کا موقع فراہم کرتی ہیں اور جوہری عدم پھیلاؤ کے رجحان کو شدید دباؤ میں لے آتی ہیں۔ ہتھیاروں کی روک تھام کے معاہدوں اور جوہری تجربوں کے حوالے سے امریکہ کے حالیہ فیصلوں کے اثرات امریکہ، چین، بھارت اور پاکستان کے مابین تزویراتی تعلق سے بخوبی واضح ہیں۔ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدوں اور ضوابط کی منسوخی جوہری طاقتوں کو یہ محرک دیتی ہے کہ وہ اپنی تزویراتی طاقتوں کو جدید ترین بنائیں جو کہ ان ریاستوں کے جوہری اور میزائل پر مبنی طاقت کے ڈھانچوں میں عدم مطابقت پیدا کرسکتی ہے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ہتھیاروں کی دوڑ جوہری عدم پھیلاؤ کیلئے کی جانے والی کوششوں کیلئے غیر معمولی خطرے کا باعث ہوسکتی ہے۔

***

Click here to read this article in English.

Image 1: UN Geneva via Flickr

Image 2:  Pallava Bagla-Corbis via Getty Images

Posted in , , Arms Control, China, Deterrence, Escalation Control, India, India-Pakistan Relations, Indo-Pacific, Nonproliferation, Nuclear, Nuclear Security, Nuclear Weapons, Pakistan, Security, South Asia, Territorial Dispute, United States, US

Asma Khalid

Asma Khalid is a current South Asian Voices Visiting Fellow in the 2020 cohort. Her research interests include South Asian strategic issues, including nuclear nonproliferation, deterrence dynamics, nuclear politics and policies, and nuclear safety and security. Her analysis of these issues has featured in national and international publication platforms. Previously, she was associated with Islamabad Policy Institute (2019-2020) and Strategic Vision Institute in Islamabad (2016-18). She was also a Research Fellow at the Senate of Pakistan (2016). She holds an MPhil degree in International Relations from Quaid-i-Azam University, Islamabad, and B.Sc. in Defense and Diplomatic Studies from Fatima Jinnah Women University, Rawalpindi.

Read more


Continue Reading

کیا مقصد حاصل ہوگیا؟ افغانستان میں امریکی مفادات اور مستقبل میں درپیش آزمائشوں میں توازن کی کوشش

افغانستان میں اگر حالات انتہائی سازگار ہوں تو بھی اگلے پانچ برس اس کیلئے مشکل ہوں گے۔ اگرغنی حکومت اورطالبان کے مابین پر امن طور […]

September 5, 2020 - Views 0

Stay informed Sign up to our newsletter below





Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *