OLYMPUS DIGITAL CAMERA
OLYMPUS DIGITAL CAMERA

 

پاکستان نے فروری ۲۰۲۲ میں بھارت کو دو مرتبہ حیران کر دیا۔ حال میں پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے یوکرین پر روسی حملے پر بھارتی موقف کی تعریف کی کہ وہ ”عوام کی بہتری” کے لیے ”آزاد خارجہ پالیسی“ برقرار رکھے ہوئے ہے۔ 

وزیراعظم خان کا یہ تبصرہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان نے غلطی سے داغے گئے بھارتی کروز میزائل کے حادثاتی طور پر پاکستانی حدود میں گرنے پر کسی قسم کے ردعمل سے احتراز کیا ۔ بھارت نے یکطرفہ طور پر یہ تسلیم کیا کہ ایک انکوائری جاری ہے جو ان جائز سوالات پر پردہ ڈالنے کی ایک کوشش ہے جو میزائل داغنے اور پاکستان کو اس غلطی سے مطلع کرنے میں ناکامی کے معاملے میں عدم شفافیت کے سبب اٹھتے ہیں۔ سپرسونک میزائل سے اگرچہ معمولی نقصان ہوا تاہم یہ علم کہ یہ (عسکری و سول دونوں طرح کے استعمال کے قابل) ”ڈوئیل یوز“ براہموس میزائل تھا، اشتعال انگیزی کو جنم دینے کی وجہ ثابت ہو سکتا تھا۔

 اس کا سیاق و سباق یوکرین میں روسی جنگ ہے اور خوش قسمتی سے یہ ان چند نادر مواقعوں میں سے ایک ہے جہاں بھارت اور پاکستان ایک نکتے پر اکھٹا ہیں۔ بھارت اور پاکستان دونوں نے یوکرین اور اس کی پشت پناہی کرنے والوں یعنی کہ امریکہ اور نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (ناٹو) نیز روس کے ہمراہ دوستانہ تعلقات برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔ اگرچہ وزیراعظم عمران خان اس وقت ماسکو میں موجود تھے، جب روس نے یوکرین پر حملے کا آغاز کیا، پاکستان یوکرین پر اقوام متحدہ میں رائے شماری کے موقع پر غیر جانب دار رہا۔ بھارت نے بھی ایسے متعدد فورمز جہاں روسی اقدامات مذمت کے لیے پیش ہوئے، ان پر گریز سے کام لیا: مثلاً اقوام متحدہ کی قومی سلامتی کونسل، جنرل اسمبلی اور کونسل برائے انسانی حقوق۔ یوں جب بھارت اور پاکستان نے یوکرین کی جنگ کے معاملے پر خود کو ایک جیسی ناخوشگوار صورتحال میں پایا تو دونوں فریق زیادہ وسیع پیمانے پر منظرنامے کو دیکھنے اور میزائل معاملے پر سنجیدگی سے آگے بڑھنے کے قابل ہوئے۔

یوکرین کے معاملے پر دونوں کا ایک جیسا موقف دیگر شعبوں میں تعاون کے فوری بعد سامنے آیا ہے، جسے اگر حادثاتی طور پر داغے گئے میزائل معاملے پر دونوں کے غیر عسکری رویے کے ساتھ ملا کے دیکھا جائے تو یہ دونوں کے تعلقات میں مثبت موڑ کو ایک رجحان میں تبدیل کرنے کے قابل ہو سکتا ہے۔

لائن آف کنٹرول پر فروری ۲۰۲۱ میں ہونے والے سیزفائر کے بعد سے دونوں فریق جارحیت کو پیچھے چھوڑنے کے لیے طریقوں پر عبوری طور پر کام کرتے رہے ہیں۔ دونوں کے مل جل کے کام کرنے کا تازہ ترین واقعہ انسانی محاذ پر پیش آیا جب افغانستان میں غذائی معاونت کی خاطر بھارت سے روانہ کی گئی گندم کو پاکستان کے ذریعے سے گزرنے دیا گیا۔

بھارت کے آرٹیکل ۳۷۰ کے خاتمے پر پاکستان کے ردعمل میں جان باقی نہیں رہی ہے ایسے میں وہ بھارت کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے میں دلچسپی رکھتا ہے، اس لیے بھی پاکستان نے حادثاتی طور پر میزائل داغے جانے پر ردعمل سے گریز کیا۔ آرٹیکل ۳۷۰ کی منسوخی کے بعد سے ابھی تک پاکستان نے پراکسی لڑائی کو تیز کرنے کے بجائے ردعمل دینے کو فوقیت دی ہے۔ اگر پاکستان نے بھارت کے خلاف کسی عسکری قدم پر غور کیا بھی ہوتا تو ۲۰۲۰ کے اوائل میں پھوٹنے والی کووڈ ۱۹ کی وبا اسے روک چکی ہوگی۔

The Brahmos Missile system passes through the Rajpath during the full dress rehearsal for the Republic Day Parade in New Delhi on January 23,2006.

 

لداخ میں چینی مداخلت اور افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد ہونے والی مصروفیت نے بھی شائد پاکستان کو عسکری خطرہ مول لینے سے باز رکھا ہو۔ ان تمام قیود سے دوچار پاکستان نے کشمیر کو اس کی خودمختاری واپس دینے کے لیے مبینہ طور پر خفیہ ذرائع سے بھارت سے رابطہ کیا ہے۔ جس وقت غلطی سے میزائل داغے جانے کا واقعہ ہوا، چونکہ اس وقت پاکستان کی اس پیش رفت پر عملی طور پر کام جاری تھا لہذا وہ بھارت کو غیرضروری طور پر شرمندہ کرتے ہوئے اس پیش رفت کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتا تھا۔

فوقیت کی وجہ سے بھارت جموں اور کشمیر میں انتخابات کروانے کے قریب ہے۔ حلقوں کی نئے سرے سے حد بندی تقریباً مکمل ہو چکی ہے۔ بھارت کے وزیر داخلہ نے انتخابات کے بعد مستقبل کے بارے میں عندیہ دیا ہے کہ مناسب وقت پر ریاست کا درجہ بحال کیا جائے گا۔ بھارت پاکستان کے ساتھ ایسے بحران میں پڑنے سے ہچکچائے گا جو اس کے منصوبوں میں خلل پیدا کریں۔ لہذا ابتداء میں کچھ اختلاف کے بعد بھارت نے حادثاتی طور پر میزائل داغنے کی اپنی غلطی تسلیم کی اور یوں ایک بحران کے پیدا ہونے سے قبل ہی اس کا سر کچل ڈالا۔ بھارتی وزیر دفاع کا پارلیمنٹ میں بیان جس میں انہوں نے غلطی تسلیم کرتے ہوئے معاملے کی انکوائری کا اعلان کیا، دراصل اس کا مقصد پاکستان کو یقین دہانی کروانا تھا۔ تاہم پاکستان کو کروائی گئی یقین دہانیوں کی تکمیل کے لیے ضروری ہے کہ انکوائری ۱۹۹۹ کے لاہور اعلامیے پر مبنی مفاہمتی یادداشت میں طے پانے والی تجاویز کے مطابق ہو۔

میزائل داغنے پر بھارتی انکوائری ملک کو ان اقدامات کے تحت آگے بڑھنے کے لیے ایک سائبان فراہم کر سکتی ہے جو لاہور اعلامیے میں طے کیے گئے تھے۔ دو دہائی قبل دونوں ریاستوں کی جانب سے اٹھائے گئے یہ وہ اقدامات تھے جو ایسے واقعات کی صورت میں ردعمل کے لیے ضروری پروٹوکول طے کر سکتے تھے۔

بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں بہتری ہی غلطی سے داغے اور پاکستانی حدود میں گرنے والے میزائل کے بعد بحران کی غیرموجودگی کو بہترین طور پر بیان کرتی ہے۔ پاکستان جو کشمیر پر تعاون میں بھارت کی جانب سے جوابی خیرسگالی کی امید رکھتا ہے، اس کے لیے فائدہ اسی موقف کو اپنانے میں ہوگا کہ بھارت کے ہمراہ مذاکرات گو کہ وہ سب کی نگاہوں سے اوجھل رہے، عملی کارروائی کا سبب بنے۔ دوسری جانب بھارت کی ترجیح یہی ہو گی کہ پاکستان ریاستی انتخابات کے عمل میں بی جے پی کی حالیہ فتوحات کو پیچیدہ نہ کرے۔ غلطی سے داغے گئے میزائل کے معاملے پر پاکستان اور بھارت کی بلوغت بہتر تعلقات کا اشارہ دیتی ہے اور سی بی ایمز کو مضبوط بنانے کی جانب ان کے بڑھتے ہوئے جھکاؤ کی عکاسی کرتی ہے، جو ساتھ ہی ساتھ دونوں کو دیگر دوطرفہ متنازعہ امور کی جانب بڑھنے کے بھی قابل بناتا ہے۔

***

Click here to read this article in English.

Image 1: Guilhem Vellut via Flickr

Image 2: Public Resource via Flickr

Posted in:  
Share this:  

Related articles

پاکستان میں سیاسی تبدیلی پاک بھارت تعلقات کے لیے کیا معنی رکھتی ہے؟ Hindi & Urdu

پاکستان میں سیاسی تبدیلی پاک بھارت تعلقات کے لیے کیا معنی رکھتی ہے؟

پاکستان میں سیاسی تبدیلی پاک بھارت تعلقات کے لیے کیا…

عمران خان کی بے دخلی میں سپریم کورٹ کے کردار کی وضاحت Hindi & Urdu

عمران خان کی بے دخلی میں سپریم کورٹ کے کردار کی وضاحت

اپریل ۹ کو نصف شب کے بعد عمران خان پاکستان…

عمران خان: ایک سویلین ڈکٹیٹر کا انجام Hindi & Urdu

عمران خان: ایک سویلین ڈکٹیٹر کا انجام

اپریل ۹ کو نصف شب بیت چکی تھی جب پاکستان…