02A_1999-05-20-10-27-1095×616-1

جون ۲۰۲۳ میں سمندری طوفان بیپرجوئے نے ہندوستان اور پاکستان کے ساحلی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا ، جس کے باعث ۸۰ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہواؤں کے ساتھ شدید سیلاب آیا ۔خوش قسمتی سے، ہندوستان اور پاکستان دونوں نے  بچاؤ، ہنگامی امداد اور  ناتواں  (ولنیریبل) آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لئے اپنے قدرتی آفات سے نمٹنے کے نظام کو بروقت تیار کر لیا تھا۔ بالآخر ، تباہ کُن اثرات میں تخفیف کی یہ کوششیں سمندری طوفان (سائکلون)  کی تباہی کو محدود کرنے میں مؤثر ثابت ہوئیں۔ تاہم  یہ  کوششیں اسلام آباد اور نئی دہلی کے درمیان وسیع تر تعاون کی ضرورت کو بھی ظاہر کرتی ہیں کیونکہ موسمیاتی  تبدیلیوں کے تباہ کُن واقعات کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔

قدرتی آفات سے ممکنہ تباہی کو محدود کرنے کی کوششیں (مٹیگیشن) اور ہنگامی امداد، آب و ہوا سے متعلقہ بڑی تباہیوں  کی راہ میں رُکاوٹ ڈالنے والے محض چند عناصر ہیں۔ اس مسئلے پر ہندوستان اور پاکستان اپنی کوششوں میں روایتی مسائل کی رخنہ گری کے بغیر، تعاون کے لئے مشترکہ بنیاد تلاش کرسکتے ہیں۔ جس طرح دونوں ممالک مستقل انڈس کمیشن جیسے دو طرفہ قائم شُدہ  فورمز کے ذریعے کچھ معاملات پر تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں، اسی طرح موسمیاتی تبدیلی اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے لیے بھی ایسے فورمز کا تصور کیا جا سکتا ہے۔

سمندری طوفان بیپرجوئے کے بارے میں جُدا جُدا ردعمل، ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بڑے  پیمانے پر عدم اعتماد کا نتیجہ تھا۔ اگرچہ موسمیاتی مسائل پر تعاون اور ہم آہنگی دونوں ممالک کے لئے فائدہ مند ہے، لیکن ہندوستان اور پاکستان اپنی دشمنی کو فوقیّت دیئے جا رہے ہیں۔سمندری طوفان کے بعد قدرتی آفات سے نمٹنے کا عمل دونوں فریقین کے درمیان تعاون کا ایک اکارت گیا موقع تھا۔ ضروری ہے کہ مستقبل میں ہندوستان اور پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے متعلقہ ماحولیاتی آفات کے اثرات کو کم کرنے کے لئے مل جُل کر کام کریں۔ 

اگر دونوں ہمسایہ ممالک موسمیاتی تبدیلی کے خطرات سے مل کر لڑنے کا انتخاب کرتے ہیں، تو ان کی یہ کوششیں ان کے  زُود رنجی پر مبنی تعلقات کو کچھ آساں کرنے کے لئے اعتماد سازی کے اقدام کے طور پر کام  آ سکتی ہیں۔  دونوں ریاستیں موسمیاتی  تبدیلی کو ایک ایسی انسانیت پسندی  کا معاملہ،  جو عام شہریوں کو متاثر کرتا ہے، قرار دے کر  فائدہ اٹھا سکتی ہیں،  بجائے اس کے کہ وہ اسے روایتی حقیقی سیاسی نظر  (ریاآل پولیٹیک) سے دیکھیں۔

ان کے چند  باہمی مسائل میں  ڈنٹھل جلانا، صنعت سے متعلقہ مشکلات، کُوڑا کرکٹ اور انتظامِ نکاسیٔ گند (سیوریج مینجمنٹ)، بارش اور خشک سالی سے متعلقہ مسائل کا انتظام اور ساتھ ہی قدرتی آفات کے اس سے بھی زیادہ سنگین  مسائل شامل ہیں۔

باہمی اشتراک کا ماضی

ماضی میں ہندوستان اور پاکستان نے موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات کے سبب تباہی کو محدود (ڈیزاسٹر مٹیگیشن)کرنے کے لیے تعاون کیا ہے۔مثلاََ  ۲۰۰۲ میں گجرات میں زلزلے کے بعد پاکستان نے ہندوستان  کو امداد فراہم کی۔ ۲۰۰۵ میں کشمیر میں زلزلے کے بعد دونوں ممالک کی جانب سے باہمی تعاون اور باہمی امداد کے سلسلے میں  کوششیں کی گئیں۔ اسی طرح، دونوں ممالک نے ۲۰۱۰ میں، جب پاکستان کے پنجاب اور سندھ کے صوبوں کو سیلاب کی طغیانی کاسامنا  تھا، سیلاب کے اثرات کو  مشترکہ طور پر کم کرنے کے لئے مل کر کام کیا۔ ۲۰۱۴ میں بھی ہندوستان نے سیلاب کے دوران پاکستان کو مدد کی پیشکش کی۔

قدرتی آفات کی تباہی کے بعد ایک دوسرے کی مدد کرنے کے علاوہ، دونوں ریاستیں موسمیات سے متعلقہ ایک ہی  طرح کےمسائل سے دُوچار ہیں۔ ہندوستان اور پاکستان، دونوں ممالک میں بڑی مقدار میں ڈنٹھل جلائے جاتے ہیں۔ ڈنٹھل جلانے کے اس  دستور  کے سامنے پاکستان وہ سزائیں عائدکرنے میں ناکام رہا ہے جو اس نے قانونی طور پر اس عمل کے خلاف جاری کر رکھی ہیں۔اسی طرح ہندوستان بھی سماجی و سیاسی رکاوٹوں کے باعث اپنی پالیسیوں پر عمل درآمد کروانے میں ناکام رہا ہے۔

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے فریم ورک کے ذریعے پاکستان کے پاس قدرتی آفات سے کامیابی سے  نمٹنے کی کچھ کہانیاں ہیں، لیکن آفات کی تباہی کے  بڑے حجم کے سامنے  ریاستی کوششیں ماند پڑ جاتی ہیں۔ دوسری جانب ہندوستان اب قومی سطح پر انڈین نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس فورس (این ڈی آر ایف) اور بین الاقوامی سطح پر ہیومینیٹیرین اسسٹنس اینڈ ڈیزاسٹر ریلیف (ایچ اے ڈی آر) جیسی مقامی تنظیموں پر انحصار کرتا ہے۔یہ تنظیمیں بحر ہند کے خطے میں خاص طور پر قابل قدر رہی ہیں کیونکہ ہندوستانی بحریہ موزمبیق اور میانمار جیسے جغرافیائی طور پر دور دراز ممالک کے لئے سیلاب اور سمندری طوفان جیسی قدرتی آفات سے نمٹنے کے لئے ‘نیٹ ریسپانڈر’ کے طور پر ابھر رہی ہے۔مضبوط داخلی اداروں کی وجہ سے نئی دہلی موسمیاتی حادثات کے بعد کے حالات سے نمٹنے کے لیے پاکستان کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے کم دباؤ کا شکار ہے۔

 

اگرچہ دونوں ممالک نے انفرادی طور پر کامیابی حاصل کی ہے، لیکن غیر روایتی سلامتی کے امور جیسے موسمیاتی تبدیلی اور آفات کی تباہی کو محدود کرنے پر تعاون کا کلچر  ماند پڑتا جا رہاہے۔ حالیہ برسوں میں دونوں حکومتوں کی جانب سے دوطرفہ یا کثیر الجہتی امور پر ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کرنے میں ہچکچاہٹ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ باہمی اتفاق رائے کے کسی بھی موقع کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔ ہندوستان کی پاکستان سے تزویراتی دوری کی پالیسی نے ماحولیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات کی تباہی  کو محدود کرنے جیسے غیر حساس معاملات پر بھی تعاون کے امکانات کو کم کر دیا ہے۔ ۲۰۱۸ میں متعارف کرائی گئی نئی دہلی کی حکمت عملی نے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی خلیج کو وسیع اور گہرا کر دیا ہے۔ مثلاََ، بھارت نے ۲۰۲۲ میں سیلاب سے پاکستان کے دوبارہ زیر آب آنے کے بعد پاکستان کو محدود امداد فراہم کی حالانکہ سیلاب کے نتیجے میں ۱۱۰۰ افراد ہلاک اور ۳۳ ملین افراد بے گھر ہوئے تھے۔ سیلاب کی وجہ سے ہونے والے شدید نقصان کے باوجود، ہندوستان نے محض زبانی تعزیت کا اظہار کیا، جو ایک بڑی قدرتی آفت کے بعد صحیح وقت پر امداد فراہم کرنے میں ہندوستان کی ہچکچاہٹ کی عکاسی کرتا ہے۔  اس صورتحال میں  پاکستان نے بھی محض زبانی تعزیت کا انتخاب کیا اور انسانیت کے ناطے ہمدردانہ ہاتھ بڑھانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھا۔

ماحولیاتی خطرات کے سامنےاجتماعی کارروائی کی ضرورت

جنوبی ایشیا ماحولیاتی لحاظ سے ایک ایسا حساس علاقہ ہے جسے قدرتی آفات اور موسمیاتی ہنگامی صورتحال کےخطرہ کا سامنا رہتا ہے۔اس علاقے نے طوفانی بارش (کلاؤڈ برسٹ)، جس میں قلیل وقت میں موسلادھار بارش ہوتی ہے، کے ساتھ ساتھ سیلابی ریلوں (فلیش فلڈز) اور ہُبُوطِ ارضی (لینڈ سلائیڈز)  میں  بھی اضافہ دیکھا۔ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث گلیشیئر پگھلتے جا رہے ہیں اور  گلیشیئر جھیلیں لبریز ہوتی جا رہی ہیں، جس کے باعث  گلیشیل لیک آؤٹ برسٹ فلڈنگ (جی ایل او ایف)  کا خدشہ ہے۔ پاکستان اور ہندوستان دونوں جی ایل او ایف سے متعلقہ  تباہ کاریوں کے مرکز میں ہیں اور اس سے ان کے موجودہ موسمیات سے متعلقہ مسائل میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ مزید برآں، ۲۰۱۳ کے شمالی ہندوستان کے سیلاب اور ۲۰۲۲ کے پاکستان کے سیلاب، موسمیاتی  تباہ کاریوں کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں۔ اوّل الذکر ہندوستان کے سیلاب میں ۵۰۰۰ سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے، اور بعدالذکر پاکستان کے سیلاب میں ۹ ملین بچوں سمیت ۲۰.۶ ملین  افراد متاثر ہوئے۔ کشیدہ معیشتوں، زیادہ آبادی اور ناقص بنیادی ڈھانچے کی بدولت  موسمیاتی حادثات جنوبی ایشیا میں خطرناک تباہی پھیلانے کا خدشہ بنتے ہیں۔ 

اگرچہ ہندوستان اور پاکستان عالمی آبادی کے  ایک بڑے حصّے ( ۲۰  فیصد) کی نمائندگی کرتے ہیں، لیکن خطے کے اندر موسمیاتی  تبدیلی  سے نمٹنے کے لئے اجتماعی ردعمل تلاش کرنے کو محدود اہمیت دی جاتی ہے۔اگرچہ ہندوستان اور پاکستان ۲۰۱۵ کے پیرس معاہدہ برائے موسمیاتی تبدیلی کے انفرادی دستخط کنندہ ہیں، لیکن موسمیاتی  تبدیلی پر اجتماعی کارروائی محدود ہے کیونکہ دونوں ریاستیں مربوط موسمیاتی  کارروائی کے سوالوں پر تردّد کا شکار ہیں۔  دونوں ریاستوں کے پاس  موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلقہ مسائل  کے سلسلے میں کافی مشترکہ بنیاد موجود ہے اور دونوں ریاستیں اپنے کچھ روایتی مسائل کو شامل کیے بغیر  جن کے نتیجے میں عموماََ تعطل اور تعاون کرنے میں ناکامی ہوتی ہے، مشترکہ  نقطہ نظر کے ساتھ ان کمزوریوں سے نمٹ سکتی ہیں۔ 

آگے بڑھنے کی راہ

پاکستان اور ہندوستان درپیش موسمیاتی  تبدیلیوں سے متعلقہ چیلنجز سے بخوبی آگاہ ہیں اور انہوں نے بین الاقوامی فورمز پر اپنے خدشات کا اظہار  بھی کیا ہے۔ دونوں ریاستوں نے اس طرح کے فورمز پر ان مسائل سے نمٹنے کے لئے ملتے جُلتے  نقطہ نظر کا اشارہ دیا ہے لیکن ابھی تک اس مسئلے کو دو طرفہ طور پر حل نہیں کیا۔

ہندوستان اور پاکستان،  پہلے سے جاری دوطرفہ فریم ورکس،  جیسے سندھ طاس اور رن آف کچھ معاہدوں  پر عمل درآمد کر کے موسمیاتی  آفات اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے تنازعات کو کم کر کے، موسمیاتی تبدیلیوں پر نمو پذیر گفت و شنید جاری رکھ سکتے ہیں۔ ماحولیاتی معلومات کے تبادلے کا نظامِ کار (انوائرمنٹل ڈیٹا شیئرنگ میکانزم) قائم کرنے سے مختلف مسائل پر صورتحال سے فوری (ریئل ٹائم میں)   آگاہی حاصل ہوسکتی ہے۔ یہ مسائل فوری نوعیت کے بھی ہو سکتے ہیں، جیسا کہ  بارش کی قبل از وقت  پیش گوئی  (وارننگ)، ڈنٹھل جلانے،  گرمی کی لہر (ہیٹ ویو) اور خشک سالی کے دورانیے کی پیش گوئی۔ ساتھ ہی جی ایل او ایف کے اعداد و شمار کے ذریعے  پیش گوئی، زلزلے کے نظام الاوقات، سمندری طوفانوں کے جدول اور موسمیاتی تبدیلیوں کے رجحانات جیسے طویل المدتی مسائل بھی شامل ہوسکتے ہیں۔سالانہ یا دو سال میں اس طرح کے اعداد و شمار   کا  تبادلہ  نہ صرف دونوں ریاستوں کو حقیقی صورتحال کی آگاہی دیتا ہے بلکہ ان کے انفرادی ڈیزاسٹر مینجمنٹ پروفائل میں بھی مدد کرتا ہے۔

ہندوستان اور پاکستان بین الاقوامی فورمز جیسے کانفرنس آف پارٹیز (سی او پی)، انٹر گورنمنٹل  پینل آن کلائمیٹ چینج (آئی پی سی سی) اور اقوام متحدہ کے تحت ذیلی تنظیموں میں بھی شامل ہوسکتے ہیں۔ دونوں ممالک کے پاس ایک اور  راستہ  یہ ہے کہ وہ  اپنے مسائل سے متعلقہ  تیسرے فریق، جیسے  عالمی بینک، یو ایس ایڈ اور دیگر فورمز، کے مذاکرات کاروں سے مدد حاصل کریں، جن کا دونوں ریاستوں کے انسانی مسائل میں براہ راست واسطہ ہے۔ باضابطہ معاہدہ  کاری کے آغاز سے قبل موسمیاتی ٹریک ٹو کا تصور بھی کیا جاسکتا ہے تاکہ ان مسائل پر ماہرین کے نقطہ نظر سے تقویت بہم ملے جو دونوں ریاستوں اور ان کی ماحولیاتی فالٹ لائنز پر قلیل مدتی اور طویل مدتی اثرات مرتب کرتے ہیں۔ سارک نے  بھی  ماحولیاتی مسائل پر نمایاں اثرات مرتب کیے ہیں۔ سارک ماحولیاتی ایکشن پلان کو سارک کنونشن آن کوآپریشن آن انوائرمنٹ ۲۰۱۰ کے ساتھ پڑھا جا سکتا ہے اور اسے بہتر  بنا کر حالیہ قدرتی  آفات کی روشنی میں موجودہ اور مستقبل کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے اور  ایک نظریاتی اتفاق رائے حاصل کیا جاسکتا ہے۔

سارک کی بحالی کا معاہدہ ہمیشہ ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ تاہم، یہ فورم اب بھی اس طرح کے مسائل کے لئے سب سے زیادہ مناسب دکھائی دیتا ہے، خصوصاََ جب موسمیاتی  آفات ناگزیر ہیں۔ موسمیاتی آفات کئی شکلوں اور شدتوں میں ظاہر ہوتی رہیں گی، اور وہ اجتماعی کارروائی کا مطالبہ جاری رکھیں گی کیونکہ کسی بھی ایک ریاست کے پاس  تنہا موسمیاتی  تبدیلیوں کے باعث تباہی کو روکنے کے لئے ضروری وسائل نہیں ہیں۔  جنوبی ایشیا کے لیے اربوں روپے کی بچت کا ذریعہ الگ تھلگ اقدامات کرنے میں نہیں بلکہ روایتی مسابقت سے بالاتر ہو کر باہمی اتفاق رائے کی فضا پیدا کرنے میں  ہے۔ 

***

Click here to read this article in English.

Image 1: Cyclone approaching Pakistan via Wikimedia Commons.

Image 2: The flags of India and Pakistan at the Wagah Border via Flickr.

 

Share this:  

Related articles

بھارت اور امریکہ کی دفاعی شراکت داری  کے لئے رکاوٹیں اور مواقع  Hindi & Urdu

بھارت اور امریکہ کی دفاعی شراکت داری  کے لئے رکاوٹیں اور مواقع 


سرد جنگ کے دوران جغرافیائی سیاسی نقطہ نظر میں اختلافات…

پلوامہ – بالاکوٹ پانچ برس بعد جائزہ Hindi & Urdu

پلوامہ – بالاکوٹ پانچ برس بعد جائزہ

لمحۂ موجود میں پاکستان، بھارت کے تزویراتی بیانیے سے تقریباً…

جوابی کار روائی: کیا پاکستان فوجی حملوں کے رد عمل پر غور کر رہا ہے؟ Hindi & Urdu

جوابی کار روائی: کیا پاکستان فوجی حملوں کے رد عمل پر غور کر رہا ہے؟

ایران اور پاکستان کے درمیان حالیہ جیسے کو تیسا حملے …