تیسری قوت کے ذریعےجوہری امن کو برقرار رکھنا: جنوبی ایشیا کےلئے اثرات

تزویراتی لٹریچر یہ بتاتا ہے کہ  کشیدگی کے اوقات میں  جوہری  دشمنوں کا مقصد  براہِ راست حملے کو ڈیٹر کرنا (روکنا) ہے۔ اسے دوطرفہ ڈیٹرنس ماڈل کا نام دیا گیا ہے  کیونکہ دونوں دشمن ایک دوسرے سے ڈیٹر ہوتے ہیں۔ اس کی ایک قسم “ایکسٹینڈڈ ڈیٹرنس” ہے  جس میں  ایک جوہری ملک  اپنے  اتحادی  ملک کو مشترکہ د شمن کے حملے سے بچاتا ہے۔ اس طرح کے ڈیٹرنس کو سرد جنگ میں کئی بار استعمال کیا گیا  جب دو بڑی طاقتیں امریکہ اور روس  بنیادی طور پر کشیدگی کا حصہ تھیں۔ سرد جنگ کے خاتمے پر امریکہ اکلوتی سپر پاور بن گیا  اور جس کے مفادات اب ساری دنیا میں بکھرے پڑے ہیں۔ جوہری ملکوں کی کشیدگی کے دوران اس نے دونوں اطراف کو ایک دوسرے پر حملوں سے باز رکھا ہے۔ امریکہ کی اس ثالثی کو امریکی محقق ٹموتھی کرافورڈ  نے “پیوٹل ڈیٹرنس”  کے آئینے میں رکھ کر دیکھا ہے۔ اسی عنصر کو سامنے رکھ کر  یو-ایس انسٹیٹیوٹ آف  پیس کے معید یوسف  نے اپنی نئی کتاب میں  ان تیسری طاقتوں کے  علاقائی جوہری ریاستوں کے بیچ امن ڈیل کرا دینے کے کردار کو آشکار کیا ہے۔ 

نظریاتی بصیرت اور کیس سٹڈیز:

یوسف اپنا نظریہ (تھیوری)  پیش کرتے ہیں جس میں تین  رکنی “بروکرڈ بارگیننگ” یا  دو دشمن جوہری ممالک کے بیچ  کشیدگی کا عمل جسے  تیسری پارٹی حل کرتی ہے۔ اس ماڈل میں  علاقائی جوہری طاقتوں کے عمل دو سطح پر رونما ہوتے ہیں۔ اولاً، دونوں طاقتوں کے ایکشن ایک دوسرے کےلئے ہوتے ہیں اور دوم، دونوں جوہری طاقتوں کے ایکشنز کا نشانہ تیسری ثالثی طاقت ہوتی ہے تاکہ وہ اس کے دشمن سے متعلق فیصلوں پر اثر انداز ہو سکیں اور اپنے پالیسی مفادات کو حاصل کر لیں۔ اس دوران تیسری طاقت دو جوہری طاقتوں کے بیچ ثالثی کر رہی ہوتی ہے اور کشیدگی کو امن کی سمت میں لے جا رہی ہوتی ہے۔ یوسف اس نظرئے کی   تفصیل اور مثال کے طور پر پاک بھارت  کارگل کشیدگی (۱۹۹۹)، ٹوئن پیک (۲۰۰۱-۲۰۰۲) اور ممبئی حملے (۲۰۰۸) کا حوالہ دیتے ہیں۔ پھر وہ اپنے بیان کئے گئے ماڈل یا نظرئے کی جنوبی ایشیا کے علاوہ دیگر خطوں میں افادیت پر بات کرتے ہیں۔ تیسری طاقت کا کردار ادا کرنے کےلئے یوسف  موجودہ یک جہتی (یعنی امریکہ) عالمی نظام پر توجہ رکھتے ہیں لیکن وہ  کہتے ہیں کہ پاک بھارت کشیدگی ختم کرانے میں دیگر طاقتوں کا بھی کردار تھا۔ اس لئے وہ کہتے ہیں کہ اگر امریکہ  کی جگہ مستقبل میں کوئی اور طاقت  آتی ہے تو وہ بھی عالمی معاملات میں ایسے ہی کردار ادا کرے گی جیسا امریکہ کرتا چلا آ رہا ہے۔ 

یوسف اس ماڈل کے تحت روائتی سمجھ بوجھ  کے اس دعویٰ پر سوال اٹھاتے ہیں کہ  تیسری طاقت کا معاملے میں پر اثر ہونے کےلئے ایک واضح  لائن اپنانا ضروری ہے۔ اس کے برعکس، معید دعویٰ کرتے ہیں کہ جوہری عنصر کی وجہ سے  تیسری طاقت نتائج  پر واضح لائن لئے بغیر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے کیونکہ وہ کشیدگی کو روکنے پر زیادہ  زور دے رہی ہوتی  ہے۔ مزید برآں اس ساری صورتحال میں تینوں اطراف ایک دوسر ے کے آپشنز اور رویوں پر بھی اثر انداز ہونے کی کوشش میں ہوتی ہیں۔

تیسری قوت  کی ‘بروکرڈ بارگیننگ’  علاقائی دشمنوں کے بیچ اشاروں (سگنلنگ) کو مینیج کرنے کے لئے دونوں جوہری طاقتوں کے ساتھ متوازی طور پر کام کرتی ہے۔ دونوں دشمن ممالک تیسری قوت کی طاقت سے بخوبی واقف ہوتے ہیں جو بزور طاقت کشیدگی کا رخ ان کے خلاف بھی کرسکتی ہے۔ یہ تین رخی رابطہ  داراصل علاقائی جوہری طاقتوں کی شہرت یافتہ تزویراتی آزادی کی کمزوریوں کو بھی آشکار کرتا ہے ۔ حقیقت میں تیسری قوت کا کام بہت مشکل ہے  کیونکہ اسے دونوں علاقائی مدِ مقابل قوتوں کے  ردِ عمل کو بھی دیکھنا پڑتا ہے  تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ایک پارٹی کو دیا ہوا اشارہ دوسری پارٹی کو دیئے ہوئے اشارے کی نفی کا باعث نہ بن جائے۔ ایک قابلِ اعتبار بروکر ہونے کےلئے (تیسری قوت ) کو ابہام کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور بعض دفعہ معلومات کو ایک یا  دونوں مدِ مقابل طاقتوں سے مخفی رکھنا پڑتا ہے۔ 

اوپر تحریر شدہ تین قسم کے  کرائسز کو دیکھتے ہوئے معید وسیع پیمانے کے حوالے (جیسا کے اونچے درجے کے سفارتی و تزویراتی تعلقات) اور باریک تفصیلات بھی فراہم کرتے ہیں۔ انکا تجزیہ باریک تفصیلات  پر زیادہ مرتکز  ہے کیونکہ فیصلہ ساز میسر معلومات کے مطابق ردِ عمل دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ معید کے تجزیہ میں وسیع سفارتی و تزویراتی سیاق و سباق کو معطل کیا گیا ہے۔ کیونکہ انکے بقول جب جوہری تصادم جنم لیتا ہے تو  معمول کی سفارت کاری اور ریاستوں کے بیچ  مقابلہ بازی پیچھے چلی جاتی ہے اور ”کرائسز سفارت کاری“ رونما ہو جاتی ہے۔ 

جنوبی ایشیا کی سکیورٹی پر اثرات:

معید کی تحقیق جنوبی ایشیا میں کشیدگی کو پڑھنے والوں کے لئے خاص کر فائدہ مند ہے۔ انکا کہنا ہے کہ علاقائی دشمن ریاستیں تیسری قوت کے ساتھ اعتماد کے فقدان کے باوجود  اسی (تیسری قوت) کی ربط سازی پر انحصار کرتی ہیں۔ لیکن وہ اس بات پر روشنی نہیں ڈالتے کہ تب کیا ہوتا ہے جب کوئی ایک ریاست  اس ربط سازی میں دئیے گئے پیغام پر اعتماد کرنے سے انکار کر دے۔ یہ سوال بہت اہم ہے کیونکہ مستقبل کی کشیدگیاں ایک مختلف دنیا میں وقوع پذیر ہوں گی۔ وہ بھی ایک ایسے وقت میں جب اسلام آباد اور واشنگٹن میں اس وقت اعتماد کا سخت فقدان   ہے اور اسلام آباد  کا واشنگٹن پر ماضی میں بھارت کے ساتھ ہونے والی کشیدگیوں کی طرح بھروسہ کرنا مشکل ہو گا ۔اس وجہ سے امریکہ کا تیسری قوت کا کردار ادا کرنے پر اثر پڑے گا۔

 اگرچہ سابقہ پاک بھارت کشیدگی میں  تیسری قوت اور دیگر طاقتوں کے کردار کے حوالے سے  معید کافی کچھ لکھتے ہیں لیکن وہ یک جہتی دنیا کی طاقت (یونی پولر پاور) اور ابھرتے ہوئے  طاقتور ممالک کے بیچ جنوبی ایشیا میں کشیدگی کم کرنے کے بارے میں مزید ربط سازی کے حوالے سے خاموش ہیں۔ جن کرائسیز کا یوسف نے جائزہ لیا ہے، ان میں ماسکو اور بیجنگ اشنگٹن سے اس طرح مقابلے میں نہیں تھے جیسے وہ اب ہیں۔ مزید برآں چین نے حالیہ سالوں میں  جنوبی ایشیا، بالخصوص پاکستان  میں اپنا اثرورسوخ بڑھایا ہے۔ چین کی یہ موجودگی  کشیدگی کے اوقات میں نئی دہلی اور واشنگٹن، اور اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان یقیناً پرُاثر ہو گی۔ تاہم یہ سوال باقی ہے کہ آیا امن ماحول کے دوران بیجنگ اور واشنگٹن مستقبل کی جنوبی ایشیائی کشیدگی کے حوالے سے براہ راست  بات چیت کریں گے یا نہیں۔ یہ بھی واضح نہیں کہ اگر مستقبل کی سفارتی کشیدگی   میں چین اور امریکہ  کے بیچ اختلاف ہو، یا پھر دونوں مسئلہ سے متعلق بنیادی سوالات پر ایک دوسرے  سے مخالف سمت میں چل پڑے تو پھر کیا ہو گا۔

 یوسف کی تحقیق میں ایک اور اہم نتیجہ یہ ہے کہ بھارت نے  تیسری قوت کے کردار کو  ازخود چاہا اور امریکہ کو ملوث ہونے کےلئے براہِ راست اشارہ بھی کیا۔ یہ انکشاف بھارت کی پاکستان کے ساتھ بات چیت میں کسی تیسری قوت کی  شرکت کے مسلسل اختلاف کے بالکل برعکس ہے۔ مثال کے طور پر ممبئی حملوں کے بعد جب بھارت نے عسکری ردِ عمل سے گریز کرنے کا فیصلہ کیا تو اس نے ”عالمی برادری” (یعنی امریکہ) کو پاکستان پر دباؤ ڈالنے کا کہا چونکہ اسے یقین تھا کہ اسلام آباد صرف امریکی دباؤ پر ہی عمل کرے گا۔ یوسف کے مطابق اس حقیقت کو بھارت وزیرِ خارجہ  پرناب مکھرجی نے بھی تسلیم کیا اور ایک امریکی سرکاری عہدیراد کو بتایا کہ  “پاکستان جو کوئی بھی معمولی اقدامات کر رہا ہے وہ محض آپکی وجہ سے ہیں“۔ پالیسی نقطہ نظر سے اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جیسے جیسے بھارت کا امریکہ پر اعتماد بڑھا، ویسے ہی اس کے لئے پاکستان کے ساتھ کرائسز سفارت کاری میں امریکہ کا کردار قابل قبول ہوتا گیا۔ مستقبل کی تحقیقات میں اس امر پر مزید روشنی ڈالی جا سکتی ہے  اور اس کو بڑھتے بھارت امریکہ تعلقات کی بنیاد پر وسعت دی جا سکتی ہے۔ 

خلاصہ:

معید یوسف نے کشیدگی کے دوران تیسری قوت کے کردار کی حقیقی  تصویر کشی کی ہے۔ انکے کام نے تیسری  قوت کے کردار کو کثیر جہتی دنیا (ملٹی پولرورلڈ) میں مزید پرکھنے کی راہ ہموار کی ہے ۔رواں دور کے بعد اس (تین نکاتی) نظریہ کا اصل امتحان کثیر جہتی دنیا میں ہوگا: کیا عالمی طاقتیں دو علاقائی جوہری طاقتوں کے بیچ  اپنے اپنے عالمی مسابقتی مفادات پسِ پشت ڈال کر ثالثی کا کردار ادا کریں گی؟ یا پھر  وہ ایسی صورتحال کو اپنے ذاتی تزویراتی مفادات  کو وسعت دینے کےلئے ایک بہترین موقع کے طور پر لیں گی؟

ایڈیٹر نوٹ: چار حصوں پر مشتمل  اس نئی سیریز میں  ساؤتھ ایشین وائسز کے مصنفین تانوی کلکرنی، جوئے مترا، صائمہ سیال اور محمد فیصل  معید یوسف کی کتاب   “بروکنگ پیس اِن نیوکلئیر انوارئنمنٹ: یوایس کرائسز مینجمنٹ اِن ساؤتھ ایشیا”  کا تجزیہ کریں گے۔  یہ کتاب جوہری پاکستان اور بھارت کے بیچ  تنازعات کا احاطہ کرتی ہے اور  جنوبی ایشیا میں کشیدگی کے تدارک میں تیری پارٹی کے کردار پر نظر ڈالتی ہے.

***

.Click here to read this article in English

Image 1:  IIP Photo Archive via Flickr

Image 2: Uriel Sinai via Getty

Posted in , Cooperation, Defence, Deterrence, Escalation Control, Foreign Policy, India, India-Pakistan Relations, Negotiations, Nuclear, Nuclear Weapons, Pakistan, Peace, Policy, Politics, SAV Book Review, Security, Strategic Culture, Theory, United States, US

Muhammad Faisal

Muhammad Faisal

Muhammad Faisal was an SAV Visiting Fellow, January 2018. Formerly, he was a Research Fellow at the Center for International Strategic Studies, Islamabad and a Visiting Fellow at the Center for Non-Proliferation Studies in Monterey, California in the spring of 2015. He holds a post-graduate degree in Defense and Strategic Studies from Quaid-i-Azam University, Islamabad. His research interests include India-Pakistan relations and South Asia's security environment.

Read more


Continue Reading




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *