Rohingya-Refugee-Camp-New-Delhi

بھارتی وزیر برائے ہاؤسنگ و شہری امور ہردیپ سنگھ پوری نے ۱۷ اگست کو روہنگیا مسلمانوں کی دارالحکومت میں موجودگی پر ایک ٹوئٹ کے ذریعے ایک تنازعے کو جنم دیا۔ پوری نے ٹوئٹ کیا کہ نئی دہلی میں موجود روہنگیا آبادی کو جھونپڑیوں سے دہلی کے علاقے بکروالا کے فلیٹس میں منتقل کیا جائے گا جہاں انہیں بنیادی سہولیات، یو این ایچ سی آر کارڈز اور دہلی پولیس کی جانب سے تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ تاہم یہ ”تاریخی فیصلہ“ جلد ہی واپس لے لیا گیا اور چند ہی گھنٹوں کے اندر وزارت داخلہ نے ٹوئٹ کیا کہ ایسے کسی بھی فیصلے کی کبھی منظوری نہیں دی گئی اور روہنگیا پناہ گزینوں کو میانمار جہاں انہیں نسلی مذہبی بنیادوں پر شدید ایذارسانی کا سامنا ہے، واپس بھیجنے کے لے حراستی مراکز بھیجا جائے گا۔ بظاہر معمولی دکھائی دیتا ٹوئٹر پر ہونے والا یہ اختلاف قومی و بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز بن گیا کیونکہ یہ نا صرف وفاقی مشینری کے ناقص ہونے بلکہ بھارت کی پناہ گزین پالیسی میں موجود سقم کی بھی علامت تھا۔

ایک ایسا ملک کہ جس کی بنیادیں ہی ۱۹۴۷ میں زبردستی مسلط کردہ مہاجرت میں رکھی گئیں اور جہاں ۲ لاکھ سے زائد پناہ گزین موجود ہیں، وہ داخلی یا بین الاقوامی پناہ گزینوں کے لیے کوئی پالیسی نہیں رکھتا ہے۔ تاریخی لحاظ سے دیکھا جائے تو بھارت کو پناہ گزینوں کے لیے “محفوظ ٹھکانہ” سمجھا جاتا ہے لیکن رسمی قوانین کی عدم موجودگی ریاست کو یہ موقع دیتی ہے کہ وہ پناہ گزین گروہوں سے عارضی اور صوابدیدی اختیار کے تحت سلوک کرے جو عالمی، انسانی یا آئینی بنیادوں کے بجائے جغرافیائی سیاسیات و سفارت کاری کے تابع ترغیبات، داخلی ووٹوں کی سیاست اور مقامی سطح کی سماجی ثقافتی حرکیات کے تابع ہوتے ہیں۔  داخلی سطح پر پناہ گزینوں کی پالیسی کی عدم موجودگی بھارت کے لیے ردعمل کی پالیسی میں کسی حد تک تزویراتی ابہام کے لیے موقع فراہم کرتی ہے۔  تنازعوں اور ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے خطے میں ترک وطن کی بڑھتی شرح کے پیش نظر بھارت کو پناہ گزینوں کے لیے ایک یکساں، غیر جانبدارانہ اور ابہام سے پاک انتظامی پالیسی  کے لیے قانون سازی کی خاطر ہر لحاظ سے آمادگی ظاہر کرنا ہوگی۔ 

بھارت کے پناہ گزین قانون میں تزویراتی ابہام

بھارت ۱۹۵۱ کے ریفیوجی کنوینشن یا اس کے ۱۹۶۷ پروٹوکول کا حصہ نہیں جو کہ ایذا رسانی کا سامنا کرنے والے افراد کی میزبانی کرنے والے ممالک  کی تعریف اور ان کی ذمہ داریاں بیان کرتا ہے۔ مزید براں بھارت اپنی جغرافیائی حدود کے اندر یو این ایچ سی آر کے انتظامی کردار کو بھی تسلیم نہیں کرتا اور پناہ گزینوں کے بحران سے تنہا نمٹنے کو ترجیح دیتا ہے۔ بھارت میں موجود ۲ لاکھ پناہ گزینوں میں سے محض۴۶ ہزار کو نئی دہلی میں واقع یو این ایچ سی آر کے دفتر کے ذریعے رسمی تحفظ حاصل ہوا ہے جبکہ دیگر کو یا تو ریاست کی جانب سے تسلیم کیا  گیا ہے یا پھر یہ کلی طور پر دستاویزات سے محروم ہیں۔ ریاستی اداروں اور بین الاقوامی کرداروں کے دستاویزی کارروائی کے  طریقہ کار میں فرق نیز قومی سطح پر شناخت کے لیے حالیہ متعارف کردہ ادھار جیسی ٹیکنالوجیز نے پناہ گزینوں کے لیے ضروریات تک رسائی، معاشی و سیاسی ضروریات کے مطالبے نیز ریاست کی جانب سے یکساں بنیاد پہ شناخت حاصل کرنے کے عمل کو دشوار بنا دیا ہے۔

 بھارت میں موجود غیر شہریت یافتہ افراد سے نمٹنے کے لیے جو بنیادی قانون ہے وہ ۱۹۴۶ کا فارنرز ایکٹ ہے۔ تاہم اس قانون  میں ”پناہ گزینوں” کے لیے علیحدہ درجہ نہیں ہے جو ان کے لیے مخصوص حقوق بیان کرے، اور قانونی و عدالتی سطح کے بجائے سیاسی و انتظامی سطح پر ان سے نمٹ سکے؛ یہ ان سے  غیرقانونی طور پر داخل ہونے والوں، سیاحوں اور غیرملکیوں جیسا یکساں برتاؤ ہی کرتا ہے۔ اگر اور جب بھی مرکز ان آئینی حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے تو ایسے میں عدالتی مداخلت معمولی اور ناکافی ہوتی ہے جو واضح قانونی تعریف کی ضرورت کو مزید اجاگر کرتی ہے۔ پناہ گزینوں اور “غیرقانونی تارکین وطن” افراد کے لیے ایک ہی قانونی تعریف مودی دور میں ترک وطن اور  مسلم مخالف جذبات کے خلاف تیزی سے پھیلتے قوم پرست سیاسی بیانیے کی موجودگی میں اور بھی خطرناک دکھائی دیتی ہے۔

مزید براں، ملک میں موجود محروم طبقوں کے ساتھ  خود بھارت کے اپنے سلوک نے بھی  “غیر افراد” کے حوالے سے اس کے نقطہ نگاہ کو مخصوص شکل دی ہے۔ مثال کے طور پر ۱۹۵۵ کے شہریتی ایکٹ پر۱۹۸۵ کی تحریک آسام کے ردعمل میں پہلی بار نظرثانی کی گئی تھی، جس میں ۱۹۷۱ سے قبل ملک میں داخل ہونے والے تارکین وطن افراد کی شہریت کو یقینی بنایا گیا تھا جبکہ ۱۹۷۱ کے بعد داخل ہونے والوں کی ملک بدری کا حکم سنایا گیا تھا۔ ۲۰۱۹ کی ترمیم (شہریت ترمیمی ایکٹ یا سی اے اے) کے بعد افغانستان، پاکستان اور بنگلہ دیش سے آنے والے تمام غیر مسلم پناہ گزین بھارتی شہریت کے حقدار ہیں، اور اس طرح یہ ریاستی تحفظ کے لیے مذہب کو باضابطہ طور پر معیار بناتا ہے۔ گو کہ سب کے لیے یکساں معیار پر مبنی پالیسی نہ بنانے کے اپنے فوائد ہیں تاہم ریاست میں اخلاقی ذمہ داری کی کمی اور مسلم مخالف جذبات مختلف پناہ گزین گروہوں کے ہمراہ برتاؤ میں لامحالہ تعصب کی وجہ بنتے ہیں۔

عارضی اور صوابدیدی: جغرافیائی سیاسیات اور انسانیت کے نرغے میں

رسمی قوانین کی غیر موجودگی میں سیاسی حقیقت پسندی اور برسوں سے چلی آتی نسل پرستی نے یکے بعد دیگرے آنے والے پناہ گزینوں کے ریلوں کے  حوالے سے بھارتی ردعمل کو مخصوص شکل میں ڈھالا ہے۔ مثال کے طور پر بھارت نے اگرچہ ۱۹۵۹ میں تبت پر چینی قبضے پر فوجی مداخلت نہیں کی لیکن اس نے تبت پناہ گزینوں کا کھلے دل کے ساتھ خیرمقدم کیا۔ بھارتی حکومت نے چین کے ہمراہ  مشترکہ سرحد پر ۱۹۶۲ کی چینی جارحیت کے خلاف قوم پرستی پر مبنی جذبات اور تبت کے تنازعے پر عوام میں پائی جانے والی حمایت سے  فائدہ اٹھاتے ہوئے تبتی پناہ گزینوں کو ووٹوں کی سیاست اور مسلسل تناؤ کا شکار چین بھارت تعلقات میں بطور سیاسی مہرہ استعمال کیا ہے۔ نہرو نے اس کے لیے تخلیقی نوعیت کے حل ڈھونڈے جیسا کہ دھرم شالا میں سنٹرل تبت ایڈمنسٹریشن کا قیام، پناہ گزینوں کے لیے علاقہ مختص کرنا اور تبت اسکولوں کا قیام وغیرہ۔ ۱۹۷۱ میں بھارت نے ایک بار پھر دس ملین بنگلہ دیشی پناہ گزینوں کو ملک میں جگہ دی تاکہ اپنے ایک جانب “دوست” کے ذریعے دوسری جانب “دشمن” پاکستان کے ساتھ جنگ میں اپنے سلامتی مفادات کو محفوظ کیا جا سکے۔ انتخابی سیاست اور مقامی سطح پر گروہی حرکیات نے مختلف علاقوں میں ان کی آبادکاری اور آبائی وطن میں دوبارہ واپسی کے حوالے سے ردعمل میں کردار ادا کیا ہے۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ جہاں مغربی بنگال نے مشترکہ ثقافت و لسانی وابستگی کی وجہ سے پناہ گزینوں کا خیرمقدم کیا وہیں آسام میں آنے والے پناہ گزینوں کو  مذہب اور زبان میں فرق نیز وسائل کی کمی کے بڑھتے ہوئے خوف کی وجہ سے جارحیت کا سامنا رہا۔

 

 تقسیم کے اذیت ناک تجربے سے پیدا ہونے والا مہمان نوازی پر مبنی نہرو کا طرز فکر حالیہ برسوں میں بی جے پی کے عروج نیز اس کی تبدیل ہوتی سفارتی و داخلی ترجیحات کے سبب ماند پڑ چکا ہے۔ مثال کے طور پر لسانی مذہبی بنیادوں پر مظالم سے جان بچانے کے لیے ۲۰۱۷ سے میانمار سے آنے والے روہنگیا پناہ گزینوں کی ملک میں آمد کو جرم قرار دیا گیا ہے اور انہیں ملک بدر کیا گیا ہے۔ تقریباً ۴۰ ہزار کے قریب روہنگیا ملک کے طول و عرض میں کچی آبادیوں میں مقیم ہیں جن میں سے محض نصف کے قریب کو یو این ایچ سی آر کا تحفظ حاصل ہے۔ روہنگیا کے معاملے میں حکومتی ردعمل میں نسلی تعصب ڈھکا چھپا نہیں اور بی جے پی حکام پناہ گزینوں کو “دیمک” اور “دہشت گرد” قرار دیتے رہے ہیں۔ تاہم روہنگیا پناہ گزینوں کے معاملے پر دہلی کا تذبذب کا شکار موقف میانمار کے ہمراہ سفارتی پل صراط پر سفر جاری رکھنے کی اس کی خواہش سے بھی معمور کیا جاسکتا ہے۔ یہ ملک ایک اہم سفارتی شراکت دار ہے: یہ جنوب اور جنوب مشرقی ایشیا سے جوڑتا ہے، سرحدوں پر ہونے والی شورشوں کے بارے میں انٹیلی جنس اطلاعات سے بھارت کو مطلع کرتا ہے اور بھارت کے شعبہ ٹیکنالوجی کے لیے خام مال مہیا کرتا ہے۔  علاقائی سلامتی کے  حوالے سے بھارت کے لیے میانمار کی اہمیت کا نتیجہ یہ ہے کہ نئی دہلی روہنگیا قوم کی وطن واپسی کے حوالے سے بنگلہ دیش اور میانمار کے درمیان ثالثی میں چین کی مانند حصہ نہیں لے رہا ہے۔ 

اسی طرح اگرچہ بھارت نے گزشتہ برس امریکی انخلاء کے بعد افغان پناہ گزینوں کے لیے  الیکٹرانک ویزہ (ای ویزہ) پروگرام شروع کیا تھا تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ اس نے پناہ کے لیے موصول ہونے والی ۶۰ ہزار درخواستوں میں سے کتنے افراد کی درخواست قبول کی ہے۔  بھارت نے اشارہ دیا تھا کہ وہ ملک چھوڑنے کے خواہش مند ہندوؤں اور سکھوں کی درخواستوں کو ترجیح دے گا۔ تاہم افغانستان میں اکثریت مسلم آبادی کی ہے، ایسے میں افغان پناہ گزینوں کو قبول کرنے میں بھارتی ہچکچاہٹ کا سبب اس کی متعصبانہ سی اے اے پالیسی اور بی جے پی میں پایا جانے والا شدید اسلاموفوبیا دکھائی دیتا ہے۔ جغرافیائی سیاسی عینک سے دیکھا جائے تو طالبان پر نئی دہلی کے موقف میں تبدیلی افغان پناہ گزینوں کے معاملے میں بھی اس کی غفلت پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔ ایک طرف جہاں طالبان بھارت سے معاشی و ترقیاتی معاونت حاصل کرنے کی امید رکھتے ہیں تو وہیں نئی دہلی ان تعلقات کو افغانستان سے ممکنہ بھارت مخالف دہشت گردی کی لہر کے خلاف یقین دہانی کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے، ایسے میں افغان مہاجرین کے لیے انسانی امداد پس منظر میں چلی جاتی ہے۔

مستقبل کے لیے لائحہ عمل

حالیہ برسوں کے دوران جنوبی ایشیا کو ترک وطن کے لیے نئے محرکات ملے ہیں جو پناہ گزینوں کے یکدم نئے ریلوں کا سبب بنے ہیں۔ سری لنکا میں معاشی تباہی، افغانستان اور پاکستان میں غذائی عدم تحفظ اور بنگلہ دیش و مالدیپ میں بڑھتی ہوئی سطح سمندر سے قریب آتے خطرات اس امر کا احساس دلاتے ہیں کہ بھارت کو غیرشہریوں کے حوالے سے اپنے پالیسی لائحہ عمل اور انسانی ذمہ داری پر فوری غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ۱۹۴۶ کے فرسودہ فارنرز ایکٹ اور ۲۰۱۹ کے متعصبانہ شہریت ترمیمی آرڈیننس پر انحصار بھارت کے عالمی تشخص سے میل نہیں کھاتا ہے۔ لہذا ایک ایسا فریم ورک جو بھارتی آئینی قوانین اور بین الاقوامی مروجہ قوانین دونوں کے طابع ہو، ناگزیر ہے۔

مزید براں، بھارت ماضی میں پناہ گزینوں کی بڑی مقدار میں آمد کے اپنے تجربے سے سبق سیکھ سکتا ہے۔ بین الاقوامی انسانی فریم ورک کے تحت میزبان ممالک پناہ گزینوں کی وطن واپسی، انخلاط  یا تیسرے ملک میں آباد کاری کی شکل میں ردعمل دے سکتے ہیں جس سے پالیسی سازی کے عمل میں کسی نئے پہلو  کے لیے جگہ باقی نہیں بچتی۔ تبت کے معاملے میں  ہیماچل پردیش کے پہاڑی سلسلے میں تبتی عوام کی آبادیاں جو کم و بیش دیگر آبادیوں سے کٹی ہوئی ہیں، انہوں نے کاروباری سرگرمیوں میں ان کے غلبے اور مقامی سطح پر جارحیت کا امکان پیدا نہیں ہونے دیا۔  نیم خودمختار سنٹرل تبت ایڈمنسٹریشن جیسے اداروں کے ہمراہ بھارت کے تعاون نے سیاسی طور پر خود کو منظم رکھنے، ثقافت کے تحفظ اور آبائی وطن سے تعلق جڑے رہنے کے احساس کو باقی رہنے دیا۔ یہ اگرچہ ایک خاص طرح کے حالات و واقعات کی مثال ہے تاہم تبت میزبان ممالک، پناہ گزینوں کے اصل وطن میں موجود سول سوسائٹی کی تنظیموں اور بین الاقوامی تنظیموں کے درمیان تعاون کے لیے ایک نمونہ ہے تاکہ بین الاقوامی سہ فریقی فریم ورکس سے ہٹ کے کسی تخلیقی حل کی جانب بڑھا جا سکے۔

چونکہ موجودہ بی جے پی حکومت مبہم قانونی فریم ورک سے فائدہ اٹھانے کی حیثیت میں ہے، یہی وجہ ہے کہ بھارت میں پناہ گزینوں کے لیے پائیدار پالیسی کی تشکیل کے لیے آمادگی دکھائی نہیں دیتی ہے اور وہ جغرافیائی سیاسی ترجیحات اور مذہبی تعصبات کی بنا پر کردار ادا کرنے کو فوقیت دے رہا ہے۔ تاہم بین الاقوامی مروجہ قوانین اور بھارتی آئینی قوانین پر عمل درآمد اور اس کے ساتھ ساتھ غیرقانونی طور پر رہائش پذیر پناہ گزینوں کی موجودگی سے پیدا ہونے والے سلامتی مسائل سے بچنے کے لیے بھارت کو پناہ گزینوں کے لیے یکساں قانون بنانے کی ضرورت ہے۔ عدالتی نگرانی، سول و بین الاقوامی تنظیموں کے تعاون اور بین الاقوامی اسٹیٹس کی جانب توجہ کے ذریعے ایک معیاری پناہ گزین  پالیسی نہ صرف پناہ کے خواہش مند افراد کو قانونی راستہ فراہم کرے گی بلکہ  نیشنل رجسٹری برائے شہری جیسے غیرمنصفانہ انتظامی اقدامات کے قومی سطح پر نفاذ سے بھی محفوظ رکھے گی۔ اس طرح نہ صرف بھارت میں موجود غیر شہریت یافتہ طبقہ کو بلکہ بھارت کے قانونی شہریوں جیسا کہ مسلمان، دلت اور کاغذات سے محروم غریب ترین طبقہ جسے اس قانونی ابہام کے سبب روزانہ مشکلات سے گزرنا پڑتا ہے، ان کو فائدہ پہنچے گا۔ 

***

Click here to read this article in English.

Image 1: Amarjeet Kumar Singh/Anadolu Agency via Getty Images

Image 2: Creative Touch Imaging Ltd./NurPhoto via Getty Images

Share this:  

Related articles

<strong>پاکستان میں پناہ گزینوں کے نظم و نسق کو درپیش چیلنجز</strong> Hindi & Urdu

پاکستان میں پناہ گزینوں کے نظم و نسق کو درپیش چیلنجز

اگست ۲۰۲۱ میں افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کے…

<strong>پاک امریکہ تعلقات کے ۷۵ برس: تسلسل کو برقرار رکھنا  </strong> Hindi & Urdu

پاک امریکہ تعلقات کے ۷۵ برس: تسلسل کو برقرار رکھنا  

اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے نے ۲۹ ستمبر کو…

<strong>پاکستان کی نئی حکمت عملی: ٹیکنالوجی کی بنیاد پر تعاون</strong> Hindi & Urdu

پاکستان کی نئی حکمت عملی: ٹیکنالوجی کی بنیاد پر تعاون

جنوری ۲۰۲۱ میں پاکستان نے اپنی پہلی قومی سلامتی پالیسی…