Screenshot-2022-11-27-150640

بھارت یوکرین تنازعے کے آغاز کے مقابلے میں حالیہ دنوں کے دوران جنگ کے بارے میں زیادہ شدت سے آواز بلند کرتا رہا ہے، جس کا آغاز وزیراعظم نریندر مودی کے تبصرے سے ہوا جو انہوں نے ستمبر ۲۰۲۲ کے وسط میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر ولادیمیر پوٹن سے ملاقات میں کیا تھا کہ یہ ”جنگ کرنے کا وقت نہیں۔“ اس کے بعد سے بھارت کے وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر روسی حملے کی بھاری قیمت چکانے سمیت ”کھانے پینے کی اشیا، ایندھن اور کھاد کی بڑھتی ہوئی قیمتوں“ پر بارہا آواز بلند کر چکے ہیں۔

اس کے باوجود جنگ پر بھارت کی پوزیشن میں بڑی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ یوکرین کے چار خطوں کو ایک جعلی ریفرنڈم کے بعد روس میں ضم کرنے کی روسی کوششوں کے خلاف یکم اکتوبر کو سلامتی کونسل میں پیش کی گئی مذمتی قرارداد سے بھارت غیر حاضر رہا تھا۔ کچھ دن کے بعد یہ زبردستی قبضے کے خلاف ایک اور قرارداد سے غیرحاضر رہا، اس بار یہ غیرحاضری اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (یو این جی اے) سے تھی۔ ان اقدامات سے واضح ہو گیا کہ بھارت پوٹن کے اقدامات پر براہ راست تنقید کرنے میں آج بھی اسی قدر ہچکچاہٹ کا شکار ہے، جس قدر کہ وہ فروری کے اواخر میں اس وقت تھا جب پوٹن نے حملے کا آغاز کیا تھا۔

ایسا ”کیوں“ ہے، اس کو سمجھنا مشکل نہیں ہے۔ بھارت جو مشکل ترین دو برس سے بحال ہونے کی راہ تک رہا تھا، بلاشبہ اس کے لیے یوکرین پر روسی حملے سے زیادہ برا وقت کوئی نہیں ہو سکتا تھا۔ کووڈ-۱۹ نے بھارتی عوام اور معیشت کو بری طرح چوٹ پہنچائی تھی، جس نے لاکھوں افراد کی جان نگلی اور اس سے کہیں زیادہ کو بے روزگار کیا تھا۔ اور وبا کے دوران ہی، متنازعہ سائنو انڈین بارڈر کے ساتھ ساتھ کے علاقے پر قبضے کا چین کے ہاتھ ایک موقع آگیا، جس سے چالیس برس کے دوران پہلی بار خونریزی ہوئی۔ اس کے بعد اس نے ہمالیہ میں انفرااسٹرکچر کی تعمیر شروع کر دی تاکہ چینی فوجیوں کی بڑی تعداد کے موسم سرما گزارنے کا بندوبست کیا جا سکے۔

۲۰۲۲ کو نئی دہلی نے اپنی معیشت کی بحالی نیز چینی جارحیت سے نمٹنے کے لیے درکار عسکری صلاحیت میں سرمایہ کاری کے ایک موقع کے طور پر دیکھا تھا۔ لیکن پوٹن کی جارحیت نے ان امیدوں کو تاراج کر دیا۔ فروری اور مارچ میں تیل اور قدرتی گیس کی قیمتیں آسمان سے بات کرنے لگیں جس سے عالمی اور بھارتی معاشی پیداوار سست پڑ گئی۔ اناج اور کھاد کی سپلائی متاثر ہوئی جو عالمی سطح پر مہنگائی میں اضافے کا موجب ہوئی۔ اس صورتحال کے باعث یوکرینی باشندوں اور جنگ میں گھرنے والے غیر ملکی جن میں بھارتی طلباء بھی شامل تھے، ان کے لیے ایک انسانی بحران نے جنم لیا جو سفارتی اور ذرائع ابلاغ کی بڑی پیمانے پر توجہ حاصل کرنے کا سبب بنا۔

انحصار اور غلبہ

یہ وہ پیش رفت تھی جو بھارت کو روسی جارحیت کی کھلے عام مخالفت تک لے جا سکتی تھی، لیکن دو عوامل نے نئی دہلی کو روکے رکھا۔ اس میں سے ایک سبب تمام سویت اور روسی عسکری سازوسامان اور ان نئے سسٹمز کے حوالے سے خدشات ہیں جو نصف صدی کے دوران بھارت نے حاصل کیے یا جنہیں وہ اب بھی خریدنا چاہتا ہے۔ بھارتی ٹینکوں، راکٹ لانچرز، گولہ بارود، ایئر ڈیفنس سسٹمز، لڑاکا طیارے ،اس کے علاوہ اس کی آبدوزوں کی نصف تعداد، ایک ایئر کرافٹ کیرئیر اور کچھ ڈیسٹرائرز سویت یا روسی ساختہ ہیں۔ ان تمام کی مرمت، اسپیئر پارٹس، اسلحے اور تربیتی مقاصد کے لیے کچھ نہ کچھ روسی مدد کی ضرورت رہتی ہے۔ بھارت کے اہم ترین دفاعی منصوبوں میں سے کچھ، خاص کر اس کی جوہری ہتھیار داغنے کے قابل اور بیلسٹک میزائل کی حامل آبدوز تیار کرنے کی اس کی حالیہ کوششیں، روسی ٹیکنالوجی اور معلومات پر مبنی ہیں۔ اور پھر کچھ زیر التواء خریدا گیا سامان ہے جن میں بالخصوص S-400 ایئر ڈیفنس سسٹمز ہیں جن کی بھارت کو چین اور پاکستان سے لاحق ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے اشد ضرورت ہے۔

دوسرا سبب قدرے کم مادی نوعیت کا ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں سے، بھارتی رہنماؤں نےامریکہ اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ مضبوط تزویراتی شراکت داریاں قائم کرنے کے ساتھ ساتھ ماسکو کے ساتھ قریبی تعلقات برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔ ایسا اس نے روس کو چین کے ساتھ اتحاد قائم کرنے سے باز رکھنے اور پاکستان کو ہتھیار بیچنے سے روکنے کے لیے کیا کیونکہ دونوں میں سے کسی ایک کا نتیجہ بھی بھارت کے حق میں نہیں ہو گا۔ لیکن نئی دہلی کے پاس اب ایک سبب اور بھی تھا: وہ عرصے سے روس کو امریکی طاقت پر ایک چیک کے طور پر اور ماسکو کے ساتھ اچھے تعلقات کو ایک مفید ڈھال کے طور پر دیکھتا ہے۔ اسی سبب سے بھارت نے ایک ایسے ابھرتے ہوئے کثیرالفریقی نظام میں، جو کسی ایک ریاست یا بلاک کے زیر غلبہ نہ ہو، اس میں روس کو ایک اہم عنصر کے طور پر تصور کرتے ہوئے اکیسویں صدی کے اوائل میں پوٹن کے اپنے ملک کی قسمت کو دوبارہ تازہ دم کرنے کا خیرمقدم کیا تھا۔

یہ عناصر، اپنی معیشت کی بحالی پر پڑنے والے اثرات کے باوجود بھی روسی جارحیت کی مذمت میں مسلسل بھارتی ہچکچاہٹ کو بیان کرتے ہیں۔ تاہم ان میں سے کوئی بھی عنصر مستقل نہیں ہے۔ اس امر کا امکان موجود ہے کہ اس جنگ میں روس شکست خوردہ اور کم حیثیت میں سامنے آئے گا اور بھارت بلکہ درحقیقت چین اور پاکستان کو بھی جدید ترین ڈیفینس ٹیکنالوجی قابل بھروسہ طور پر مہیا کرنے کے قابل نہ ہوگا۔ اس امر کا بھی یکساں امکان موجود ہے کہ روس کے تمام ہائیڈروکاربنز اور جوہری ہتھیاروں کے باجود، اس تنازعے کے بعد جو بھی ملکی باگ ڈور سنبھالے اسے جغرافیائی سیاسیات کے کھیل کی منصوبہ بندی کے بجائے اپاہج معیشت کی دوبارہ بحالی پر توجہ مرکوز کرنا پڑے۔

چین کا چیلنج

نئی دہلی پہلے سے ہی خود کو اس ممکنہ پیش رفت کے لیے تیار کر رہا ہے۔ یہ اپنی داخلی دفاعی صنعت کی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے کوششوں کے لیے رفتار پکڑ رہا ہے۔ وہ عسکری ٹیکنالوجیز جنہیں بھارت مختصر مدت یا درمیانی مدت میں خود تیار کرنے سے قاصر ہے، ان کے حصول کے لیے اپنے غیر ملکی خارجہ ذرائع میں وسعت لا رہا ہے۔ نیز وہ سیاسی اور معاشی دونوں طرح کی وجوہات کے سبب، پہلے سے موجود سفارت کاریوں کو سہارا دینے اور مزید کے حصول کے لیے جوشیلی سفارت کاری کے سفر پر بھی روانہ ہو چکا ہے۔

لیکن اس میں سے کسی کا بھی یہ مطلب نہیں ہے کہ بھارت جلد ہی روس سے اپنے تعلقات منقطع کر لے گا جیسا کہ مغربی مبصرین چاہیں گے۔ نئی دہلی کو پختہ یقین ہے اور جو کہ درست بھی ہے کہ بھارت کے امریکہ کے ساتھ تعلقات جو انڈوپیسفیک میں چینی من مانیوں کو نکیل ڈالنے کے مشترکہ دلچسپی کے تابع ہیں، اس قدر مضبوط ہیں کہ وہ اس جنگ کے اوپر ایک عارضی اختلاف کو جھیل سکیں۔ مزید یہ کہ اگر وہ اہم دفاعی ٹیکنالوجیز، خاص کر جدید ترین ایئر ڈیفنس سسٹمز حاصل کرنا چاہتا ہے اور بھارت کے جوہری آبدوز پروگرام کو آگے بڑھانا چاہتا ہے تو اس کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں کہ وہ ماسکو کے ساتھ اپنے تعلقات کو برقرار رکھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس بندوبست میں بڑے خطرات موجود ہیں لیکن شراکت دار سمجھے جانے والے کسی بھی ملک نے کوئی قابل عمل متبادل پیش بھی نہیں کیا ہے۔

سب سے بڑھ کے، یہ یوکرین نہیں بلکہ چین ہے جو بھارت کے لیے سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ یہ چین کی طاقت اور اس کے عزائم کے بارے میں خدشات ہی تھے جو پوٹن پر مودی کی ہلکی پھلکی تنقید کے پس پردہ موجودتھے اور یورپی تنازعے کو فوری طور پر ختم کرنے کے لیے نئی دہلی کی درخواستوں کے ناگوار لہجے کو بھی بیان کرتے ہیں۔ چین کے معاملے میں بھارت چیلنجز کے ایک بھرپور سلسلے سے دوچار ہے: اس کا گورننس کا ماڈل، اس کی ترقی کی حکمت عملی اور جنوبی ایشیا اور بحرہند میں ہم خیال ریاستوں کے ساتھ اس کے تعلقات، یہ تمام وہ عوامل ہیں جو بھارتی مفادات کو کمزور کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ فی الوقت بھارت کے پاس نہ تو ان مسائل سے نمٹنے کے لیے اور نہ ہی سرحدی تنازعوں کو حل کرنے کے لیے اچھے مواقع ہیں۔ اسے ان مواقع کے حصول کے لیے وقت، پیسہ اور عسکری جدت پسندی کی ضرورت ہے۔ اور نئی دہلی بدستور اس خوف میں جکڑا ہوا ہے کہ ایک کمزور روس چینی کی ایک کارندہ ریاست بن کے رہ جائے گا جو عسکری اور دفاعی دونوں میدانوں میں اپنے دفاع کی بھارتی صلاحیتوں کو مزید کمزور کر دے گا۔

Editor’s Note: A version of this piece was originally published on 9DashLine, and has been republished with permission of the editors.

***

Click here to read this article in English.

Image 1: Mikhail Svetlov via Getty Images

Image 2: Emmanuel Dunand/AFP via Getty Images

Share this:  

Related articles

<strong>بھارتی خارجہ پالیسی ۲۰۲۲ میں: سال بھر کا جائزہ</strong> Hindi & Urdu

بھارتی خارجہ پالیسی ۲۰۲۲ میں: سال بھر کا جائزہ

بھارت نے گزشتہ برس کے دوران اپنی خارجہ پالیسی میں…

<strong>آئی ایم ایف کے اصلاحی پروگرام میں پاکستان کی ماند پڑتی دلچسپی</strong> Hindi & Urdu

آئی ایم ایف کے اصلاحی پروگرام میں پاکستان کی ماند پڑتی دلچسپی

مقامی معیشت دانوں اور پالیسی سازوں میں پائے جانے والے…

سری لنکا کی نادہندگی کا باعث چین کیوں نہیں ؟ Hindi & Urdu

سری لنکا کی نادہندگی کا باعث چین کیوں نہیں ؟

  سری لنکا کو اپنی آزادی کے بعد پہلی مرتبہ…