B05_SLBM

سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (ایس آئی پی آر آئی) کے سال نامہ 2026 
نے حال ہی میں خبر دی کہ بھارت نے 2025 میں اپنے ایٹمی اسلحے کا ذخیرہ 180 سے بڑھا کر 190 کر دیا ہے۔ لیکن سب سے حیران کن انکشاف یہ تھا کہ بھارت شاید  پہلی بار ان میں سے کچھ کو حالتِ امن میں فعال طور پر استعمال کر رہا ہے۔ خبر اس امر کو ‘کافی غیر یقینی‘ قرار دیتے ہوئے ظاہر کرتی ہے  کہ بھارت ممکنہ طور پر جنوری 2026 تک اپنی ایک جوہری طاقت والی بیلسٹک میزائل سب میرین (ایس ایس بی این) پر تقریباً 12 نیو کلیئروارہیڈز تعینات کر چکا ہے۔ اگر واقعی ایسا ہی ہے، تو یہ ڈپلوئیمنٹ (صف آرائی) طویل عرصے سے قائم اس مفروضے کو للکارتی ہے کہ بھارت اپنے نیو کلیئر وار ہیڈز کو حالتِ امن میں  نیوکلیئر لانچرز سے الگ (ڈی میٹڈ) رکھتا ہے۔ علاوہ ازیں، یہ امر بھارت کے ممکنہ طور پر اپنی عملی جوہری موقف کی تبدیلی کو ظاہر کرے گا — جو حقیقی عملی صلاحیتوں، ڈپلوئیمنٹ اور فوجی ڈھانچے سے متعلق ہے — جبکہ اس کی بیانیہ جوہری پالیسی، جو کسی ریاست کی جوہری استعمال کی شرائط کا مجموعہ ہے، جُوں کی تُوں ہے۔

اگرچہ یہ جوہری تعیناتی (ڈپلوئیمنٹ ) حالیہ خبر ہو سکتی ہے، تاہم بھارت کے عملی جوہری موقف میں مجموعی تبدیلی ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے جاری ہے۔ پھر بھی، یہ نئی رپورتاژ بھارت کی ایٹمی اسلحے کو جدید بنانے کی کوششوں، کینسٹر میزائلز کی تیاری (جو ایندھن سے پہلے  سے ہی بھرے، فوری لانچ کے لیے تیار سِیل شدہ ٹیوب سسٹمز ہیں جو لانچ کے وقت کو گھنٹوں سے منٹوں تک کم کر دیتے ہیں)، نیو کلیئر ڈیلیوری سسٹمز  کی نئی اقسام(جن میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے اور ملٹیپل وارہیڈ میزائل شامل ہیں)، اور بحری مزاحمتی گشتوں کے انتظام کی نئی اہمیت اجاگر کرتی ہے۔ ممکن ہے کہ بھارت ان کوششوں میں تنہا نہ ہو؛ ایس آئی پی آر آئی کی خبر کے مطابق چین نے ریپڈ میزائل سائلو بلڈ آؤٹ  اور جوہری ہتھیاروں سے لیس ایس ایس بی اینز کے بحری گشتوں کے  ذریعے قوتِ مزاحمت میں اضافہ کے ساتھ ساتھ شاید 34 نیوکلیئر وار ہیڈز بھی تعینات کیے ہوں۔

یہ تبدیلیاں کسی خلا میں واقع نہیں ہوئیں: یہ اس مربوط ‘تزویراتی زنجیر‘ کی بھی نشاندہی کرتی ہیں جو خطے کی جوہری طاقتوں کو جوڑتی ہے اور علاقائی تزویراتی استحکام کو خطرے میں ڈالتی ہے۔ 
تزویراتی زنجیر کا ڈھانچہ  ظاہر کرتا ہے کہ کس طور چین کی بڑھتی ہوئی جوہری صلاحیتیں، جن کا ہدف امریکہ ہے، بھارت کے لیے خطرہ ہیں اور بھارت کو اپنی جوہری صلاحیت بہتر بنانے پر مجبور کرتی ہیں، جن کے باعث پاکستان کو اپنی جوہری صلاحیتیں جدید بنانے کی کوششیں کرنا پڑتی ہیں۔ اگر اس اور دیگر خبروں میں ظاہر کی گئی پیش رفتیں سچ ہیں، تو یہ شاید محققین کاعلاقے میں نیوکلیئر کمانڈ اور کنٹرول (این سی ٹو) سسٹمز کے سمجھنے پر  بھی معترض ہوں۔اس لیے اس مضمون میں ایک نئی نظریاتی قسم کی تجویز دی گئی ہے، جسے ‘سیگمنٹڈ-ڈیلیگیٹو ایسرٹو کنٹرول سسٹم’ کہا گیاہے، تاکہ یہ واضح کیا جا سکے کہ ریاستیں کس طور بگڑتے ہوئے بیرونی ماحول میں مقامی لچک متعارف کروا کر اپنے آپ کو ڈھالتی ہیں اور این سی ٹوسسٹمز کی علمی سمجھ میں مزید باریکیاں شامل کرتی ہیں۔ 

تزویراتی محرکات

بھارت کا ہتھیاروں کا حصول اور صلاحیت کی ترقی بنیادی طور پر چین اور پاکستان کی جانب سے بڑھتے ہوئے گُندھے خطرات کے باعث ہے، جو بھارت کے لیے مزاحمت اور کشیدگی کی حرکیات میں ایک ٹو پیئر پرابلم (جوہری طور پر مسلح دو قوتوں  سے نمٹنے کا مسئلہ)  ظاہر کرتے ہیں۔ آپریشن سندور نے  اس مسئلے کے مزید الجھاؤ کو ظاہر کیا،  جب خبروں کے مطابق چین نے آن سائٹ تکنیکی معاونت فراہم کی اور اپنے ہرموسم کے ساتھی کے ساتھ بھارتی اثاثہ جات اور صف آرائیوں کا لائیو ڈیٹا شیئر کیا۔ 

صرف چین ہی  کے معاملے میں صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ چین نہ صرف بھارت سے روایتی طور پر بہتر ہے، بلکہ یہ اپنے جوہری اسلحےکے ذخیرے کو تیزی سے بڑھانے میں بھی مصروف ہے۔ اطلاعات کے مطابق جنوری 2026 تک  چین کے پاس کل 620 نیو کلیئر وار ہیڈز ہیں، جن میں گذشتہ سال کی نسبت 20 وار ہیڈززیادہ ہیں اور آئندہ سالوں میں یہ اضافہ جاری رہنے کی توقع ہے۔امریکی محکمہ دفاع (ڈی او ڈی) نے چین کے عملی موقف میں تبدیلی کی نشاندہی کی ہے: اس نے   سائلوز میں فوری لانچ ہونے والے، ٹھوس ایندھن سے بھرے ہوئے میزائل تعینات کیے ہیں اور لانچ آن وارننگ (ایل او ڈبلیو) کی صلاحیت تیار کر رہا ہے—ایک حکمت عملی جس میں دشمن کے میزائل کے نشانے پرپہنچنے سے پہلے ہی جوابی جوہری حملہ کیا جاتا ہے۔ مزید برآں امریکی محکمہ دفاع نے نوٹ کیا کہ چین باقاعدگی سے  جوہری ہتھیاروں سے لیس ایس ایس بی اینز کے ذریعے بحری مزاحمت  کے گشت لگاتا ہے، اور ساتھ ہی ’کمبیٹ ریڈینس ڈیوٹی‘ اور ’ہائی الرٹ ڈیوٹی‘ کی مشقیں بھی کرتا ہے۔ اس امر  نے ریاستہائے متحدہ امریکہ  کو چین کی طویل عرصے سے قائم ‘نو فرسٹ یوز’ (این ایف یو) پالیسی کی ساکھ کے بارے میں مزید شک میں مبتلا کر دیا ہے۔ 

گو کہ چین کی ان تبدیلیوں کا مقصد امریکہ کے خلاف مزاحمت ہے، پھر بھی یہ بھارت کے لیے سکیورٹی کاایک  مسئلہ  پیدا کرتی ہیں۔ اس طرح، نئی دہلی کے طویل فاصلے  تک مار کرنے والےاور بحری میزائلوں کی ترقی کا مقصد اپنے جوہری ہتھیاروں کی جنگی تیاری کو بڑھانا اور چین کے مقابلے میں سیکنڈ اسٹرائیک (جوابی حملہ) کرنے کی صلاحیت کو یقینی بنانا ہے۔ تاہم یہ اقدامات لامحالہ پاکستان کو پریشان کرتے ہیں اور خطے کی تزویراتی زنجیر کی حرکیات کو بڑھاوا دیتے ہیں۔ 

اس دو محاذی خطرے کے تصور کے تحت بھارت کابدلتا ہوا عملی جوہری موقف اس تزویراتی زنجیر میں دوہرا مقصد پورا کرتا ہے: جہاں یہ بنیادی طور پر چینی جوہری ترقی کا مقابلہ کرتا ہے، وہیں یہ بھارت کو پاکستان کے ساتھ جوہری بحران کے دوران ‘خطرات سے کھیلنے میں مقابلہ‘ کرنے کابھی موقع دیتا ہے، تاکہ پاکستان کی جانب سے کسی حملے کی صورت میں یہ جنگ کے لیے تیار رہے۔ اگرچہ پاکستان کے نیوکلیئروارہیڈز(کی تعداد) جنوری 2026 تک 170 کے لگ بھگ مستحکم رہی، تاہم پاکستان کا (فسائل) جوہری انفجار کی صلاحیت رکھنے والے مادے کو جمع کرنے کا تسلسل اور نئے جوہری ڈیلیوری سسٹمز کی  تیاری،  بھارت کے لیے بڑھتی ہوئی تشویش کا سبب ہے۔ جب بات صرف روایتی جنگیں لڑنےکی ہو، تو فوجی توازن بھارت کے حق میں جھکتا ہے؛ اسی لیے پاکستان اپنے روایتی طور پر زیادہ طاقتور حریفوں کے خلاف مزاحمت کے لیے جوہری دہانہ گیری کی حکمت عملی تاریخی طور پر اپناتا آیا ہے۔ 

مئی 2025 کے تنازعے میں پاکستان کے(علاقے کی) گہرائی میں اپنے روایتی حملوں کے ساتھ، بھارت نے یہ دکھا دیا کہ ایٹمی ہمسایوں کے مابین غیر ایٹمی جنگ لڑی جا سکتی ہے۔ تاہم یہ چار روزہ تصادم کسی غیر ارادی جوہری کشیدگی کے خطرے کے بغیر  نہ تھا: اطلاعات کے مطابق بھارت نے پاکستانی فضائی اور میزائل اڈوں پر حملہ کیا جو مبینہ طورپرپاکستان کے جوہری ہتھیاروں کو رکھنے یا ان کی معاونت کرنے والے تھے۔ اس کے بعد پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے نیشنل کمانڈ اتھارٹی (این سی اے) کا اجلاس بُلایا، جو پاکستان کے جوہری اسلحے کی نگرانی کرتی ہے۔ اگر مستقبل میں بھارت-پاکستان کا بحران تیزی سے ایٹمی سطح تک پہنچ جائے، تو بھارت یہ محسوس کر سکتا ہے کہ اب وہ غیر مسلح ایٹمی موقف (ڈی میٹڈ نیو کلیئر پوسچر) پر اعتماد نہیں کر سکتا۔ بھارت اور چین کے بعد پاکستان کی بھی بڑھتی ہوئی جوہری چوکسی (نیو کلیئر ریڈینس) جنوبی ایشیا میں تزویراتی زنجیر سے متعلقہ خطرات کو مزید بڑھا دیتی ہے۔   

ایک نئی حقیقت؟   

یہ سمجھنے کے لیے کہ یہ بڑھتی ہوئی جوہری چوکسی (نیو کلیئر ریڈینس) کی کڑیاں علاقے کے استحکام کے لیے اتنا بڑا خطرہ کیوں پیدا کرتی ہیں یہ جائزہ لینا اہم ہے کہ یہ ریاستیں اپنے اسلحےکی تنصیب اور ممکنہ استعمال کا انتظام کیسے کرتی ہیں۔ وپن نارنگ اور اسکاٹ ڈی۔ سیگن کی ترمیم شُدہ کتاب ‘دی فریجائل بیلنس آف ٹیرر: ڈیٹیرنس ان دی نیو نیوکلیئر ایج’ کے اپنے باب میں، گلز ڈیوڈ آرسےنو اور پیٹر ڈی۔ فیور نے این سی ٹو کو تین اقسام میں تقسیم کیا ہے: ڈیلیگیٹو، کنڈیشنل اور ایسرٹیو کنٹرول۔

ڈیلیگیٹو قسم کا تعلق کم درجے کے فوجی آپریٹرز کو جو جوہری استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اختیار سونپے جانے سے ہے۔ان کے پاس نیو کلیئر وار ہیڈز اور ڈیلیوری پلیٹ فارمز کا اصل  کنٹرول  ہوتاہے اور وہ حکامِ بالا کی منظوری کے بغیر بھی جوہری ہتھیار استعمال کر سکتے ہیں؛ اس طرح، غیر مطلوبہ جوہری استعمال کا مستقل خطرہ موجود رہتا ہے۔ 

کنڈیشنل کنٹرول سسٹمز بحران کے شروع میں جوہری ہتھیار استعمال کرنے کی اہلیت کو منتقل کر دیتے ہیں، جبکہ جوہری استعمال پر انتظامی اختیار کو مرکزگیر بناتے ہیں اور جوہری پُرزوں کو حقیقی طور پر منتشر کر دیتے ہیں۔ تاہم اس قسم کے کنٹرول میں کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بحران کے آغاز میں، جوہری پُرزوں کا جمع کرنا دشمن کو ایک منفی سگنل بھیج سکتا ہے اور غیر ارادی کشیدگی کے امکان کو بڑھا سکتا ہے۔ جوہری استعمال کے اس  اختیار کی تفویض بحران کے دوران سیاسی کنٹرول کو بھی کمزور کر دیتی ہے، جس سے کشیدگی کم کرنے میں پیچیدگی پیدا ہوتی ہے۔آرسےنو اور فیور کے مطابق، پاکستان ایک کنڈیشنل کمانڈ سسٹم استعمال کرتا ہے جو حالتِ امن میں جوہری استعمال کے جائزہ کو مرکز گیر بناتا ہے، جبکہ کسی بحران کے دوران فوری طور پر جوہری استعمال کے اختیار کو منتقل کر دیتا ہے۔ وہ نوٹ کرتے ہیں کہ پاکستانی ایٹمی بیس پر (متعین) تکنیکی ٹیمیں پرمِسیو ایکشن لنک (پی اے ایل) کو بھی بائی پاس کر سکتی ہیں جو بحران کے دوران نیو کلیئروار ہیڈز لانچ کرنے کے لیے ضروری ہے۔ یہ پاکستان کی جوہری پالیسی سے میل کھاتا ہے، جس میں این ایف یو (نو فرسٹ یوز) کاعہد شامل نہیں ہے۔ 

آخر میں، ایسرٹوکنٹرول سسٹمز جوہری استعمال پر انتظامی کنٹرول کو بہت زیادہ مرکز گیر بناتے ہیں اوراکثر جوہری ہتھیاروں کو جسمانی طور پرالگ اور تقسیم بھی کرتے ہیں تاکہ کسی بحران کے دوران جوہری فیصلوں پر سیاسی کنٹرول کو یقینی بنایا جا سکے۔ آر سےنو اور فیور چین اور بھارت کو ایسرٹوکنٹرول سسٹمز رکھنے والے ممالک میں شمارکرتے ہیں۔ چینی سیاسی رہنماؤں نے تاریخی طور پر جوہری قوتوں پر زیادہ سختی سے قابو رکھا ہے، جس میں نیو کلیئروار ہیڈز کو علیحدہ رکھنا اور جغرافیائی طور پر منتشر کرنا شامل ہے۔ اسی طرح بھارت نے بھی اپنے جوہری ہتھیاروں کو تاریخی طور پر جُدا جُدا اورالگ (ڈی میٹڈ) رکھا ہے۔

اگرچہ چین اور بھارت دونوں اپنی متعلقہ این ایف یو (نو فرسٹ یوز)  پالیسیوں کے پابند ہیں، تاہم پچھلے کچھ سالوں میں پہلے چین اور حال ہی میں بھارت کی (جانب سے کی جانے والی)  یہ  تبدیلیاں جنوبی ایشیا میں این سی ٹو سسٹمز کی اس درجہ بندی کو چیلنج کرتی ہیں۔

“سیگمنٹڈ” لچک پذیری کی تلاش  

اگر یہ پیش رفتیں بھارت اور چین میں واقعتاً جاری ہیں، تو پھر یہ آر سےنو-فیور فریم ورک کی محدودیت کو ظاہر کرتی ہیں۔ اس کے بجائے، یہ مضمون ایک ‘سیگمنٹڈ-ڈیلیگیٹیو ایسرٹو کنٹرول سسٹم’ تجویز کرتا ہے جو خالص ایسرٹو اور ڈیلیگیٹیو کنٹرول اقسام کے درمیان عبوری مرحلہ کے طور پر کام کرے۔یہ مرحلہ ظاہر کرتاہے کہ گوکہ ریاستیں جوہری استعمال پر انتہائی سخت قابو رکھتی ہیں، پھر بھی نظریاتی اور سیاسی لحاظ سے  اپنی تزویراتی قوتوں کے کچھ حصوں کا جزوی اختیار سونپ کر یا اگر دشمن کوئی مہلک حملہ کرے تو جوہری ہتھیار لانچ کرنے کی حقیقی صلاحیت  تفویض کر کے وہ کسی حد تک لچک پذیری متعارف کراتی ہیں۔

یہ زیادہ تفصیلی فریم ورک اس امر کو واضح کرتا ہے کہ کیسے  ایک ملک بیرونی خطرات کے بدتر ہوتے ہوئے ماحول کے باوجود ،جنگی چوکسی اور جوہری خطرات کے نفاذ میں ساکھ برقرار رکھتے ہوئے، خالص ڈیلیگیٹو سسٹم سے متعلقہ غیر مستحکم  کرنے والےخطرات کو مکمل طور پر متحرک کیے بغیر، عمل کاری کو حسبِ حال بنا سکتا ہے۔یہ درجہ بندی چین کی بڑھتی ہوئی ایل او ڈبلیو صلاحیت کے ساتھ ہم آہنگ ہے، اوروہ ‘تمام ممکنہ صورتوں میں جوابی جوہری حملوں کے لیے متبادل کمانڈ چین کی ترتیب’ اور ایک ‘مؤثر اور قائم رہنے والی’ این سی ٹوکے ساتھ ‘ضروری لچک پذیری اور جواب دینے کی صلاحیت‘ رکھنے کی بھارت کی خواہش کے مطابق ہے۔

مثلاً  دشمن کی جانب سے جوہری حملہ میں پہل کی صورت میں نیو کلیئر وار ہیڈز سے لیس  ایک ایس ایس بی این  کے پاس پہلے سے ہی تفویض شدہ کچھ اختیار یا جوہری ہتھیار لانچ کرنے کی حقیقی صلاحیت ہونی چاہیے۔ چین کی ‘ارلی وارننگ کاؤنٹر اسٹرائیک’  صلاحیت کی ترقی کے لیے ضروری ہوگا کہ کچھ اختیارات نچلی سطح کے فوجی  حلقوں کو پہلے سے ہی منتقل کیے گئے ہوں تاکہ اسے قابلِ اعتبار دھمکی کے طور پر دیکھا جا سکے۔ تاہم چین اور بھارت دونوں ابھی بھی پی اے ایل کے ذریعے سیاسی اختیار برقرار رکھ سکتے ہیں۔ خالصتاً ڈیلیگیٹو کنٹرول سسٹم کے برعکس، جہاں نچلے درجے کے حلقے جوہری ہتھیار  لانچ کر سکتے ہیں، جزوی طور پر تفویض شدہ سیگمنٹ  کوممکنہ جوہری حملے کے لیے  پھر بھی سیاسی منظوری کی ضرورت ہو گی۔ 

اس نظریے کے لیے دو اہم انتباہات ہیں۔اوّل،  یہ قسم بنیادی طور پر خطے میں جاری پیش رفت پر مبنی ہے؛ اگر بھارت اور چین  حالتِ امن میں اپنے تمام وار ہیڈزتعینات کرلیں، تو ان کے این سی ٹوسسٹمز تکنیکی طور پر ڈیلیگیٹو کے طور پر شمارکیے جائیں گے۔  دوم، تزویراتی زنجیر کی مد میں پیدا ہونے والے دباؤ ہمیشہ خطی انداز میں نہیں بڑھتے۔ 

غیر یقینی سمجھوتے  

ریاستیں ہمیشہ اپنے جوہری اسلحے کی چوکسی اور ساکھ بڑھانے اور غیر ارادی کشیدگی سے بچنے کے درمیان ایک غیر یقینی سمجھوتے کا سامنا کرتی ہیں۔اپنے اسلحے کی جنگی چوکسی بڑھانے کی کوشش میں ریاستیں اپنے مخالفین کو بھی ایسی ہی کوششیں کرنے کی ترغیب دے سکتی ہیں۔ یہ بحران کے دوران مخالف کی طرف غیر مستحکم  کرنے والےاشارے بھی بھیج سکتا ہے۔  

  اگرچہ بھارت اپنی کم سےکم قابل اعتبار مزاحمت کے اہداف کو مضبوط کرنے کی کوشش کرتا ہے، وہ یہ توقع نہیں کر سکتا کہ جوہری مزاحمت اسے چین کے ساتھ روایتی جھڑپوں میں مدد دے گی، جیسا کہ 2017 میں ڈاکلام میں 73 دن کی فوجی کشیدگی اور 2020 میں گلوان وادی میں مہلک جھڑپوں سے ظاہر ہوا۔بھارت اپنی نظریاتی پوزیشن اور جوہری سطح کےاستحکام، دونوں کے سبب  کسی علاقے سے محروم ہو جانے کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال نہیں کر سکتا۔  
دوسری جانب ایک انتہائی چوکس جوہری مزاحمت برقرار رکھنا نئی دہلی کو اسلام آباد کو روکنے میں مدد دے سکتا ہے، اس بات کا اشارہ دیتے ہوئے کہ اول الذکر کی روایتی صلاحیت کو بعد الذکر کی کسی بھی جوہری دھمکی سے مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔

تاہم ایسے جوہری خطرات کی ساکھ کو بہتر بنانا تزویراتی زنجیر میں غیر ارادی کشیدگی کا عنصر لے آتا ہے۔ جب  چین اور بھارت مقامی لچک پذیری متعارف کراتے ہیں، وہ بیک وقت غیر ارادی کشیدگی کے خطرے کو بھی بڑھا دیتے ہیں۔مثلاً  پاکستان حالتِ امن میں اپنے جوہری ہتھیاروں (سے متعلقہ اختیارات)  کو تفویض کرنے کے لیے دباؤ محسوس کر سکتا ہے، جس سے اس کے کمانڈ اور کنٹرول مزید غیر مرکزیت کا شکار ہوں گے، چوکسی کے درجے بڑھ جائیں گے اور بحری  صلاحیتوں کو بہتر بنایا جائے گا تاکہ کسی بھی محسوس شدہ کمزوری سے بچا جا سکے۔ 

ان خطرات کو کم کرنے کے لیے، جنوبی ایشیائی جوہری طاقتوں کو اعتماد بڑھانے والے اقدامات (سی بی ایمز) کو ترجیح دینی چاہیے، موجودہ دوطرفہ معاہدوں کو نئے فوجی دوائرِ کارمیں بڑھانا چاہیے اور شفافیت کے مذاکرات میں تیزی لانی چاہیے۔ روایتی سی بی ایمز کو میزائل اُڑان کے ٹیسٹ، بالخصوص بحری میزائل  (اُڑان)  کی پیشگی اطلاع دینے تک بڑھایا جانا چاہیے۔ریاستوں کے درمیان خاص بحران رابطہ ہاٹ لائنز قائم کرنا ایک ترجیح ہونی چاہیے۔ 
مزید  براں، موجودہ معاہدوں میں ترمیم کی جانی چاہیے تاکہ نئے دوائرِ کار  میں، جیسے کہ سائبر، خلا، نیو جنریشن میزائل اور خودکار سسٹمز، جہاں روایتی اور جوہری الجھاؤ سب سے زیادہ خطرناک ہو سکتے ہیں، طرزِ عمل کے اصول قائم یا ان پر اتفاق کیا جا سکے۔حرفِ آخر، فوج سے فوج کے مابین باقاعدہ  تبادلے کے ذریعے شفافیت کی بات چیت کو اہمیت دینا غلط فہمی اور غیر ارادی کشیدگی کو روکنے کے لیے ضروری ہوگا۔  

***

This article is a translation. Click here to read the article in English.

Image 1: Indian Ministry of Defense via Wikimedia

Image 2: Acroterion via Wikimedia

Share this:  

Related articles

दक्षिण एशिया का परमाणु परिवर्तन: नई दिल्ली और बीजिंग शांति काल के निषेधन को क्यों लांघ रहे हैं Hindi & Urdu

दक्षिण एशिया का परमाणु परिवर्तन: नई दिल्ली और बीजिंग शांति काल के निषेधन को क्यों लांघ रहे हैं

स्टॉकहोम इंटरनेशनल पीस रिसर्च इंस्टीट्यूट (एसआईपीआरआई) की वार्षिक रिपोर्ट-2026 से…

इस्लामाबाद मेमोरेंडम के बिना दुनिया  Hindi & Urdu

इस्लामाबाद मेमोरेंडम के बिना दुनिया 

अमेरिका और ईरान के बीच तनाव चरम पर पहुँच रहा…

پسِ پردہ: پاکستان کی ہنگور آبدوز اور جنوبی ایشیا میں بحری مزاحمت Hindi & Urdu

پسِ پردہ: پاکستان کی ہنگور آبدوز اور جنوبی ایشیا میں بحری مزاحمت

پاکستان نے 30 اپریل کو چین کے رسمی دورے کے…