اینڈامن اور نیکوبار جزائر: مشرق میں بھارت کا تزویراتی محور


عمومی طور پر اینڈامن اور نیکوبار جزائر (اے-این-آئی) مشرق میں  بھارت کی بیرونی  چوکی کے طو ر پر گردانے جاتے ہیں لیکن اب انہی جزائر نے تزویراتی اہمیت اختیار کر لی ہے۔ ملاکا  سے محض ۱۴۰ کلومیٹر اور بھارتی  سرزمین  سے ۱۲۰۰ کلومیٹر کی مسافت پر واقع  ہونے کی وجہ سے  ان جزائر کی خلیج بنگال میں جغرافیائی  مرکزیت  انکی بڑھتی ہوئی  اہمیت  میں اہم تر ہوتی جا رہی ہے۔ جبکہ بیرونی طور پر اے-این-آئی کی تزویراتی  صلاحیت بحرِہند میں بڑھتے چینی  اثرورسوخاور اسکے ابھرتے جغرافیائی خطرے کی بدولت  بڑھتی جا رہی ہے۔ جہاں اے-این-آئی کا محلِ وقوع  بھارت کےلئے مشرق میں تزویراتی مفادات کا باعث ہے وہیں ( ان جزائر کے) کثیر فاصلے نے انفراسٹرکچر میں ترقی ہونے میں مشکلات کھڑی کی ہیں۔

کیونکہ نئی دہلی خطے میں وسیع تر کردار کا متلاشی ہے اس لئے وہ  اپنے پچھواڑے یعنی بحرِ ہند میں مضبوط تزویراتی پوزیشن بنانا چاہتا ہے۔کیونکہ بحرِ ہند میں بھارت کی مرکزیت اسے اردگرد حرکت کرنے میں مکمل آزادی دیتی ہے  اور چونکہ اس علاقے میں بھارتی بحریہ  غالب ہے تو وزیراعظم نریندر مودی  بحرِ ہند کو اپنی پالیسیوں میں مرکزی حیثیت  دے رہے ہیں۔ بھارت اے-این-آئی کو اپنی بحری صلاحیتوں  میں نتھی کر رہا ہے  تاکہ خطے میں حقیقی  سکیورٹی فراہم کرنے والے کے طور پر اپنا تشخص بنا سکے  اور مشرق سے روابط بڑھا سکے۔نئی دہلی  کےلئے اے-این-آئی کو  ایک  متوازن  اثاثہ کے طور پر رکھنا تین نکاتی عمل ہو گا؛ جزائر کو تزویراتی  اثاثے میں تبدیل کرنا، جزائر کو (بھارتی) سرزمین سے جوڑے رکھنااور اور لوکل  نسلی خدشات کو محفوظ رکھنا۔ 

نئی دہلی کی اپروچ؛

بھارت کی طرف سے ان جزائر کو ملکی مفادات کےلئے استعمال کرنے کا پہلا فیصلہ ۲۰۰۱ میں سامنے آیا جب  اس نے ان جزائر پر اپنی واحد تین رخی اینڈومان اینڈ نیکوبار  کمانڈ (اے-این-سی) قائم کی۔ اے-این-سی بنیادی طور پر بھارت کے ‘ایکسکلوسو اکنامک زون’  پر نظر رکھنے اور ایشیا و جنوب مشرقی ایشیا میں تعینات جہازوں کو لاجسٹک مدد دینے کےلئے قائم کی گئی۔اے-این-آئی  دو مصروف ترین  جہازی راستوں ــــ چھ ڈگری اور دس ڈگری چینلز، جو کہ ملاکا سٹریٹ  سے متصل ہیں اور بھارت کی تجارت کے بڑے حصے کو تحفظ دیتی ہے ــــ کی نگرانی کےلئے اہم ترین مقام ہے۔مزید برآں  یہ جزائر انڈونیشیا اور تھائی لینڈ کے ساتھ  مشترکہ اوربھارت کی اپنی (ہر دو سال بعد) ملان مشقوں  میں پٹرولنگ  کا مرکز رہے ہیں۔تاہم حالیہ سالوں میں سکیورٹی ماہرین نے کہا ہے کہ بھارت کی عسکری سفارت کاری اور تزویراتی صلاحیت کو بڑھانے کےلئے  جزائر پر موجود سہولیات کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔اس سے نہ صرف  انٹیلی جنس،  نگرانی اور دیکھ بھال  کی صلاحیتوں میں اضافہ ہو گا  بلکہ یہ بھارت کو جنوب مشرقی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ ساتھ آسٹریلیا اور امریکہ کے ساتھ بھی وسیع تر تزویراتی شراکت داری کا موقع ملے گا۔

حالیہ سالوں میں بھارت نے جزائر کو بدلنے کے اقدامات کئے ہیں۔ ۲۰۱۵ میں حکومت نے ایک طویل مدتی منصوبے کے تحت اے-این-آئی کو بھارت کے پہلے میری ٹائم مرکز بنانے کےلئے اقدامات کئے اور عالمی سرمایہ کاروں کو انفراسٹرکچر کی ترقی کےلئے  دعوت دی۔ایک منصوبہ یہ بھی ہے کہ کیمپ بیل بے پر ایک ٹرانس شپ منٹ بندرگاہ بنائی جائے  تاکہ جنوب مشرقی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تجارت بڑھائی جائے اور ساتھ ہی   ساتھ بحرِ ہند میں مقام بلند کر لیا جائے تا کہ چین  کی علاقائی اقدامات پر بھی نظر رکھی جا سکے۔تاہم نئی دہلی کے جزائر کےلئے نئے اقدامات کے باوجود معاملات سست روی کا شکار ہیں۔ مجموعی طور پر بھارت کا اے-این-آئی کا مسئلہ یہ ہے؛علاقائی معاملات تو اگرچہ جزائر کو جدیدعسکری اڈہ بنانے کے متقاضی ہیں کہ جن پر وسیع تر تعیناتیاں ہو سکیں، لیکن نئی دہلی کو پہلے انفراسٹرکچر اور ربط سازی میں مشکلات کے معاملات  کو دیکھنا ہو گا، جزائر کے باسیوں کی خواہشات کو مدِ نظر رکھنا ہو گا جنہوں نے ترقی میں رکاوٹیں ڈالی ہیں ، اور ماحولیاتی ماہرین  کی اس رائے کہ جزائر پر تعمیرات انکی (جزائر کی) بائیو ڈائیورسٹی کو خطرے میں ڈال دیں گی، کو بھی سامنے رکھنا ہو گا۔

بڑھتی اہمیت اور ابھرتے امکانات؛

اے این آئی کی اہمیت  بنیادی طور پرچین کے علاقے میں بڑھتے اثرورسوخ کی وجہ سے ہے۔ چین کے علاقائی مفادات اسکی “سٹرنگ آف پرلز” حکمتِ عملی  سے عیاں اور اس پالیسی کے تحت چین کے خطے میں تزویراتی اڈے قائم ہیں۔سرمایہ کاری اور انفراسٹرکچر کی ترقی  کے ذریعے چین نے انتہائی اہم علاقوں یعنی چٹاگانگ، ہمبنٹوٹا، گوادر اور کیاکپو میں قدم جما لئے ہیں اور انہی کی بدولت اپنی توانائی کی سکیورٹی کو یقینی بناناچاہتا ہے۔پاکستان اور میانمار میں اڈوں سے چین کے پاس یہ موقع میسر آ گیا ہے کہ وہ بحرِ ہند کے ساتھ ان دو ملکوں کے ذریعے تعلق قائم کر لے، بجائے اسکے کہ چین کو ملاکا سٹریٹ کا استعمال کرنا پڑے۔اس وقت چین کی ۸۰فیصدتوانائی کیدرآمدات ملاکا سٹریٹ سے ہوتی ہیں۔(پاکستان اور میانمار والا) متبادل راستہ بحرِ ہند تک فاصلے کو گھٹا دیتا ہے اور ساتھ ہی چین کو “ملاکا ڈائلاما” جیسے مسئلے کا حل بھی دیتا ہے ، کیونکہ ملاکا سٹریٹ پر چین منحصر تھا جو کہ کسی بھی وقت بلاک یا (کسی اور کے) کنٹرول میں آ سکتا ہے۔

انڈوپیسفک کی بڑھتی معاشی و تزویراتی اہمیت اور  چین کی بڑھتی موجودگی نئی دہلی کےلئے دو طرح  کے اثرات کا باعث ہے۔ پہلا؛ان اہم مقامات پر رسائی کی وجہ سے چین کی خطے کے سکیورٹی امور پر دسترس بن گئی ہے جن کو مستقبل میں بھارت کے ساتھ کشیدگی کی صورت میں اپنے فائدے کےلئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ دوسرا؛چونکہ بھارتی بحریہ بحرِ ہند کو قدرتی تھیٹر سمجھتی ہے، اس لئے چین کی اپنے پچھواڑے میں اقدامات سے بھارت مزید متنبہاورخدشاتکاشکار ہو گیا ہے۔اس سے نبرد آزما ہونے کےلئے بھارت نے جزائر پر آبدوزشکنجنگیطیاروں  کی تعیناتی  شروع کر دی ہے تا کہ چین کی آبدازوں کا خطے میں  بڑھتی سرگرمیوں پر نظر رکھی جا سکے۔

اگر اے-این-آئی کو ایک جدید  اڈے میں تبدیل کر دیا جاتا ہے تو یہ بھارت کوچینی بحریہ کی بحرِ ہند میں موجودگی  سے نمٹنے کےلئےایک “بہترین  معاشی اور عسکری حل” فراہم کرے گا کیونکہ یہ تزویراتی اڈے اور جامع نگرانی کے طور پر بھی کام کرے گا۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر سکیورٹی نظام کو مربوط بنایا جاتا ہے تو ای-این-سی خطے میں غیر روائتی خطرات ــــ جو کہ یقیناً بڑھ رہے ہیں جیسا کہ سمندری دہشت گردی، منشیات کی اسمگلنگ اور ماحولیاتی تباہ کاریاں ــــ  سے نمٹنے میں  بھی مزید تحفظ فراہم کرسکتا ہے ۔بھارت ان جزائر کو دیگر ساحلی ریاستوں  کے ستھ مل کر مشرکہ غیر روائتی خطرات سے نبرد آزما ہونے کےلئے بھی استعمال کر سکتا ہے۔

توازن برقرارکرنا؛

اے –این-آئی کو ایک متحرک اڈہ بنانے سے بھارت کی انڈوپیسفک خطے میں تزویراتی موجودگی  کچھ اس طرح سے سود مند ہو گی کہ (بھارت کی)سمندر میں یہ موجودگی  کشیدگی کے دوران  دفاع کی پہلی لائن ثابت ہو گی اور خطے میں دیگر ساحلی ریاستوں کے ساتھ مزید مثبت  ربط سازی  قائم ہو سکے گی۔بھارت کےلئے یہ مناسب ہو گا کہ وہ اس جغرافیائی اثاثے کی ترقی کےلئے ترجیحات طے کرے تاکہ وہ بحرِ ہند  میں اپنے حقیقی مقاصد کو پہچان سکے۔

***

Click here to read this article in English.

Image 1: Indian Navy

Image 2: Indian Navy

Posted in , China, China in South Asia, Conventional Forces, Defence, Geopolitics, India, Maritime, Military, Regional Connectivity, Security

Udayan Das

Udayan Das

Udayan Das is a doctoral candidate at the Department of International Relations, Jadavpur University, Kolkata, India. He is currently working as a Research Assistant at the Netaji Institute for Asian Studies, Kolkata. Udayan has been a former Oral History Apprentice at The 1947 Partition Archive, where he collected accounts of the survivors of Partition. He has also been associated with international educational initiatives like The History Project and The Dreamfly. His research interests include India's foreign policy along with contemporary strategic and political issues pertaining to the subcontinent.

Read more


Continue Reading




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *