,

بحری جوہری ڈیٹرنس کی پاکستانی جستجو کے پس پردہ تزویراتی تخمینے

بحری جہت، جنوبی ایشیا میں پاکستان و بھارت کے مابین جوہری ڈیٹرنس کے  پلڑے میں ہونے والا حالیہ اضافہ ہے۔ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران جہاں بھارت کے بحری جوہری منصوبے نے نمایاں پیشقدمی کی ہے، وہیں پاکستان کی سمندرسے داغی جانے والی جوہری تنصیبات ابھی نوزائیدہ ہیں۔ یہ مضمون بحری جوہری ڈیٹرنس کے حصول کی پاکستانی جستجو کے پس پردہ محرکات، اس صلاحیت کا پاکستان کی مجموعی جوہری پالیسی سے تعلق اور جنوبی ایشیا میں تزویراتی توازن کیلئے اس کے مضمرات کا جائزہ لے گا۔

زیر سمندر ڈیٹرنس کے قیام کے ذریعے جوہری تگڑی کے حصول کی پاکستانی خواہش کی بڑی وجہ دراصل پاکستان کا یہ سمجھنا ہے کہ اسے اپنے جوہری ڈیٹرنس کی ساکھ میں اضافے کی ضرورت ہے۔ اس صلاحیت کے حصول کیلئے اس کی دلیل علاقائی سلامتی حرکیات سے ماخوذ ہے؛ جن میں بھارت کی تیزی سے بڑھتی بحری جوہری طاقت نیز دشمن کی عسکری صلاحیتوں کو نشانہ بنانے پر ممکنہ غور شامل ہیں جو کہ پاکستان کی بری و فضائی جوہری طاقتوں کی بقا کیلئے بڑا خطرہ ہیں۔ 

بحری جوہری ڈیٹرنس کے حصول کی پاکستانی خواہش کیلئے استدلال

جوہری ہتھیاروں کے استعمال میں پہل نہ کرنے کی بھارتی پالیسی کے حوالے سے بڑھتے شبہات اور اس کی جانب سے نئی ٹیکنالوجیز بشمول تیز رفتاری و مہارت سے نشانہ بنانے کے قابل ہتھیاروں کا حصول نئی دہلی کی جوہری حکمت عملی میں بتدریج تبدیلی کا اشارہ دیتے ہیں جس کے تحت وہ یکساں نوعیت کی یقینی جوابی کارروائی کی پالیسی سے ہٹتے ہوئے حفاظتی تدبیر کے طور پر حملے کی حکمت عملی کی جانب رخ کر رہا ہے۔ پاکستان کے حوالے سے بھارتی حکمت عملی میں یہ تبدیلی اور پاکستان کیخلاف پیشگی حفاظت کے نقطہ نگاہ سے کئے گئے حملے کرنے کی بڑھتی ہوئی بھارتی صلاحیت دراصل ان چیلنجز کو اور بھی نمایاں کرتی ہے جو پاکستان سمجھتا ہے کہ اسے اپنی جوہری صلاحیتوں کی بقا کے حوالے سے درپیش ہیں۔

بحری جوہری صلاحیت جسے روایتی طور پر محض جوابی کارروائی کے ایک ذریعے کے طور پر دیکھا جاتاہے، اب ممکنہ طور پر نئی دہلی کی ارتقاء پذیر حکمت عملی کا کلیدی حصہ بننے جارہی ہے۔ سابق بھارتی عسکری ماہرین جوابی حملوں کیلئے ایس ایل بی ایمز کے ممکنہ استعمال کا اشارہ دے چکے ہیں۔ مشاہدہ کاروں نے بھی یہ محسوس کیا ہے کہ کے ۱۵ اور کے۴ ایس ایل بی ایمز جو تقریباً بالترتیب ۷۰۰ کلومیٹر اور ۳۵۰۰ کلومیٹر تک سفر کرسکتے ہیں، چین کو دھمکانے کے قابل نہیں ہوسکتے ایسے میں ان کا استعمال محض پاکستان کی حد تک محدود ہے۔ ہدف کو نشانہ بنانے کی تقریباً ۱۰۰ فیصد صلاحیت رکھنے والے کے ۱۵ ایس ایل بی ایم کی تیاری بھی ایک ایسی صلاحیت کو اجاگر کرتا ہے جو لپیٹ میں آکے نشانہ بننے کے امکانات کو کم سے کم کرتی ہے اور یوں بھارت کو دشمن کے عسکری اہداف کو جوہری ہتھیار سے ٹھیک نشانہ بنانے کے قابل بناتی ہے۔ اسطرح ایس ایل بی ایمز کی مہارت میں بہتری، ایس ایس بی اینز کے کردار کو بہتر بناتے ہوئے انہیں جوابی کارروائی کے ہتھیار کی جگہ پیشگی حملہ کرنے والا مہلک ہتھیار بنا دیتی ہے۔

پلوامہ تنازعے کے نتیجے میں بھارتی جوہری آبدوز کی تنصیب بھارت کی جانب سے معمولی اشتعال انگیزی کی صورت میں بھی معاملے کو جوہری تنازعے میں تبدیل کرنےکے بھارتی رجحان کی جانب اشارہ تھی۔ نیز یہ ”حملے میں پہل سے قبل ہی جوابی کاروائی کے ہتھیاروں کے استعمال“ کی جانب بھارتی جھکاؤ کا بھی اشارہ ہے۔ عام تاثر کے برعکس، یہ سوال کہ آیا بھارتی بحری جوہری صلاحیت فقط جوابی کاروائی کیلئے ہی استعمال ہوگی، محض اس کی نیت پر منحصر ہے کیونکہ اس حوالے سے صلاحیتوں کا حصول تو پہلے سے ہی جاری ہے۔ مستقبل میں طویل فاصلے تک مار کرنے اور متعدد اہداف کو نشانہ بنانے کے قابل ایس ایل بی ایمز جیسا کہ کے ۵ اور کے ۶ کی تعیناتی پاکستان میں اس کشمکش کو مزید تقویت بخشے گی جو اریہانت آبدوزوں کے ذریعے حملے میں پہل کے حوالے سے پائی جاتی ہے۔ 

ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی کے علاوہ پاکستان کے قرب میں بھارتی ایس ایس بی اینز کی ممکنہ تنصیب خبردار ہونے کے وقت میں کمی کا باعث ہوسکتی ہے اور یہ صورتحال بھارت کو جارحانہ جوہری آپریشنز کے مختلف مواقع بشمول فوجی و شہری تنصیبات پر بیک وقت حملے وغیرہ کے امکانات فراہم کرتی ہے۔ نومبر ۲۰۱۶ میں پاک بحریہ نے ایک بھارتی آبدوز شناخت کی تھی اور اسے اپنی علاقائی حدود سے باہر نکل جانے پر مجبور کردیا تھا۔ مارچ ۲۰۱۹ میں ایک بار پھر پاکستان نے اپنے لئے مخصوص معاشی زون میں ایک بھارتی آبدوز شناخت کی تھی۔ یہ واقعات یہ واضح کرتے ہیں کہ بھارت کس طرح پاکستانی سمندری حدود کے قریب جارحانہ کاروائیوں کیلئے بحری طاقتیں استعمال کرسکتا ہے۔

پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کی بقا کو ایک اور خطرہ پاکستان کے محدود خطے اور بھارت کی جانب سے ”پاکستان کے قدرے کم تعداد میں زمین پر موجود تزویراتی جوہری اثاثوں پر پیشگی شدید حملہ“ کے امکانات کے باعث لاحق ہے۔ اس طرح کی صورتحال اسلام آباد کو سلامتی کے حوالے سے درپیش المیئے کو مزید ابتر کرتی ہے کیونکہ یہ اسکی  جوابی کاروائی کی صلاحیت پر براہ راست اثرانداز ہونے کے علاوہ اسے ایک بحری جوہری قوت کا مقابلہ کرنے کے قابل ایسے وسائل کی تلاش پر مجبور کرتا ہے جن کی کارکردگی محض جوابی کارروائی تک محدود نہ ہو۔ فی الوقت پاکستان کی زیر سمندر جوہری صلاحیتیں آبدوز سے لانچ کئے جانے والے اکلوتے  کروز میزائل (ایس ایل سی ایم) بابر سوئم تک محدود ہیں۔ مزید براں یہ جوہری بیلسٹک میزائل سب میرین (ایس ایس بی این) سے بھی محروم ہے۔ تاہم اس کمزوری سے پیچھا چھڑانے اور جوہری میدان میں بقا کیلئے اسلام آباد کا میلان سمندر پر تنصیب ہتھیاروں کی تعداد میں اضافے کے ذریعے سے اپنی جوہری طاقت میں پھیلاؤ کی جانب ہو رہا ہے۔

بحری جوہری صلاحیتیں پاکستان کو بھارت کی بڑھتی ہوئی بیلسٹک میزائل ڈیفنس (بی ایم ڈی) صلاحیتوں کا مقابلہ کرنے کا بھی موقع دیتی ہیں۔ پاکستانی ماہرین یقین رکھتے ہیں کہ بی ایم ڈیز کے متعارف ہونے سے اسلام آباد کی تزویراتی ڈیٹرنس حکمت عملی منفی طور پر متاثر ہوئی ہے کیونکہ یہ ٹیکنالوجی بھارت کو اس اعتماد کے ساتھ حفاظتی نقطہ نگاہ سے پیشگی حملہ کرنے کیلئے ترغیب دیتی ہے کہ ان کی میزائل شیلڈ بچے کھچے کسی بھی جوہری ہتھیار کو روک لے گی اور یوں اچانک ہونے والی اشتعال انگیزی کے اثرات کو کم کرلیا جائے گا۔ زیر سمندر جوہری صلاحیت اس قسم کے خطرات کا مقابلہ کرنے کی بہترین صورت ہے۔ بابر سوئم ایس ایل سی ایم کے تجربہ کے موقع پر آئی ایس پی آر کے بیان نے میزائل کی ریڈار اور فضائی دفاعی نظام سے بچ نکلنے کی صلاحیت کو خصوصاً بیان کیا تھا۔ نگاہوں میں آئے بغیر خفیہ حرکت کرنے کی صلاحیت کے حامل میزائلوں کے علاوہ سمندر سے مار کرنے والا نظام بھی بری میزائل سسٹم کے برعکس زیادہ نشانہ باندھنے کے امکانات مہیا کرتا ہے۔ اس کی وجہ اسے سمندر میں کسی بھی جگہ سے داغے جانے کی خوبی ہوتی ہے جو اسے دشمن کے میزائل ڈیفنس سسٹم میں گھس جانے کی صلاحیت بخشتی ہے۔ دشمن کی سرحد کے قریب تیر سکنے اور نگاہوں میں آنے سے محفوظ ہونے کے سبب آبدوزوں کے پاس یہ موقع ہوتا ہے کہ وہ غیر متوقع زاویوں سے اور مقامات سے میزائل داغ سکیں اور یوں وہ دشمن کے فوری خبردار کرنے والے ریڈار اور میزائل سسٹمز کو شکست دینے میں مدد دیتی ہیں۔ تاہم فضائی نگرانی کے شعبے میں اہم پیش رفت کے باوجود بھارت کیلئے اتنے بی ایم ڈی سنسر لگانا کہ جس سے پورے بحیرہ عرب کی نگرانی ممکن ہو، اب بھی مشکل ہے۔ یوں بھارتی میزائل ڈیفنس سسٹم میں داخل ہوجانا وہ بڑا محرک ہے جو پاکستان کو زیرسمندر ڈلیوری سسٹمز کی تیاری کی جانب اب بھی راغب کرتا ہے۔

مئی ۱۹۹۸ سے پاکستان کی جوہری پالیسی کے بنیادی مقاصد میں سے ایک یہ رہا ہے کہ دشمن کو کبھی بھی اس امر کی اجازت نہ دی جائے کہ وہ باہمی طور پر خطرے سے دوچارگی کو غیر اہم سمجھنے لگے، جنوبی ایشیا کا ڈیٹرنس بھی اسی پالیسی پر مبنی ہے۔ تاہم گزشتہ کچھ برسوں میں بھارت کی جانب سے جارحانہ عسکری ڈاکٹرائن کے متعارف کروانے نیز براہموس اور میزائل شکن ہتھیاروں کے ذریعے میزائلوں کے نظام کو غیر متوازن کرنے سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بھارت نے پاکستان کیخلاف اشتعال انگیزی میں غلبے کی حکمت عملی پر عمل شروع کردیا ہے۔ جوہری دشمنوں میں سے اگر کوئی ایک  یقینی جوابی حملہ کرنے کی صلاحیت سے عاری ہو تو ایسی صورتحال باہمی طور پر خطرے سے دوچارگی کی کیفیت کو غیر اہم کردیتی ہے، تزویراتی عدم توازن کی جانب لے جاتی ہے اور آخر کارڈیٹرنس میں عدم توازن کا باعث ہوتی ہے۔ بھارتی بحری جوہری منصوبے کی بڑھوتری اور یہ تاثر کہ بھارت باہمی طور پر خطرے سے دوچارگی کے حوالے سے اپنے عزائم میں کمزور پڑرہا ہے، درحقیقت  بحری جوہری ہتھیاروں کے حصول کی پاکستانی خواہش کا سبب بن رہا ہے۔

مستقبل کے رجحانات اور تزویراتی توازن کیلئے مضمرات

  پاکستان اگرچہ فی الحال ایس ایس بی این نہیں رکھتا تاہم اس کا قابل بھروسہ بحری ڈیٹرنس بھارت کے ساتھ ڈیٹرنس کے ضمن میں تعلق کو متوازن کرنے میں مدد دیتا ہے۔ تاریخی لحاظ سے بحری جوہری ڈیٹرنس کیلئے زیر سمندر دیگر متعدد مقاصد کیلئے استعمال ہونے والے بحری پلیٹ فارمز کا استعمال کیا جاتا رہا ہے کیونکہ بری جوہری طاقت کے مقابلے میں یہاں اس کو زیادہ بہتر طور پر چھپایا جا سکتا ہے۔ جوہری ہتھیاروں کی یہ اہم خوبی ڈیٹرنس کو متوازن کرنے میں اہمیت رکھتی ہے۔ یہ امر بھی قابل غور ہے کہ ایس ایس بی اینزاگرچہ یقینی جوابی حملے کی صلاحیت کے حامل ہتھیاروں میں سب سے اہم ہیں تاہم اس کے باوجود بھی معاشی اور تیکنیکی وجوہات کی بنا پر جوہری ہتھیاروں کی حامل ریاستیں اس کے حصول کو اولیت نہیں دیتی ہیں۔ بہرحال بھارت کی جانب سے اچانک حملوں کے بڑھتے امکانات کے سبب پاکستان کو اس امر کی ضرورت پڑ سکتی ہے کہ وہ قابل بھروسہ جوہری ڈیٹرنس کے حصول کی جانب اگلے منطقی قدم کے طور پر ایس ایس بی این صلاحیت پیدا کرے ۔

  پاکستان کو اپنے بحری ڈیٹرنس کے حوالے سے مستقبل میں جو اہم آزمائش درپیش ہوسکتی ہے وہ بھارت کی بڑھتی ہوئی آبدوز شکن جنگی صلاحیت (اے ایس ڈبلیو) سے متعلقہ ہوسکتی ہے۔ اے ایس ڈبلیو پر بھارت امریکہ تعاون جس میں ایم ایچ ۶۰ آر سہواک ہیلی کاپٹرز کیلئے ایک حالیہ معاہدہ بھی شامل ہے، کے علاوہ بھارت کی ڈیفنس اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (ڈی آر ڈی او) مستقبل میں بھارتی بحریہ کی ضروریات سے نمٹنے کیلئے متعدد خود مختار زیر سمندر رہنے والے  جہاز (اے یو ویز) بھی تیار کررہی ہے۔ اس رجحان کا ایک نتیجہ سمندر میں وسیع پیمانے پر نگرانی اور مسلسل مشاہدے کی وجہ سے اے ایس ڈبلیو آپریشنز کی نوعیت کے دفاعی سے جارحیت  میں تبدیلی کی صورت میں ہوسکتا ہے۔

اے ایس ڈبلیو کی جارحانہ صلاحیتوں کا عملی نفاذ  ابھی باقی ہے تاہم اگر بھارت یہ قدم اٹھانے کا فیصلہ کرلیتا ہے تو ایسے میں بھارتی اے ایس ڈبلیو صلاحیتیں پاکستانی آبدوزوں کی نقل و حرکت کو محدود کرسکتی ہیں نیز پیٹرولنگ میں مصروف پاکستانی آبدوزوں کی شناخت سے ان کی سلامتی کو بھی خطرے میں ڈال سکتی ہیں۔ زیر سمندر بحری جوہری طاقتوں کو اچانک حملے کے درپیش خطرات میں یہ اضافہ ایک ایسی صورتحال کی جانب دھکیل سکتا ہے جو بحران کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے۔ ایسے سسٹمز کا بھارتی آبدوزوں سے الحاق نیز فاصلے سے اہداف کی شناخت کرنے کی صلاحیتیں پاکستان کیلئے یہ لازم قرار دے سکتی ہیں کہ وہ اے ایس ڈبلیو جنگوں میں بڑھتے رجحانات کو اپنے تخمینوں میں شامل کرے۔ ان بڑھتے رجحانات کے پاکستان کے جوہری الرٹ لیول کیلئے بھی مضمرات ہوسکتے ہیں نیز وہ اسے اپنی کمزوری پر قابو پانے کیلئے بحری و بری ڈیٹرنس قوتوں کو تناسب کے ساتھ پھیلاؤ پر مجبور کرسکتے ہیں۔ ایسے سسٹمز کا ان پلیٹ فارمز کیخلاف ممکنہ جارحانہ استعمال جن کا عمومی مقصد محض ڈیٹرنس کو مضبوط کرنا ہوتا ہے، محض زیر سمندر ہتھیاروں کی دوڑ کو جنم دے گا اور بحران کا باعث بنے گا جو نتیجتاً ہتھیاروں کو ہنگامی صورتحال کیلئے تیار کرنے جیسے جوابی اقدامات کا موجب بھی ہوسکتا ہے۔

حاصل کلام

پاکستان میں اس بڑھتے تاثر کے ساتھ کہ باہمی طور پر کمزور ہونے کے حوالے سے بھارتی عزائم کمزور پڑ رہے ہیں، جنوبی ایشیا میں ڈیٹرنس اور تزویراتی توازن کا مستقبل غیر یقینی ہے۔ جیسا کہ ایلفرڈ وولسٹیٹر نے نشاندہی کی ہے کہ ڈیٹرنس کو برقرار رکھنے کی اولین شرط دشمن کے غیر متوقع حملوں کو سہنے کی صلاحیت میں پنہاں ہے اوریہی کلیہ آبدوزوں پر جوہری ہتھیاروں کی تنصیب کیلئے پاکستان کو اکساتا ہے۔ خطے میں مسلسل بدلتے سلامتی کے ماحول کا مجموعی جائزہ یہ تجویز کرتا ہے کہ جوہری ڈیٹرنس کے حصول کی پاکستانی جستجو منطقی حساب کتاب پر مبنی اور باہمی کمزوری کے نظریئے سے بیاں ہوتی ہے۔ سمندر میں پاکستان کے موثر جوہری ڈیٹرنس کی عدم موجودگی میں مسلسل بدلتے بحری ماحول کی وجہ سے اشتعال انگیزی کی صورت میں اس میں اضافہ اور جوہری ہتھیاروں کے ممکنہ استعمال کا خدشہ موجود رہے گا۔ بھارت کی جلد خبردار ہوجانے اور حفاظتی نقطہ نگاہ سے پیشگی حملے کی بڑھتی صلاحیتیں پاکستان کے اندر جغرافیائی حد کے باعث موجود تزویراتی گہرائی کی کمی کے احساس کو بیدار کرسکتی ہیں۔ اس امر پر غور بھی حوصلہ افزا ہوسکتا ہے کہ بری نوعیت کے جوہری ہتھیاروں کی تعداد میں کثیر اضافے کے ذریعے ردعمل دینے کے بجائے پاکستان نے اپنے جوہری پلیٹ فارم کو وسعت دینے کا فیصلہ کیا ہے جو کہ بڑے پیمانے پر بقا کو یقینی بنا سکتا ہے نیز بھارتی میزائل ڈیفنس نظام کا مقابلہ کرنے کیلئے موثر اہداف کو نشانہ بنانے کا امکان بھی مہیا کرتا ہے۔

 جنوبی ایشیا میں پاکستان اور بھارت کے مابین سلامتی سے وابستہ مسائل میں کمی کیلئے سنیجدہ کوششوں کی گنجائش اگر کم ہے توایسے میں دونوں ریاستوں کو کم از کم اس امر پر اتفاق کرلینا چاہئے کہ یقینی طور پر دو طرفہ تباہی، استحکام کی اساس ہے۔ خطے میں استحکام بحال رکھنے کیلئے پاکستان اور بھارت کو اس حقیقت کا ادراک کرنا ہوگا کہ وہ دونوں ایک دوسرے کے ہتھیار یکبارگی ختم کرنے کی صلاحیت سے محروم ہیں۔ اگر بھارت اپنی بحری صلاحیتوں میں اضافے کیلئے چین کے بطور بنیادی محرک کردار کا استعمال جاری رکھنا چاہتا ہے تو ایسے میں اسے چاہئے کہ وہ کم از کم ایسی حکمت عملی اپنائے جو پاکستان کیلئے جارحانہ نوعیت کی نہ ہوں۔ تاہم بھارت کی جانب سے مختصر سے درمیانی فاصلے تک انتہائی مہارت سے نشانہ بنانے والے ایس ایل بی ایمز کی تیاری جو کہ خاص طورپر پاکستان کیلئے ہے، بحران کی صورت میں ایس ایس بی اینز کے استعمال کا اشارہ دینے کیلئے ان کی تنصیب نیز جارحانہ بیانات سے ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت پاکستان کے حوالے سے ہر لحاظ سے تیار ہے۔ بھارت کیلئے جوہری ہتھیاروں کے استعمال میں پہل کی ترغیب بننے والے امور میں کمی نیز پاکستان میں اس اعتماد میں اضافہ کہ وہ جوابی حملہ کر سکتا ہے، اشتعال انگیزی کی صورتحال میں جوہری ہتھیاروں کے جلد استعمال سے روک سکتا ہے جو کہ خطے میں جوہری ہتھیاروں کے استعمال پر قابو کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ یوں کامیابی کے ساتھ جوابی حملہ کرنے کی صلاحیتوں کے حوالے سے پاکستان کا بڑھتا اعتماد بذات خود بحران کو ختم کرنے میں سہارا دے سکتا ہے۔

بھارت کی تیزی سے بڑھتی اے ایس ڈبلیو صلاحیتیں اور ان کا ممکنہ جارحانہ استعمال خطے کی اصل تزویراتی ہیئت کو تبدیل کرسکتا ہے نیز زیر سمندر جوہری قوتوں کی بقا کو خطرے میں ڈال کے عدم استحکام کا باعث بن سکتا ہے۔ خاص کر دوران بحران، ایسی طاقتوں کا نفاذ نیت کے بارے میں غلط پیغام دیتا ہے  اور اشتعال انگیزی کے ممکنہ خطرے کو دوچند کردیتا ہے۔ جنوبی ایشیا کے تزویراتی ماحول میں ہتھیاروں کے استعمال کو قابو میں رکھنے کے حوالے سے ایسے اقدامات کی کمی پائی جاتی ہے جو اس امر کی ضمانت دے سکیں کہ یقینی تباہی کا چکر نہیں شروع ہوگا۔ خطے میں عسکری صلاحیتوں میں شتربے مہار اضافے کے سبب سلامتی کی صورتحال میں گراوٹ کا سلسلہ جاری ہے، یہ کیفیت معاندانہ جارحانہ صلاحیتوں کے استعمال کو محدود کرنے میں تخفیف اسلحہ اور تنازعے کے حل کیلئے اقدامات کی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔

امکان یہ ہے کہ جوہری تکڑی کی بحری شاخ کو تیار کرنے کی پاکستانی جستجو  میں جوہری توانائی سے چلنے والے بحری جہازوں کی تیاری بھی شامل ہوگی۔ خطے کا نازک تزویراتی توازن پاکستان کو اپنے جوہری ڈیٹرنس کی ساکھ میں اضافے کیلئے بحری جوہری صلاحیتیں حاصل کرنے پر اکساتا ہے نیز یہ پاکستان کی جوابی حملے کی صلاحیتیں یقینی بنانے اور نئی دہلی کو حفاظتی نقطہ نگاہ سے پیشگی حملے سے باز رکھنے کے ذریعے سے جنوبی ایشیا میں تزویراتی توازن میں اضافے کا باعث ہوگا۔

باہمی کمزوری کے اصول کی بنیاد پر قائم حکمت عملیوں کا ترک کیا جانا تزویراتی توازن کو متاثر کرے گا۔ ریاستوں کی جانب سے ڈیٹرنس حکمت عملیوں کو اس اصول کی بنیاد پر تشکیل دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ بطور مجموعی اگر دونوں ریاستوں کے پاس جوابی حملے کی  مضبوط صلاحیت ہو تو یہ دونوں کو حملے میں پہل سے بھی روکیں گی۔ اسکے برعکس اگر صرف ایک ریاست خود کو طاقتور محسوس کرتی ہے اور پیشگی حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے تو ایسے میں یہ ریاست حفظ ماتقدم کے طور پر پیشگی حملہ کرنے پر آمادہ ہوگی۔ ایسے میں پاکستان بحری جوہری ڈیٹرنس کی جستجو کو باہمی کمزوری کے اصول کے نفاذ اور خطے میں تزویراتی توازن کے قیام کے ذریعے کے طور پر دیکھتا ہے۔

***

.Click here to read this article in English

Image 1: Pakistan Navy via Facebook

Image 2: Indian Navy via Twitter

Posted in , , China, Defence, Deterrence, India, India-Pakistan Relations, Indian Ocean, Maritime, MIRVs, No First Use, Nuclear, nuclear navy, Nuclear Security, Nuclear Weapons, Pakistan

Sufian Ullah

Sufian Ullah is a PhD scholar at Department of Defence & Strategic Studies, Quaid-i-Azam University, Islamabad. He is currently working as a Research Fellow at the Center for International Strategic Studies (CISS). He holds an M.Phil degree in Strategic & Nuclear Studies, from National Defence University (NDU), Islamabad. He was a visiting fellow at the Center for Non-Proliferation Studies, Monterey, California during fall 2014. His areas of interest include India’s maritime strategy and strategic stability in South Asia. His current work investigates the developing naval competition among regional states and also the emerging dynamics of sea-based nuclear deterrence in South Asia.

Read more


Continue Reading

کیا مقصد حاصل ہوگیا؟ افغانستان میں امریکی مفادات اور مستقبل میں درپیش آزمائشوں میں توازن کی کوشش

افغانستان میں اگر حالات انتہائی سازگار ہوں تو بھی اگلے پانچ برس اس کیلئے مشکل ہوں گے۔ اگرغنی حکومت اورطالبان کے مابین پر امن طور […]

September 5, 2020 - Views 0

Stay informed Sign up to our newsletter below





Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *