,

امریکی انتخابات ۲۰۲۰: پاک افغان تعلقات

فروری میں امریکی طالبان کے معاہدے کے تحت امریکہ کی “لامتناہی جنگوں” کے اختتام اور افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلا کی راہ ہموار ہوگئی۔ اس دو دہائی طویل جنگ کی وجہ سے امریکہ کو تقریبا ۲،۵۰۰ امریکی جانوں اور دو ٹریلین ڈالر سے زیادہ کا نقصان پہنچا ہے۔ یہ امریکی تاریخ کی طویل ترین فوجی مصروفیت سمجھی جاتی ہے۔ اگرچہ کچھ لوگوں نے یہ استدلال کیا ہے کہ امریکہ کو “اپنے خود کے مسائل سے نمٹنا چاہیئے اور دوسروں کو ان کے مسئلوں سے نمٹنے دینا چاہئے،”  تجزیہ کاروں کے لئے یہ ایک اہم سوال ہے کہ نومبر کے انتخابات کے بعد نئی امریکی انتظامیہ کو جنوبی ایشیا، خاص طور پر افغانستان، کے حوالے سے کیا پالیسی اپنانی چاہیئے۔ صدر ٹرمپ ہندوستان کے ساتھ دوستی اور ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی اپنی ۲۰۱۷ جنوبی ایشیا کی حکمت عملی کو برقرار رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ سابق نائب صدر جو بائیڈن سے توقع کی جارہی ہے کہ وہ خطے کی جانب اعتدال پسندانہ انداز اپناتے ہوئے سفارت کاری پر زور دیں گے اور شاید ایران معاہدے کی بحالی بھی کریں گے۔ دونوں امیدوار افغانستان میں فوجی مصروفیت ختم کرنے اور امریکی فوجیوں کو وطن واپس لانا چاہتے ہیں۔  دونوں صورتوں میں، پائیدار اور قابل عمل مستقبل کے اقدامات میں درج ذیل شامل ہونا ضروری ہے: امریکہ کو کسی ایک علاقائی کھلاڑی کی حمایت کرنے کی یکطرفہ پالیسی کو مسترد کرنا چاہئے اور کثیرالجہتی نقطہ نظر اپنانا چاہیئے؛ افغانستان میں بلخصوص، اسے افغان اداروں کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے، افغان معیشت کی حمایت کرنی چاہیئے، اور دوحہ مذاکرات کے دوران اور بعد میں انسانی حقوق کے مقاصد کے حصول کا عہد کرنا چاہیئے۔

جنوبی ایشیاء میں امریکی پالیسی کے غلط ستون

امریکہ کے پاس خطے میں متعدد بڑے نان نیٹو اتحادی ہیں،  پاکستان (۲۰۱۲) اور افغانستان (۲۰۱۴) کے ساتھ دوطرفہ سیکیورٹی  کے معاہدوں پر دستخط کر چکا ہے، اور حال ہی میں ہندوستان (۲۰۲۰) کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کا عہد کیا ہے۔  ان روابط کے باوجود ، گذشتہ نصف صدی کے دوران امریکہ نے علاقائی عظیم حکمت عملی کو بڑھانے کے بجائے خطے میں ایک “انفرادی ستون” کی حمایت کرنے کا انتخاب کیا ہے۔ سرد جنگ کے دوران ، مثال کے طور پر، ایران ۱۹۷۹ کے انقلاب تک امریکہ کا بنیادی علاقائی ستون تھا۔ اس کے بعد، افغانستان اور سوویت جنگ اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران پاکستان امریکہ کا بنیادی شراکت دار تھا۔ اب، امریکہ ہندوستان کی جانب رخ کر رہا ہے ، جس کا مطلب ہے کہ خطے کے دوسرے ممالک کا چین، روس، اور ایران کے اجتماعی مدار میں شامل ہونے کا امکان ہے۔ اس یکطرفہ ستون پر مبنی امریکی خارجہ پالیسی کی جڑیں رچرڈ نکسن دور کی کنٹینمنٹ پالیسی میں پائی جاتی ہیں اور اب چین کے علاقائی اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کے لئے اس کی تجدید کی گئی ہے۔ اس پالیسی کے تحت امریکی انتظامیہ خارجہ پالیسی کے دیگر اوزار ، جیسے سفارت کاری ، تجارت اور کثیرالجہتی تعاون، سے زیادہ غیر ملکی فوجی فروخت کی پالیسی پر زور دیتی ہے۔

بدلتے علاقائی ستونوں پر مبنی یہ پرانی پالیسی جنوبی ایشیاء میں امریکی اسٹریٹجک پوزیشن کو خطرے میں ڈالتی ہے۔ اس کا بڑی طاقت کا حریف، چین، اس خطے میں زیادہ کثیرالجہتی نقطہ نظر اختیار کرتا ہے۔ چین نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو اور ایران کی تجارت کے معاہدے کے ذریعہ خلیج فارس تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ چین نے سی پیک کے ذریعے بحیرہ عرب تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش بھی کی ہے۔ چین کے لئے ” کثیر الجہتی” کا مطلب ہے کہ وہ اپنی سلامتی کے مفادات کو حاصل کرنے کے لئے متعدد ممالک کا استعمال کرے۔

 اپنی پالیسیوں کی وجہ سے امریکہ بہت سے انفرادی ممالک میں اپنی حمایت کھو چکا ہے، اور اب انہی ممالک میں امریکہ مخالف جذبات کا شکار ہے۔ چار دہائیوں کے افغان داخلی امور میں امریکی مداخلت اور امریکی ٹیکس دہندگان کے اربوں ڈالر کی لاگت کے بعد بھی افغان تنازعہ میں شامل پارٹیوں کی اکثریت امریکہ سے ناراض ہے۔ اس کی وجہ افغان معاشرے کے چھوٹے دھڑوں جیسے مجاہدین، ​​بدعنوان افغان اشرافیہ، اور اب طالبان، جن کی حیثیت تقریباً ایک جائز گورننگ اداکار تک بلند کر دی گئی ہے، کی حمایت کرنے کی امریکی پالیسیوں کو قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس امریکی نقطہ نظر کا اطلاق ایران اور پاکستان سمیت جنوبی ایشیاء اور مشرق وسطی کی بیشتر دوسرے ممالک کے ساتھ اس کے تعلقات پر بھی کیا جاسکتا ہے۔

 کسی ایک ستون ریاست کی حمایت _ یا اس ریاست کے کسی ایک جو اپنے باقی شہریوں کے لئے بڑے پیمانے پر بدعنوان ہے _ امریکہ باقی ممالک کے عوام کا ساتھ کھو جانے کا خطرہ ہے۔ امریکی خارجہ پالیسی سازوں کو عارضی شراکت داری کو مسترد کر کے وسیع تر علاقائی پالیسی، مالیاتی اداروں کی بحالی کی مالی اعانت، نئی تجارت اور کاروبار، معاشی تعمیر نو، اور علاقائی ترقی کو اپنانے سے فائدہ حاصل ہوگا۔ اس سے امریکہ کی علاقائی حیثیت بہتر ہوگی اور جنوبی ایشیاء کے ممالک کو بھی فائدہ ہو گا۔

دوحہ مذاکرات سے آگے: معاشی امداد اور انسانی حقوق

 یہ کوئی چھپا راز نہیں ہے کہ گذشتہ دو دہائیوں کے دوران افغانستان کی معیشت زیادہ تر بین الاقوامی امداد دہندگان نے برقرار رکھی تھی، اور یہ کہ اب بھی، افغانستان کا ۷۵ فیصد بجٹ غیر ملکی امداد پر منحصر ہے۔ امریکہ اس امداد کا بنیادی مددگار ہے۔ اب، کورونا وائرس کے چیلنجوں کی وجہ سے افغان معیشت خراب ہورہی ہے اور افغان جی ڈی پی کی شرح نمو کم ہورہی ہے۔ ورلڈ بینک کے عالمی معاشی امکانات میں بھی ۲۰۲۰ کے لئے ۵.۵ فیصد معاشی نمو کی شرح میں کمی کی اطلاع دی گئی اور حتیٰ کہ ۲۰۲۱ میں مزید پانچ فیصد کمی کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ اس سے دوحہ میں افغان حکومت کو بری طرح سے نقصان پہنچے گا کیونکہ وہ طالبان کے ساتھ براہ راست امن مذاکرات کی متزلزل بنیادیں رکھنے کی کوشش میں ہے ۔ اس کے ساتھ ہی ، افغانستان کو آئندہ مہینوں میں ایک اور سنگین چیلنج کا سامنا کرنا پڑے گا: ایک ڈوبتی، عطیات پر مبنی معیشت جو اس کی لڑکھڑاتی سلامتی کو براہ راست سہارا دیتی ہے۔

غیر ملکی امداد پر منحصر، افغانستان اب نومبر۲۰۲۰ کے آخر میں جنیوا میں بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایک نئی ڈونر کانفرنس منظم کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ اگر بین الاقوامی برادری اجازت دیتی ہے تو یہ افغانستان کے بدعنوان نظام کے لئے آمدنی کا ایک اور زریعہ بنے گا۔ امریکہ اور نیٹو کی افواج کے انخلا کے بعد، مغربی ڈونرز افغانستان کے مستقبل کو برقرار رکھنے سے تقریباً بری ازذمہ ہو جایئں گے۔

افغانستان سے مکمل انخلا کے بجائے، امریکی خارجہ پالیسی اسٹیبلشمنٹ کے لئے بہتر ہو گا کہ وہ اپنے وسائل کو ایک مضبوط افغان ادارہ جاتی فریم ورک ترتیب دینے پر دوبارہ خرچ کرے۔ مرکزی حکومت کو قومی اخراجات پر مکمل اختیار دینا صحیح راستہ نہیں ہے، کیونکہ افغان مرکزی حکومت خود کو بدعنوان، فضول خرچ، اور بین الاقوامی امداد کے وسائل کو سنبھالنے سے قاصر ثابت کر چکی ہے۔ دوحہ میں جاری امن مذاکرات اور جنیوا میں آئندہ ڈونر کانفرنس کو نظر میں رکھتے ہوئے، امریکہ اپنے سیاسی اور مالی اثر و رسوخ کو استعمال میں لاتے ہوئے صرف ایسی حکومت کی حمایت کرنے کا عہد کرسکتا ہے جو تمام افغانیوں کے انسانی حقوق کا احترام کرے۔ امریکی ٹیکس دہندگان کو نہ تو سیاسی طور پر اور نہ ہی مالی طور پر کسی ایسی حکومت کی حمایت کرنی چاہئے جو تشدد کا استعمال کرتی ہے اور اخلاقی اور مذہبی اقلیتوں پر دباؤ ڈالنے کے لئے مذہبی مداخلت کا مطالبہ کرتی ہے، معاشرے میں خواتین کی شمولیت پر پابندی عائد کرتی ہے، اور حقِ اظہار رائے اور میڈیا کی آزادی کو نقصان پہنچاتی ہے۔

اس ضمن میں، پچھلی دو دہائیوں کے دوران افغانستان کی پیشرفت کو نظرانداز نہیں کرنا چاہئے، جسے امریکی مداخلت اور خود مختار اور نسل پرست سیاسی نظام کی حدود کے باوجود سیاسی اور معاشرتی حقوق کے لئے لڑنے والے افغانیوں کی طویل جنگ سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ ایسے معاشرے میں جہاں مرد عورتعں پر غالب ہیں، افغان خواتین کی جدوجہد اسی پیشرفت کی ایک مثال ہے۔ اس عمل کا اگلا قدم افغان معاشرے میں مذہبی اور نسلی اقلیتوں کو ایک سیاسی آواز کی ضمانت دینا اور تاریخی نظامی ناانصافی پر قابو پانا ہے۔ افغانستان ایک متنوع، کثیر الجہتی، اور کثیر لسانی قوم ہے جس پر اب کسی ایک گروہ یا شناخت کا غلبہ نہیں ہونا چاہیے، چاہے وہ نسلی، مذہبی، یا سیاسی ہو۔

