بنیادی اصولوں کی طرف واپسی: جوہری پالیسی میں تحمل کا عہد

 گزشتہ پانچ دہائیوں سے کچھ زیادہ عرصے سےچین ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ایک ریاست ہے۔ بیجنگ نے جوہری تسدید کے لئے ایک کم سے کم نقطہ نظر کی راہ اپنائی ہے، چین نے ہتھیاروں کے بڑے ذخیرے رکھنے یا اچانک ایٹمی حملے کی صلاحیت حاصل کرنے سے گریز کیا، ان حالات میں بھی جب کہ اسے دو بڑی مخالف قوتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا. چین نےحملے میں پہل نہ کرنے [no-first-use] کی پالیسی اپنائی اور اسلحہ کی سیاسی نوعیت پر زور دیتے ہوئے ایک دھیمی جوہری پروفائل اور جدیدت کی ایک ہلکی رفتار کو برقرار رکھا ہے۔ تاہم پچھلی دہائی کے دوران  بیجنگ کے جوہری جدیدت کے پروگراموں میں تیز رفتار اور تنوع نظر آیا ہے جن میں نئی جن (JIN) کلاس نیوکلیئر طاقت سے چلنے والی آبدوزیں، متعدد، آزادانہ طور پر ہدف پر نشانہ لگانے والا، دوبارہ داخل ہونے والا وسیلہ (ایم آئ آر وی) کی تعیناتی، اور شاید میزائل کے اوپر قابل کنٹرول دوبارہ داخلے وار ہیڈز سے لیس میزائل، دوہرے استعمال ہونے والے کروز میزائل، ہائپرسونک میزائلوں کی تحقیق اور تیاری، اور انٹیلیجنس، نگرانی (آئی ایس آر) کو بہتر بنانے کے لئے خلائی صلاحیتوں کا تیزی سے پھیلتا ہوا استعمال شامل ہے۔ ان پیشرفتوں سے چین اپنی کم سے کم  تسدید کی حکمت عملی سے کتنا دور جاۓ گا, یہ واضح نہیں ہے۔

بھارت ایٹمی مسلح ریاست کی حیثیت سے دو دہائیاں مکمل کرنے والا ہے۔ اس مدت کو اپنے جوہری  تسدید کو عملی شکل دینے میں صرف کیا گیا ہے جس میں ایک اندازے کے مطابق ۱۱۰-۱۲۰ وار ہیڈز کا ایک معمولی ذخیرہ،  متفرق فاصلوں کے میزائلوں کی ٹیسٹنگ اور ان کی شمولیت، اور اپنی پہلی جوہری آبروز ”“آئی این ایس آریھانت کی موجودگی سے ممکنہ ٹرائیڈ صلاحیت کی طرف بڑھنا شامل ہے۔ یہ سرگرمیاں ایک ایسے جوہری نظریہ پر مبنی ہیں جس کا مسودہ ہندوستان کے قومی سلامتی کے مشاورتی بورڈ (این ایس اے بی) نے اگست ۱۹۹۹ میں تیار کیا تھا، اور جس کی توثیق ۲۰۰۳ میں ہندوستانی حکومت نے اس کی زیادہ تر خصوصیات کو برقرار رکھتے ہوئے کی تھی۔ اس نظریہ میں واضح کیا گیا کہ ہندوستان قابل بھروسہ، بچ جانے والی اور آپریشنل ایٹمی قوتیں، ایک مضبوط کمانڈ اور کنٹرول سسٹم، موثر اینٹلی جنس، اور قبل از وقت وارننگ صلاحیتیں تیار کرے گا، جس سے ان کی بقا اور ساکھ کو زیادہ سے زیادہ یقینی بنا یا جاۓ گا۔ بقا کیلئے متودد فالتو نظام، نقل و حرکت صلاحیت، پھیلاؤ اور فریب کے امتزاج پر زور دیا گیا۔ اس منصوبے کے تحت ہندوستان نے ایک قابل اعتماد اسلحہ اور مطلوبہ صلاحیتوں کا ایک مجموعہ بنایا ہے تاکہ اس کے قابل اعتماد کم سے کم  تسدید (سی ایم ڈی) کے تصور کو پورا کیا جاسکے۔

دریں اثنا، ایسا لگتا ہے کہ پاکستان نے ایک بلند نظر جوہری  انداز کا انتخاب کیا ہے جسے full spectrum deterrence کہا جاتا ہے۔ واضح طور پر ہندوستان کے ساتھ روایتی جنگ کو روکنے کے مقصد کے ساتھ، پاکستان کا ایٹمی انداز جوہری ہتھیاروں کی تعداد اور انسداد قوت کی صلاحیتوں کی اہمیت پر زور دیتی ہے، جس میں ”نصر“ جیسے قلیل رینج سسٹم بھی شامل ہیں جو کہ میدان جنگ میں استعمال کئے جانے کے لئے ہیں۔ اس نے بقا کی صلاحیت کو بڑھانے کے لئے بحری جہازوں اور/یا ڈیزل بجلی سے چلنے والی آبدوزوں پر ایٹمی وار ہیڈزسے لیس میزائلوں کی تعیناتی کا بھی اعلان کیا ہے۔

مشرق  اور مغرب میں اپنی سرحدوں کے پار بڑھتی ہوئی اسٹریٹجک صلاحیتوں کا سامنا کرتے ہوئے بھارت کے پاس انتخاب کے دو راستے ہیں۔ یہ چین اور پاکستان کے اسٹریٹجک جدیدت کے پروگراموں کا مقابلہ کرنے کا انتخاب کرسکتا ہے، خاص طور پر انسدادی قوت کی صلاحیتوں کو بڑھانے کے سلسلے میں، یا وہ اپنے سی ایم ڈی کی جوہری صلاحیت کے دعویٰ کی پر زور تصدیق کرسکتا ہے اور انسدادی قوت کی دوڑ میں پھانسے جانے کی مزاحمت کرسکتا ہے۔ بلاشبہ نئی دہلی اور اس خطے کے لئے سب سے مستحکم اورسب سے کم قیمت انتخاب انسدادی قوت کی صلاحیتوں کی تعمیر میں جوہری مقابلے سے اجتناب کرنا ہوگا۔ کیا یہ ممکن ہے؟ اس مضمون میں یہ تجویز کیا گیا ہے کہ جوہری تسدید کی بنیادی باتوں کو تسلیم کرتے ہوئے بھارت جوہری روک تھام کی یقین دہانی کرنے میں پہل کرے اور چین اور پاکستان کو چیلنج کرے کہ وہ اس کی پیروی کریں۔

جوہری اکتفا کی منطق

جوہری جنگ لڑنے کی پالیسی کو مسترد کرتے ہوئے اور چین اور پاکستان کے ساتھ  انسدادی قوت کی صلاحیت کے مقابلے کی طرف راغب ہونے سے انکار کر کے بھارت ایک خطرناک سہ رخی مقابلہ میں ٹھہراؤ لانے میں کافی حد تک اثر انداز ہو سکتا ہے۔ ایٹمی ہتھیاروں سے لیس تینوں ریاستیں  اپنے اپنے انداز میں محفوظ دوسرے حملے کی صلاحیت رکھتی ہیں یا وہ اس کے حصول کے قریب ہیں ، جو کہ ”قابل اعتبار تسدید“  کیلئے کافی ہیں۔

اگر اکتفا کی منطق کا اطلاق کیا جاتا ہے تو ، تینوں کو ایسی صلاحیتوں کی طرف مزید بڑھنے سے گریز کرنا چاہئے جو محض عدم استحکام کو فروغ د یں گی۔ امریکہ اور سوویت یونین نے اپنے سرد جنگ کے مقابلے میں اسی طرح کی حد کو عبور کیا تھا، اور اس کے نتائج سبق آموز ہونے چاہیئں۔ اس بات کو یاد رکھنے کی  ضرورت ہے کہ امریکہ کے جوہری توانائی کمیشن کے چیئرمین ڈیوڈ لیلیینتھل نے ۱۹۴۹ میں اپنے عہدے سے اس وقت استعفیٰ  دیا تھا جب امریکہ نے جوہری جنگی لڑائی کے لئے ہائیڈروجن بم تیار کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ سوویت یونین کے ساتھ تخریبی طاقت کے مقابلے پر تنقید کرتے ہوئے، انہوں نے تبصرہ کیا، ”یہ ہمیں کس طرف لے جاۓ گا یہ دیکھنا مشکل ہے۔ ہم کہتے رہتے ہیں، ”ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔“  اس کے برعکس ہمیں یہ کہنا چاہئے کہ ”ہم اتنےسمجھدار نہیں ہیں کہ ہم کوئی دوسرا راستہ دیکھ سکیں۔““

کیا چین، ہندوستان اور پاکستان ایک محتاط حکمت عملی کا انتخاب کرنے کے لئے  سمجھداری کا مظاہرہ کریں گے، یا وہ ان صلاحیتوں کوحاصل کرنے اور جدید تر بنانے کی راہ پر گامزن ہوں گے جو انہیں ایٹمی دوڑ کے اگلے مرحلے میں داخل کردیں گی؟ دانشمندی سے انتخاب کرنے کے لئے ابھی بھی وقت ہے، لیکن وارننگ کے اشارے بھی واضح ہیں۔ جنگ میں استعمال ہونے والی ایٹمی صلاحیتوں کی تعمیر میں راولپنڈی کی دلچسپی بالکل واضح ہے، جس طرح سے راوالپنڈی جوہری ہتھیاروں کو ایک مبالغہ آمیز کردار دیتا ہے اور انہیں اپنی روایتی جنگی حکمت عملی کا حصہ بناتا ہے۔

اگر ہندوستان بھی اس مقابلے میں شامل ہو جاتا ہے تو اس سے ذخیرہ اندوزی کا کبھی نہ ختم ہونے والا  سلسلہ شروع ہو سکتا ہے۔ اگرچہ ہندوستان میں کچھ لوگوں نے رائے دی ہے کہ یہ مقابلہ پاکستان میں معاشی بربادی  لانے کا ایک طریقہ ہوسکتا ہے، تاہم یہ طریقہ سیاسی طور پر غیر مستحکم ملک میں جوہری مواد اور ایٹمی ہتھیاروں کے بڑھتے ہوئے ذخیرے سے وابستہ خطرات میں اضافہ کرے گا۔ اس بات کا انتظار کرنا کہ پاکستان اپنے آپ کو ختم کر ڈالے،  خاصا طویل ثابت ہوسکتا ہےکیونکہ پاکستان اپنے طاقتور اتحادیوں کی طرف سے غیر ملکی مالی مدد حاصل کر رہا ہے. اس سے ہندوستان کے اپنے اسٹریٹجک اور مالی مفادات کو بھی نقصان پہنچے گا۔

ہندوستان کے مشرقی محاذ پر بیجنگ کی اسٹریٹجک جدیدیت امریکہ کی بڑھتی ہوئی روایتی اور ایٹمی صلاحیتوں کی مرہونِ منت ہے۔ یہ واضح نہیں ہے کہ چین ”متناسب“ محفوظ جوابی  صلاحیتوں کے حصول کے بعد رک جائے گا یا جوہری جنگی صلاحیت کی طرف چلتا جاۓ گا۔ کچھ چینی اسکالر اپنے ملک کے امریکی اور روسی  طرز کی انتہا پسندانہ جوہری طریقہ کار کے زیر اثر آنے پر متفکر ہیں۔ اگرچین ان رجحانات سے متاثر ہوا تووہ خود کفالت اور کم ازکم طاقت کے تسدید کے اصول سے دور جاسکتا ہے۔ بیجنگ کے پاس نئی تعمیرات پر خرچ کرنے کے وسائل موجود ہیں۔ ہندوستان کی بڑھتی ہوئی معیشت کو بھی اسی طرح استعمال کیا جاسکتا ہے ، لیکن اس کا حصول اہم ترقیاتی اہداف کی قیمت پرہی ہو سکے گا۔

تاہم ہندوستان کے لئے  اچھی خبر یہ ہے اس کیلئے اس راستے کو اپنانا ضروری نہیں ہے، اگر کوئی جوہری ہتھیاروں اور  تسدید کے بنیادی اصولوں کو یاد رکھے. اگر ہندوستان ان بنیادی باتوں کے بارے میں اپنی وابستگی کی توثیق کرے اور ایٹمی جنگ کے تصور اور اس کے ساتھ موجود صلاحیتوں کو مضبوطی سے مسترد کردے تودر حقیقت اس کے پاس چینی اور پاکستانی فورسز کی وضع کو متاثر کرنے کا بہترین موقع ہے ۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہندوستان جوہری ہتھیاروں کی افادیت اور اس کی غیر افادیت کے بارے میں باشعور اور  باخبر راستے کا انتخاب کر ے اور دوسروں کو بھی جوہری صلاحیت کی منطق کو تسلیم کرنے کی اپیل کر ے۔

 تجویز

میں تجویزپیش کرتی ہوں کہ نئی دہلی عوامی طور پر یہ اعلان کرے کہ وہ جوہری حامل وارہیڈ ہتیاروں کی تعداد میں لامحدود اضافہ اور جوہری جنگی صلاحیتوں میں لامحدود اضافے سے دور رہنا چاہتا ہے۔ میں یہ بھی تجویز کرتی ہوں کہ نئی دہلی اپنے جوہری مسلح ہمسایہ ممالک سے بھی اسی طرز کے وعدے کرنے کا مطالبہ کرے خواہ وہ انفرادی ہوں دو طرفہ یا سہ فریقی  سطح پر۔

اس طرح کے وعدے ۱۹۸۷ میں صدر رونالڈ ریگن اور میخائل گورباچوف کے درمیان کئے گئے وعدے کی طرز پر ہوں گے جن کے مطابق ایٹمی جنگ نہ تو جیتی جا سکتی ہے اور نہ ہی انھیں لڑنا چاہئے۔  جنوبی ایشیا ئی سیاق و سباق میں، اس طرح کے اعلانات تسدید کے تقاضوں کی توضیح کریں گے اور صلاحیت کے معما میں بھی ٹھہراؤ لایئں گے. یہ وعدے جوہری ہتھیاروں کی کچھ ناقابل تغیر خصوصیات کو نہ صرف یاد  کریں گے بلکہ ان کو تسلیم اور قبول کریں گے جن کی بنا پہ کافی کم اور محدود سطح کی صلاحیت قابل اعتبار تسدید کو ممکن بناتی ہے ۔ وہ مندرجہ ذیل تین بنیادی تجویزوں کی تصدیق کریں گے۔

اول ، جوہری ہتھیار روایتی ہتھیاروں سے واضح طور پر الگ ہیں۔ دھماکے اور تھرمل گرمی، آئنائزنگ تابکاری، اور ایٹمی نتیجہ سے طویل مدتی تابکاری کی شکل میں بڑی مقدار میں توانائی کا فوری  اخراج ایٹمی دھماکوں کی قدرتی خصوصیات ہیں۔ ہیروشیما اور ناگاساکی پربالترتیب،۱۵ کلو واٹ اور۲۰ کلو واٹ کے جوہری ہتھیار کی تباہی کے تجرباتی اعداد و شمار وسیع پیمانے پر دستیاب ہیں۔ آج کے وار ہیڈز زیادہ طاقت ور ہیں۔ جوہری دھماکوں کے مضر اثرات کو کم کرنے کے ایک طریقے کے طور پر کم  طاقت والے ہتھیاروں کا بھی تجربہ کیا گیا ہے۔ لیکن ، امریکی سائنسدانوں کی فیڈریشن کی ۲۰۰۱ میں تیار کردہ ایک رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ ہیروشیما میں استعمال ہونے والے ہتھیار کے ایک فیصد کے قریب بھی جوہری دھماکہ کے اثر سے تابکار مٹی بڑے پیمانے پر پھیل جائے گی، جو کہ مقامی  خطہ پر خاص طور سے شدید اور جان لیوا نتائج مرتب کرے گا۔ چونکہ یہ ہتھیار روایتی ہتھیاروں سے خاصے مختلف ہیں لہذا بامعنی نقصان پہنچانے کے لئے یہ بہت کم تعداد میں درکار ہوتے ہیں۔ جوہری تسدید کے لئے برابری ضروری نہیں ہے، اور اس لئے چھوٹے پیمانے پر استعمال بھی نہایت سنگین اسٹریٹجک اثرات مرتب ہوں گے۔

مجوزہ عہد کا دوسرا اعادہ یہ ہوگا کہ ایٹمی ہتھیار جنگ بندی کے لئے نہیں، بلکہ صرف تسدید کے لئے موزوں ہیں۔ ہیروشیما کے سائز کےبڑی قوت والے ہتھیاروں کا استعمال انسانیت کی تباہی کا باعث ہوگا۔ کم پیداوار (یہاں تک کہ ذیلی کلوٹن پیداوار) ہتھیاروں کا استعمال بھی نہ صرف جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی حرمت کو  ختم کر دے گا بلکہ کشیدگی میں اضافے کو بھی دعوت دے گا۔ ریاستہائے متحدہ امریکہ اور سوویت یونین نے جوہری تبادلے سے فائدہ حاصل کرنے کی غرض سے مختلف نوعیت کے ہتھیار بڑے پیمانے پر ذخیر ہ کیۓ۔ پھر بھی آزمائش کے وقت دونوں ملکوں میں سے کوئی بھی اس مفروضے کی جانچ کرنے کی طرف مائل نہیں تھا۔ بلکہ ، بہت سے انفرادی اور مشترکہ طور پر منعقد ہونے والے جنگی مشقوں نے یہ ظاہر کیا ہے کہ ہتھیاروں کی قطعیت کے باوجود بھی محدود جوہری جنگ کا تصور بالکل حماقت ہے۔ ایسی صلاحیتوں کو تیار کرنے کا  لا لچ جو انسدادی اہداف تک حملوں کو محدود رکھتے ہوئے محدود جوہری جنگ میں کامیابی کے حصول کا دعویٰ ی کرے, وہ صرف فریب ، سراسر خطرناک اور قطعی غیر ضروری ہو ہے.

 مجوزہ عہد میں کارفرما تیسر ی بنیادی بات پہ ہے کہ جوہری حملوں میں پہل کر نے کو جنگ جیتنے کے مترادف سمجھنا  ترک کیا جائے ۔جب مخالف جوابی حملے کی محفوظ صلاحیت رکھتے ہوں تو اس طرح کا اعتقاد محض خیالی پلاؤ کے مترادف ہے ۔ اگر بقا کو مختلف تدابیر کے ذریعے زیادہ سے زیادہ حد تک بڑھایا جاتا ہے تو انسدادی قوت کی کوئی بھی صلاحیت جامع تخفیف اسلحہ بندی یا دشمن کی صلاحیت کے مکمل خاتمہ کی ضمانت نہیں دے سکتی  جس کے نتیجہ میں ایٹمی انتقامی کارروائیوں کو مکمل طور پر روکا جا سکے۔ اس کے علاوہ ، انتقامی حملوں میں کثیف آبادی کےحامل شہروں کو نشانہ بنانے سے جہاں آبادی كا تناسب ۲۰،۰۰۰ افراد فی مربع کلومیٹر کے فاصلے ہو ، اور جہاں زیادہ تر آبادی کھلے او رباآسانی جَلنے والے گھروں میں رہتے ہوں ، وھاں جوہری ہتھیاروں کے استعمال میں پہل کسی بھی فائدے کی نفی کر دے گا۔

ان بنیادی باتوں کو تسلیم کرنے سے نئی دہلی کیلنے اس عہد کا  اعلان کرنا ممکن ہوگا اور وہ جوہری ہتھیاروں سے لیس اپنے ہمسایہ ممالک کو بھی اس میں شامل ہونے کی اپیل کر سکے گا۔ انسداد قوت کی صلاحیتوں پر پابندی لگانے سے تسدید ی ضروریات کو معقول بنایا جاسکتا ہے اور مقابلہ مستحکم ہوسکتا ہے۔ ناقابل قبول نقصان پہنچانے کی صلاحیت کی بنیاد پر تسدید کا حصول low-accuracy والے ہتھیاروں پر کم وار ہیڈ  کے ساتھ بھی ممکن ہے۔درست نشانہ والے جوہری میزائلوں  کے ذریعے جوہری جنگی صلاحیتوں کا حصول ایک بیکار مشق ثابت ہوگا کیوں کہ  اس کے باوجود دور دراز، آسانی سے نشانہ نہ بننے والے موبائل میزائلوں کے یقینی خاتمے کی ضمانت نہیں دی جاسکتی ہے۔ لہذا ، بہتر بقا پر توجہ مرکوز کرنا اس تجویز کی ایک لازمی شرط ہے۔  بقا پذیر دوسرے جوابی حملےکی صلاحیت اور قابل اعتبار کم سے کم جوہری تسدید کی بنیادی باتوں پر عمل کرتے ہوئے  بھارت چین اور پاکستان جوابی قابلیت میں بیکاراورخطرناک مقابلے سے بچ سکتے ہیں۔

راہ میں حائل رکاوٹیں

میراعام فہم نظریہ ہندوستان کے لئے پیش  کرنا اور دوسروں کے لئے قبول کرنا شائد اتناآسان نہیں ہو گا۔ جیسا کہ فرانسس گیون نے لکھا ہے  کہ سرد جنگ کے دوران یہ ایٹمی ہتھیاروں کی مہلکیت، ان کی تعداد اور ان کی تعیناتی تھی جس نے سیاست کو آگے بڑھایا ، نہ کہ اس کے الٹ۔ اس باہمی  تعلق کے خطرناک نتائج نکل سکتے تھے جیسا کہ میں ہتھیاروں کی دوڑ، خطرناک بحران اور یہاں تک کہ نادانستہ طور پر جنگ کا آغاز, جو کہ دشمنی کے سیاسی ذرائع سے الگ ہے۔ یہ تصور کرنا مشکل نہیں ہے کہ جنوبی ایشیاء کی تین ایٹمی مسلح ریاستیں اسی جال میں  پھنس سکتی ہیں۔ اس جال سے بچنا خاص طور پر پانچ وجوہات کی بناء پر مشکل دکھائی دیتا ہے۔

سب سے پہلے، جوہری صلاحیت كے حامی جوہری ہتھیاروں کے کم اور محدود کردار کی حمایت کرنے والوں کی آواز کو  دبانے کی دھمکی دے ر ہے ہیں۔ تمام P-5 ممالک میں جوہری ہتھیاروں کی جاری جدیدیت، پرانے اسلحے کی تبدیلی ، اور جوہری بیانات اور حکمت عملیوں میں ایک نئی اتراہٹ او ردھمکی – نہ صرف شمالی کوریا اور پاکستان جیسی ریاستوں میں، بلکہ روس اور امریکہ میں بھی – عدم تحفظ کو بڑھانے اور اسٹریٹجک صلاحیتوں میں اضافہ کا باعث بنتا ہے۔ ممالک اپنے جوہری صلاحیت کو کم کرنے کی بجائے ، اس کی نمائش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ جوہری دکھاوا ایک بے چینی کی فضا قائم کرتا ہے جو کہ اس جو ہری سکوت کے بالکل برعکس ہے  جس کے بارے میں تھامس شیلنگ نے ۲۰۰۹ میں لکھا تھا۔ بڑھتی ہوئی ایٹمی قوم پرستی کے زمانے میں کم از کم تسدید کے فلسفے پر قائم رہنا آسان نہیں ہوگا۔

کم از کم جوہری  صلاحیت کے حامیوں کو چیلنج کرنے والا دوسرا عنصر جدید روایتی ہتھیاروں اور تباہ کن سائبر صلاحیتوں کی تیز رفتار ترقی ہے۔ نیوکلیئر وار ہیڈ کی ضروریات اس کے نتیجے میں بڑھ سکتی ہیں، خاص طور پر جہاں اقوام نسبتا چھوٹے جوہری ذخائر رکھتی ہیں۔ جوہری اور روایتی ہتھیاروں کے مابین دھندلا تی لکیر ایک بہت بڑا چیلنج ہوگا۔ اگرچہ یہ بین الاقوامی سلامتی کے مفاد میں ہے کہ اقوام دونوں کے مابین واضح فرق برقرار رکھیں ، لیکن غالب رجحان ابہام کے حق میں ہے۔ لہذا اس بات کا قوی امکان ہے کہ اقوام کم سطح پر رہنے کی بجائے استحکام  کی طرف جائیں گی۔ ایٹمی روک تھام کی محدود ضروریات سے مطمئن ہونے کی بجائے زیادہ تر اقوام ”آگے رہنے“  پر توجہ دیں گی۔

تیسرا، آج ایٹمی مسلح ریاستوں کے مابین ہتھیاروں کے پر قابو پانے یا تزویراتی استحکام کی بات چیت کی عدم موجودگی میں ، مخالف کی صلاحیتوں اور ارادوں کے بارے میں بدترین قیاس آرائیاں کرنے کا رجحان زیادہ ہوگا۔ مثال کے طور پر ، امریکہ اور روس نیو اسٹرٹیجک اسلحہ کم کرنے کے معاہدے ، جس کی میعاد ۲۰۲۱ میں ختم ہونے والی ہے، سے آگے کسی اور معاملے پر بات نہیں کر رہے ہیں ۔ دیگر کثیرالجہتی معاہدے بھی دباؤ کا شکار ہیں۔ جیساکہ واشنگٹن اور بیجنگ کو اپنی اسٹریٹجک استحکام کی بات چیت اور جوہری خطرے سے نمٹنے کے اقدامات میں محدود کامیابی ملی ہے۔ اسی طرح ، نیوکلیئر عدم پھیلاؤ معاہدے (این پی ٹی) پر اعتماد بحال کرنے کے لئے پی-5 بات چیت معنی خیز نتیجہ پر نہیں  پہنچی۔ جوہری ہتھیاروں سے متعلق امور پر ہندوستان اور چین کے درمیان بات چیت نہیں ہے۔ ہندوستان اور پاکستان نے ۲۰۰۷میں جوہری خطرے سے نمٹنے کے اپنے آخری اقدام پر اتفاق کیا تھا ، جس میں دو بار پانچ سال کی توسیع کی گئی ہے۔

چوتھا، تکنیکی ترقی قوموں کو نئی صلاحیتوں کے حصول کیلئے  لبھائےگی۔ جوں جوں آئی ایس آر کی صلاحیتوں میں بہتری آئیگی ، اسی طرح انسدادی قوت کے امکانات بھی بڑھے گے۔MIRVs اور بیلسٹک میزائل ڈیفنس (بی ایم ڈی) سسٹم بھی بڑھے گے۔ فوجی تحقیق اور ترقیاتی احاطے نئی ترقیوں کا وعدہ کریں گے۔ صرف ایک مضبوط سیاسی رہنما ہی جو کہ جوہری تسدید کو ایک عقلمندانہ نقطہ نظر سے سمجھے,  ان چیلنجوں کا مقابلہ کرسکتا ہے اور اندرونی حلقوں سے نمٹ سکتا ہے جو کہ بدترین صورتحال پر ہی نظر رکھے ہوۓ ہیں۔ ایسے لیڈروں کا حصول آسان نہیں ہوگی۔

آخرکار، علاقائی حقائق ایسا عہد کرنے کی ہندوستان کی صلاحیت کو  چیلنج کردیں گے۔ چین – پاکستان جوہری اور میزائل تعاون ، جو ایک طویل عرصے سے علم میں تھا ، اب ایک قریبی حکمت عملی کے طور پر ظاہر ہو رہا ہے, جس کی مثال پاکستان اور بھارت کے مابین متنازع علاقوں میں بڑھتی ہوئی چینیوں کی  موجودگی سےثابت ہے۔ بیجنگ کی بڑھتی ہوئی دعویداری اور بھارتی خدشات کے خلاف عدم حساسیت پاکستان کو مزید تقویت بخش سکتی ہے ، جس میں بھارت کے خلاف دہشت گردی کی حمایت بھی شامل ہے۔ اس کے نتیجے میں چینی اور پاکستانی جوہری جدت کے پروگراموں سے متعلق ہندوستان کے لئے بڑھتے ہوئےخطرہ کے تاثرات کےکو ختم کرنا مشکل ہوگا۔  کوئی بھی سیاسی رہنما قومی سلامتی کے تقاضوں کے سامنے کمزور اور غیر ذمہ دار کہلانا پسند نہیں کرے گا. ایک اضافی تشویش یہ بھی ہوگی کہ کہیں چین اور / یا پاکستان برائے نام اس عہد کی حمایت میں ہندوستان کے ساتھ شامل ہوجائیں ، لیکن عملی طور پر اس کو نظرانداز کردیں ۔ اگر ایسا ہوا تو جوہری تسدید کی بنیادی باتیں تو وہی رہیں گی ، لیکن ہندوستان  کے اندر دھوکہ دہی کا شکار ہونے کے تاثر سےجوہری صلاحیتوں کو بڑھانے کے حق میں دلائل دینے والے عناصر بڑھ جائیں گے۔ ایسی صورتحال میں کم از کم صلاحیت کو قائم رکھنا اور بھی مشکل ہو جائے گا۔

رکاوٹوں کو عبور کرنا

ان رکاوٹوں کے باوجود، ہندوستان کے پاس اب بھی روک تھام کا عہد کرنے اور چین اور پاکستان سے اس معاملے پر عمل کرنے کا مطالبہ کرنے کی اچھی وجوہات ہیں۔ یہ توثیق ہندوستان کے جوہری  پالیسی کے ساتھ پوری طرح مطابقت رکھتی ہیں کہ جوہری ہتھیار جنگ لڑنے کے بجائے صرف تسدید کی غرض سے ہیں۔ یقیناخطے میں بی ایم ڈی کے زیادہ موثر نظام کی صورت میں ہندوستان کو خاص طور پر بقا کی ضروریات سے آگاہ رہنا چاہئے۔ اس کے باوجود ، پھر بھی  انسدادی قوت کے مقابلہ میں حصہ لینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ان اصولوں پر جو ہندوستان کو بہت عزیز ہیں، ثابت قدمی اور اعتماد سے قائم رہ کر تسدید کو مضبوط کیا جاسکتا ہے۔

ایسے موقع پر جب ایٹمی جنگی صلاحیتوں کے حوالے سے ایک احمقانہ اور خطرناک مقابلہ سر پہ ہے, بھارت کی طرف سے اپنے جوہری ہتھیاروں سے لیس ہمسایہ ممالک سے بھی ایسی ہی روک تھام کا عہد کرنے کی سفارتی اپیل نئی دہلی کے دیرینہ جوہری اصولوں کو مزید واضح کرے گی۔ اگر چین اور / یا پاکستان بھارت کی برتری کی پیروی کرتے ہیں تو سہ رخی جوہری مقابلہ سست پڑسکتا ہے۔ اگر انہوں نے ایسا نہیں کیا – چاہے انہوں نے عہد کیا ہو یا نہیں – ہندوستان پھر بھی اپنی  جوابی حملہ کی صلاحیتوں کا یقینی بناتے ہوئے اپنی سلامتی کا تحفظ کرے گا۔ نئی دہلی کو یہ یقین رکھنا چاہئے کہ جوہری ہتھیاروں کے بارے میں اس کا عقل سے متعلق نقطہ نظر درست اور سمجھدار انہ اقدام ہے۔

یہاں پیش کردہ تجویز آسان ہے، بالکل اسی طرح جیسے ریگن – گورباچوف کے درمیان طے پانے والا وعدہ سادہ سا لگتا تھا۔ لیکن اس سیدھے اقدام سے خطے کے مستقبل کے لئے اہم نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ سپر پاورز نے  سرد جنگ کے دوران ڈیٹرنس کی حکمت عملیوں کے ساتھ اپنے تجربات میں بہت ساری غلطیاں کیں۔ جنوبی ایشیائی جوہری طاقتيں ان سے سیکھ سکتی ہے۔ ایک نمایاں سبق یہ ہے کہ جب بھی جوہری ہتھیاروں کے لئے نیا کردار یا نئی صلاحیت پیش  ہو تو ایسے موقع پر بنیادی باتوں پر واپس جانے کی ضرورت ہے۔ جب تک بھارت ایٹمی جنگی حکمت عملی کو مسترد کرتے ہوئے انتقامی کارروائی کے لئے بچ جانے والے جوہری ہتھیاروں کو برقرار رکھے گا، تب تک وہ صحیح راہ پر گامزن رہے گا۔

بنیادی باتوں کو سمجھنے کے لئے، نئی دہلی کو چاہیے کہ وہ مزید تحقیق کو فروغ دے اور ذرائع ابلاغ کو استعمال کرے جو جوہری ہتھیاروں کی نقصان دہ صلاحیت کو تصویری طور پر پیش کر سکے۔ ایک بار جوہری ہتھیاروں کے جسمانی، معاشی، معاشرتی، سیاسی، صحت، ماحولیاتی، اور نفسیاتی اثرات پر روشنی ڈا لی جاۓ تو اس کے بعد ہتھیاروں کومحدود کرنے کی ضرو رت کو  بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ اس تجویز کا مقصد تخفیف اسلح کے حق میں دلائل دینا نہیں ہے, اگرچہ یہ بھی ایک خوش آئند فائدہ ہوسکتا ہے، لیکن اس کا مقصد فیصلہ سازوں کی توجہ جوہری جنگ کے انسانی، ماحولیاتی، اور معاشرتی اثرات پر مرکوز کرانا ہے تاکہ کو وہ اپنی جوہری افواج حوالے سے استدالال دے سکیں.

ایٹمی تسدید کی ہارڈ ویئر کی ضروریات کافی کم اور محدود ہیں کیوں کہ گنجان آباد علاقوں میں استعمال ہونے والے چند ہتھیاروں  سے بھی اتنا نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کہ کوئی بھی سمجھدار قیادت اس کو قبول نہیں کرسکتی ہے۔ تاہم، ان تینوں ممالک کی قیادت اور ان کے متعلقہ معاشروں کو اس نقصان سے متعلق تفصیلات کو سمجھنے کی ضرورت ہوگی ۔ مبہم طور پر یہ جاننا ایک بات ہے کہ جوہری استعمال کے اثرات ہولناک ہوں گے ، لیکن حقیقی اعدادوشمار کے ساتھ حقیقی مقامات پر ہونے والے نقصان کی حد کا اندازہ لگانا ایک الگ بات ہے۔ رہنماؤں اور عوام کے سامنے ان حقائق کو رپورٹس یا دستاویزی فلموں، کے ذریعہ بے نقاب کر نے سے ہی اصل معاملات کو منظرعام پر لا یا جا سکے گا۔ یاد رہے کہ سرد جنگ کے دوران ، امریکی ادب اور میڈیا نے ہالی ووڈ کی فلموں سمیت، ایسے موضوعات پر بھر پور کام کیا ، جس میں ایٹمی حملے کے بعد ہونے والے اثرات کو اجاگر کیا گیا  ہے۔ جنوبی ایشیاء میں اس طرح کی کوئی تخلیق نہیں کی گئی۔ اس نوعیت کی کوششیں انفرادی طور پر یا تینوں ممالک کے مابین مشترکہ طور پر انجام دینے سے جوہری تقاضوں کو واضح کیا جا سکے گا ، جس سے یہ پتا چلے گا کہ بڑے اسلحہ خانے غیر ضروری ہیں، اور یہ بات بھی واضح ہوگی کہ کچھ قسم کی صلاحیتیں ، جیسے میزائل ڈیفنس یا انسدادی قوت سیکیورٹی کے مسائل حل کرنے میں مدد کرنے کے بجائے الٹا اس میں اضافہ کریں گی .

جوہری ہتھیاروں سے متعلق تاریخی تجربہ سے پتہ چلتا ہے کہ  ممالک اکثر لامحدود نشانہ کی ضروریات سے دوچار ہوجاتے ہیں۔ ایسے میں مخالفین کے لئے ایک دوسرے کے مطابق چلنا تقریبا ایک مجبوری بن گیا۔ در حقیقت ایسا  کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اقوام جوہری ہتھیاروں کے بنیادی اصولوں، نوعیت اور کردار کی عقلی تفہیم کی بنیاد پر ایک انتخاب کرسکتی ہیں۔ اگر قومی رہنماؤں کے پاس بنیادی اصولوں کو پہچاننے کی عقل اور طاقت ہے تو وہ جرائم سے بچنے والے دفاع اور جارحیت کے چکرسے بچنے کے طریقے تلاش کرسکتے ہیں جو کہ صرف  ممالک احساسِ عدم تحفظ کو بڑھاوا دیتا ہے۔

ہندوستان نے ہمیشہ اپنی اس منفرد، غیر مغربی، اور  کم از کم طاقت کے نظریے پر فخر کیا ہے جو کہ اس بنیادی بات پر قائم کیا گیا ہے کہ جوہری ہتھیار تسدید کے حصول کا سیاسی ذریعہ ہیں۔ ہندوستان کیلیۓ اب ان تصورات کو برقرار رکھنا چیلینج ہے کہ معتبر ڈٹرنس موجود ہے, حتیٰ کہ اس وقت بھی جب ہندوستان کے ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہمسایہ ممالک ایک مختلف راہ منتخب کررہے ہیں۔  بنیادی باتوں کی تصدیق اور جوہری جنگی صلاحیتوں سے احتراز کے وعدےپر قائم رہنے سے ہندوستان بیکار اخراجات سے بچ سکتا ہے اور دیگر جوہری طاقتوں کے فیصلوں پر بھی اثرانداز ہوسکتا ہے۔ یہ ایک قابل ستائش کوشش ہے۔

***

Click here to read this article in English.

Image 1: Public.Resource.Org via Flickr

Image 2: Picryl

Posted in , China, Deterrence, India, Nuclear, Nuclear Weapons, Pakistan

Manpreet Sethi

Manpreet Sethi

Manpreet Sethi is a Senior Fellow and head of the Nuclear Security Project at the Centre for Air Power Studies, New Delhi. From 2008 to 2010, she was an International Relations Fellow at the Centre de Sciences Humaines in New Delhi, and from 2002 to 2005, she conducted a research project for the Department of Atomic Energy called "Nuclear Energy for India’s Energy Security" at the Centre for Strategic and International Studies, New Delhi. While on the research faculty at the Institute for Defence Studies and Analyses in New Delhi from 1997 to 2001, she focused on nuclear energy proliferation, export controls, and disarmament.

Read more


Continue Reading


Stay informed Sign up to our newsletter below





Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *