بھارت-امریکہ جوہری معاہدے کے دس سال:پاکستان پر اثرات

۲۰۰۸ میں بھارت-امریکہ جوہری معاہدہ دونوں ملکوںــــ جو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریتیں بھی  ہیںـــ کے تعلقات میں ایک  اہم موڑ ثابت ہوا۔جب اس کا اعلان ہوا تو اسے امریکی و بھارتی  جوہری پالیسیوں  اورعدم پھیلاؤکو ایک جیسا کرنےکا فارمولا گردانا گیا اور جسے امریکی کانگریس  کے پاس کردہ ایکٹ “یونائٹڈ سٹیٹس-انڈیا نیوکلئیر کوآپریشن اپروول اینڈ نان پرولی فریشن انہانسمنٹ ایکٹ“ میں بھی بیان کیا گیا۔دس سال بعد اس معاہدے نے یقیناً بھارتی جوہری قد کاٹھ میں اضافہ کیا ہے۔لیکن عالمی جوہری عدم پھیلاؤ کےلئے یہ معاہدہ بہتر ثابت نہ ہوا بلکہ اس دوران تو جوہری پھیلاؤ میں اضافہ ہی ہوا۔

جہاں معاہدے نے بھارت کے معیار کو بلند کیا اور اسے (امریکہ کا) تزویراتی شراکت دار بنا دیا وہیں اس نے خطے کی سکیورٹی بالخصوص پاکستان بھارت تعلقات پر خاصہ اثر ڈالا ہے۔نیچ ے دئے گئے پیرا ؤں میں  معاہدے کے دس سالہ مقاصد  اور پاکستان اور بھارت کی سکیورٹی  مساوات  کو پرکھا جائے گا۔

معاہدے کے مخفی اور غیر مخفی مقاصد؛

جہاں معاہدے کے غیر مخفی مقاصد میں اہم اختلافات کو ختم کرنا، بھارت توانائی ضروریات کو پورا کرنا اور جوہری عدم پھیلاؤ (کے عالمی منصوبے) میں  بھارت کو شامل کرنا  جیسے نقاط شامل تھے وہیں دونوں ملکوں نے جیوسٹریٹجک مقاصد میں دوطرفہ تزویراتی شراکت داری کو چینی  اثرورسوخ سے نمٹنے کےلئےمضبوط کرنے کی بھی ٹھانی۔ان مقاصد کی تکمیل کےلئے امریکہ نے اپنے داخلی قوانین میں ضرب لگائی اور نیوکلئیر سپلائر گروپ پر زور دیا کہ وہ اپنے اصولوں میں تبدیلی کرتے ہوئے بھارت  کو جوہری تجارت کےلئے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی  کے حفاظتی شرائط سے آزاد کرے۔اس آزادی نے بھارت پر ایک عشرہ پرانی جوہری تجارت کی پابندی  ختم کر دی اور اسے دنیا سے جوہری ٹیکنالوجی کی خریدو فروخت کی اجازت دے دی۔اس سے بھارت کو جوہری عدم پھیلاؤ کی یقین دہانی کرائے بغیر ڈی فیکٹو جوہری ریاست کی پہچان مل گئی ۔

باعث حیرت یہ کہ اس عمل سے امریکہ کا کوئی جوہری ری ایکٹر بھارت نہ آیا چونکہ بھارت کے داخلی قانون نے امریکی جوہری انڈسٹری کو ڈیٹر (روکا) کیا۔ تاہم اس سے نئی دہلی کو دیگر کئی معاملات میں سہولت مل گئی۔بھارت دیگر کئی ریاستوں جیسے کینیڈا، فرانس ،برطانیہ، جاپان اور جنوبی کوریا کے ساتھ جوہری تعاون کے معاہدوں میں شامل ہو گیا اور کینیڈا، روس، قزاقستان، نمیبیا اور آسٹریلیا سے یورینیم کی سپلائی بھی ملنا شروع ہو گئی۔امریکہ و بھارت کی باہمی تجارت میں زبردست چڑھاؤ آیا ، دونوں ملکوں کی دفاعی تجارت ۱ بلین امریکی ڈالر سے بڑھ کر ۱۵ بلین ڈالر تک جا پہنچی ۔ امریکی محکمہ اعدادوشمار کے مطابق  دونوں ملکوں کی اشیا ء کی تجارت ۲۰۰۸ میں ۴۳ بلین ڈالرتھی جو ۲۰۱۷ میں ۷۴ بلین ڈالر ہوگئی   یعنی اس میں  ۱۰۰ فیصد سے بھی زائد اضافہ دیکھا گیا۔ 

تزویراتی محاذ پر بھارت نے خود کو امریکی خارجہ پالیسی مقاصد کے مکمل نہیں تو کم از کم قریب ضرور کر لیا ہے جہاں چین دونوں ملکوں کےلئے یکساں مقصد ہے۔دونوں ملکوں کے چین کی ترقی کو روکنے کے مشترکہ مقصد میں بھارت نے صدر اوبامہ  کی مشرقی ایشیا میں توازن لانے کی پالیسی کونریندر مودی کی اپنائی گئی “ایکٹ ایسٹ پالیسی“ سے متوازی کر لیا ۔اسکے باوجود بھارت نے اپنا غیر جانبداری کا عنصر مکمل طور پر نہیں چھوڑا ہے اور ایران اور روس سے متعلق آزادانہ پالیسی کو برقرار رکھا ہے۔بھارت ایران اور روس کے ساتھ تیل اور ہتھیاروں کی بڑی مارکیٹ کے طور پر اب بھی سامنے ہے جوامریکی پالیسی میکرز کےلئے غصے کا باعث ہے۔

پاکستان کےلئے اثرات؛

سول جوہری معاہدے کی آڑ میں بھارت کو خاص رعائتیں دینا پاکستان اور خطے کے تزویراتی استحکام کےلئے مثبت نہیں ہے۔ پاکستان بھی اس طرح کی ڈیل کا متقاضی تھا اور اطلاعات کے مطابق اس مقصد کےلئے  صدر اوبامہ کے دورِ حکومت میں کی گئی بات چیت بلا نتیجہ ثابت ہوئی۔یہ امر امریکہ کی پاکستان اور بھارت سے متعلق مختلف پالیسیوں کو ثابت کرتا ہے اور جسکی وجہ سے بھارت  کی پاکستان  کے ساتھ سنجیدہ بات چیت میں ملوث ہونے کا عنصر بھی ماند پڑگیا ہے۔مزید برآں اس عمل سے جنوبی ایشیا میں سکیورٹی پر بحث حقیقی ہونے کی بجائے علامتی  سطح پر چلی گئی ہےاور کشمیر سمیت دیگر تصفیہ طلب مسائل پر بات چیت نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو رہی ہے۔

دوسرا یہ کہ اس معاہدے نے بالواسطہ اور بلاواسطہ  طور پر بھارت کو جوہری  ہتھیاروں میں تبدیلی کرنے کا موقع بھی فراہم کر دیا ہے۔بھارت جہاں عسکری اور سول سہولیات/مقامات کو الگ الگ کرنے کا پابند تھا اب  وہ عسکری و سول جوہری  سہولیات کے بیچ واضح فرق بنانے سے قاصر ہے کیونکہ اسے اپنی سول جوہری سہولیات/مقامات کو انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی  کے زیرِ سایہ کرنے کا نہیں کہا گیا۔اسلئے (سہولیات/مقامات) کو الگ کرنے کا منصوبہ تین غیر واضح  اقسامــــ سول تحفظ، سول غیرتحفوظ اور عسکری سہولیات/مقاماتـــمیں تقسیم ہو گیا ہے۔امریکہ بھارت معاہدے کے تحت بھارت کی مزید جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت کو بھی استثنیٰ مل گیا ہے۔جب معاہدے کو حتمی شکل دی گئی تو اپنے سول جوہری پروگرام کےلئے یورینیم کی فراہمی کےلئے اس نے دیگر کئی معاہدے کر لئے جس کی وجہ سے اس نے یورینیم کے داخلی  ذخیرے کو ہتھیاروں کی تیاری کی جانب موڑ دیاہے۔ ساتھ ہی ساتھ بھارت اپنے دفاع اور خلائی منصوبے کےلئے دوہرے استعمال کی ٹیکنالوجی  بھی حاصل کرے گا۔ان اقدامات سے سکیورٹی صورتحال میں عدم استحکام کا عنصر بڑھا ہے اور بھارت کی طرف سے مزید جارحانہ عسکری عزائم آشکار ہوئے ہیں۔

تیسری بات یہ ہے کہ پاکستان اوربھارت نے دوطرفہ کشیدگی کے حل کےلئے امریکہ کی طرف دیکھا ہے (جیسا کہ ۱۹۹۹ میں کارگل اور ۰۲۔۲۰۰۱ میں ٹوئن پیک کرائسز)۔جہاں امریکہ کے پاس دونوں ملکوں کے بڑے مسائل حل کرنے کا موقع تھا وہیں اس نے بھارت کی صورت میں محض ایک تزویراتی شراکت دار کو چن لیا۔پاکستانی نقطہ نظر سےاس عمل نے امریکہ کے خطے میں مستقبل میں مثبت کردار ادا کرنے کے عمل کو داغدار کر دیا ہے۔

چوتھی بات یہ ہے کہ جہاں تزویراتی شراکت دار بن جانے پر بھارتی سٹیٹس میں اضافہ ہوا وہیں افغانستان میں بدلتی امریکی ترجیحات کے باعث پاکستان کا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کردار کم ہو گیا۔اوبامہ دور میں اپنائی گئی ایف-پاک پالیسی کے بعد پاکستان کو افغان مسئلے سے نتھی کر دیا گیا۔اس سے بھی پاکستان اور بھارت کے تعلقات پربراہ راست اثر پڑا اور افغانستان میں روائتی مقابلے کی فضاء بن گئی  جہاں بھارت پہلے ہی بڑا کردار ادا کرنے کا متلاشی ہے۔دوسری طرف پاکستان افغانستان میں بڑھتے بھارتی عمل کو عدم استحکام کے طور پر دیکھتا ہے چونکہ وہ پاکستان مخالف قوتوں کی پشت پناہی کرتا ہے اور بلوچستان میں خفیہ  اقدامات کرتا ہے۔

آخری بات یہ ہے کہ اس معاہدے نے جنوبی ایشیا  ــــ جسے دنیا کا نیوکلئیر فلیش پوائنٹ کا نام بھی دیا جاتا ہےـــ میں جوہری عدم پھیلاؤ کی کوششوں پر بھی ضرب لگائی ہے۔معاہدے کے حتمی ہو جانے کے بعد سے بھارت نے عسکری جوہری منصوبے کو مزید نفیس ہتھیاروں کےنظام کے ساتھ وسعت دی ہےاور سی ٹی بی ٹی پر دستخط کرنے سے کھلے عام انکار کیا ہے۔بھارت سے اس ترجیحی رویے کی وجہ سے پاکستان نے فیسائل میٹرئیل کٹ آف ٹریٹی سے متعلق اپنے موقف کو مزید سخت کر لیا ہے۔واضح طور پر یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ بھارت کے حق میں بن جانے والی فضاء کی بدولت بھارت کے پاس پاکستان کے ساتھ بامعنی   سفارشاتـــ جیسے دوطرفہ جوہری تجربات پر پابندی یا دیگر اعتماد سازی کے دیگر جوہری  اقدامات  شروع کرنے کےلئے کوئی پیشکش موجود نہیں ہے۔

خلاصہ؛

بھارت امریکہ جوہری معاہدے کا ہو جانا اور اسکے بعد کے اقدامات داراصل عالمی جوہری  روایات کےریاستی مفادات کے مقابلے میں انتہائی نازک ہونے کو آشکار کرتےہیں۔ایک طرف اس نے نان پرولی فریشن ٹریٹی(جوہری عدم پھیلاؤ کا معہادہ) سے باہر ریاستوں کے ساتھ  ربط سازی  کے مواقع  پر طے شدہ اصولوں کے مطابق دستخط کئے ہیں تو دوسری طرف اس (معاہدے) سے جنوبی ایشیا میں کشیدگی کی صورتحال کو جنم دیا ہے۔پھر اس کے بعد پاکستان اور بھارت کے بیچ شروع ہونے والی ہتھیاروں کی دوڑ نے تزویراتی استحکام میں دراڑیں ڈال دی ہیں اور جوہری تصادم کو ٹالنے کےلئے ٹھوس اقدامات اٹھائے جانے  کو ناگزیر کر دیا ہے۔

***

.Click here to read this article in English

Image 1: PxHere

Image 2: Saul Loeb via Getty Images

Posted in , 10 years of US-India deal, Afghanistan, Arms Control, China, Defence, Foreign Policy, Geopolitics, IAEA, India, India-Pakistan Relations, Iran, Nuclear, Nuclear Weapons, Pakistan, United States, US

Sitara Noor

Sitara Noor

Sitara Noor is a director at a Lahore-based policy consultancy. Previously Sitara was a Research Fellow at the Vienna Center for Disarmament and Non Proliferation (VCDNP) in Vienna, Austria. Prior to joining the VCDNP, she worked at the Pakistan Nuclear Regulatory Authority under the Directorate of Nuclear Security and Physical Protection as an International Relations Analyst. She has been a faculty member at the National University of Modern Languages, Islamabad’s Department of International Relations for two years. She was also a visiting faculty at the National University of Science and Technology (NUST), Lahore, the Foreign Services Academy of Pakistan, and the Information Services Academy of Pakistan.

Read more


Continue Reading




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *