Screen-Shot-2022-11-14-at-8.19.58-AM-1095×616

گزشتہ دو برس کے دوران اگنی پرائم (جسے اگنی پی اور اگنی آئی پی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے) کا اوڑیسہ کے ساحل پہ تین بار تجربہ کیا جا چکا ہے، جس میں پہلا تجربہ جون ۲۰۲۱ میں کیا گیا تھا۔ تیسرا اور تازہ ترین تجربہ ۲۱ اکتوبر کو گجرات میں منعقدہ بھارت کی دفاعی ایکسپو کے دوران کیا گیا، جہاں بھارت کو اپنی اگنی سیریز کے چھٹے کامیاب میزائل اگنی پرائم کی نمائش کا موقع ملا۔

اگنی پرائم، اگنی سیریز کو ایک قدم آگے لے جاتا ہے۔ یہ مختصر نوٹس پر داغے جانے کے لیے تیار،روڈ موبائل، اور بیک وقت متعدد اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ۱۰۰۰ سے ۲۰۰۰  کلومیٹر رینج کا حامل یہ میزائل پاکستان کو نشانہ بنانے کے لیے تیار ہے اور پرتھوی ۲، اگنی ۱ اور اگنی ۲ میزائلوں کے متبادل یا معاون کا کام کر سکتا ہے۔ 

اگنی پرائم جس کی درستگی مبینہ طور پر نچلے دو ہندسوں میں یعنی بہت زیادہ ہے، اس نے ایسے تبصروں کو جنم دیا ہے کہ یہ انسدادی قوت کی صلاحیت فراہم کرتا ہے جس سے اس مباحثے کو تقویت مل رہی ہے کہ کیا بھارت دشمن کی عسکری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی نیت رکھتا ہے۔ بھارت ٹیکنالوجی کے شعبے میں جن راہوں پر گامزن ہے، اسے دیکھتے ہوئے تجزیہ کار اس خدشے کا شکار ہیں کہ یہ بھارت کے ”نو فرسٹ یوز” (No First Use, NFU) کے عزم کو متزلزل کرتا دکھائی دیتا ہے۔ 

اس صورتحال میں بھارت کا اس مباحثے سے فائدہ اٹھانا متوقع ہے۔ بھارت کے جوہری ڈاکٹرائن میں ابہام کی تحریک بھارت کے عزائم اور اقدامات کے بارے میں غیر یقینی کیفیت پیدا کرتی ہے۔ فی الوقت دو محاذی جنگ کے خطرات کے پس منظر میں یہ جوہری ابہام بھارت کو چاروناچار اپنے جوہری ہتھیار استعمال کرنے پر مجبور ہوئے بغیر ہی جوہری ڈیٹرنس کے ضمن میں برتری دیتا ہے۔ اگنی پرائم کا اجراء اور اس کے نتیجے میں جنم لینے والی بحث ان چیلنجز کی تلافی کرتی ہے جو بھارت کو چین اور پاکستان کی جانب سے دوہرے محاذ کی صورت میں درپیش ہیں۔

دومحاذی جنگ بطور عمل انگیز

گزشتہ دو برس کے دوران بھارت دو محاذی جنگ کے سامنے اپنی کمزوری دور کرنے کے لیے پہلے ہی سفارتی اقدامات اٹھا چکا ہے۔ ۲۰۲۰ میں گلوان میں ہونے والی جھڑپوں کے بعد بھارت عسکری سطح پر ہونے والے مذاکرات اور خاموش سفارت کاری کے ذریعے لداخ کے علاقے میں چینی دراندازی کو ایک حد تک پیچھے دھکیل چکا ہے۔ بھارت فریق ثالث کی سہولت کاری میں ہوئے خفیہ مذاکرات کے بعد پاکستان کے ہمراہ لائن آف کنٹرول پر بھی سیزفائر پر رضامند ہو چکا ہے۔

 بھارت نے روایتی سطح پر اقدامات اٹھائے ہیں جس میں اپنی روایتی فورسز کا وزن بھی مغربی سرحدوں سےاٹھاکے مشرقی سرحدوں کی جانب منتقل کرنا شامل ہے۔ اس نے دونوں محاذوں پر موجود فورسز کی تنظیم نو کرتے ہوئے انہیں انٹیگریٹڈ بیٹل گروپس (آئی بی جی) میں بدلنا شروع کیا ہے۔ یہ محاذوں کے لیے انٹی گریٹڈ تھیٹر کمانڈز( تینوں طرح کی افواج کی خصوصیت رکھنے والے گروہ) کی تعیناتی پر بھی غور و خوض کر رہا ہے۔

جوہری سطح پر بھی بھارت تکڑی بنانے کے اپنے خواب کو پورا کرنے کے لیے مسلسل مصروف عمل ہے۔ لیکن اس تکڑی کا بحری بازو اس وقت تک موثر نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس میں شامل کے-۴ بیلسٹک میزائل کو جوہری آبدوز آئی این ایس اریہانت یا عنقریب کمیشن کی جانے والی آئی این ایس اریگھت کے ذریعے داغ نہ دیا جائے۔ جنوری ۲۰۲۰ میں اس میزائل کو یکے بعد دیگرے دو مرتبہ غرقاب پلیٹ فارمز سے داغ چکا ہے۔ 

ایئرفورس کے ذریعے دو محاذی جنگ میں فتح پر توجہ کرنے کی صورت میں فضاء کے ذریعے داغے جانے والے جوہری ہتھیار بہت مہنگے پڑتے ہیں کیونکہ ایسے آپریشنز طیاروں کی بڑی تعداد کا رخ ان کی بنیادی ذمہ داریوں سے موڑ دیتے ہیں۔ 

بھارت کی جوہری تکڑی زمین سے مار کرنے والے سسٹمز پر ہی زور دیتی ہے کیونکہ اس کے بحری بازو پر ابھی کام جاری ہے اور فضائی بازو کو استعمال کرنے کی بھاری قیمت چکانا پڑتی ہے۔ اگنی ۴ اور اگنی ۵ میزائل جن کا مقصد چین کو روکنا ہے، اس میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی اگنی پرائم میں منتقل کی جا چکی ہے جس کا محور پاکستان ہے۔ بھارت، پاکستان کے خلاف خصوصاً تیار کی گئی اپنی پرتھوی سیریز کو بھی پراہار، پرالے اور شوریا میزائلوں سے تبدیل کر چکا ہے۔ یہ تمام مختلف نوعیت کی رینج کے حامل ہیں۔ 

دومحاذی جنگ کی کیفیت میں اگنی پرائم

دو محاذی جنگ کی بدترین کیفیت میں بھارتی سپاہ اپنی موجودہ صلاحیتوں کے ساتھ خود کو پوری طرح جکڑا ہوا پائیں گی۔ نتیجتاً بھارت کو ڈیٹرنس کے لیے اپنی جوہری صلاحیت کا فائدہ اٹھانے کے ذریعے اس کا ازالہ کرنا پڑ سکتا ہے اور اگر ضرورت پڑے تو ممکنہ طور پر پیدا ہونے والے روایتی عدم توازن اور دشواریوں سے نمٹ سکتا ہے۔ یوکرین میں ان دنوں جاری جنگ کے دوران روس اور نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) کے درمیان متعدد مواقع پر جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا اشارہ دینے کے سبب اس پر ممانعت میں کسی حد تک نرمی آچکی ہے جو بھارت کو یہ موقع دیتی ہے کہ وہ مختصر وقت میں بہتر اثر کے لیے اپنے ڈاکٹرائن میں مروجہ ابہام کا فائدہ اٹھائے۔

 اگنی پرائم میزائل پر لداخ کے بحران سے قبل کام جاری تھا جبکہ اس کا تصور گزشتہ دہائی کے وسط میں کسی وقت پیش کیا گیا تھا۔ تاہم اس وقت بھی بھارت میں دو محاذی جنگ کے بارے میں غور و فکر تقریباً نصف دہائی پرانا تھا ۔ جہاں ٹیکنالوجی کے شعبے میں پیش رفت اپنے سفر پر گامزن ہے وہیں ڈاکٹرائن پر سوچ بھی زیادہ پیچھے نہیں ہے۔

ایک درست، مختصر نوٹس پر داغے جانے کے لیے تیار اور روڈ موبائل میزائل کو انتہائی باریکی کے ساتھ اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے ردعمل کی رفتار کے اعتبار سے برتری حاصل ہے۔ اس پیش رفت نے بھارتی جوہری پوسچر میں عدم توازن کی موجب تبدیلی کے خدشات کو بڑھاوا دیا ہے کیونکہ اب یہ پاکستان کے تزویراتی سسٹمز کو نشانہ بنانے کے قابل ہو چکا ہے جو پاکستان کی جوابی حملے کی کارکردگی میں کمی لاتا ہے۔

بھارت نے خدشات کو روکنے کے لیے بہت معمولی کام کیا ہے جبکہ اس کے وزرائے دفاع مسلسل این ایف یو پر لاپراہی کے حامل بیانات دیتے رہے ہیں۔ یوں بھارت نے اپنے جوہری عزائم پر بذریعہ ابہام پردہ ڈالنے کے لیے ان خدشات کا استعمال کیا ہے۔ اگنی پرائم نے بھارتی جوہری صلاحیتوں کے بارے میں اس نقطہ نگاہ کی توثیق کی ہے کہ یہ ضبط کی روایتی سوچ سے این ایف یو کے ترک کی جانب رخ موڑ رہا ہے اور انسدادی قوت کے استعمال پر غور کر رہا ہے؛ یہ قبل ازیں شفافیت کو دی جانے والی ترجیح کے مقابلے میں ڈیٹرنس میں برتری دینے والے ابہام کی جانب بھارت کے جھکاؤ  میں مدد دیتا ہے۔

دو محاذی جنگ پر لڑائی

بھارتی تزویراتی ماہرین ایک محاذ کو ترجیحی محاذ (جو کہ پرائمری محاذ بھی کہلاتا ہے) اور ایک کو ثانوی محاذ قرار دینا چاہیں گے، جہاں وہ ترجیحی محاذ پر استحکام یا سودمند نتیجے کے لیے لڑائی کریں گے جبکہ ثانوی محاذ کو ممکنہ حد تک غیر فعال رکھیں گے۔ بعدازاں پرائمری محاذ کے مستحکم ہونے یا اسی دوران اگر ثانوی محاذ پر ہونے والی پیش رفت زیادہ توجہ اور وسائل کے مختص کیے جانے کی متقاضی ہوئی تو ایسے میں بھارت کرداروں کو تبدیل کر سکتا ہے۔

اگر ابتداً پاکستان کو ترجیحی محاذ قرار دیا جاتا ہے تو اسے قابو میں رکھنے کے لیے بھارت کے حال ہی میں وجود میں آنے والے آئی بی جیز کو سرحد پر تعینات کیا جا سکتا ہے۔ مقبول تصور یہ ہے کہ روایتی میدان میں خسارے کا شکار پاکستان اپنے فل اسپیکٹرم ڈیٹرنس ڈاکٹرائن کے حصے کے طور پر جوہری ہتھیاروں میں پناہ لینے کے لیے یا تو ان کے استعمال کا اشارہ دے سکتا ہے یا پھر تنازعے میں ٹیکٹیکل ہتھیاروں کے استعمال کو متعارف کروا سکتا ہے۔

حتیٰ کہ اگر پاکستان پرائمری محاذ نہ ہوا تو بھی چونکہ بھارت باز رکھنے کے لیے حملہ کر رہا ہو گا ایسے میں مشکلات کی شکار اپنی سپاہ کی کوششوں کو دوچند کرنے کے لیے وہ جوہری تنبیہہ کر سکتا ہے اور یوں پاکستان کی جانب سے نفسیاتی برتری کا فائدہ اٹھانے کا توڑ کر سکتا ہے۔

دومحاذی جنگ کی صورت میں پاکستان خفیہ گٹھ جوڑ کا حصہ ہونے کی وجہ سے بھارت کے ساتھ نمٹنے میں پراعتماد ہونے میں حق بجانب ہو گا۔ تاہم جوہری ہتھیاروں کا اس کے سامان حرب کا حصہ بننے کا امکان نہیں ہے۔اس کے علاوہ چینی دراندازی کے بعد بطور خاص پاکستان کے حوالے سے بھارت کے پاس دستیاب سپاہ میں کمی کی وجہ سے پاکستان روایتی لحاظ سے بھارت کے مقابلے میں زیادہ بہتر حیثیت میں ہو سکتا ہے۔

چنانچہ بھارت کو چین کے ساتھ محاذ کی جانب دوبارہ رخ موڑنے سے قبل اس محاذ کو جلد از جلد مستحکم کرنے کے لیے جوہری ہتھیاروں کے ذریعے فائدہ اٹھانے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔جوہری ہتھیاروں کے اشارے کے ذریعے انہیں پیش منظر میں لانے سے ذہنی ارتکاز میں مدد ملے گی۔ بھارت فریقین ثالث کے سامنے ابہام کی تخلیق اور جوہری خوف پیدا کرنے کے ذریعے پہلے ہی انہیں اشتعال انگیزی سے باز رہنے کی ترغیب دلا چکا ہے۔

پاکستان کے ساتھ محاذ پر جوہری ہتھیاروں کا اشارہ چین کو بھی پیغام دے گا: اسے بھارتی سرخ لکیریں پار کرنے، حفاظتی اقدامات کو لازمی قرار دینے کے ذریعے آپریشنز میں سستی اور جوہری حرکیات کی روشنی میں اپنی جنگی اہداف کے دوبارہ جائزہ کے حوالے سے خبردار کرے گا۔ اگنی پرائم کی رینج سطح مرتفع تبت کے حصوں کا بھی احاطہ کرتی ہے، ایسے میں یہ چینی محاذ کے حوالے سے بھی غیرمتعلقہ نہیں ہے اور چین کے ساتھ روایتی جنگ میں عدم مطابقت کی بدترین صورت حال پیدا ہونے نیز بھارتی این ایف یو پر دوبارہ غور کی ضرورت پیدا کرنے والی چینی دراندازیوں جیسی کیفیات میں جوابی عسکری اقدامات کی اجازت دیتا ہے۔

حاصل کلام

اگنی پرائم کی ساخت اور نتیجتاً جوہری خطرات کے بارے میں وہ بحث جو اس نے جنم دی ہے بھارت کو ان چیلنجز کے جائزے میں مدد دیتی ہے جو اسے دو محاذی جنگی کیفیت میں درپیش ہو سکتے ہیں۔ جنگ میں، قومی سلامتی خدشات جوہری ہتھیاروں کی مناسب تنصیب سمیت تمام ہتھیاروں کے استعمال کا تعین کرتے ہیں۔ جوہری ہتھیاروں کا درست استعمال تنازعے میں ڈیٹرنس کو مضبوط بنانا ہے۔ خطروں سے کھیلنے کے ذریعے، جنگ کے جوہری جنگ میں تبدیل ہونے کے خطرے کی ترغیب دلائی جا سکتی ہے اور خوف کو استعمال کرنے کے ذریعے اشتعال انگیزی سے بچنا ممکن ہوتا ہے۔

تنازعے سے قبل ڈیٹرنس کے بارے میں پالیسی پر ابہام جنگ میں جوہری اہداف کو میدان میں اتارنے کے قابل بناتا ہے۔ پاکستان کے جوہری عزائم کو روکنے کا بھارتی مقصد جوہری تجرد کے ترک کا پیغام دینے سے ہی زیادہ بہتر طریقےسے پورا ہو سکتا ہے۔ اگنی پرائم، دو محاذی جنگ کی بدترین کیفیت سے دوچار ہونے کی صورت میں جوہری خطروں سے کھیلنے کے بھارتی فیصلے کو تقویت بخشتا ہے۔

***

Click here to read this article in English.

Image 1: Pallava Bagla/Corbis via Getty Images

Image 2: RAVEENDRAN/AFP via Getty Images

Share this:  

Related articles

<strong>بھارتی خارجہ پالیسی ۲۰۲۲ میں: سال بھر کا جائزہ</strong> Hindi & Urdu

بھارتی خارجہ پالیسی ۲۰۲۲ میں: سال بھر کا جائزہ

بھارت نے گزشتہ برس کے دوران اپنی خارجہ پالیسی میں…

<strong>آئی ایم ایف کے اصلاحی پروگرام میں پاکستان کی ماند پڑتی دلچسپی</strong> Hindi & Urdu

آئی ایم ایف کے اصلاحی پروگرام میں پاکستان کی ماند پڑتی دلچسپی

مقامی معیشت دانوں اور پالیسی سازوں میں پائے جانے والے…

سری لنکا کی نادہندگی کا باعث چین کیوں نہیں ؟ Hindi & Urdu

سری لنکا کی نادہندگی کا باعث چین کیوں نہیں ؟

  سری لنکا کو اپنی آزادی کے بعد پہلی مرتبہ…