India-Iran-2

صدر بائیڈن کی صدارتی مدت شروع ہونے کے چند ماہ بعد ہی اطلاعات سامنے آئیں کہ ایران اور سعودی عرب جو روایتی دشمن ہیں، تعلقات میں بہتری کے لیے بغداد میں مذاکرات کی میز پر آمنے سامنے بیٹھے ہیں۔ کچھ دن بعد سعودی عرب کے حقیقی معنوں میں حکمران اور ولی عہد شہزادے محمد بن سلمان نے اس اعلان سے دنیا کو حیران کردیا کہ ”ہم ایران کے ساتھ اچھے اور خصوصی تعلقات کے خواہاں ہیں۔“ تہران، جس نے جنوری ۲۰۱۶ میں ریاض سے سفارتی تعلقات منقطع کرڈالے تھے، نے ”تعاون اور رواداری کے نئے دور میں داخلے“ کی خواہش کے ذریعے اس کا مثبت ردعمل دیا۔ ماہرین اچانک  رخ بدلنے والے ان واقعات کو واشنگٹن کی جانب سے مشرق وسطیٰ سے ہاتھ دھونے کے اشاروں سے منسوب کرتے  ہیں ۔ جیسا کہ کوئنسی انسٹی ٹیوٹ سے تعلق رکھنے والی ٹریٹا پارسی محسوس کرتی ہیں کہ ”مشرق وسطیٰ میں اپنے شراکت داروں کے جھگڑوں اور داؤ پیچ میں الجھنے سے خود کو بچانے کے واشنگٹن کے عمل نے علاقائی طاقتوں کو اپنی سفارتکاری کا خود جائزہ لینے پر مجبور کردیا ہے“

گزشتہ دو امریکی حکومتی ادوار کے دوران، آنے والے صدور نے مشرق وسطیٰ کے  ہمراہ تعلقات کو ازسرنو ترتیب دینے کی خواہش کی۔ ان میں اوباما کی مشترکہ جامع ایکشن پلان (جے سی پی او اے) کے ذریعے ایران سے تصفیہ کی پالیسی نیز ٹرمپ کی ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کے ساتھ ساتھ سعودی عرب سے دوستانہ تعلقات پر مبنی حکمت عملی شامل ہیں۔ بائیڈن کی جانب سے غیر یقینی ہونے کے ابتدائی اشارے وہ بھی اس حد تک کہ وہ سعودی عرب سے سختی کے اپنے انتخابی مہم کے دوران کیے گئے وعدے سے بھی پھر گئے  نیز ایران میں آنے والے صدارتی انتخابات کے باوجود وہ ایران معاہدے پر بھی  مذاکرات کو کامیاب نہیں بنا پائے، مشرق وسطیٰ  پر واشنگٹن کی غیرواضح اور عدم مطابقت کی حامل پالیسیوں کے سلسلے کا مظہر ہے۔ پالیسیوں میں یہ تبدیلیاں مشرق وسطیٰ کی دو بڑی قوتوں سعودی عرب اور ایران کے درمیان حرکیات کو تبدیل کرتی ہیں۔ مشرق وسطیٰ کے ہمراہ امیگریشن سے لے کے توانائی تک پرپیچ تعلقات میں الجھے بھارت اور پاکستان کو بھی چاہیئے کہ وہ سعودیہ ایران کی بدلتی ہوئی حرکیات کے مطابق خود کو ڈھالیں۔ اس عمل میں بھارت اور پاکستان کے خارجہ پالیسی عزائم، آبادیاتی اعداد وشمار اور مادی مفادات یا تو سعودی عرب اور ایران کے ہمراہ تعلقات کی از سرنو تشکیل دینے کی صلاحیت اور رفتار میں معاونت کرتے ہیں یا پھر ان کو محدود کرتے ہیں۔ سعودی عرب اور ایران میں تازہ ترین پگھلاؤ سے بھارت اپنے معاشی اور سیاسی مفادات کی خاطر فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ دوسری جانب پاکستان، ایران اور سعودی عرب کو وسیع تر مسلم امہ کے دو اراکین کے طور پر دیکھتا ہے اور بجائے اس کے کہ وہ اپنی نظریاتی ترجیحات پر جغرافیائی معیشت کو ترجیح دے،  توقع ہے کہ وہ مسلم امہ کو متحد کرنے کے لیے اپنی غیرموثر کوششیں جاری رکھے گا۔ 

خارجہ پالیسی کی سمت

 ”اسلامی اتحاد کی بنیاد پر مسلم ممالک کے درمیان بردارانہ تعلقات کو محفوظ اور مضبوط بنانے“ پر مبنی آئین میں مندرج خارجہ پالیسی ہدف رکھنے والے پاکستان کی مشرق وسطیٰ پر پالیسی کی نظریاتی بنیادیں اس کی اسلامی قوم پرستی کا ہی تسلسل دکھائی دیتی ہیں۔ تاہم سردجنگ کے ابتدائی برسوں میں پاکستان کے امریکہ سے اتحاد نے اس کے ایران اور سعودی عرب سے تعلقات پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ پاکستان کے برعکس بھارت کے ان ممالک سے ابتدائی  تعلقات کا سبب غیر اتحادی تنظیم (نیم) اور ایفروایشین یکجہتی تھی۔ مصر، ایران، متحدہ عرب امارات، عراق، اردن، بحرین اور دیگر مشرق وسطیٰ ممالک متعدد مراحل پر نیم کے متحرک اراکین رہے ہیں۔ تاہم اسلامی سربراہی تنظیم (اوآئی سی) کی تشکیل اور ۱۹۷۰ کی دہائی میں کشمیر کے مسئلے کو اوآئی سی میں لے جانے میں پاکستان کی کامیابی سے دونوں ممالک کی مشرق وسطیٰ پر پالیسی مذہبی خطوط پر ٹھوس شکل اختیار کرگئی۔ جہاں او آئی سی میں کامیابی سے پاکستان کا پین اسلام ازم کا تصور نمایاں ہوا وہیں بھارت کا غیر وابستگی کا جوش ماند پڑنے لگا اور مایوسی اور منقطع روابط اس کی جگہ لینے لگے کیونکہ نئی دہلی نے بھی خطے کو ایک اسلامی بلاک کی نگاہ سے دیکھنا شروع کردیا تھا۔ کامیاب تعلقات کی امیدیں اس وقت دم توڑ گئیں جب ایران اور سعودی عرب سمیت زیادہ تر مشرق وسطیٰ ممالک نے ۱۹۷۱ میں پاک بھارت تنازعے میں پاکستان کی حمایت کی۔

تیزی سے بڑھتے کاروباری تعلقات، عوام کے عوام سے بڑھتے روابط اور ہائیڈروکاربن میں مسلسل شراکت داری کے باوجود بھی یہ خطہ نئی دہلی کے سیاسی ریڈار سے دور ہوتا گیا۔ مودی انتظامیہ کی آمد کے بعد نئی دہلی نے بھارت کی مشرق وسطیٰ پر پالیسی تبدیل کی اور پرانے مذہبی خیالات کی بیڑیوں سے نجات پاتے ہوئے سیاسی اور تزویراتی دلچپسیوں کی بنیاد پر ممالک اور بلاکس سے روابط پر مبنی ایک جغرافیائی سیاسی نقطہ نظر اختیار کیا۔ اس نے نئی دہلی کو امریکہ سے اپنے تعلقات کا ادراک رکھنے کے باوجود ریاض اور ایران کے ہمراہ انفرادی حیثیت میں اپنے تعلقات کی وقتاً فوقتاً جانچ پرکھ کا موقع دیا۔ یہی وجہ ہے کہ جب ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے دباؤ میں اضافہ ہوا تو نئی دہلی نے ایران میں چابہار بندرگاہ پر ترقیاتی سرگرمیوں میں کمی کردی اور بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے ایران امریکہ تعلقات میں بہتری کا اشارہ پاتے ہی اسے دوبارہ تیز کردیا۔

دوسری جانب، پاکستان کی اوآئی سی کے ہمراہ سیاسی کامیابیاں جیسا کہ ۱۹۹۴ میں ”کانٹیکٹ گروپ“ کی تشکیل نے اس کی خارجہ پالیسی کی سمت کو جامد کردیا۔ اس کے بعد سے عالمی نظریاتی رجحانات میں نمایاں تبدیلیوں اور پین اسلام ازم کی ناکامی کے باوجود پاکستان اپنے اسلامی بیانیے کے راستے پر ڈٹا رہا۔ اس نے نظریاتی بنیادوں پر پالیسی اہداف کو منتخب کیا جس میں سکڑتی ہوئی معاشی طاقت کے باوجود بطور واحد اسلامی جوہری ریاست کے، اس کے لیےایک تصوراتی قائدانہ کردارتھا۔۱۹۷۹ میں انقلاب ایران کے بعد تہران اور واشنگٹن اور ریاض کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ کے باوجود پاکستان نے ایران کو ایک شیعہ مسلم ”برادر“ ریاست کے طور پر دیکھتے ہوئے کسی ایک فریق کی طرفداری سے گریز کیا۔ حال ہی میں پاکستان کی اسلامی سفارت کاری کو متعدد بار حقیقت کا آئینہ دیکھنا پڑا۔ اگست ۲۰۱۹ میں بھارت کی طرف سے جموں اور کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد پاکستان اوآئی سی کو موثر طور پر حرکت میں نہ لا سکا۔ مزید براں متصل سرحد کی حامل اسلامی ریاستیں ایران اور افغانستان اپنی سرزمین پر دہشتگردی کروانے کا الزام پاکستان پر عائد کرتی ہیں۔ ان دھچکوں کے باوجود، بجائے اس کے کہ دونوں ممالک سے علیحدہ علیحدہ تعلقات کے جغرافیائی معاشی اور جغرافیائی سیاسی مضمرات کو ناپا تولا جاتا، اسلام آباد میں پالیسی ساز حلقے سعودی عرب اور ایران کے مابین توازن کی کوششوں کو امہ کے اراکین میں پرامن تعلقات کے فروغ کے طور پر تشہیر کرتے ہیں۔ اسلام آباد، مسلمانوں کے درمیان تصوراتی اتحاد پر مبنی رائے رکھنے کے سبب اس برائے نام اسلامی دنیا میں موجود دراڑوں کو قبول کرنے سے قاصر ہے خواہ یہ ریاض اور تہران کے درمیان ہوں، ریاض اور انقرہ کے درمیان یا ریاض اور دوہا میں۔ 

آبادیاتی اعداد وشمار اور انحصار

دونوں ممالک اگر اپنے خارجہ پالیسی اہداف کو نئی سمت دینے کی خواہش بھی کریں تو بھی واضح تبدیلی کی راہ میں دو بنیادی رکاوٹیں ہیں جو کہ ملکی آبادیاتی اعدادوشمار اور سعودی عرب اور ایران دونوں پر معاشی انحصار ہیں۔ سعودی عرب ایران تنازعے میں پاکستان کی ایک فریق کی طرفداری میں نااہلی کی وجہ ملک میں موجود متحرک ایران نواز شیعہ گروہ ہیں جو کہ قومی دھارے میں شامل سیاسی جماعتوں اور ریاستی اداروں میں موجود حامی اور ہمدردوں کو استعمال کرتے ہیں تاکہ اسلام آباد ریاض شراکت داری جو کہ ایرانی مفادات سے متصادم ہے، اسے روکا جاسکے۔ یوں اگرچہ یمن اور قطر کے معاملے میں پاکستان کی غیرجانبداری نے اسے کے عرب دوستوں کو ناراض کیا لیکن اس  نے ملک میں موجود شیعہ گروہوں کی مخالفت اور ایران کے ہمراہ موجودہ اپنے ۸۰۰ کلومیٹر طویل غیرمحفوظ اور حساس سرحد کو ذہن میں رکھتے ہوئے سعودی اتحاد کی خاموش حمایت کی۔

