33465091301_7d4f34b432_o-1-1095×616

  ڈوکلام بحران، جو کہ ۲۰۱۷ میں پیش آیا، کے بعد سے لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) کے ساتھ بھارتی علاقے میں چینی دراندازی زیادہ متواتر اور  مزید پرتشدد ہوگئی ہے۔جنوبی ایشیا میں سلامتی اور جغرافیائی سیاست کی تشکیل میں چین اور بھارت کے تعلقات کے اہم کردار کے پیشِ نظر، بھارت اور بیرون ملک کے تجزیہ کاروں نے ایل اے سی کے پار بیجنگ کی جارحیت کے محرکات  کا کھوج لگانے کی کوشش کی ہے۔ بیجنگ کی حکمتِ عملی سازسوچ میں تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ، ہندوستان کا اپنا داخلی سیاسی منظر نامہ چینی  دراندازیوں کو مزید ممکن بنا سکتا ہے۔

فی الوقت ایل اے سی کے ساتھ ۲۳  ایریا  آف ڈیفرنگ  پرسپشن (اے ڈی پی)، وہ علاقے  جہاں اختلافِ رائے برائے حدود ہو، ہیں۔  انڈیا-چائنا باؤنڈری سیٹلمنٹ گروپ کے خصوصی نمائندوں (ایس آر) کے ساتھ ۲۲ سے زیادہ ادوار کی ملاقاتوں کے باوجود ان علاقوں  کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔  زیادہ تشویش ناک  بات یہ ہے کہ ۲۰۲۰  میں وادی گلوان کے واقعہ کے بعد سے ایس آر سطح پر بات چیت بند کردی گئی ہے۔ ۲۰۱۷  میں ڈوکلام بحران کے بعد، ایک مختصر توقف کے بعد ، مئی ۲۰۲۰ میں پینگونگ تسو کے کنارے اور مشرقی لداخ سیکٹر کے ملحقہ علاقوں میں سرحدی بحران  کی شدت  اور پیمانے میں اضافہ ہوا تھا۔ حالیہ توانگ واقعہ مشترکہ ایل اے سی اصولوں کی خلاف ورزی کےسلسلے میں چینی جارحیت کی ایک اور کڑی ہے۔

حالیہ سرحدی بحران چین کے جارحانہ عزائم کا واضح اشارہ ہے کیونکہ وہ ایل اے سی کی موجودہ صورتحال (سٹیٹس کو) کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ چین کے بارے میں ایک مربوط، ٹھوس اور واضح پالیسی تیار کرنے میں بھارت کی ناکامی اس طرح کی خلاف ورزیوں کی مزید حوصلہ افزائی کرتی ہے۔

تاہم  اسے چینی جارحیت کو روکنے کے لئے حکمتِ عملی کی  تیاری میں  سنگین داخلی سیاسی چیلنجوں کا سامنا ہے، جس کے نتیجے میں بھارت ایک مشکل صورتحال میں الجھ کر رہ گیا ہے۔

چین کی ایل اے سی کی خلاف ورزیوں کی اہم وجوہات

گزشتہ تحقیقاتی مطالعات  نے ان متعدد عوامل کا جائزہ لیا ہے جو بیجنگ کو ایل اے سی کی خلاف ورزی کرنے اور خطے کے امن میں خلل ڈالنے پر مجبور کرتے ہیں۔رسل گولڈمین کا کہنا ہے کہ اگست ۲۰۱۷ میں ڈوکلام میں چین کے انفرا سٹرکچر  میں بھارتی خلل اندازی نے چین کو اپنے انفرا سٹرکچر  کی تعمیر میں تیزی لانے اور خلاف ورزیاں کرنے پر اکسایا۔چین کا اصرار ہے کہ ایل اے سی کی خلاف ورزیاں سرحد پر بھارت اور چین کے درمیان ترقیاتی مقابلہ کا ضمنی نتیجہ ہیں۔ گیمبل اور ڈیوس کا استدلال ہے کہ مشرقی لداخ میں بھارت کی فوجی پیش قدمی نے چین کو ایل اے سی کی موجودہ صورتحال (سٹیٹس کو) کی خلاف ورزی کرنے پر اکسایا ہے۔ دیگر لوگ اس  امر پر زور دیتے ہیں کہ جموں و کشمیر میں آرٹیکل ۳۷۰ کو ختم کرنے کے بھارتی فیصلے نے چین کی خلاف ورزیوں میں اضافہ کیا ہے، کیونکہ انہیں  یہ خدشہ ہے کہ کشمیر کے بھارت میں انضمام کے  اثرات دوسرے متنازعہ سرحدی علاقوں جیسے تبت اور سنکیانگ تک پھیل سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں چین شاہراہ قراقرم کو وسعت دینے کے لیے ایل اے سی کے علاقے میں زمین پر قبضہ کر رہا ہے تاکہ جموں و کشمیر کے متنازعہ علاقے کے ذریعے مغربی ایشیا اور افغانستان سے اسٹریٹیجک رابطے کو یقینی بنایا جا سکے۔ 

کچھ رپورٹوں میں چین کی حالیہ خلاف ورزیوں کو ہمالیائی خطے میں امریکہ اور بھارت کے فوجی تعاون سے بھی جوڑا گیا ہے۔انڈو – پیسیفک اور کواڈ میں بھارت کی فعال شرکت نے چین کو بھڑکایا ہے۔اروناچل پردیش میں ایل اے سی کی حالیہ خلاف ورزی کا فوری سبب بھارتی حکومت کی جانب سے اروناچل فرنٹیئر ہائی وے کی تعمیر و ترقی کے اعلان کے ساتھ ساتھ چین کی جانب سے بھارت کی جی-۲۰ صدارت کو پیچیدہ بنانے کی کوششوں کو قرار دیا گیا ہے۔

ایل اے سی کی خلاف ورزی کرنے کے چینی عزائم  کے اس پھیلاؤکے باوجود ایل اے سی کے بارے میں بھارت کا داخلی نقطہ ِنظر بھی  بیجنگ کی حکمتِ عملی کے  جوڑ توڑمیں اہم کردار ادا کرتا  ہے اور خلا ف ورزیوں کے لیئے مزید  راہ ہموار کرتاہے۔

بھارتی سیاسی قیادت کا  نقـطہِ نظر برائے چین 

بھارت کی علاقائی سالمیت نے تاریخی طور پر  اہم عوامی توجہ حاصل کی ہے اوربڑی سیاسی جماعتوں کے  انتخابی جوڑ توڑ کی تشکیل کی ہے۔ مثال کے طور پر، اقتدار کی راہ میں، وزیر اعظم نریندر مودی نے خود کو انڈین نیشنل کانگریس پارٹی کے بھارتی علاقائی سالمیت کے بارے میں نرم نقطہِ نظر کے مخالف کے طور پر پیش کیا۔بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا دعویٰ ہے کہ انڈین نیشنل کانگریس نہرو دور سے جموں و کشمیر میں مسلسل اپنے علاقے سے ہاتھ دھوتی جا رہی ہے۔اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ نہرو کے ایشیائی بھائی چارے کے تصور نے  چین کے  متعلق ان کے نسبتاً نرم نقطہِ نظر کو جنم دیا۔ تاہم بیان بازی کے باوجود وزیر اعظم مودی کی   چین سے متعلق نرمی اور مصلحت اندیشی

نہرو کی پیروی ہی ہے۔اگرچہ مودی نے قوم کو یقین دلایا کہ ہندوستان کی خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، تاہم ان کی حکومت متنازعہ علاقوں میں چینی دراندازی اور زمین پر قبضے کو روکنے میں ناکافی ثابت ہوئی۔ بی جے پی حکومت نے ایل اے سی پر رولز آف انگیجمنٹ (آر او ای)  میں شاید ہی کوئی تبدیلی کی ہے۔ مزید برآں، ہم توانگ میں حالیہ اشتعال انگیزیوں کے خلاف کوئی مناسب جوابی کارروائی نہیں دیکھ رہے۔ بامعنی سیاسی تاوان کی عدم موجودگی میں بیجنگ سرحدی جھڑپوں سےمجموعی طور پر بخیر و عافیت نکل آیا ہے، جس سےاسے مستقبل میں  مزید اشتعالی اقدامات کے لیئے شہہ ملی ہے۔

جب سے وہ معاملات کا نظم و نسق  سنبھالے ہوئے ہیں،مودی حکومت نے چین کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کے لئے ایک بڑی سفارتی سرمایہ کاری کی ہے ۔اس کے باوجود انہیں حالیہ برسوں میں کامیابی کا کم اور ناکامیوں کا زیادہ سامنا کرنا پڑا ہے. مزید برآں، ایک مضبوط اور دو ٹوک رہنما کے طور پر  پہچانے جانے کے باوجود چین سے متعلق مودی کے ملے جلے اشاروں نے بھارتی رائے دہندگان اور بھارت کے اسٹریٹیجک شراکت داروں ،دونوں کو حیران کر دیا ہے۔ بھارتی وزارت دفاع اور وزارت خارجہ نے ایل اے سی کی خلاف ورزیوں پر چین کے خلاف انتہائی ہلکے پھلکے  بیانات جاری کیے ہیں جس سے چین کو چھوٹے ہمسایہ ممالک سے سازگار حمایت حاصل کر کے بحران کا بھرپور فائدہ اٹھانے کا موقع ملاہے۔اس کے ساتھ ہی چین کے بارے میں  واضح بھارتی حکمت عملی کی عدم موجودگی بھارت کے اسٹریٹیجک شراکت داروں کو اس کے ارادے اور صلاحیتوں کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار بناتی ہے، جس کی وجہ سے بھارت کو بین الاقوامی محاذ پر دوہرا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔

چینی دراندازی پر بی جے پی کی تردید اور خاموشی کی دو اہم وجوہات ہیں۔ پہلی یہ کہ بھارت کے داخلی حلقوں کو خوش رکھا جائے۔ مثلاً ، ۲۰۲۰ میں کل جماعتی اجلاس میں  وزیر اعظم مودی نے کہا  کہ ـــ ہمارے علاقے میں کسی نے بھی کوئی دراندازی نہیں کی۔، 

تاکہ اندرونِ ملک خوف و ہراس نہ پھیلے اور قوم کو بھارتی خودمختاری کی حفاظت کرنے کی اپنی صلاحیت کا یقین دلایا جا سکے۔شیوشنکر مینن نے توجہ دلائی کہ وزیر اعظم کا بیان غلط تھا اور اس  کے پیچھے ناقص  سوچ تھی۔درست رپورٹنگ کی تشہیر پر پابندی اور صحافیوں اور بین الاقوامی تجزیہ کاروں کو فارورڈ اسٹریٹیجک مقامات کا دورہ کرنے سے روک کر بھارت کی عوام کی خوشنودی کی مزید سعی کی گئی۔اس تردید  کا کام ،  خصوصی طور پر ۲۰۲۴ کے عام انتخابات کی روشنی میں بھارت کے داخلی سیاسی حلقوں  میں حکومت مخالف جذبات اور ایل اے سی پر صورتحال کو سنبھالنے میں بھارت کی ناکامی پر عوامی تنقید کو کم کرنا ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ بھارت اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ ان اشتعال انگیزیوں کا مضبوط فوجی جواب نہ تو مطلوب ہے اور نہ ہی ممکن ہے، جس کی وجہ غیر متوازن فوجی صلاحیتیں اور چین پر اقتصادی انحصار ہے۔ اگر بھارتی عوام چینی خطرے کی حقیقی حد کو جان پاتے توشاید وہ  طاقتوں میں عدم توازن سمجھے بغیر ہی بی جے پی حکومت کو چین کے ساتھ جنگ کرنے کی ترغیب دلاتے ۔گو کہ عوام  کے سامنےایل اے سی پر دراندازیوں سے  انکار کرنے کے لیئے بی جے پی کے پاس کوئی  منطقی حجت ہو سکتی ہے، تاہم  بھارتی خاموشی ایل اے سی پر چین کی موقع پرست جارحیت کو مزید فروغ دے گی۔لہذا چینی جارحیت کو روکنے کے لئے بہتر دفاعی تیاری، قابل اعتمادسگنلنگ اور گشت کے طریقہ کار میں مؤثر تبدیلیاں ضروری ہیں. ان اصلاحات کی عدم موجودگی چین کو ایل اے سی پر اشتعال انگیزی کا پروانہ دیتی ہے اور چین کو موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ مودی کی آخری حد کو جانچ سکے،ان کی عالمی ساکھ کو خراب کر سکے اور مغربی طاقتوں کے ساتھ اسٹریٹیجک شراکت داری کے امکانات کو محدود کر سکے۔

آگے بڑھنے کی راہ

تردید ایک خطرناک حکمت عملی ہے۔ستمبر ۲۰۲۰ سے اب تک چھ پارلیمانی اجلاس ہو چکے ہیں، لیکن ابھی تک بھارت کی حکمت عملی  برائے چین  پر ایک بھی بحث نہیں ہوئی ہے۔ملٹری کور کمانڈر سطح کے مذاکرات کا ۱۷ واں دور اب تک دونوں فریقین کے درمیان تعطل کو ختم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ جغرافیائی نفسیاتی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو ایل اے سی کی جتنی زیادہ خلاف ورزیاں بھارت کے کسی بھی ردعمل کے بغیر ہوں گی، اتنا ہی چین بھارتی اسٹیبلشمنٹ میں خوف اور کمزوری کا احساس پیدا کرنے میں کامیاب ہوگا۔

اس تناظر میں چین کے بارے میں  اب تک بھارت کا نقطہ نظر ملک کے لئے ایک جامع حکمت عملی سے زیادہ بی جے پی کے انتخابی فائدے کے لئے رہا ہے۔ایک مربوط پالیسی برائے چین میں چین اورامریکہ کے ساتھ دو بدواسٹریٹیجک تعلقات کو مضبوط بنانا، دوسرے ممالک کو چین پر عالمی انحصار  کم کرنے کے لئے متبادل فراہم کرنے کے لئے بھارتی  مارکیٹ کھولنا، ایل اے سی پر اسٹریٹیجک مقامات پر وسائل  کی زیادہ سے زیادہ فراہمی اور بھارتی عوام اور بین الاقوامی شراکت داروں کے سامنے چینی جارحیت کی تردید نہ کرنا شامل ہیں۔  مزید برآں، بھارت کو مختلف کثیر الجہتی فورمز  (اجتماعات) پر سنکیانگ میں چین کی نسل کش  سرگرمیوں اور بری و بحری  علاقہ جات میں بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزیوں پر کھل کر تنقید کرنی چاہیے۔  اس طرح کی کسی حکمت عملی کی عدم موجودگی، اگلے سال ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے تناظر میں ،ایل اے سی پر مزید چینی جارحیت کی حوصلہ افزائی کرے گی۔

***

Click here to read this article in English.

Image 1: India-China border via Flickr

Image 2: Modi at Hunker Rally via Wikimedia Commons

Share this:  

Related articles

معلومات کی پردہ پوشی  جنوبی ایشیا میں آب و ہوا سے متعلقہ تعاون کو روک رہی ہے Hindi & Urdu
جنوبی ایشیا میں موسمیاتی سفارت کاری اور آبی انتظام کا انضمام Hindi & Urdu

جنوبی ایشیا میں موسمیاتی سفارت کاری اور آبی انتظام کا انضمام

جنوبی ایشیا میں پائی جانے والی اولین تہذیبوں سے لے…

جنوبی ایشیا میں آب و ہوا کی بنیاد پر ٹیکنالوجی تعاون کی ضرورت Hindi & Urdu

جنوبی ایشیا میں آب و ہوا کی بنیاد پر ٹیکنالوجی تعاون کی ضرورت

سال ۲۰۲۳ کے اوائل میں  نیپال کے کوشی صوبے میں مون…