اگرچہ افغانستان  کو ابھی ایک قابل عمل اور وکندریقرت حکومت، آزاد عدلیہ ، اور خودمختار ادارے جو ریاست کو جوابدہ ٹھہرا سکیں، حاصل کرنے سے پہلے بہت طویل سفر طے کرنا ہے، ان موجودہ کامیابیوں کو طالبان کے لیے ایک خوش آمدید تحفہ کے طور پر ضائع نہیں کرنا چاہئے۔

حاصل کلام

نومبر کے انتخابات تک محض چند روز باقی ہیں، کوویڈ ۱۹ کی وبائی بیماری اور امریکی معیشت کی بحالی دونوں صدارتی امیدواروں کے ایجنڈے میں سرفہرست ہیں۔ عالمی سطح پر امریکہ کے فعال کردارادا کرنے کے تاریخی رجحان کے باوجود، خارجہ پالیسی دونوں امیدواروں کی ترجیح میں کم ہے۔ ممکن ہے کہ ایک بایڈن انتظامیہ کثیر الجہتی اور سفارتکاری کو واپس لائے گی۔ مثلاً، ایران کے معاہدے کی بحالی امریکہ کی ایک سرگرم اور مجموعی جنوبی ایشیائی پالیسی کے لئے گیم چینجر ثابت ہوسکتی ہے۔ افغان مذاکراتی عمل کے متعلق، سابق نائب صدر بائیڈن فطری طور پر خود کو طالبان سے دور کریں گے اور مغربی یورپی ہم منصبوں کے ساتھ اتحاد پیدا کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ نوزائیدہ افغان جمہوریت کو سہارا دیا جا سکے۔ صدر ٹرمپ سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنی موجودہ جنوبی ایشیاء اور افغانستان کی پالیسی پر عمل پیرا رہیں گے  اور افغان حکومت پر طالبان کے ساتھ اقتدار بانٹنے کے لئے دباؤ ڈالتے رہیں گے ۔ اس کے تحت، ٹرپم کی “امریکہ پہلے” مہم کے پیغام سے خطے میں محدود مشغولیت کا امکان ہے۔ ممکنہ طور پر مشغولیت ہندوستان سے غیر ملکی فوجی فروخت میں توسیع، افغانستان سے دوری، اور پاکستان اور ایران پر مزید اقتصادی دباؤ کی شکل اختیار کرے گی۔

***

Click here to read this article in English.

Image 1: Pxhere

Image 2: Anadolu Agency via Getty Images

Posted in , , Afghanistan, COVID-19, democracy, Elections, Extremism, Governance, History, Human Rights, Human Security, Military, Peace, U.S. Elections 2020, United States

Arash Yaqin

Arash Yaqin, an Afghan native who fled the Afghan civil war and lived as ex-refugee in Russia and Europe for two decades. However, after studying Social Management and working several years for the Dutch Council for Refugees, the dream to rebuild his country brought him as diaspora back to Afghanistan. In Kabul, he worked as a UN capacity-building advisor for the Afghan Ministry of Foreign Affairs and later for the Afghan Institute for Strategic Studies. Then for three years, he worked as senior cultural affairs advisor for the U.S. Embassy in Kabul, where he managed the Fulbright Exchange Program. In 2016 he moved to the United States where he is pursuing his M.A. degree in Statecraft and National Security Affairs at the Institute of World Politics in Washington, D.C. His focus is Counter Violent Extremism and the Great Power Competition in South and Central Asia.

Read more


Continue Reading

کیا مقصد حاصل ہوگیا؟ افغانستان میں امریکی مفادات اور مستقبل میں درپیش آزمائشوں میں توازن کی کوشش

افغانستان میں اگر حالات انتہائی سازگار ہوں تو بھی اگلے پانچ برس اس کیلئے مشکل ہوں گے۔ اگرغنی حکومت اورطالبان کے مابین پر امن طور […]

September 5, 2020 - Views 0

Stay informed Sign up to our newsletter below





Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *