Prime Minister of Pakistan Imran Ahmed Khan Niazi
Prime Minister of the Islamic Republic of Pakistan, Imran Ahmed Khan Niazi at the United States Institute of Peace in Washington, DC on July 23, 2019.

اپنے حالیہ دورہ امریکہ میں پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے پاکستان میں غیرملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے لیے نیویارک میں پاکستانی نژاد امریکیوں سے ملاقات کی۔ گزشتہ کچھ ماہ کے دوران حکومت پاکستان کے متعدد اعلیٰ عہدیداران بشمول مشیر قومی سلامتی امور معید یوسف اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ پاک امریکہ تعلقات کو جغرافیائی تزویرات اور جغرافیائی سیاست (یعنی بین الاقوامی طاقت کی حرکیات پر جغرافیائی حرکیات کے اثرات)  سے ہٹا کے جغرافیائی معیشت (یعنی خارجہ تعلقات پر جغرافیائی حرکیات کے اثرات) پر مبنی خطوط پر استوار کرنے کیلئے زور ڈال چکے ہیں۔ ریاست پاکستان نے داخلی سطح پر گھٹتی ہوئی دہشت گردی اور امریکہ کی افغانستان سے نکل جانے کی خواہش کے پس منظر میں جغرافیائی معاشی رخ کا تصور کیا ہے۔ پاک امریکہ تعلقات کو معاشی خطوط پر استوار کرنے سے دہشت گردی سے متاثرہ سلامتی کی حامل ریاست کے طور پر پاکستان کے تعارف کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے اور داخلی و علاقائی امن و استحکام کے امکانات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔  پاکستان اگرچہ سفارتی سطح پر معاشی بنیادوں پر استوار خارجہ پالیسی کو آگے بڑھاتا ہے، تاہم داخلی سطح پر اہم معاشی اصلاحات اور ایک کھلی بین الاقوامی منڈی کے طور پر اپنے نئے تعارف کے ذریعے ہی وہ اس تصور کو حقیقت کا روپ دے سکتا ہے۔

سیاسی بمقابلہ منافع پر مبنی محرکات کی بنیاد پر سرمایہ کاری

قبل اس کے کہ یہ جائزہ لیا جائے کہ  پاکستان بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے سرمایہ کاری ماحول کو کیسے بہتر بنایا جا سکتا ہے، امریکہ اور چین خاص کر پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کی صورت میں ہونے والی سرمایہ کاری کے درمیان تفریق کرنا نہایت ضروری ہے۔ سب سے پہلے اور سب سے اہم تو یہ ہے کہ  سی پیک، پاکستان میں انفراسٹرکچر، سڑکیں اور توانائی کے شعبے میں ترقی کے لیے حکومت کا حکومت سے ہونے والا معاہدہ تھا۔ سرکاری قیادت میں کی گئی چینی سرمایہ کاری خالصتاً معاشی محرکات کی بنیاد پر نہیں ہے۔ سیاسی اور سلامتی تعلقات  کم از کم بھی اتنے طاقتور ہیں کہ اثرانداز ہو سکیں۔ خاص کر اپنے دور رس تزویراتی اہداف میں اضافے کیلیے چین اکثر دور رس اثرات کی خاطر فوری نوعیت کی ناپسندیدہ سرمایہ کاری کے لیے راضی ہوجاتا ہے۔

امریکی سرمایہ کاری روایتی طور پر معاشی (منافع) محرکات کی بنیاد پر ہوتی ہے اور امریکی کمپنیاں پرکشش معیشتوں میں سرمایہ کاری کے لیے آزادی کے ساتھ چناؤ کرتی ہیں۔ یو ایس ایڈ کے تحت پیش رفتیں اس اصول سے ماوراء ہیں، جنہوں نے معاشی ترقی کے لیے نمایاں خدمات سرانجام دی ہیں لیکن اندرونی سطح پر بدانتظامی اور استحکام کی کمی کی وجہ سے وہ بڑے پیمانے پر تنقید کا نشانہ بنی ہیں۔ امریکی حکومت نجی شعبے کی سرمایہ کاری میں براہ راست معاونت نہیں کرسکتی ہے۔ امریکی حکومت تاہم پاکستان کی سلامتی صورتحال اور سی پیک کے بارے میں اپنے بیانیے پر دوبارہ غور کرسکتی ہے اور امریکہ پاکستان بزنس کونسل جیسے گروہوں کے ذریعے نجی سرمایہ کاروں کی پاکستانی منصوبوں کی جانب توجہ مبذول کروا سکتی ہے۔ پھر بھی یہ ذمہ داری پاکستان پر عائد ہوتی ہے کہ وہ سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنائے اور امریکہ میں منافع کی تلاش میں مصروف سرمایہ کاروں کو متاثر کرے۔ اس کے لیے ضرورت ہے کہ پاکستان فوری طور پر داخلی سطح پر رکاوٹوں بشمول افسرشاہی کی نااہلی، پابندیوں کے حامل قوانین اور معاشی پالیسیوں میں عدم تسلسل سے نمٹے۔

غیریقینی معاشی پالیسی

 وبا کے بعد پاکستان کی معیشت نے بحالی کے اشارے دیے ہیں، جس کی بڑی وجہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے پروگرام کے تحت عائد کردہ شرائط ہیں۔ پاکستان کے غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر مئی ۲۰۱۸ میں ۷.۲ بلین ڈالر  کے مقابلے میں تقریبا دوگنا ہو کے مئی ۲۰۲۱ میں ۱۶ بلین ڈالر ہو چکے ہیں۔ اسٹیٹ بینک  نے مالیاتی سال ۲۱ کے لیے جی ڈی پی نمو ۳.۹۴  فیصد تک بڑھنے کا تخمینہ لگایا ہے اور حکومت پاکستان نے مالیاتی سال ۲۰۲۲ کے لیے جی ڈی پی نمو کے لیے  ۴.۸ فیصد کا ہدف طے کیا ہے۔

اگرچہ ورلڈ بنک کی ڈوئنگ بزنس رپورٹ ۲۰۲۰ میں پاکستان ۲۸ درجے بہتری کے ساتھ ۱۳۶ سے ۱۰۸ پر آیا ہے جو قابل تعریف ہے  لیکن ملک خطے میں پڑوسیوں بھارت، نیپال اور سری لنکا سے پیچھے ہے۔ براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کی آمد بھی مالیاتی سال ۲۰۲۱ کی پہلی تین سہہ ماہیوں کے دوران ۳۵ فیصد تک گر چکی ہے۔ عالمی وبا کو دیکھتے ہوئے ان اعدادوشمار کے لے حکومتی پالیسیوں کو مکمل طور پر ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ تاہم تیز رفتار نمو کے بعد معاشی بحران ملکی معیشت کے لیے ایک پریشان کن رجحان رہا ہے۔ پاکستان کی معاشی حکمت عملی کو ایسی سرمایہ کاری پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے جو  پائیدار ہو اور تسلسل کی حامل معاشی پالیسیوں کے نتیجے میں جاری رہے۔

سب سے پہلے تو پاکستان کو ایک سے دوسری حکومت کے درمیان معاشی نقطہ نگاہ میں عدم تسلسل سے نمٹنے نیز اندرونی منتقلیوں اور کابینہ میں ردوبدل سے گریز کی ضرورت ہے۔ عمران خان کی تین سالہ مدت کے دوران، چار مختلف عہدیداران  وزیر خزانہ کا عہدہ سنبھال چکے ہیں۔ اسد عمر، عبدالحفیظ شیخ، حماد اظہر اور اب شوکت ترین۔ وزیر خزانہ کی بار بار برطرفی ظاہر کرتی ہے کہ کیسے حکومتی معاشی ایجنڈا ناکام ہوچکا ہے اور یہ سرمایہ کاروں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچاتا ہے۔ تیزی سے بدلتی اور غیریقینی پالیسیاں سرمایہ کاروں کے اعتماد کو چوٹ پہنچاتی ہیں اور لوگ بڑی تعداد میں سرمایہ کاری کرنے اور سرمایہ کاری کو کچھ برس تک برقرار رکھنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہوتے ہیں۔ اس قسم کا اندرونی عدم تسلسل اور بیوروکریسی میں سرخ فیتہ یکطرفہ منافع پر مبنی رویے کو جنم دیتا ہے جس کے تحت زیادہ سے زیادہ منافع  کی خاطر معیشت کے لیے دور رس فوائد اور دولت  پیدا کیے بغیر مختصر مدت کے لیے سرمایہ کاری کی جاتی ہے جو نمو اور عزم کی راہ میں مزید رکاوٹ بنتی ہے۔

سرمایہ کاروں نے بھی  یہ شناخت کیا ہے کہ صوبائی اور وفاقی حکام کے درمیان ٹیکس ضوابط میں تضاد اور بیوروکریسی کے نااہل اداروں کی جانب سے بارہا التواء  نے ان کے لیے سرمایہ کاری کے سودمند ثابت ہونے کا تخمینہ لگانا بھی مشکل بنا دیا ہے۔ مثال کے طور پر اسپیشل اکنامک زونز یعنی وہ علاقے جن کا مقصد ٹیکس اور کاروباری ترغیبات کی پیشکش کے ذریعے غیرملکی سرمایہ کاری کے ذریعے معاشی پیداوار ہے، سرمایہ کاروں کو دس برس کے لیے ہر قسم کے انکم ٹیکس سے چھوٹ دیتے ہیں۔ تاہم پاکستانی حکومت نے انکم ٹیکس کی جگہ سامان کی  اندازاً قیمت پر کم از کم  ۱.۵ فیصد ٹرن اوور ٹیکس کی صورت میں بالواسطہ ٹیکس وصول کرنا شروع کردیا ہے۔ پاکستان بزنس کونسل نے ان ٹیکسز کو ”انتہائی زیادہ اور غیر حقیقی“ قرار دیا ہے۔ سرمایہ کاروں سے یہ توقع کرنا بھی مشکل ہے کہ وہ ایسے میں مینوفیکچرنگ پلانٹ لگائیں جب ۲۶ فیصد پاکستان کے پاس گرڈ سے فراہم کی جانے والی بجلی تک رسائی ہی نہیں اور لوڈ شیڈنگ معمول کی بات ہے۔ بجلی کی قلت پاکستان میں سرمایہ کاری کو درپیش المیوں میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے جیسا کہ رینالٹ موٹرز کے کراچی میں گاڑیاں تیار کرنے والے پلانٹ کو نقصان پہنچانے والے التواء سے ظاہر ہوا ہے۔ چینی سرمایہ کاری نے اگرچہ پاور گرڈ سے متعلقہ بعض مسائل سے نمٹنے میں مدد دی ہے تاہم پاکستان میں توانائی کا شعبہ جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ خسارہ برداشت کرتا ہے اور دیگر علاقائی ممالک کے مقابلے میں بجلی زیادہ مہنگی ہے۔

پاکستان کا پیچیدہ  ضابطہ کاری نظام  بھی غیرملکی سرمایہ کاری کو مزید کمزور کرتا ہے۔ غیرملکی کاروبار کو اکثر صوبائی اور وفاقی ضابطہ کار حکام کی پالیسیوں اور متضاد  قوانین سے لازماً نمٹنا پڑتا ہے۔ ایک ایسا عدالتی نظام جو توقع کرتا ہے کہ غیرملکی سرمایہ کار تنازعے کے تیز رفتار حل کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتوں کے بجائے معمول کی عدالتوں میں مقدمہ درج کریں، وہ بھی معاملات کو پیچیدہ کرتا ہے۔ ریکوڈک ثالثی کیس، عدم مطابقت کی حامل ضابطہ پالیسیوں کی عین مثال ہے۔ ۱۹۹۳ میں  بی ایچ پی منرلز نے بلوچستان میں ریکوڈک کان سے تانبے اور سونا نکالنے کے لیے حکومت کے ساتھ معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ ۲۰۰۶ میں ٹیتھیان کاپر کمپنی ( ٹی ٹی سی) نامی ایک شراکتی  آسٹریلوی ادارے نے  گزشتہ معاہدے کی شرائط پر ہی اس کی جگہ لے لی۔ گو کہ بلوچستان ہائی کورٹ نے ۲۰۰۷ میں معاہدے کی توثیق کی، لیکن  پاکستان کی سپریم کورٹ نے ۲۰۱۳ میں منصوبے کو منسوخ کردیا جس کے بعد پاکستان کو ایک طویل اور مہنگی قانونی جنگ لڑنا پڑی۔ اسی طرح جب اوکلاہوما سٹی سے تعلق رکھنے والی والٹر پاور انٹرنیشنل لمیٹڈ (ڈبلیو پی آئی) نے ۲۰۰۹ میں ملک میں بجلی کی کمی کو پورا کرنے میں مدد دینے کے لیے اپنا بجلی پیدا کرنے کا سازوسامان بھیجا تو سپریم کورٹ نے مداخلت کرتے ہوئے بھاری پیمانے پر کرپشن کی وجہ سے معاہدے کو منسوخ کردیا۔ حتیٰ کہ جب پاکستان کے قومی احتساب بیورو نے ڈبلیو پی آئی سے تنازعہ حل کرلیا تو بھی حکومت پاکستان نے سازوسامان واپس امریکہ برآمد کرنے سے انکار کردیا۔ ریکوڈک اور ڈبلیو پی آئی جیسے واقعات غیرملکی سرمایہ کاروں سے نمٹنے کے معاملے میں پاکستان کے عدالتی لائحہ عمل میں موجود گہرے تناؤ کی عکاسی کرتے ہیں۔ نجی سرمایہ کاری امور میں سرکاری عدالتوں کی ایسی مداخلت کی صورت میں ۲۰ یا ۲۵ سالہ طویل سرمایہ کاری  کے لیے  تحفظ یا پالیسی کی یقین دہانی نہیں کروائی جا سکتی ہے۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (فیٹف) پاکستان کے جغرافیائی معاشی محور کے حوالے سے عزائم کی راہ میں ایک اور رکاوٹ ہے۔ اگرچہ پاکستان کی داخلی سلامتی کی صورتحال قابل غور حد تک بہتر ہوچکی ہے لیکن فیٹف کی گرے لسٹ پر اس کی موجودگی جو منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے خطرے کا اشارہ دیتی ہے، بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے خطرات کی ایک اضافی سطح کا اشارہ دیتی ہے۔ گوکہ  ساکھ کے اعتبار سے گرے لسٹ سے وابستہ خطرات اس قدر سنجیدہ نوعیت کے نہیں ہیں جو کہ بلیک لسٹ کے ہیں تاہم گرے لسٹ میں جانے کے سبب خدشات میں اضافہ سرمایہ کاروں کو ملک سے باہر رکھنے کا خطرہ بڑھا دیتے ہیں۔ نومبر ۲۰۲۰ میں ڈیلوئٹ کے ملک سے چلے جانے کے بعد پاکستان سب سے زیادہ گنجان آباد دس ممالک کی فہرست میں وہ واحد ملک بن گیا ہے جہاں اکائونٹنگ کی دنیا کے چاروں بڑے ادارے موجود نہیں ہے جن میں ڈیلوئٹ، ارنسٹ اینڈ ینگ (ای وائی)، پرائس واٹرہاؤس کوپرز ( پی ڈبلیو سی) اور کے پی ایم جی شامل ہیں۔ یہ پاکستان کی ماند پڑتی بین الاقوامی ساکھ کا اشارہ ہے اور پاکستان میں سرمایہ کاری ماحول کی ساکھ کے بارے میں شبہات میں اضافہ کرتا ہے۔ ڈیلوئٹ کا چلے جانا خواہ پاکستان میں مبینہ دہشتگردی کی معاونت سے نتھی تھا یا نہیں لیکن یہ ظاہر کرتا ہے کہ کیسے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی سلامتی کو لاحق خطرات بدستور بلند ہیں۔

 سرمایہ کاری کے طاقتور ماحول کا قیام

پاکستان میں پائیدار داخلی اصلاحات کے ذریعے اپنے جغرافیائی معاشی اہداف کو حقیقت کا روپ دینے کی صلاحیت اور اہلیت موجود ہے۔ اس میں بین الاقوامی سرمایہ کاری میں ثالثی کے مقدموں کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتوں کا قیام، ایک مرکزی ضابطہ کار اتھارٹی کا قیام، ٹیکسوں کے نظام میں ہم آہنگی اور دہشتگردی کی مالی معاونت و منی لانڈرنگ کے خلاف لڑائی شامل ہیں۔ حکومت کو چاہیئے کہ وہ تحقیق و ترقی میں سرمایہ کاری کرے تاکہ سرمایہ کاری سے متعلقہ پالیسی ساز فیصلوں میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی شمولیت میں اضافے اور مذہبی قوانین کی حدود سے بالاتر ہوتے ہوئے تخلیق کی حوصلہ افزائی کے ذریعے ایک جدید و تحریک دیتا سرمایہ کاری ماحول تخلیق کیا جا سکے۔ اس ضمن میں رقوم کی ترسیل کی سہولیات جیسا کہ پے پیل کی توجہ حاصل کرنے  نیز کاروبار کے کاروبار سے رابطے میں معاونت کے لیے دیگر معاشی اقدامات کے علاوہ لائسنس کی فیس میں کمی کی جائے۔ بیرون ملک مقیم اپنی پاکستانی کمیونٹی کے ذریعے پاکستان بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی نگاہوں میں جگہ بنانے کے لیے اپنی کاروباری حکمت عملی کو بھی از سر ترتیب دے سکتا ہے۔ اب جبکہ چینی سرمایہ کار مختلف اقسام کی مصنوعات بشمول بیئر اور ملبوسات کی تیاری کے لیے سہولیات فراہم کر رہے ہیں، اگلا مرحلہ اس سلسلے میں تیزی پکڑنا اور چین کے علاوہ دیگر سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کرنے کا ہے۔

 اس جغرافیائی معاشی تبدیلی کے ادراک کی  کلی ذمہ داری محض پاکستانی حکومت پر ہی عائد نہیں ہوتی ہے۔ گوکہ پاکستان مسلم لیگ این (پی ایم ایل این) کی سابق حکومت نے چینی سرمایہ کاری کو کھلم کھلا ترجیح دی تھی، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی موجودہ حکومت  نے مسلسل کوشش کی ہے کہ چین اور امریکہ دونوں سے تجارتی تعلقات قائم کیے جا سکیں اور زور دیا ہے کہ چین کے ہمراہ تعلقات ”یکطرفہ مفادات کا کھیل“ نہیں ہے۔ تاہم امریکی حکومت کی جانب سے چین کے حوالے سے ہچکچاہٹ پر مبنی رویے نے کسی حد تک امریکی سرمایہ کاروں کو پاکستانی منڈیوں کا رخ کرنے میں زیادہ محتاط کیا ہے۔ امریکی سفارت کار اور اردن کے لیے سابق امریکی سفیر ایلس ویلز کا ۲۰۱۹ میں سی پیک پر شدید تنقید امریکی پالیسی میں تبدیلی لاتے ہوئے چین سے معیشت کے میدان میں طاقت کے مقابلے کے حوالے سے بالواسطہ طور پر پاکستان کو بطور میدان چننے کی جانب جھکاؤ کو ظاہرکرتا ہے۔ حتیٰ کہ حال ہی میں امریکی سرکاری حکام نے پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) میں شفافیت کی کمی اور قرض میں جکڑنے کی حامل سفارت کاری کے خدوخال تنقید کی ہے۔ امریکی حکومت کی طرح امریکی کاروباری حلقے اب ممکنہ طور پر سی پیک کو شک کی نگاہ سے دیکھ سکتے ہیں۔ اس کے باجود یہ اس کے اپنے مفاد میں ہے کہ وہ سی پیک کے تحت قائم کیے گئے تیزی سے ترقی کرتے اسپیشل اکنامک زونز (ایس ای زیز) اور سڑکوں کے نظام کے حامل وسائل سے مالامال، اور نوجوان افرادی قوت اور تیزی سے بڑھتے درمیانے طبقے کے حامل ملک میں امکانات کا جائزہ لے۔ اس کے بدلے میں اسلام آباد کو چاہیئے کہ وہ سی پیک کے قرضوں کے حوالے سے پاکستانی عوام سے زیادہ شفاف رویہ اختیار کرے اور تمام متعلقہ فریقین کو شامل کرنے کے لیے سی پیک سے متعلقہ مشاورت کو وسیع کرے۔  مبالغے کی حد تک بڑھے ہوئے ”چینی کیمپ“ سے پیچھے ہٹنا پاک امریکہ تعلقات میں اصلاحات کے لیے اہم ثابت ہوسکتا ہے۔

گہری رکاوٹیں بشمول طویل عرصے سے موجود ”اشرافیہ کا قبضہ“ اور افسرشاہی کے سخت رواج میں اصلاحات دشوار ہوں گی۔ امریکی سرمایہ کاری کے ضمن میں پاکستان کو تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشتوں جیسے ویتنام اور بھارت سے مقابلے کی صورت میں جغرافیائی سیاسی رکاوٹوں کا بھی سامنا ہے۔ اس کے باوجود حالیہ معاشی پالیسی بشمول ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دینے کے لیے  کریڈٹ کارڈز کے استعمال پر ود ہولڈنگ ٹیکس کا عارضی خاتمہ پاکستان کے سرمایہ کاری کے مستقبل میں ایک مثبت رجحان تجویز کرتا ہے۔ بیوروکریسی کے سرخ فیتے کو کاٹنا اور معاشی اعتماد کی تعمیر کے لیے ایسی ہی کوششیں پاکستان کو اس قابل بنائیں گی کہ وہ امریکی سلامتی شراکت دار کے بجائے معاشی سرمایہ کاری  کے موقع کے طور پر جگہ لے سکے۔

Read this article in English here.

***

Image 1: USIP via Flickr

Image 2: Imagestock via Getty Images

Share this:  

Related articles

پاکستان کی سافٹ پاور میں موجود غیر استفادہ شدہ صلاحیت Hindi & Urdu

پاکستان کی سافٹ پاور میں موجود غیر استفادہ شدہ صلاحیت

وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں پاکستان کی خارجہ پالیسی…

ایران سعودیہ ممکن مفاہمت پر پاکستان اور بھارت کے نقطہ نگاہ کا موازنہ Hindi & Urdu

ایران سعودیہ ممکن مفاہمت پر پاکستان اور بھارت کے نقطہ نگاہ کا موازنہ

صدر بائیڈن کی صدارتی مدت شروع ہونے کے چند ماہ…

جوہری احتراز اور جنوبی ایشیا: نینا ٹینن والڈ کی تحریر ”عدم استعمال کے ۲۳ برس“ کا جائزہ Hindi & Urdu