جنابِ وزیر اعظم: ابھی ڈٹ جانا سود مند نہیں ہے۔۔۔

اپنے تیسرے دور حکومت میں کم از کم دو دفعہ ایسا ہوا جب وزیراعظم نواز شریف نے یہ سوچا ہو گا کہ انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کو قابو کر لیا ہے۔ پہلی دفعہ جب عدالتِ عظمیٰ نےپاکستان مسلم لیگ نواز کیخلاف۲۰۱۳ کے انتخابات میں دھاندلی سے متعلق پاکستان تحریکِ انصاف کی درخواست پر فیصلہ دیتے ہوئے تمام الزامات کو مسترد کر دیا تھا۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا تھا جب مبینہ طور پر پی-ٹی-آئی کو فوج سے ریٹائرڈ کچھ افراد کا ساتھ حاصل تھا۔ فیصلے سے قبل پی-ٹی-آئی اور پاکستان عوامی تحریک کے کارکنان نے اسلام آباد میں طویل دھرنا دیا۔دونوں جماعتوں کے کارکنان دارلحکومت میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کی موجودگی میں بھی  آزادانہ گھومتے   رہے اور سرکاری ادداروں جیسے پاکستان ٹیلی ویژن، پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ پر بھی قابض رہے۔ ان دنوں اسلام آباد یرغمال بن گیا، پارلیمنٹ کے ممبران اندر محصور ہو گئےاور میڈیا مسلسل حکومت مخالف پراپیگنڈہ کرتا رہا ۔ ان دگرگوں حالات میں فوجی مداخلت نہائت آسان ہو چکی تھی مگر حیران کن طور پر فوج نے مارشل لاء لگانے سے گریز کیا اور اپنا وزن جمہوریت کے جاری و ساری رہنے میں ڈالا۔

جب کچھ نہ بن سکا تو دھرنا جماعتیں ایک ایک کر کے واپس گھروں کو لوٹ گئیں تاہم  اپنے پیچھے ان گنت سوالات چھوڑ گئیں۔ لوگ ششدر تھے پی-ٹی-آئی اور عوامی تحریک  کس بنیاد پر اسلام آباد وارد ہوئے ، انکو کس خفیہ ہاتھ یا نادیدہ قوتوں کی حمائت حاصل تھی،اور وہ کس کے کہنے پر انتہائی حساس علاقے یعنی ریڈ زون میں دندناتے رہے جبکہ کسی نے روکنے کی کوشش تک نہ کی؟ ان سوالات کا جواب نہ تب ملا اور نہ آج اور نہ ہی حکومت نے جاننے کی کوشش کی کیونکہ بہت سوں کی رائے تھی کہ “جان بچی سو لاکھوں پائے”۔

 

پہلی دفعہ نواز شریف نے جب سوچا کہ اسٹیبلشمنٹ  کنٹرول میں ہے تو یہ انکی پہلی غلطی   تھی۔  شائد یہ جمہوریت  کےلئے پیار نہیں تھا کہ فوج   سازگار ماحول ہونےکے باوجود مداخلت سے باز رہی بلکہ  ابھی جنرل پرویز مشرف کے  ۹سالہ دورِ اقتدار کو ختم ہوئے چند سال ہی  توگزرے تھے ۔ مزید برآں فوج نے جنرل کیانی اور جنرل راحیل کی زیر سربراہی جنرل مشرف کے سخت دور کے بعد مشکل سے ساکھ بحال کی تھی اورایسے میں  بھاری مینڈیٹ سے منتخب شدہ وزیراعظم کو عہدے سے ہٹا دینا بھی شائد کوئی اچھے نتائج نہ دے پاتا۔

کسی اونچ نیچ اور بد مزگی کے بغیر جب نواز شریف نے  راحیل شریف کے بعدنئے آرمی چیف کو نامزد کر دیا تو یہ دوسرا موقع تھا جب انہوں نے ایک بار پھر واقعتاً معاملات کو گرفت میں ہونے کا سوچا۔ جنرل راحیل، جو کہ شہرت اور پسندیدگی میں  بے تہاشہ عوامی حمائت حاصل کیے ہوئے تھے، کو ریٹائر کر دینا بھی آسان کام نہیں تھا ۔ اسکے علاوہ میڈیا  بھی انکی میعاد میں توسیع کا خواہشمند تھا لیکن جنرل صاحب  نےتوسیع نہ لینے کا اعلان کر کے نواز شریف کی مشکل کو آسان کر دیا۔ وزیراعظم نے راحیل شریف کا ذہن پڑھتے ہوئے اپنی پسند کا آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کی صورت میں نامزد کر دیا۔ جنرل باجوہ کی نامزدگی کے بعد ڈان لیکس معاملے کا  صلح صفائی سے حل ہو جانا بھی  نواز شریف کےلئے باعثِ طاقت بنا۔

ان سارے معاملات  کی گتھیاں سلجھتے دیکھ کر نواز شریف کو محسوس ہوا کہ معاملات اپنے ہاتھوں میں ہیں مگر یہ انکی  دوسری غلطی تھی۔ بلاشبہ جنرل باجوہ کو آرمی چیف بنا کر انہوں نے بہت سوں کو ورطہ حیرت میں ڈالا تا ہم وہ یہ بھول گئے کی فوج آج بھی ملک کا سب سے طاقتور ادارہ ہے اور چاہے خاموش طبع آرمی چیف کیوں نہ ہو، فوج کی حکمتِ عملی سے اختلاف ‘رد’ کر دیا  جائے گا۔

گزشتہ برس ترکی میں مارشل لاء کی ناکام کوشش کو پاکستان میں بھی سراہا گیااور یہ سمجھا گیا کہ اب یہاں کی فوج بھی ایسے کسی مہم جوئی سے باز رہے گی۔نواز شریف اور انکے بھائی شہباز شریف جو وزیر اعلیٰ پنجاب بھی ہیں، نے ترک قوم کو اس بہادری پر داد دی۔ پاکستان اور ترکی کے بیچ حالیہ سالوں میں تعلقات تیزی سے بہتر ہوئے ہیں  اور پاکستان ترکی کو ترقی کا رول ماڈل بھی سمجھتا ہے۔ ترکی نے گزشتہ ۲۰ سالوں میں حیرت انگیز ترقی کی ہے اور ترک صدر رجب طیب اردگان نے ملک کو سیاسی غیر یقینی سے نکال کر دنیا کی ۲۰ ترقی یافتہ قوموں کی صف میں لاکھڑا کیا ہے۔ اور یہی کارکردگی تھی کہ جس کی بنیاد پر ترک قوم نے مارشل لاء کے سامنےڈٹ جانا مناسب سمجھا۔

لیکن پاکستان ترکی نہیں ہے اور یہاں کی عوام ترک نہیں ہیں ۔ ناموزوں حالات میں اس آس پر  ڈٹے رہنا کہ پاکستان قوم بھی ترکوں کی طرح غیر آئینی اقدام کے خلاف کھڑی ہو جائے گی، تقریباًٍ ناممکن ہے۔ پاکستانی قوم نے ہمیشہ مارشل لاء اور دیگر غیر آئینی اقدامات کو خوش آمدید کہا ہے۔ اور عدلیہ نے تمام  مارشل لاؤں کو نظریہ ضرورت کی آڑ میں  قانونی چھتری فراہم کی ہے۔یہی وجہ تھی کہ ۱۹۹۹ میں ن-لیگ حکومت پر شب خون مارنے کے باوجود لوگ مزاحمت کےلئے باہر نہیں نکلے بلکہ پارٹی کے بہت سارے لوگ ‘کنگز پارٹی’ میں شا مل ہو گئے۔ اورصحافیوں اور کالم نگاروں کی دقیق تعداد نے جنرل مشرف کے غیر آئینی اقدامات کو ناپسند کیا۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کی نواز شریف نے۲۰۱۳ میں باگ ڈور سنبھالنے کے بعد ملک کو درست سمت پر ڈال دیا ہے تاہم پاکستان میں ابھی جمہوری روایات  نہیں پنپ سکیں اور نہ ہی بنیادی مسائل اس حد تک حل ہوئے ہیں کہ لوگ غیر آئینی اقدام کے خلاف سینہ سپر ہو جائیں۔  لوگوں سے غیر آئینی اقدامات کے خلاف کھڑے ہو جانے کی امیدیں لگا لینا قبل از وقت ہے کیونکہ ابھی  حکومت کے  لیےکرنے کو  بہت کچھ باقی ہے۔

***

Image 1: Prerna Goyal, Wikimedia

Image 2: Pakistan Tehreek-e-Insaf, Flickr

Posted in , Pakistan, Panama Papers, Politics

Muhammad Daim Fazil

Muhammad Daim Fazil

Muhammad Daim Fazil is a lecturer in the Department of International Relations at the University of Gujrat, Sialkot Campus, Pakistan. He was July 2016 SAV Visiting Fellow at Henry L. Stimson Center, Washington DC. He has previously worked as a Media Researcher and Coordinator at Pakistan's state-run TV channel PTV NEWS. He holds an MSc degree in International Relations from the University of Sargodha, and an M.Phil in International Relations from National Defence University, Islamabad. His areas of interest include South Asia, Sino-Pak relations, and Afghanistan. He can be reached at daimfazil[at]gmail[dot]com.

Read more


Continue Reading




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *