13744392825_a9df800c86_o-1095×616

پاکستان نے ۲۰۲۱ میں متعدد آزمائشوں کا سامنا کیا، جن میں داخلی سطح پر بدستور جاری کووڈ ۱۹ کی وبا، افغان پناہ گزینوں کا امڈ آنا اور نسلی، مذہبی اور صنفی اقلیتوں کے حقوق کی پامالی شامل ہیں۔ دیگر کئی ریاستوں کی طرح پاکستان بھی خارجہ پالیسی کی تیاری میں روایتی لائحہ عمل پر بھروسہ کرتا ہے جو ان مسائل سے نمٹنے کے لیے عسکری صلاحیتوں، جارحانہ طاقت کی حرکیات اور عموماً برتری کے  مردانہ نظریات کی جانب جھکاؤ رکھتے ہیں۔ اس نے عدم تحفظ اور سنسرشپ کے ماحول کو جنم دیا ہے۔ تحریک نسواں کی خارجہ پالیسی (ایف ایف پی) ایک لائحہ عمل  کے طور پر سیاسی لغت میں ابھی نووارد ہے تاہم یہ تحریک نسواں کے تصور کو بنیاد بناتے ہوئے ایک ایسی متبادل سوچ فراہم کرتا ہے جس کا مقصد برابری، انصاف، یگانگت اور امن فراہم کرنا ہے۔ میکسیکو، کینیڈا، لگزمبرگ، اسپین، فرانس اور سوئیڈن ان ممالک میں شامل ہیں جنہوں نے ایف ایف پی لائحہ عمل کے سرکاری سطح پر اعلان کے بعد زیادہ عالمگیریت کا حامل ہونے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ یہ ایف ایف پی لائحہ عمل سیاسی حلقوں میں خواتین کی بہتر نمائندگی کا حامی ہونے کے علاوہ انسانی وقار، ،منصفانہ ترقی، ماحولیاتی اقدامات، عالمگیریت کی حامل گورننس اور امن و سلامتی پر خصوصی توجہ دیتا ہے۔

ایف ایف پی میکنزم اپنانے سے محروم و کمزور طبقے کو تحفظ کی فراہمی، اسٹیٹس کو کو چیلنج کرنے اور ایک بدلتے ہوئے سیاسی منظرنامے میں شہری حقوق کو ترجیح دینے کی جانب پاکستان کی توجہ مرکوز ہوگی۔ سلامتی کو لاحق غیر روایتی خطرات نیز مروجہ طریقوں کی محدود و فرسودہ حیثیت کی روشنی میں پاکستان کو ایف ایف پی لائحہ عمل کی بنیاد پرتعصب سے پاک، ہمہ گیریت کی حامل خارجہ پالیسی سازی کی جانب رخ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ گو کہ یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں نمایاں تبدیلی کا مظہر ہوگا تاہم اگر پاکستان کی تاریخ کا دوبارہ جائزہ لیا جائے تو یہ ایسا قدم نہیں کہ جس کی ماضی میں کوئی نظیر موجود نہ ہو۔

تاریخی نظیر اور قومی بیانیہ

جب بات خواتین کے حقوق اور سیاسی نمائندگی کی ہو تو پاکستان خارجہ پالیسی قیادت کے ضمن میں متعدد ”پہلی بار“ کے اعزازات رکھتا ہے: ۱۹۸۸ میں وزیراعظم بینظیر بھٹو پہلی خاتون وزیراعظم بنیں جو مسلم ممالک میں بھی پہلی خاتون رہنما تھیں،  ۲۰۱۵ میں ملیحہ لودھی اقوام متحدہ میں پہلی مستقل خاتون مندوب بنیں، ۲۰۱۱ میں حنا ربانی کھر پہلی خاتون وزیرخارجہ بنیں، ۲۰۱۸ میں شیریں مزاری پہلی خاتون وزیر برائے انسانی حقوق بنیں، ثانیہ نشتر ۲۰۱۸ میں پہلی وزیر برائے سماجی تحفظ و تخفیف غربت بنیں، اور نگار جوہر ۲۰۲۰ میں پہلی خاتون لیفٹیننٹ جنرل بنیں۔ ان مثالوں کے باوجود بھی پاکستان میں نسوانی سیاست کے منظرنامہ کو باقاعدہ وہ شکل نہیں دی جاسکی ہے کہ جو تبدیلی کا محرک اور مستقل بدلاؤ لا سکے۔ پاکستان، ماضی کی سیاست میں تحریک نسواں کی شمولیت کی صورت میں موجود میراث کو سرکاری سطح پر ترجیح بناتے ہوئے  نمایاں ”پہلی“ خواتین کے سلسلے کو جاری رکھ سکتا ہے۔ 

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں خواتین کی خدمات اور غالباً خواتین کے تعاون کی تمام اشکال کو عملی میدان سے دور رکھا گیا ہے۔ خواہ انتخابی سیاست ہو یا پھر زمینی سطح پر عملی سرگرمیاں، تحریک نسواں سے جڑی قابل تقلید خواتین  قومی بیانیے سے ہمیشہ مٹائی گئی ہیں۔  سول سوسائٹی میں دہائیوں تک پاکستانی خواتین جیسا کہ مورخ روبینہ سہگل،  انسانی حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والی سبین محمود، اور ڈیجیٹل حقوق کیلئے جدوجہد کرنے والی وکیل نگہت داد کو منظم طور پر دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی ہے۔ سیاسی فراموشی کے اس رویے کے سبب خواتین کی شمولیت کو غیر مانوس قرار دیتے ہوئے مسترد کیا جاتا ہے اور تحریک نسواں کی خارجہ پالیسی سازی بھی اسی رویئے کی زد میں ہے۔ حالانکہ پاکستان کے لیے تحریک نسواں کی خارجہ پالیسی سازی اجنبی نہیں اور بیگم رعنا لیاقت علی خان کے بطورتجربہ کار سفیر قائم کی گئی مثال موجود ہے۔ پاکستان کی اصل  خاتون اول کے طور پر معروف بیگم رعنا لیاقت کا ایک کامیاب سفیر کی حیثیت سے  کردار جو عام طور پر ثقافتی قوت رکھنے کے باوجودہ صنفی روایات کے جال میں مقید سمجھا جاتا ہے، نہ صرف اکثریت کی نگاہ سے اوجھل ہے بلکہ  اسے تحریک نسواں کی خارجہ پالیسی سازی کے فوائد کا جائزہ لینے کیلئے موزوں مثال کے طورپر استعمال بھی نہیں کیا جاتا ہے۔ 

پاکستان میں تحریک نسواں کی علمبردار

پاکستان کی ثقافتی سفارت کاری میں بیگم رعنا لیاقت علی کا ناقابل تسخیر کردار، بطور خاتون اول کردار سنبھالنے سے بہت پہلے تقسیم کے نتیجے میں ہجرت کرنے والے پناہ گزینوں کے لیے بحالی کیمپوں کے قیام اور ۱۹۴۰ اور ۱۹۵۰ کی دہائی میں تحریک نسواں کی سیاست کی داعی ہونے کے سبب شروع  ہوچکا تھا۔ بیگم رعنا نے تحریک پاکستان میں خواتین کے متحرک کردار کی وکالت کی اوراس کیلیے حکمت عملی کی تیاری میں براہ راست حصہ لیتے ہوئے خواتین کو مظاہرے  اور آزاد پاکستان کے لیے دباؤ ڈالنے کیلئے  مجتمع کیا۔ ۱۹۴۸ میں انہوں نے ویمنز والنٹیری سروس قائم کی جس نے سماجی مسائل میں سے کچھ مثلاً خواتین کو ابتدائی طبی امداد، کھانے کی تقسیم ، صحت کے مسائل سے نمٹنے میں کردار ادا کیا۔  بعد ازاں یہ آل پاکستان ویمنز ایسوسی ایشن (اپوا) میں ڈھل گئی جو کہ ملک کی پہلی خودمختار رضاکار خواتین تنظیم تھی جس کے ممبران میں کئی تحریک نسواں کی داعی خواتین تھیں۔ اس نے ہمہ گیر قانون سازی بشمول وراثت و شادی کے قوانین کے لیے وکالت کی اور خواتین کے لیے اسکول، کالج، صحت کے مراکز جیسے فلاحی منصوبے شروع کیے۔ انہوں نے بعد ازاں  پاکستان ویمن نیشنل گارڈ اور پاکستان ویمنز نیول ریزرو قائم کیے جس کے بعد انہیں پہلی خاتون برگیڈیئر مقرر کیا گیا اور  تمام سیاسی شعبوں میں خواتین کی شمولیت کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک مثال قائم ہوئی۔

بیگم رعنا لیاقت کی ابتدائی خدمات ان کی سفارتی کوششوں کیلئے پیش خیمہ ثابت ہوئیں اور جس نے پاکستانی خواتین کیلئے خارجہ پالیسی کے شعبے میں قدم جمانے کیلئے راہ ہموار کی۔ اپنے شوہر وزیراعظم لیاقت علی خان کے ہمراہ، اس جوڑے نے مئی ۱۹۵۰ میں امریکی صدر کی دعوت پر امریکہ کا پہلا غیرملکی دورہ کیا۔ انہوں نے ٹرومین، ریاستی گورنر، کانگریسی اراکین اور بااثر شخصیات جیسا کہ والٹ ڈزنی سے ملاقات کی جو ان کے غرارے، ان کے اعتماد اور ان کی فصاحت سے بے حد مسحور ہوئے۔ سیکولر مغربی دنیا جس کی نگاہوں میں پاکستان محض ایک پسماندہ نوآبادیات تھا اس کے سامنے  ان کی موجودگی و متحرک کردار یادگار ثابت ہوا، اس کی خاص کر وجہ ان کا ”اسلام کے برابری، بھائی چارے، اور سماجی و معاشی انصاف کے بنیادی اصولوں“ پر زور دینا تھا۔ اس نے  مستقبل کے ثقافتی سفیروں کے لیے ایک حکمت عملی فراہم کی اور خاتون اول و اہل خانہ کے کردار کو سیاسی اہمیت سے نوازا جو بعد ازاں شریف اور بھٹو زرداری کے دور میں بھی جاری رہا۔

بیگم رعنا لیاقت کے کامیاب سفارتی کردار نے آنے والی دہائیوں میں پاکستان کے خارجہ تعلقات کیلئے راہیں ہموار کیں۔ ۱۹۵۲ میں وہ اقوام متحدہ کی دوسری مسلم خاتون مندوب بنیں۔ ۱۹۵۴ سے ۱۹۶۱کے دوران نیدرلینڈ میں پاکستان کی سفیر کے طور پر خدمات سرانجام دیتے ہوئے بیگم رعنا ملکہ جولیانہ کی دوست بن گئیں۔ انہوں نے نہایت عقلمندی کے ساتھ  ملک میں پاکستان کے سفیر کی رہائش گاہ کیلئے ایک خوبصورت ورثے کی حیثیت رکھنے والی عمارت حاصل کی اور دوستی کے ایک سادہ سے عمل کے ذریعے آنے والے برسوں میں یورپ میں پاکستان کی موجودگی کیلئے راہ ہموار کردی۔ ”ڈائنیمو ان سلک“ (ریشم میں ملبوس طاقتور خاتون) ۱۹۶۵ سے ۱۹۶۶ تک اٹلی میں پاکستان کی سفیر رہیں جہاں انہوں نے وادی سوات میں اطالای ادارے  اٹالین انسٹی ٹیوٹ آف مڈل اینڈ فار ایسٹ کے کھدائی کے منصوبے میں معاونت کے ذریعے بین الاقوامی اتحاد قائم کیے اور یوں علمی تحقیق اور مقامی سطح پر علم کے فروغ کیلئے کام کیا۔ جس وقت وہ اپنے کیریئر کے عروج پر تھیں، اس وقت ایوب خان نے جو اس وقت کے صدر پاکستان تھے، خواہش ظاہر کی کہ انکی حریف فاطمہ جناح کیخلاف مہم کے ذریعے ایوب خان کی سیاسی مہم کو فائدہ پہنچایا جائے۔ بیگم رعنا جو اگرچہ موخرالذکر کی دوست نہ تھیں تاہم انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کردیا جس پر بطور سفیر ان کی ذمہ داریاں اچانک ختم کر دی گئیں۔ تحریک نسواں میں موجود یکجہتی اور سیاسی اخلاقیات کے اصول کو سمجھنے کے لیے یہ مثال بے حد اہم ہے۔ بھٹو حکومت کی آمد کے بعد وہ پاکستان واپسی پر سندھ کی پہلی خاتون گورنر بنیں اور ۱۹۹۰ میں اپنی وفات تک حقوق نسواں کیلئے متحرک رہیں۔

آج کے پاکستان میں تحریک نسواں کی خارجہ پالیسی

بطور سفیر اور تحریک نسواں کی داعی کے طور پر بیگم رعنا کے مثالی کردار کو دیکھتے ہوئے کوئی بھی یہ سوچ سکتا ہے کہ یہ برسوں پہلے پاکستان کے رسمی لائحہ عمل میں تحریک نسواں کی سیاست کے اصول متعارف کروانے کا سبب بن سکتے تھے۔ تاہم  ملک کی مسلسل تبدیل ہوتی حکومتیں، فوج کے بار بار تختہ الٹنے، دہشتگردی کے خلاف عالمی جنگ کے آغاز اور  صدر پرویز مشرف کے آمرانہ اقتدار کی ایک دہائی ترقی پسند سیاسی اقدامات کی راہ میں رکاوٹ رہے ہیں۔ ناخوشگوار معاشی عدم مساوات بھی ایف ایف پی کے نفاذ کو آزمائشوں سے دوچار کرتی  ہے،اورچاروناچار خواتین کی نمائندگی کیلئے حکمران اشرافیہ سے تعلق رکھنے والی خواتین کیلیے جگہ بن جاتی ہے جن میں سے اکثریت یا تو موروثی تعلق رکھتی ہے یا پھر انہیں پارلیمانی کوٹے پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ طاقت کی اس طبقاتی تقسیم کی وجہ سے میدان میں جدوجہد کرنے والے جیسا کہ سندھیانی تحریک، اوکاڑہ فارمز موومنٹ، لیڈی ہیلتھ ورکرز، اور اپوا کی محنت کے ثمرات میں سے ایک ویمن ایکشن فورم جیسے ادارے تاریخی طور پر نظرانداز ہوجاتے ہیں۔

موجودہ زیادہ مستحکم جمہوری حکومت کے آغاز، ڈیجیٹل فعالیت، زندگی کے ہرشعبے سے تعلق رکھنے والی خواتین کی بڑھتی ہوئی سیاسی سرگرمیاں اور سب سے بڑھ کے صائمہ سلیم جیسی پرخلوص سفیر جو کہ پاکستان کی پہلی نابینا سول خارجہ سفیر ہیں، اس سب کی صورت میں پاکستان کے پاس موقع ہے کہ وہ ایف ایف پی لائحہ عمل کی تیاری کو دوبارہ ترجیح دے۔ بیگم رعنا کی میراث بین الملکی نیٹ ورکس میں خواتین کی شرکت کی حوصلہ افزائی، سیاسی اداروں میں خواتین کیلیے ترغیب دلانے، بین الاقوامی مشنز کے لیے خواتین بیوروکریٹس کو زیادہ فروغ دینے اور تحقیق و ادارہ جاتی تبدیلیوں کے ذریعے جدید سفارت کاری کو نئی شکل دینے کے ضمن میں ریاست اور سول کرداروں کیلیے مشعل راہ ہے۔ یہ اس صورت میں مزید کامیاب ہوسکتا ہے کہ اگر فی الوقت سیاسی طور پر متحرک اور فلاحی سرگرمیوں میں حصہ لینے والی خواتین کو بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کی نمائندگی کا موقع فراہم کیا جائے جس سے اس کے بین الاقوامی تشخص کو ازسرنو ترتیب دیاجاسکے۔

اگرچہ بیگم رعنا لیاقت کی کامیابیوں کو گھٹاتے ہوئے فرد واحد کے کارہائے نمایاں قرار دینا آسان ہے جیسا کہ پاکستان میں اپنے اپنے شعبوں کی اولین بہت سی خواتین کے ساتھ ہوتا آیا ہے، تاہم بیگم رعنا کی صورت میں موجود نظیر آج کے پالیسی سازوں کو مقامی سیاسی روایت میں سلسلہ وار تبدیلیاں متعارف کروانے کا موقع دیتی ہے۔ بیگم رعنا کی میراث ان افراد کے لیے کسی چیلنج سے کم نہیں جو ایف ایف پی لائحہ عمل کےموثر ہونے کو مسترد کرتے ہیں خاص کر پاکستان میں کہ جہاں خواتین کے حقوق کو ہمیشہ غیر اہم گردانا جاتا ہے اور سیاسی استحکام کو یقینی بنانے کیلئے کبھی بھی ترجیح نہیں رہے۔  پاکستان کے تشخص کو بہتر بنانے اور داخلی و خارجہ شعبوں میں ترقی پسند پالیسیوں کے نفاذ میں خواتین کے اولین کردار اور اسے جاری رکھنے کیلئے بیگم رعنا کی کامیابیاں عہدنامے کی حیثیت رکھتی ہیں۔ بیگم رعنا کی زندگی محض سیاسی نمائندگی کی ایک مثال نہیں ہے اور اسے ان کو مئیسر آسائشوں یا اس دور کے تاریخی پس منظر کو متنازعہ بناتے ہوئے نہیں پیش کیا جانا چاہیے۔  ان کی میراث کو ایک بیش قیمت نظیر اور تحریک نسواں کی اخلاقیات کو ترجیح بناتے ہوئے سیاست میں کی گئی سخت محنت اور اس میں کامیابی کی ایک علمی مثال کے طور پر فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے پاس عسکریت زدہ سلامتی اور سلسلہ وار جبر کا نشانہ بننے والوں کے لیے ادارہ جاتی سطح پر تبدیلیوں کے ذریعے اقوام جنوب میں ایک بار پھرقابل تقلید مثال پیش کرنے کا موقع موجود ہے لیکن کیا پاکستان اس موقع سے فائدہ اٹھائے گا یا (تحریک نسواں کی) اپنی تاریخ کا اعتراف کیے بغیر اس سے منہ موڑ لے گا؟

Editor’s Note: Since Sweden announced a Feminist Foreign Policy in 2014, several other nations have also begun this journey, however the conversation and frameworks are largely rooted in western countries. In this series, run jointly with the Kubernein Initiative, contributors from across the subcontinent discuss what it means to have a “feminist foreign policy,” and how this approach could merge efforts in foreign affairs, regional policy and geopolitics, development and women’s empowerment in South Asia. The series asks to what extent countries in South Asia have incorporated a Feminist Foreign Policy approach, and the ways in which a gender-conscious approach may support security, democracy, and diplomacy on the subcontinent.

***

Click here to read this article in English.

Image 1: Inclusive Security via Flickr 

Image 2: Dutch National Archives via Wikimedia Commons

Share this:  

Related articles

طالبان کو تسلیم کرنے کی سیاست Hindi & Urdu

طالبان کو تسلیم کرنے کی سیاست

اقتدار پر قبضے کے تقریباً تین ماہ اور عبوری حکومت…

خارجہ پالیسی میں غائب” صنف” Hindi & Urdu

خارجہ پالیسی میں غائب” صنف”

یہ بات تقریباً عالمی طور پر تسلیم شدہ ہے کہ…

جنوبی ایشیا کا ماحولیاتی بحران، صنفی متوازن پالیسی کی جانب اشارہ کناں Hindi & Urdu

جنوبی ایشیا کا ماحولیاتی بحران، صنفی متوازن پالیسی کی جانب اشارہ کناں

جنوبی ایشیا میں بڑے پیمانے پر دستیاب انسانی وسائل اور…