Israel-Natural-Gas

مضبوط تعلقات کو مزید بہتر کرنے کی کوشش میں ہندوستان اور اسرائیل نے  ایک نئے شعبے، توانائی، میں تعاون کی تلاش شروع کر دی ہے۔ دونوں ممالک نے اس شعبے میں رفتار تیز کر دی ہے، خاص کر ۲۰۱۸ میں تیل اور گیس کے شعبے میں تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کے بعد اس میں مزید تیزی آئی ہے۔ چونکہ اسرائیل آہستہ آہستہ مشرق وسطیٰ میں ایک اہم قدرتی گیس برآمد کنندہ کے طور پر ابھر رہا ہے اور ہندوستان اس خطے اور دیگر جگہوں پر اپنے توانائی کے ذرائع کو متنوع بنا رہا ہے، توانائی میں تعاون دونوں ممالک کے لیے امید افزا ہے۔ مزید یہ کہ دونوں ملکوں کی طرف سے توانائی کے قابل تجدید ذرائع کو دی جانے والی اہمیت مزید تعاون کو آسان بنا سکتی ہے۔ فی الحال ، بھارت بحیرہ روم میں توانائی کی تلاش اور ڈرلنگ کی سرگرمیوں میں شامل ہے، لیکن اس بات کے اشارے ظاہر ہیں کہ دونوں ممالک باہمی تعلقات میں نئی ​​بلندیاں حاصل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر مذکورہ بالا تیل گیس ایم او یو، باہمی تعاون کے معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں سمیت اقدامات دونوں ممالک کی طرف سے توانائی کے شعبے میں تعاون کو مستحکم کرنے کی کوششوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔

یہ مضمون بھارت اور اسرائیل کے  توانائی کے میدان میں تعاون کے لیئے ہونے والی حالیہ پیش رفت، اس تعاون میں اہم کردار ادا کرنے والے عوامل، اور بھارت کو مستقبل میں پیش آنے والی ممکنہ مشکلات پر روشنی ڈالتا ہے۔ اگرچہ اسرائیل کی طرف سے ہندوستان کی توانائی کی درآمد کا آغاز نہیں ہوا، ایک برآمد کنندہ کے طور پر اسرائیل کے بڑھتے کردار کے مدنظر بھارت اور اسرائیل توانائی کی مضبوط تجارت کا ایک ممکنہ مستقبل واضح ہے۔ اسرائیل نئی دہلی کے توانائی کے ذرائع میں سعودی عرب، عراق، کویت، قطر، اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سمیت روایتی خلیجی سپلائرز پر ہندوستان کے انحصار کے ساتھ ساتھ ایک اہم برآمد کنندہ کے طور پر ابھر سکتا ہے۔ توانائی کے شعبے میں اسرائیل کے ساتھ تعاون کی یہ توسیع مشرق وسطیٰ اور عرب خلیجی ریاستوں کے ساتھ، جو بالترتیب ۵۳ اور ۴۱ فیصد ہندوستان کی تیل اور گیس کی درآمدات کا حصہ ہیں، اسٹریٹجک تعلقات کو گہرا کرنے کی ہندوستان کی خارجہ پالیسی کے حساب میں درست بیٹھتی ہے۔ اسرائیل کے ساتھ توانائی کے تعلقات استوار کرنے سے ہندوستان کو اپنی توانائی کی سیکیورٹی کو بڑھانے اور اقتصادی ترقی کے لیے درکار قابل تجدید توانائی پیدا کرنے کے لیے ایک شراکت دار کے ساتھ مل کر کام کرنے کا موقع بھی ملا ہے۔

بھارت اسرائیل توانائی تعاون کے امکانات

ہندوستان اور اسرائیل تعلقات میں اہم پیش رفت کے ساتھ ہی توانائی تعاون میں بہتری آئی ہے۔ ۲۰۱۴ کے بھارتی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جیت کے بعد سیاسی رابطوں میں اضافہ اسٹریٹجک شراکت داری میں مزید گہرائی کا باعث بنا جس سے دونوں ممالک باہمی تعاون کے دائرہ کار کو وسعت دے سکتے ہیں۔ اپریل ۲۰۲۰ سے فروری ۲۰۲۱ تک ۴.۱۴ بلین امریکی ڈالر (دفاع کے علاوہ) کے دوطرفہ تجارتی حجم کے ساتھ ہندوستان اسرائیل کا عالمی سطح پر ساتواں سب سے بڑا اور ایشیا میں تیسرا بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ اسرائیل بھارت کا تیسرا بڑا اسلحہ درآمد کنندہ بھی ہے۔ توانائی تعاون دو ریاستوں کے مابین موجود سرپرست اور طفیلیہ کے تعلق (جہاں اسرائیل سرپرست اور بھارت طفیلیہ ہے) کو تبدیل کرنے اور باہمی تعلقات کے دیگر مشترکہ منصوبوں کو فروغ دینے کی کوششوں کے تناظر میں وقوع پذیر ہو رہا ہے۔

دسمبر ۲۰۱۰ میں لیوایتھن گیس فیلڈ کی دریافت کے بعد اسرائیل مستقل طور پر ایک علاقائی قدرتی گیس برآمد کنندہ کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے جس میں مصر اور اردن ۲۰۲۰ کے اوائل سے ہی اس کے کلیدی گاہک ہیں۔ بھارت کے لیئے اس دریافت نے یہ موقع فراہم کیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ ایک نئے میدان میں تعلق کا آغاز کیا جائے۔ بھارتی کمپنیاں باضابطہ طور پر اسرائیل کی شعبہء توانائی میں قدم رکھ چکی ہیں اور اسرائیلی وزارت توانائی نے کئی ہندوستانی کمپنیوں کو تیل اور گیس کی تلاش اور اسرائیل کے سمندر میں ڈرلنگ کرنے کا لائسنس بھی دیا ہے جو کہ دو طرفہ تعلقات میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ ڈرلنگ اور ایکسپلوریشن میں اپنی دہائیوں پرانی مہارت کے ساتھ ، بھارت نےاسرائیل کے ساتھ کام کرنے کے لیے جنوری ۲۰۱۸ میں توانائی کی وزارتوں کے مابین ایک ایم او یو پر دستخط کر کہ اپنی تیاری کا اظہار کیا جس سے بشمول مشترکہ اقتصادی منصوبوں کے، تیل اور گیس کے شعبے میں تعاون کے اہداف طے ہوئے۔  ابھی تک ہندوستان اور اسرائیل کی شراکت داری نے فوسل ایندھن پر توجہ مرکوز کر رکھی ہے لیکن دونوں ممالک کو اس ضرورت کا ادراک ہے کہ انہیں  فوسل ایندھن کو توانائی کے قابل تجدید ذرائع سے  تبدیل کرنا ہو گا۔

قابل تجدید توانائی کے امکانات

گزشتہ ایک دہائی کے دوران بھارت نے عوامی طور پر اپنے قابل تجدید توانائی کے شعبے میں اسرائیلی سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ اسرائیل نے بھارت کو صاف توانائی کے ممکنہ شراکت دار کے طور پر بھی دیکھا ہے۔ اسرائیل فی الحال ۲۰۳۰ تک اپنی شمسی توانائی پر مبنی بجلی کی پیداوار کو ۳۰ فیصد تک بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے، جو کہ قابل تجدید ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے ۴۵۰ گیگاواٹ یعنی تقریبا ۶۰ فیصد پیدا کرنے کے بھارتی حکومت کے اسی ہدف کے مطابق ہے۔ متعلقہ حکومتوں نے ملکی اور بین الاقوامی شراکت داری میں قابل تجدید توانائی کو فروغ دینے کے لیے سرمایہ کاری بڑھانے پر توجہ دی ہے۔ دونوں ممالک کے پاس قابل تجدید توانائی کو مشترکہ طور پر تیار کرنے کے لیے تکنیکی مہارت اور سرمایہ کاری بھی ہے۔ مثال کے طور پر انڈین آئل کارپوریشن نے ایک اسرائیلی اسٹارٹ اپ ‘فینرجی’ کے ساتھ ہندوستان میں ایلومینیم ایئر سسٹم مشترکہ طور پر تیار کرنے کا معاہدہ کیا ہے۔ اس طرح کے اقدامات ”میک ان انڈیا“ پروگرام کے ملکی اہداف کی تائید کرنے کے ساتھ ساتھ ہندوستان کے توانائی کے ذرائع کو متنوع بنانے کی بنیاد بھی رکھ رہے ہیں۔ تاہم قابل تجدید توانائی اب بھی ابتدائی مراحل میں ہے اور دونوں ممالک فوسل ایندھن پر زیادہ توجہ مرکوز کر چکے ہیں؛ اس لیے مزید ترقی کی گنجائش ابھی باقی ہے۔

قابل تجدید توانائی کے شعبے میں شراکت داری قائم کرنے سے ہندوستان کی خارجہ پالیسی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ہندوستان کے موجودہ سیکرٹری خارجہ نے “ہندوستان کی قابل تجدید توانائی کی صلاحیت کو بڑھانے” پر زور دیا جبکہ گزشتہ سال وزیر اعظم نریندر مودی نے ہندوستان کے سبز توانائی کے شعبے میں مزید غیر ملکی سرمایہ کاری پر زور دیا تھا۔ بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب کی وجہ سے اسرائیل کے  بھی اسی طرح کے اہداف ہیں جو کہ بڑھتی ہوئی آبادی، قدرتی وسائل کی کمی، خاص طور پر ہائیڈرو سہولیات کی کمی اور زہریلے اخراج کو کم کرنے کی وجہ سے ہے۔ خام تیل کی بین الاقوامی قیمتوں میں بڑھتی ہوئی تبدیلی اور  اتار چڑھاؤ، جس کا اسے اپنے خلیجی سپلائرز  کی جانب سے وقتاً فوقتاً  سامنا کرنا پڑتا ہے، کی وجہ سے ہندوستان کی اپنے توانائی کے ذرائع کو متنوع بنانے کی کوششیں بھی بہت اچھی ہیں۔ لہٰذا توانائی کے ذرائع کو متنوع  کرنا  طویل عرصے میں اس کی توانائی کی حفاظت کو بڑھانے کے لیے ایک مثالی قدم سمجھا جا سکتا ہے۔ اس بات کے پیش نظر توانائی سے مالا مال پارٹنر کا موجود ہونا ایک اثاثہ ہوگا اور اسرائیل ہندوستان کے لیے نئے ذرائع میں سے ایک بن سکتا ہے۔

بظاہر مشرق وسطیٰ میں سیاسی اتحاد کی دوبارہ ترتیب سے کثیر الجہتی شراکت داری کے راستے بھی کھل سکتے ہیں۔ ۲۰۲۰ میں اسرائیل کے متحدہ عرب امارات اور بحرین کے ساتھ تعلقات  معمول پر آنے سے ہندوستان کو ان ریاستوں کے ساتھ توانائی کے شعبے سمیت مشترکہ تعاون کے مواقع تلاش کرنے پر زور دینا چاہیئے۔ یہ کام ان خلیجی ریاستوں کی سرمایہ کاری، اسرائیلی ٹیکنالوجی، اور ہندوستان کی صنعت سازی کی مہارت کو اکٹھا کرکے کیا جا سکتا ہے۔ حالیہ برسوں میں حقیقی سیاسی اور تزویراتی مفادات ہندوستان کے تعلقات کو اسرائیل اور خلیجی ممالک کے قریب لانے میں معاون ثابت ہوئے ہیں۔ مثال کے طور پر مئی ۲۰۲۱ میں، اپنی نوعیت کے پہلے پروجیکٹ کے طور پر، بین الاقوامی فیڈریشن آف اِنڈو-اسرائیل چیمبرز آف کامرس نے اسرائیل، بھارت اور متحدہ عرب امارات کے مابین سہ طرفہ شراکت کا آغاز کیا تاکہ ”جدید روبوٹک سولر کلیننگ ٹیکنالوجی“ تیار کی جا سکے۔ اس طرح کا قدم مزید شراکت داری کا باعث بن سکتا ہے اور اسی طرح کے انتظامات کو بحرین کے ساتھ بھی تلاش کیا جا سکتا ہے جہاں بھارت قابل تجدید توانائی کے شعبے میں تعاون کو بھی بڑھا رہا ہے۔

مستقبل میں بحیرہ روم میں اسرائیلی گیس فیلڈز میں تیل اور گیس کی تلاش میں چین سے مقابلہ ہو سکتا ہے؛ وہ علاقہ جہاں ہندوستان کام کر رہا ہے۔ یہ اسرائیل کے بنیادی ڈھانچے کے ترقیاتی منصوبوں میں چین کی مضبوط موجودگی کو ظاہر کر رہا ہے۔ اسرائیل نے چین کے ساتھ توانائی کے تعلقات کو فروغ دینے کے لیے بھی کام کیا ہے۔ حال ہی میں چین اور اسرائیل نے توانائی ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ قابل تجدید توانائی ٹیکنالوجی میں اپنے تعاون کو بڑھانے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ دونوں ممالک کے محققین پہلے ہی مشترکہ منصوبے شروع کر چکے ہیں، جس کے نتیجے میں مبینہ طور پر ”مستحکم موثر شمسی سیلز“ کی ترقی ہوئی ہے۔ بھارت اور چین کے درمیان موجودہ کشیدگی کو دیکھتے ہوئے ان تینوں ممالک کے درمیان سہ فریقی توانائی تعاون مشکل لگتا ہے۔

نتیجہ

ابھرتی ہوئی پیش رفت کے مد نظر توانائی کے میدان میں تعلقات بھارت اور اسرائیل کے تعاون کو مضبوط بنانے کے عمل کو مہمیز دے سکتے ہیں۔ دونوں ملکوں کے دوطرفہ تعلقات میں توانائی کے شعبہ کا اضافہ تزویراتی شراکت داری کو مزید جامع بنائے گا۔ مزید تعاون کے لیے بھارت مستقبل میں بحیرہ روم کے مذکورہ اول اسرائیلی ذخائر سے گیس درآمد کرنے کے بارے میں سوچ سکتا ہے۔ اس طرح کا معاہدہ ہندوستان کے اپنے توانائی کے ذرائع میں پھیلاؤ اور اسرائیل کی توانائی کی منڈیوں کے لیے جستجو کے دائرے میں ہو سکتا ہے۔ اسرائیل ہندوستانی کمپنیوں کو مزید توانائی کی تلاش اور ڈرلنگ کی سرگرمیوں کے لیے مزید لائسنس دے سکتا ہے۔ اسے ہندوستان کے توانائی کے شعبے میں اپنی سرمایہ کاری میں اضافہ کرنا چاہیئے جو فی الحال نہ ہونے کے برابر ہے۔

بہر حال، توانائی نسبتاً بھارت اور اسرائیل تعلقات کا ایک نیا میدان ہے اور ان تعلقات کو ممکنہ طور پر مستحکم ہونے میں کچھ وقت لگے گا۔ تاہم، توانائی میں تعاون کی موجودہ سمت دونوں ممالک کی جانب سے تعلقات میں سرمایہ کاری کی نشاندہی کرتی ہے۔ اپنے بین الاقوامی پروفائل کو بڑھانے کے لیے اسرائیل،  جو کہ توانائی کی منڈی میں ایک نیا کھلاڑی ہے، کو ہندوستان کی بڑھتی ہوئی معیشت اور منافع بخش صارفین کی مارکیٹ کے ساتھ توانائی کی مزید شراکت قائم کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔ اس دوران بھارت کے لیے اسرائیل جیسے ابھرتے ہوئے علاقائی برآمد کنندہ کے ساتھ توانائی کے میدان میں تعاون سے ہائیڈرو کاربن (جو کہ چند دہائیوں تک توانائی کا ایک اہم ذریعہ رہے گا) اور مستقبل میں قابل تجدید توانائی کے ذرائع تک بہتر رسائی مہیا ہو سکے گی۔ اس لیے مفادات کا اکٹھا ہونا اس نئے میدان میں تعاون کو آگے بڑھانے کی راہ ہموار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

***

Click here to read this article in English.

Image 1: MARC ISRAEL SELLEM/AFP via Getty Images

Image 2: ODED BALILTY/AFP via Getty Images

Share this:  

Related articles

بھارت میں سوشل میڈیا پر سیاست کا غلبہ Hindi & Urdu

بھارت میں سوشل میڈیا پر سیاست کا غلبہ

بھارت کی سیاسی تاریخ میں پہلے ”سوشل میڈیا انتخابات“ سمجھے…

گوادر بندرگاہ: عالمی خواب اور مقامی حقائق Hindi & Urdu

گوادر بندرگاہ: عالمی خواب اور مقامی حقائق

 پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان اور بحیرہ عرب کے…

ایران کی چابہار بندرگاہ: یوریشیا میں روابط کے لیے بڑی بازی Hindi & Urdu

ایران کی چابہار بندرگاہ: یوریشیا میں روابط کے لیے بڑی بازی

۲۰۱۶ میں امریکہ ایران جوہری معاہدے اور بھارتی سرمایہ کاری…