بھارت کا چین کے حوالے سے  پالیسی میں  روایتی سوچ سے انحراف

 جون  ۱۵کو دن ڈھلے، بھارتی اور چینی فوجی مشرقی لداخ میں واقع وادی گالوان کے ایک تنگ پہاڑی سلسلے پر بر سر پیکار تھے، جب بھارتی فوج چینی مداخلت کو ناکام بنانے میں مصروفِ عمل تھی۔ اسی دوران جھڑپ کے  نتیجے میں ایک کمانڈنگ آفیسر سمیت بھارتی فوجی اور ممکنہ طور پر کچھ چینی فوجی بھی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ، لیکن چین نے اس حوالے سےکوئی تعداد جاری نہیں کی۔ ایک ماہ

 بعد بھی واقعات کی صحیح تفصیلات غیر واضح  ہیں۔ فریقین کے مابین فوجی اور سفارتی سطح پر ملاقاتوں کے بعد کے بیانات اور میڈیا ذرائع  اگر ایک دن کشیدگی میں کمی کی اطلاع دیتے ہیں تو دوسرے ہی روز کشیدگی میں اضافے کی خبر گردش کرتی ہے ۔

تاہم ، یہ معقول حد تک واضح ہے کہ حالیہ تنازع ، جس کا آغاز ۵ مئی سے ہوا اور تقریبا دو ماہ سے انجام ندارد ،  کئی دہائیوں میں بھارت-چین تعلقات کا سب سے سنگین بحران ہے، اور یہ بحران طویل مدت کیلئے دو طرفہ تعلقات کو نئی شکل دے سکتا ہے۔

حالیہ بحران کیسے مختلف ہے؟

اس بحران کی اہمیت کے وسیع پیمانے پر تذکرہ کیے جانے والےاسباب، جیسا کہ ۱۹۷۵ کے بعد سے بھارت-چین سرحد پر پہلی ہلاکت کا اندراج اور فوجی دستوں اور ساز و سامان کے لحاظ سے بڑے پیمانے پر چینی اقدامات، کے علاوہ اور بھی کچھ وجوہات توجہ کی مستحق ہیں۔

اول ، چین اب گلوان وادی میں اس علاقے کا دعویدار ہے جسے ہندوستان طے شدہ سمجھتا ہے اور جیسا کہ بہت سارے تجزیہ کاروں نے بھی توجہ دلائی ہے کہ ۱۹۵۹ یا ۱۹۶۰ میں چین نے اپنے دعووں میں اس علاقے کو شامل نہیں کیا  تھا۔ نئی دہلی کے مطابق، چین کا یہ  دھمکی آمیز رویہ اسی چینی علاقائی جارحیت کی عکاسی کرتا ہے جس طرز پر چین نے پہلے بھی بھارت کے پڑوس میں ڈھوکلام تنازع کے دوران سڑک تعمیرکر کے بھوٹانی علاقوں کو اختیار میں کرنے کی کوشش کی۔ لیکن اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ ۱۹۹۳، ۱۹۹۶، ۲۰۰۵، ۲۰۱۲، اور ۲۰۱۳ میں ہندوستان کے ساتھ طے پانے والے سرحدی معاہدوں کے باوجود لائن آف ایکچول کنٹرول کی حد بندی اور حد بندی کو روکنے کے لئے مستقل چینی کوششوں کے پس منظر میں، بیجنگ اب کھلے عام طاقت کو بڑھاوا دے کر اور یکطرفہ طور پر ”سٹیٹس کو“ تبدیل کر کے  ان معاہدوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ موجودہ تنازع بھارت اور چین کے مابین کسی بھی سرحدی افہام و تفہیم کو بنیادی طور پر بے معنی قرار دیتا ہے اور چین کے وسیع تر ارادوں کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرتا ہے۔

دوم، حالیہ تنازع اُس منطق سے بھی پردہ اٹھاتا ہے جس کے تحت ۱۹۸۰ کی دہائی کے آخر اور ۱۹۹۰ کی دہائی کے اوائل میں بھارت اور چین کے باہمی تعلقات قدرے مستحکم تھے۔ اس کے مطابق، اگر دونوں فریق سرحدی تنازعہ کو وسیع تر تعلقات سے جدا رکھیں تو وہ  دو طرفہ تعاون میں اضافہ اور باہمی تعلقات میں استحکام پیدا کر سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں سرحدی معاملات کو حل کرنے میں مدد ملے گی۔  اسے مودی کے دور میں ”اختلافات کو تنازعات نہیں بننا چاہیے پالیسی“ کا نام بھی دیا گیا ہے۔ تاہم ، ۲۰۱۳ ، ۲۰۱۴ اور ۲۰۱۷ میں بھارت اور چین کے درمیان کم از کم تین بڑے سرحدی بحرانوں کے ساتھ ساتھ دہلی-بیجنگ تعلقات کے لئے ایک کشیدہ دور بھی گزرا، جب چین نے نیوکلیئر سپلائرز گروپ (این ایس جی) کے لئے بھارت کی رکنیت کی بار بار مخالفت کی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ چین نے جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کو اقوام متحدہ میں عالمی دہشتگرد قرار دئیے جانے پر بھی مزاحمت کی۔  ان سے یہ تعین کیا جا سکتا ہے کہ یہ پالیسی کارآمد نہیں ہے۔

سوئم، بیجنگ کے کووڈ ۱۹ کی شدت اور پھیلاؤ کے بارے میں معلومات چھپانے کے بعد چین کے بارے میں بھارتی رائے عامہ میں مزید شدت آ چکی ہے اور چین مخالف میمز اور کارٹون وٹس ایپ گروپس اور سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر گردش کررہے ہیں۔ مزید برآں، بہت سے ہندوستانی ورلڈ ہیلتھ اسمبلی کے لئے تائیوان کی رکنیت کی حمایت میں ٹویٹ کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، گزشتہ چند سالوں میں چین کے متعدد کھلم کھلا بھارت مخالف موقف اور متصادم رجحانات، جو کہ ڈھوکلام تنازعہ کے دوران چینی وزارتِ خارجہ کی جارحانہ بیان بازی یا بیجنگ کی جانب سے بھارت کی این ایس جی رکنیت کی مسلسل مخالفت سے عیاں ہیں، ماضی کے چینی سفارتکاروں کے  ”پر امن بقائے باہمی کے پانچ اصول“ سے متعلق امن پسند بیانات کے مقابلے میں چین کی منفی تصویر کشی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔  ان حالات میں بھارتی عوام کا چینی فوجیوں کی جانب سے غیر یقینی طور پر پرتشدد طریقے سے سرحد پر بیس بھارتی فوجیوں کا قتل فراموش کرنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ جس سے بھارتی حکومت پر چین کے خلاف سخت موقف اپنانے کے لیے اندرونی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ ۱۵ جون کے واقعے کے بعد عوامی غیظ و غضب پہلے ہی سے نچلی سطح تک چینی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے  کی تحریک کی شکل میں اور چین کو معاشی طور پر نقصان پہنچانے کی شکل میں واضح ہے۔  ایک بھارتی کمپنی ”چین ایپس کو ہٹا دیں“ نامی ایپ تیار کررہی ہے ، جسے ۵ لاکھ بار ڈاؤن لوڈ کیا جا چکا ہے۔

یہ بحران آگے بڑھتے ہوئے بھارت-چین تعلقات کو کیسے متاثر کر سکتا ہے؟

بھارتی سٹریٹجک کمیونٹی نے اکثر یہ تجویز کیا ہے کہ، اگر اس حقیقت کو سمجھ لیا جائے کہ ۱۹۶۷ سے کوئی ایسا سنجیدہ تصادم نہیں ہوا جس کے نتیجے میں اموات ہوئی ہوں، تو چینی خطرے کا سد باب کیا جا سکتا ہے۔ لیکن حالیہ کشیدگی میں اموات نے اس فکر پر بھی سوالات کھڑے کردیے ہیں۔ یہ حالات نئی دہلی کی چائنہ پالیسی  کی از سرنو جانچ کا پیش خیمہ بن سکتے ہیں۔  جیسا کہ وزیر خارجہ ایس جیشنکر اور چین میں ہندوستانی سفیر وکرم مصری کے حالیہ تبصروں سے ظاہر ہوتا ہے ، اور بروکنگ انسٹی ٹیوشن میں بطور تجزیہ کار تنوی مدن اس طرف توجہ مبذول کرا چکی ہیں ، جس پر پہلے ہی شیام سرن ، نروپما مینن راؤ اور گوتم بمباوالے جیسے سابق بھارتی سفارتکار روشنی ڈال چکے ہیں۔ خاص طور پر مودی سرکار کے نقطہ نظر سے ، جس نے چین کو راغب کرنے میں نمایاں سرمایہ لگایا ہے ، یہ ایک اہم وقت ہے۔ جب ۲۰۱۴ میں وزیر اعظم مودی اقتدار میں آئے تو انہوں نے چین کو بھارت کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے چین کے ساتھ معاشی تعاون بڑھانے کی کوشش کی۔ یہاں تک کہ جب صدر شی جن پنگ نے اپنے ستمبر ۲۰۱۴ کے ہندوستان دورے کے دوران ۲۰ بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا تھا ، لیکن پی ایل اے کے فوجیوں نے چومر کے مقام پر بھارتی حدود میں دراندازی کی۔  بعد ازاں مودی نے بھارت کی این ایس جی رکنیت کے لئے چینی مدد طلب کی ، جو کہ رد کر دی گئی۔ ڈوکلام تنازعہ کے بعد  مودی نے اختلافات دور کرنے اور اسٹریٹجک معاہدے کرنے کے لئے صدر شی کے ساتھ اعلٰی سطحی غیر رسمی اجلاس منعقد کیا۔

تاہم بھارت نے چین سے مطابقت کیلیے جو بھی اقدامات کیے، جیسا کہ انڈوپیسیفک ویژن میں بیجنگ کی شمولیت، آسٹریلیا کو مالابار مشقوں میں شامل نہ کرنا، نتائج برآمد نہیں ہوئے جن کے متعلق بھارت خدشات ظاہر کر چکا ہے، جیسا کہ پاک-چین اقتصادی راہداری، بھارت اور چین کے درمیان تجارتی عدم توازن، اور منڈیوں تک رسائی کے معاملات میں چین کی برتری۔

  حقیقت تو یہ ہے کہ ، ڈوکلام تنازعہ نے پہلے ہی دہلی میں خطرے کی گھنٹی بجا دی تھی کہ چین نہ صرف ایک طویل مدتی اسٹریٹجک خطرہ ہے بلکہ شاید مختصر سے درمیانی مدت میں بھی۔  ڈوکلام کے چند مہینوں بعد ، نومبر ۲۰۱۷  اقدام اور اس کے بعد سے امریکہ اور آسٹریلیا کے ساتھ اس کے تیزی سے ترقی پزیر دفاعی تعلقات کو اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہئے۔ لہٰذا، بھارت کو چین کی طرف سے لاحق خطرے کا از سرِ نو جائزے کے عمل کو تیز کرنے کی ضرورت ہے، جو ڈھوکلام کے بعد شروع ہو تھا۔

طویل المیعاد میں بھارت کی چین سے متعلق پالیسی کا تعین مختلف صورتوں میں ہو سکتا ہے، جیسا کہ چین سے نمٹنے کیلئے ہم خیال ممالک کے ساتھ شراکت کو مضبوط بنانا، اور دوطرفہ کے ساتھ ساتھ کواڈ جیسی کثیرالجہتی اتحاد کا قیام۔  وبائی مرض کووڈ ۱۹ کے تناظر میں، بھارت نے چین کی طرف سے پیدا کردہ مسائل کے باہمی تعاون  سے حل تلاش کرنے کے لئے کواڈ پلس جیسے اتحاد سے استفادہ کرنے کی رضامندی ظاہر کردی ہے۔ لیکن بھارت کورونا وائرس اور اس کے نتیجے میں پیدا شدہ بحران  طریقوں پر پہلے ہی غور کر رہا ہے۔

تاہم، بھارت کیلیے چیلنج یہ ہوگا کہ: کیا چین کی دہلیز پہ جائے بغیر فوج کو جدید خطوط پہ استوار کرنے اور چین کی فوجی مہم جوئی کو روکنے کیلئے،قومی طاقت خصوصاً معاشی قوت کی راہ ہموار کرنا ممکن ہے؟ ماہرین کے اندازے کے مطابق بھارت کے لئے چینی دارالحکومت تک رسائی حاصل کیے بغیر پانچ کھرب ڈالر کی معیشت بننا مشکل ہوگا۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ ہندوستان جہاں وقتی طور پر صلاحیتوں کے فرق کو پورا کررہا ہے لیکن ناکام ہے، وہاں چین کے ساتھ سنگین تصادم سے کیسے بچ سکتا ہے؟ ان سوالات پر محتاط غور و فکر کرنے کی ضرورت ہوگی۔

آخر میں ، ہندوستان کے لئے اصل امتحان یہ ہوگا کہ آیا وہ چین کے بارے میں صحیح اسباق سیکھنے کے لئے اس اسٹریٹجک وقت کو بروئے کار لاتا ہے اور بیجنگ کے ساتھ سودے بازی کرنے کی کسی بھی سوچ کو ختم کرتا ہے۔ جیسا کہ سٹمسن سنٹر کی یون سن اپنی چینی ماہرین کے ساتھ گفتگو کے حوالے سے بیان کرتی ہیں کہ بھارت چین کے اس تصور، کہ بھارت امریکہ کے ساتھ اتحاد نہیں کرے گا یا نئی دہلی پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا، کو بدلنے کے لیے کچھ خاص نہیں کر سکتا۔ بھارتی وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے نومبر ۲۰۱۹ میں کہا ”یہ اس تبدیلی کو تسلیم کرنے سے ہی ہے کہ ہم مواقع سے فائدہ اٹھانے کی پوزیشن میں ہیں۔  بدلتے ہوئے عالمی حالات کے پیشِ نظر قومی مفادات کا بامقصد تعاقب آسان تو نہیں ہو سکتا، لیکن یہ وقت کی ضرورت ہے۔ اور بھارت کے عروج کی راہ میں حائل اصل رکاوٹ دنیا کی طرف سے نہیں بلکہ نئی دہلی کی روایتی پرانی سوچ ہے۔“ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا بھارت اپنی چین کے حوالے سے پالیسی پر روایتی سوچ سے انحراف کرتا ہے یا نہیں۔

***

Click here to read this article in English.

Image 1: Prime Ministerial Visits to China via MEA India

Image 2: PMO India via Twitter

Posted in , Border, China, COVID-19, Crisis, Geopolitics, India, Indian Foreign Policy

Akriti Vasudeva

Akriti Vasudeva

Akriti Vasudeva is a Research Analyst with the South Asia Program at the Stimson Center. Her research focuses on U.S.-India defense and strategic cooperation, geopolitics of South Asia and the Indo-Pacific, and Indian foreign policy. Previously, she worked as a print journalist in India, reporting on environmental issues for The Indian Express in Mumbai, and on education policy for Hindustan Times, New Delhi. She has also held research positions at the Embassy of India in Washington, D.C. and the Institute for Defence Studies and Analyses in New Delhi, among others. She holds an M.A. in Asian Studies from the Elliott School of International Affairs, George Washington University and a bachelor’s degree in information technology engineering from the University of Mumbai.

Read more


Continue Reading


Stay informed Sign up to our newsletter below





Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *