8642881976_03a3f4b943_k-1095×616

جنوبی ایشیا میں بڑے پیمانے پر دستیاب انسانی وسائل اور جغرافیائی تزویراتی حیثیت اسے بین الاقوامی سرگرمیوں کے لیے منافع بخش بناتے ہیں۔ تاہم جنوبی ایشیائی ممالک کے درمیان گہری بداعتمادی اور دو طرفہ تناؤ نے اس خطے کو اپنی حیثیت سے فائدہ اٹھانے سے محروم رکھا ہے۔ گزشتہ ایک عشرے کے دوران ماحولیاتی تبدیلی سلامتی کو درپیش غیرروایتی خطرہ بن کے ابھری ہے جو فوری توجہ کی متقاضی ہے۔ انٹرگورنمنٹل پینل برائے ماحولیاتی تبدیلی (آئی پی سی سی) کی جانب سے گزشتہ ماہ جاری کیے گئے چھٹے پالیسی ساز جائزے میں شناخت کیا گیا ہے کہ جنوبی ایشیا بالخصوص ماحولیاتی تبدیلیوں کا شکار ہے۔ باربار آنے والی گرمی کی لہر اور غیرمتوقع سیلاب کو تشویش کا اصل سبب قرار دیتے ہوئے اس رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ آنے والی دہائیوں میں موسم کی شدید کیفیت خطے پر حملہ آور ہوگی جس کے معاشرے کے پسماندہ اور محروم طبقے پر بدترین اثرات ظاہر ہوسکتے ہیں۔

موسم اور صنفی مسائل کے درمیان موجود ربط نیز ماحولیاتی تبدیلیوں کے خواتین و بچیوں پر غیر معمولی اثرات کے ثبوت کی روشنی میں کروڑوں جنوبی ایشیائی خواتین کا مستقبل اس جنم لیتے بحران میں تاریک دکھائی دیتا ہے۔ لہذا،  خطے کے ممالک کو چاہیئے کہ ایسی موثر ماحولیاتی پالیسی ترتیب دیں جس میں ردعمل کے ضمن میں صنف کو مدنظر رکھا گیا ہو۔ ریاستی، قومی اور علاقائی سطح پر پالیسی سازوں کو ان انتظامی اور سماجی رکاوٹوں کو دور کرنا ہوگا جو موسم سے متعلقہ فیصلہ سازی میں خواتین کے بطور یکساں حقوق کی حامل متحرک شراکت دار و نمائندہ کردار کی راہ میں رکاوٹ ہوں۔

جنوبی ایشیائی خواتین موسمی تبدیلیوں کیخلاف  پہلی صف میں

جنوبی ایشیاء میں ثقافت، مذاہب اور اقدار کے کئی پرتوں پر مشتمل ہونے کے باجود یہاں کی معاشرتی روایات اب بھی پسماندگی اور مردانہ اجارہ داری کا شکار ہیں۔ زیادہ تر جنوبی ایشیائی ممالک میں خواتین کو تعلیم اور بنیادی صحت کی سہولیات تک رسائی نہیں نیز مردوں کے مقابلے میں انہیں زیادہ غربت کا سامنا رہتا ہے۔ شدید صنفی رکاوٹوں اور پابندیوں میں جکڑی خواتین کے پاس  اپنی ضروریات کیلئے آواز اٹھانے اور حقوق کی جدوجہد  کے لیے وسائل، ہنر اور طاقت نہیں ہے۔ بدقسمتی سے موسمی تبدیلیوں اور اس سے جڑے خطرات نے پہلے سے موجود اس صنفی عدم برابری میں مزید اضافہ کیا ہے جس کے سبب خواتین میں موجودہ اور مستقبل کی آزمائشوں کیخلاف مزاحمت میں کمی ہورہی ہے اور لاچاری پیدا ہو رہی ہے۔

جنوبی ایشیا کے دیہی علاقوں میں گھریلو امور کی اولین نگران خواتین ہیں۔ ان کی ذمہ داریوں میں دور دراز کنوؤں اور دریاؤں سے پانی بھرنے سے لے کے  بیمار اہل خانہ کی دیکھ بھال تک تمام ذمہ داریاں شامل ہیں۔ بھارت کی بہت سی ریاستوں میں خواتین گھریلو ضروریات کے لیے پانی کے حصول کیلئے روازنہ پیدل کئی بار سفر کرتی ہیں جو چار گھنٹوں تک کی مسافت پر محیط اور اکثر غیرمحفوظ علاقوں سے گزرتا ہے۔ دیگر صورتحال میں خواتین اور کم سن بچیاں اپنی تعلیم پر سمجھوتہ کرتی ہیں اور  گھریلو امور کی انجام دہی کے لیے اپنی ذہنی و جسمانی صحت کو خطرے میں ڈالتی ہیں۔ صفائی، کھانا پکانے اور پینے کے علاوہ خواتین کو حفظان صحت اور ذاتی صفائی ستھرائی کے لیے بھی پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ بنگلہ دیش کے ساحلی علاقوں میں کھارے پانی کی تیزی سے آمد کے سبب زیرزمین پانی  اور تالاب، کنوؤں کا پانی استعمال کے لیے نقصان دہ ہوچکا ہے۔  ان ساحلی علاقوں میں کھارا پانی استعمال کرنے کی وجہ سے حاملہ خواتین میں بلند فشار خون کے مختلف امراض کا شکار ہونے کی شرح بہت زیادہ ہے۔

دیہی علاقوں کی خواتین مقامی سطح پر کھیتی باڑی، ماہی گیری اور گھریلو صنعتوں میں بھی بڑے پیمانے پر تعاون کرتی ہیں جو کہ پانی کی کمی اور موسمی تبدیلیوں کے سامنے بڑی حد تک کمزور ہیں۔ ناموافق موسم کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ خواتین معاوضے سے محروم رہ جاتی ہیں اور مرد متبادل ذرائع روزگار کی تلاش میں شہری علاقوں کی جانب ہجرت کرجاتے ہیں۔ پیچھے رہ جانے والی یہ خواتین محدود یا یکسر عدم دستیاب معاشی تعاون کی بدولت گھریلو ذمہ داریوں کے بوجھ تلے خود کو زیادہ مجبور پاتی ہیں۔ 

مزید براں، موسمی خطرات کے سبب بے گھر ہونے والے یا نقل مکانی کرنے والے افراد میں بھی خواتین کی بڑی تعداد ہوتی ہے۔۲۰۱۰ میں پاکستان میں آنے والے سیلابوں کے بعد بے گھر ہونے والوں میں ۷۰ فیصد سے زیادہ خواتین اور بچے تھے۔ پناہ گزین کیمپوں اور غیرقانونی بستیوں میں مقیم یہ غیرمحفوظ خواتین اور بچے بارہا صنفی بنیادوں پر تشدد، انسانی اسمگلگ اور جسم فروشی کا نشانہ بنتے ہیں۔

اس کے باوجود، خواتین ڈٹی رہتی ہیں اورموسمی تبدیلیوں کیخلاف پہلی صفوں میں کمربستہ دکھائی دیتی ہیں۔ زندہ رہنے اور اپنے اہل خانہ کی ضروریاتِ زندگی پوری کرنے کیلئے روزانہ کی جدوجہد میں الجھی جنوبی ایشیائی خواتین اپنے ماحول، زندگی اور طرزِ زندگی میں آنے والی مسلسل تبدیلیوں سے مطابقت پیدا کرنے کیلئے اپنے روایتی علم اور مہارتوں کو استعمال میں لاتی ہیں۔

 

ماحول پر بحث میں خواتین کے کردار کو بڑھانا

جنوبی ایشیا میں گوکہ حالیہ برسوں کے دوران موسمی تبدیلیوں پر مباحثے میں تیزی آئی ہے، لیکن اس مباحثے سے خواتین بڑی حد تک غیر حاضر ہیں۔ اس کی کسی حد تک وجہ افسرشاہی سوچ ہے جس نے جنوبی ایشیا میں پالیسی سازی کے عمل کو داغدار کیا ہے۔  یہاں طاقت اور فیصلہ سازی کا اختیار چند ایسے محدود ہاتھوں میں رہتا ہے جو بالعموم  مرد پالیسی ساز کے ہوتے ہیں اورجو سماج کے اوپری طبقے کے حق میں ہموار اور عوام کے لیے ناکافی دہائیوں پرانے نظام کی ترویج جاری رکھتے ہیں۔ جمہوری ادارے بدستور کمزور رہتے ہیں  نیز ہر سطح پر پالیسی مباحثے میں تمام طبقوں کی نمائندگی کی واضح کمی جبکہ خواتین اور دیگر محروم طبقوں کیلیے نہایت محدود کردار دکھائی دیتا ہے۔ جنوبی ایشیا کی ثقافت اور سیاست میں مذہب بھی نمایاں اثرورسوخ رکھتا ہے۔ علاقے کے بڑے مذاہب کی قدامت پرستانہ نوعیت جو بالعموم مردوں کی بالادستی اور خواتین کے زیردست کردار پر مبنی ہیں، صنفی بنیادوں پر تقسیم کیلئے مزید راہ ہموار کرتے ہیں۔ ایسے میں یہ امر بالکل بھی حیران کن نہیں ہے کہ خطے میں موسم پر گفتگو پردوں میں چھپے ان طبقوں تک پہنچنے میں ناکام رہی ہے۔ موسمی تبدیلیوں کے وسیع پیمانے پر پھیلے ہوئے اثرات ، نظام میں فوری اکھاڑ پچھاڑ کے متقاضی ہیں۔ اس سے نمٹنے کیلئے ماحولیاتی مباحثے میں خواتین کی شمولیت اور سماجی و معاشی اعتبار سے ان کی کمزوریوں کو مدنظر رکھنا ، پالیسی سازوں کی جانب سے ابتدائی اقدامات ہونے چاہیئں۔

حکومتوں، ترقیاتی ایجنسیوں اور علاقائی اداروں کو موسم کیخلاف مزاحمت اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلقہ امور میں صنفی برابری کے فروغ کیلئے بالائی سے زیریں اور زیریں سے بالائی سطح پر مبنی طریقہ کار کو اپنانا چاہیئے۔ خواتین کے لیے مالی وسائل کی فراہمی، وسیع تر تعلیمی مواقع، خواتین آبی انجینیئرز کی بھرتی اورخواتین محققیق و معلمین کیلئے وسیع تر مواقع  جیسے اقدام صنفی اعتبار سے متوازن ماحولیاتی پالیسی اور اصلاحات میں کردار ادا کریں گے۔ ایک اور کلیدی نکتہ دیہی آبادی میں ماحولیات کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنا ہے جس میں خواتین کی تربیت اور نوکری کے مواقع پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے۔ بلند شرح غربت اور انفراسٹرکچر تک رسائی میں کمی کے سبب دیہی آبادی کو ماحولیاتی تبدیلی سے بہت زیادہ خطرات لاحق ہیں۔ ان آبادیوں میں تخفیف ومطابقت پیدا کرنے کے لیے حکمت عملی کی ترتیب میں خواتین کا اہم کردار ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں بنگلہ دیش نے بریک (بی آر اے سی) اور یواین ویمن کا ایک مشترکہ منصوبہ ۲۰۱۲ میں متعارف کروایا تھا تاکہ ماحولیاتی تبدیلی سے متاثرہ بنگلہ دیشی خواتین کو روزگار کے لیے مہارتیں اور آفات سے نمٹنے کی تربیت دی جا سکے۔ خواتین کے لیے اس قسم کی خصوصی کوششیں پورے علاقے میں مزاحمت کی صلاحیت کے تخمینےمیں موثر ثابت ہوئی ہیں۔ مزید براں، ساحلی پٹی اور دور دراز پہاڑی علاقوں میں رہنے والی خواتین نے اپنی زندگی قدرت کے مطابق ڈھال رکھی ہے؛ وہ قیمتی علم اور مطابقت اختیار کرنے کا منفرد تجربہ رکھتی ہیں، جو کہ پالیسی سازوں کے لیے مشاورت کے مراحل میں انتہائی سود مند ہوسکتا ہے۔

مزید براں، فیصلہ ساز و متعلقہ  خواتین ماحولیاتی اور آبی سفارت کاری کو فروغ دینے میں بھی کلیدی کردار ادا کرسکتی ہیں۔ جنوبی ایشیا سے گزرنے والے بڑے دریا بشمول دریائے سندھ اور دریائے برہم پترا کئی ملکوں سے گزرتے ہیں۔ دوطرفہ تناؤ، ان دریاؤں کے کناروں پر آباد ممالک کے درمیان پانی کی تقسیم کے معاہدوں پر منفی طور پر اثرانداز ہوتے ہیں جیسا کہ دریائے سندھ پر بھارت اور پاکستان معاہدہ رکھتے ہیں۔ دوسری جانب معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں یہ تنازعے کو بھڑکانے کا  باعث بنتے ہیں جیسا کہ بھارت اور چین کے درمیان دریائے برہم پترا پر معاہدہ نہیں ہے۔ چونکہ فریق ممالک سرحد پار ماحولیاتی اقدامات اور سرحدی آبی مذاکرات میں زیادہ سے زیادہ دلچسپی لیتے ہیں، ایسے میں خواتین کی نمائندگی زیادہ جامع، معاون اور قابل بھروسہ سفارتی نتائج  کا باعث بن سکتی ہے۔

ہمارے معاشرے میں خواتین کا کردار اور ان کی انمول خدمات کے اعتراف کی ضرورت ہے۔ جنوبی ایشیا میں ماحول کی گھمبیر ہوتی صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ خواتین کے بطور تبدیلی کے محرک کردار کا اعتراف کرتے ہوئے  فیصلہ سازی کی میز پر ان کی خصوصی حیثیت یقینی بنائی جائے۔ صنفی اعتبار سے متوازن ماحولیاتی پالیسیوں کے ذریعے خواتین کو اوپر اٹھانے اور طاقت دینے کا عمل  زیادہ مزاحمت کا حامل، پرامن اورمستحکم علاقائی مستقبل کی تعمیر میں مدد دے گا۔

***

Click here to read this article in English.

Image 1: EU Civil Protection and Humanitarian Aid via Flikr

Image 2: Climate Change, Agriculture and Food Security via Flikr

Share this:  

Related articles

طالبان کو تسلیم کرنے کی سیاست Hindi & Urdu

طالبان کو تسلیم کرنے کی سیاست

اقتدار پر قبضے کے تقریباً تین ماہ اور عبوری حکومت…

خارجہ پالیسی میں غائب” صنف” Hindi & Urdu

خارجہ پالیسی میں غائب” صنف”

یہ بات تقریباً عالمی طور پر تسلیم شدہ ہے کہ…

تاریخ کے جھروکوں سے: پاکستان اور تحریک نسواں کی خارجہ پالیسی Hindi & Urdu

تاریخ کے جھروکوں سے: پاکستان اور تحریک نسواں کی خارجہ پالیسی

پاکستان نے ۲۰۲۱ میں متعدد آزمائشوں کا سامنا کیا، جن…