پاکستان کے مقابلے میں بھارت کو نہ تو اولالذکر جیسے سرحدی تنازعات کا سامنا ہے نہ ہی اندرونی مخالفت جیسی آزمائشیں درپیش ہیں۔ باوجودیکہ مسلمان کل بھارتی آبادی کا ۱۵ فیصد ہیں، ان کی سیاسی ترجمانی  پانچ فیصد کے لگ بھگ پر منجمد ہوچکی ہے۔ مزید براں زیادہ تر علاقائی جماعتیں جو کہ ووٹ کا تقریباً نصف فیصد حاصل کرتی ہیں، خارجہ پالیسی پر اثرانداز نہیں ہوتی ہیں اور اسے دو قومی پارٹیوں پر چھوڑ دیتی ہیں جو کہ بی جے پی اور کانگریس ہیں۔ عمومی طور پر شیعہ بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی متنازعہ پالیسیوں جیسا کہ رام مندر تنازعہ اور آرٹیکل ۳۷۰ کی منسوخی سمیت داخلی و خارجی پالیسیوں کے حمایتی رہے ہیں۔ ان میں سے کچھ شیعہ گروہ تہران کے حوالے سے بھارت کے ناقابل حمایت کردار یا امریکی صدر کے دورے پر معمولی تعداد میں سڑکوں پر نکلے ہیں۔ بہرحال، یہ انتہائی مقامی سطح کے واقعات ہیں اور یوں یہ حکومت کی ایران اور سعودی عرب پر پالیسیوں پر اثرانداز نہیں ہوتے ہیں۔

 دونوں ممالک اپنے اپنے معاشی مفادات کی وجہ سے بھی فکرمند ہیں۔ چونکہ گورننس کے اعتبار سے معاشی استحکام پاکستان کے لیے بڑی آزمائش ہے، ایسے میں وہ سعودی عرب سے وصول ہونے والی سرمایہ کاری، قرضے اور ترسیلات زر کے ملکی معیشت میں اہم کردار کو دیکھتے ہوئے اس سے تعلقات میں کسی قسم کا بگاڑ نہیں چاہے گا۔ گزشتہ برس سعودی عرب نے، پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کی سعودی قیادت میں اوآئی سی کی جانب سے کشمیر کے معاملے پر پاکستانی موقف کی حمایت نہ کرنے پر تنقید پر ردعمل دیتے ہوئے ۳ بلین ڈالر کا قرضہ منسوخ کردیا تھا اور پاکستان کے لیے ۳.۲ بلین کے ادھار تیل کے معاہدے کی بھی تجدید نہیں کی تھی۔ پاکستان نے معاشی قیمت کا ادراک ہوتے ہی اپنے آرمی چیف کو ریاض بھیج کے داغدار تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے۔ پاکستان جہاں ایران کے ہمراہ اپنے معاشی تعلقات کو فروغ دینا چاہتا ہے، وہیں اس نے محتاط حکمت عملی اپنائی ہے تاکہ واشنگٹن اور ریاض دونوں کی ناراضی سے بچا جاسکے۔ ایران اور سعودی عرب میں تناؤ میں کمی کے بعد اسلام آباد نے تہران کے ہمراہ اپنے تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے اہم اقدامات اٹھائے ہیں جیسا کہ سرحدی بازاروں کا قیام۔ تاہم کلیدی نوعیت کے معاشی منصوبے جیسا کہ پاک ایران تیل پائپ لائن منصوبے بدستور رکے ہوئے ہیں۔

سعودی ایران حرکیات کو آزادی کے ساتھ متوازن بنانے کے قابل نہ ہونا بھارت کے لیے بھی مہنگا ثابت ہوتا ہے۔ صدر ٹرمپ کی تہران پر ”زیادہ سے زیادہ (دباؤ) کی حکمت عملی“ جس نے بھارت جیسے اتحادیوں کو تمام معاشی تعلقات منقطع کرنے پر مجبور کیا، اس سے قبل ایران بھارت کے لیے خام تیل کا دوسرا سب سے بڑا ذریعہ تھا جو بھارتی روپیے میں ادائیگی، مفت ترسیل اور اس کی انشورنس جیسے اضافی فوائد بھی دیتا تھا۔ تاہم بھارت نے اس منافع بخش معاہدے سے ہاتھ اٹھا لیے جس سے ملک میں ایندھن کی قیمتوں اور مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہوا جو ملک میں بے چینی اور غیرمقبولیت کا سبب بنی اور ملک کے غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو دھچکہ پہنچا۔ اس کے برعکس بھارت نے چابہار میں بندرگاہ کی تعمیر کی اپنی کوششوں کو یکسر ترک کرنے سے پرہیز کیا کیونکہ یہ عمل اس کی دور رس جغرافیائی سیاسی حکمت عملی کے لیے بڑا دھچکہ ثابت ہوسکتی تھی۔ بہرحال بھارت کی معاشی آزمائشیں اس قدر کٹھن نہیں ہیں جس قدر کے اسلام آباد کی، جس کی معیشت آئی ایم ایف کے بیل آؤٹ پروگرام پر زندہ ہے۔

حاصل کلام

ایران اور سعودی عرب پر پالیسیوں کی تشکیل کے موقع پر واشنگٹن اسلام آباد اور نئی دہلی پر سایہ فگن ہوتا ہے نیز انفرادی عوامل بھی ان کی فیصلہ سازی کی راہ میں رکاوٹ یا اس میں معاونت کرتے ہیں۔ بائیڈن انتظامیہ کا کم از کم موجودہ نقطہ نگاہ،  پاکستان اور بھارت کو سعودی عرب اور ایران سے تعلقات طے کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ ایران اور سعودی عرب قیادت کے درمیان دوبارہ روابط جنوبی ایشیائی ممالک کے لیے مثبت خبریں لا رہے ہیں، جو بہتر تجارتی تعلقات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ تاہم جہاں بھارت نتیجہ خیز داخلی دباؤ سے آزاد اور جغرافیائی سیاسی نقطہ نظر کے ساتھ موجودہ پیش رفت کو معاشی اور جغرافیائی دلچسپیوں کی روشنی میں دیکھ سکتا ہے، وہیں امکان ہے کہ پاکستان نظریاتی شراکت داریوں کو ناقابل استعمال ثابت کرنے والے حالیہ واقعات کے باوجود  بھی خطے میں روابط کو مذہبی سیاسی لائحہ عمل کے زاویے سے دیکھے گا۔

***

Click here to read this article in English.

Image 1: Anadolu Agency/Contributor via Getty Images

Image 2: Anadolu Agency/Contributor via Getty Images

Share this:  

Related articles

پاکستان کی سافٹ پاور میں موجود غیر استفادہ شدہ صلاحیت Hindi & Urdu

پاکستان کی سافٹ پاور میں موجود غیر استفادہ شدہ صلاحیت

وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں پاکستان کی خارجہ پالیسی…

امریکہ پاکستان جغرافیائی معاشی محور کا ادراک Hindi & Urdu

امریکہ پاکستان جغرافیائی معاشی محور کا ادراک

اپنے حالیہ دورہ امریکہ میں پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمود…

جوہری احتراز اور جنوبی ایشیا: نینا ٹینن والڈ کی تحریر ”عدم استعمال کے ۲۳ برس“ کا جائزہ Hindi & Urdu