جنوب ایشیائی جمہوریت کی تشخیص: سال۲۰۱۸ کا ایک جائزہ


سال ۲۰۱۸ کے دوران جنوب ایشیا میں جمہوریت کی بنیادیں بتدریج مضبوط ہو جانے کے واضح رجحانات دیکھے گئے ہیں۔ جنوب ایشیا کی اکثر جمہوریتیں نہ تو نظریاتی طور پر خامیوں سے پاک ہیں اور نہ ہی عملیاتی طور پر مکمل ہیں۔ پھر بھی ۲۰۱۸ میں یہ دیکھا گیا ہے کہ یہ خطہ نہ صرف جمہوریت کو قبول کر رہا ہے بلکہ برسہابرس سے ہونے والے تنازعات، اختلافات اور نامناسب طرزِ حکومت کے اثرات کو بھی برداشت کر رہا ہے۔

جنوب ایشیائی جمہوریت کی تاریخ نشیب و فراز سے بھری پڑی ہے۔ اس خطے کے اکثر ممالک میں جمہوریت ابھی تک نازک کیفیت میں ابتدائی مراحل سے گزر رہی ہے۔ سری لنکا اور بھارت، خطے کے دو ایسے ملک ہیں جہاں پچھلے کئی سالوں سے اتنخابات باقاعدگی سے منعقد ہوتے رہے ہیں۔ لیکن دوسرے چھ ممالک۔۔۔افغانستان، بنگلہ دیش، بھوٹان، مالدیپ، نیپال اور پاکستان۔۔۔دسمبر ۲۰۱۷ اور دسمبر ۲۰۱۸ کے دوران الیکشن کے جمہوری عمل سے گزرے ہیں۔ باوجود اسکے کہ آمریت پسندی، سول اور سیاسی حقوق کی ناپیدی، اور مختلف النوع دہشت گردی و ہنگامہ آرائی اس خطے کا خاصہ ہیں، انتخابات کے متعلق پیمانے، جیسے ووٹرز کا انتخابی عمل میں حصہ لینا اور پارٹی سسٹم کا ترقی کرنا ایسے رجحانات ہیں جو اس خطے کے شہریوں میں جمہوری شعور کے مضبوط تر ہونے کا ثبوت پیش کرتے ہیں۔

ووٹرشرکت اور ووٹر ٹرن آؤٹ

انتخابی عمل میں عوام کا حصہ لینا، جمہوریت کی مضبوطی اور انتخابی عمل میں یہ اعتماد کے یہ سسٹم ووٹر کے مفادات کے  لئے کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، کو جانچنے لے لئے ایک اہم پیمانہ سمجھا جاتا ہے۔ جنوب ایشیا کی ۱.۸بلین آبادی میں سے تقریباً ۴۲۷.۷۶ ملین لوگوں نے پچھلے سال ووٹ ڈالے۔ افغانستان میں رجسٹرد ووٹرز کی تعداد تقریباً ۹ملین تھی جبکہ بنگلہ دیش میں ۱۰۳.۸ملین، بھوٹان میں ۴۳۸۶۶۳، مالدیپ میں ۲۶۲۱۳۵، نیپال میں ۱۵.۴ملین اور پاکستان میں انکی تعداد ۱۰۵.۹۵ملین تھی۔

اکثر ممالک میں وقت گزرنے کے ساتھ، ووٹر ٹرن آؤٹ میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ افغانستان کے پرلیمانی انتخابات میں ٹرن آؤٹ تقریباً ۴۵.۴فیصد رہا جبکہ ۲۰۱۰ میں یہ صرف ۳۵.۱۴فیصدتھا۔ سرکاری اندازوں کے مطابق بنگلہ دیش میں بے پناہ اضافے کے ساتھ ٹرن آؤٹ ۸۰ فیصد بتایا جا رہا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں ۲۰۱۰ میں ٹرن آؤٹ صرف ۵۱.۳۷فیصد تھا۔ بھوٹان میں ووٹر ٹرن آؤٹ ۲۰۱۳ کے۶۶.۱۳فیصد سے بڑھ کر ۲۰۱۸ میں ۷۱.۴۶فیصد ہو گیا۔ نیپال میں ووٹر ٹرن آؤٹ ۷۸.۲فیصد تھا جو کہ ۲۰۱۳ کے ٹرن آؤٹ ۷۷.۶فیصد سے تھوڑا زیادہ ہے۔ پاکستان میں پچھلے دو انتخابات سے ووٹر ٹرن آؤٹ نصف کے لگ بھگ ٹھہرا ہوا ہے۔ ۲۰۱۳ میں ٹرن آؤٹ ۵۳.۶۲فیصد تھا جبکہ ۲۰۱۸ میں یہ ۵۰.۱۴فیصد تھا۔۲۰۱۸ میں ہونے والے ان انتخابات میں ووٹرٹرن آؤٹ مستحکم دکھائی دیتا ہے، بلکہ کچھ اضافہ بھی، اور یہ استحکام خطے کے لئے ایک خوش آئند علامت ہے۔ 

جنوبی ایشیا میں پارٹی سسٹم 

ایسے ملک جو ابھی تک جمہوری نظامِ حکومت کے طور طریقوں کو اپنانے کے عمل سے گزر رہے ہوں وہاں سیاسی پارٹیوں کی تعداد جو انتخابی مقابلے میں ایک دوسرے کا سامنا کر رہی ہوں، اس بات کا اشارہ دیتی ہیں کہ وہاں کے لوگ اپنی جمہوریت کے پھلنے پھولنے میں دلچسپی رکھتے ہیں تاکہ وہ مقابلہ کے اس سسٹم سے فائدہ اٹھا سکیں اور اپنے مفادات کے لئے اپنی آواز اٹھا سکیں۔ اس مرتبہ افغانستان میں ۸۴سیاسی پارٹیوں نے ووٹ حاصل کرنے کے لئے مقابلہ کیا جبکہ ۲۰۰۹ میں وہاں رجسٹرڈ پارٹیوں کی تعداد صرف ۸۰تھی۔ بنگلہ دیش کے ۲۰۱۳۔۲۰۱۴ کے پارلیمانی انتخابات میں حزبِ اختلاف کے بائیکاٹ کی وجہ سے صرف ۱۲سیاسی پارٹیوں نے حصہ لیا جبکہ ۲۰۱۸ کے حالیہ انتخابات میں ملک کے الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ ۳۹سیاسی پارٹیوں نے الیکشن میں مقابلہ کیا۔ بھوٹان میں سیاسی جماعتوں کی تعداد پچھلے الیکشن کے مقابلے میں پانچ سے گھٹ کر چار ہو گئی۔ نیپال میں نئے آئین کے تحت ۹بڑی سیاسی جماعتوں نے مقننّہ میں سیٹیں حاصل کیں جبکہ پچھلی آئین ساز اسمبلی میں سیاسی پارٹیوں کی تعداد ۳۰تھی۔ پاکستان کے ۲۰۱۸ کے الیکشن میں ۱۲۰پارٹیاں مقابلے میں آمنے سامنے ہویئں جبکہ ۲۰۱۳ کے الیکشن میں ان کیتعداد۱۱۲ تھی۔ خطے میں ان ممالک میں سیاسی پارٹیوں کی کل تعداد عوام میں جمہوری مقابلہ بازی کے مثبت رجحان کو ظاہر کرتی ہے اور سیاسی پارٹیاں مختلف النوع آبادیوں اور ان کے گوناگوں مفادات کی نمائندگی کرتی ہیں۔ تاہم بنگلہ دیش، نیپال، اور پاکستان جیسے ممالک کی بہت سی چھوٹی پارٹیاں مطلوبہ تعداد میں ووٹ حاصل نہ کرنے کی وجہ سے الیکشن میں سیٹیں حاصل کرنے میں ناکام رہیں۔

سفرِ دراز ابھی باقی ہے؟   

جنوبی ایشیا ابھی تک آزاد خیال جمہوری اقدار رکھنے والا خطہ کہلانے سے بہت دور ہے، حتیٰ کے بھارت اور سری لنکا میں ہونے والے واقعات ان قوموں میں جمہوریت کے ارتقا کے آئینی ہونے کے بارے میں سوال اٹھاتے ہیں۔ بھارت میں ”میجاریٹیرین ازم“ (majoritarianism) کے بڑھتےہوئےرجحانات اور آئینی اداروں کے زوال نے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کو گہناد دیا ہے۔ سری لنکا میں آئینی بحران، جس میں وزیرِ اعظم رانیل وکریمیے سنگھے کو صدر میتھر یپالا سیریسینا نے غیر قانونی طور پر برطرف کیا اور سری لنکا سپریم کورٹ نے سیریسینا کا فیصلہ منسوخ کر کے وزیرِ اعظم کو بحال کیا، نے جزیرے پر آباد اس قوم کو سیاسی غیر یقینی سے دو چار کر دیا ہے اور خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد امن قائم کرنے اور تعمیروترقی کی کوششوں کو خطرے میں ڈال دیا۔

خطے کے جمہوری طور پر کم ترقی یافتہ ممالک میں عوام کی بنیادی جمہوری آزادی کو کئی منفی قوتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جیسا کہ جنوبی ایشیا کے گذشتہ آمرانہ نظام، فوج میں طاقت کا اکھٹا ہونا اور سیاسی اور سول آزادی کو نظر انداز کرنا۔ پاکستان میں عوام الیکشن میں پورے انہماک سے شامل ہوئے، الیکشن جلسوں میں بڑی تعداد میں شرکت کی اور عوام کو متحرک کرنے کے لئے سوشل میڈیا کو ایک پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کیا۔ تاہم اس ملک میں ملٹری اسٹیبلشمنٹ خارجہ پالیسی اور سیکورٹی پالیسی میں فیصلہ سازی کا اختیار اپنے پاس رکھے ہوئے ہے، اور اس کی وجہ سے وزیرِ اعظم عمران خان کی ریاستی سربراہ کی پوزیشن پر کچھ حدیں مقرر ہو گئی ہیں۔ پاکستان کے ۲۰۱۸ الیکشن میں انتخابات میں فوج کی مداخلت کے خلاف کچھ عوامی مظاہرےبھی ہوئے۔پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈولپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی کے مطابق قبل از پولنگ انتخابی عمل میں کچھ ساز بازی اور نا انصافی ہوئی اور اس میں میڈیا کا کریک ڈاؤنبھی شامل ہے۔

بنگلہ دیش میں حال ہی میں پھر سے منتخب ہوئی وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد کا جھکاؤ روز بروز آمریت کی طرف بڑھتا جا رہا ہے۔ دسمبر ۲۰۱۸ کے الیکشن کو وسیع پیمانے پر ہنگامہ آرائی اور حزبِ اختلاف،  حکومت مخالف تنظیمیں اور آزاد پریس کریک ڈاؤن کی زد میں رہے۔ اس وجہ سے ۱۷ شہری انتخابات منسلک ہنگامہ آرائی میں موت کا شکارہوئے۔ آپوزیشن پارٹیوں پر ریلیاں نکالنے پر پابندیاں لگائی گئیں اور آئینی اداروں، جیسے الیکشن کمیشن پر دباؤ ڈالا گیا۔ شیخ حسینہ نے کسی بھی قسم کے عوامی اختلاف کو بھر پور طریقے سے دبایا، حتیٰ کہ نامور سیاسی کارکن شاہد العالم کو مظاہرہ کرنے والے طلباء کی حمایت کرنے پر گرفتار کیا جو کہ پچھلے سال حکومت مخالف روڈ سیفٹی مظاہروں میں مصروف تھے۔

اگرچہ افغانستان میں بہت بڑی تعداد میں لوگ  ووٹ ڈالنے آئے لیکن طالبان کےخطرے، الیکشن میں کی گئی ہنگامہ آرائی، اور ناکارہ الیکشن مشینری اور بد نظامی جیسے مسائل نے ملک کے انتخابی عمل کو بری طرح متاثر کیا۔مختلف ذرائع کے مطابق سیکورٹی فورسز کے ۲۸ اہل کار اور ۵۰ سولین شہری طالبان حملوں کی وجہ سے ہلاک ہوئے جبکہ ملک بھر میں ۴۰۰ سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ صوبہ قندھار کے سیکورٹی چیف جنرل عبدالرازق کے قتل کی وجہ سے جنوبی صوبے میں الیکشن ملتوی کرنا پڑے۔

خلاصہ   

جیو پولیٹیکل مجبوریوں، بڑی طاقتوں کی رقابتوں، خطے کی کشیدگیوں، قومی اور معاشی بحرانوں، علاقی قومیتوں کے نسل پرستی پر مبنی مقابلوں کی دلدل میں پھنسے جنوب ایشیا خطے کی یہ کہانی، عوام میں ابھرتی جمہوری شعور سے کم ہی فائدہ اٹھا سکی ہے۔ اگرچہ اس خطے میں جمہوریت کے ارتقا کے موضوع پر کھل کر بحث و مباحثہ کرنا ایک دشوار کام ہے اور اس راہ میں بہت سی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن جمہوریت کی جڑیں مضبوط ہونے کی وجہ سی عوام کو اپنی پسند کا حق رکھنے کا موقع مل رہا ہے۔

بقول پولیٹیکل سائینسدان پال سٹینیلینڈ  ”جنوبی ایشیا کے تجربے سے یہ معلوم ہوا ہے کہ جمہوریت ترقی کا سفر بغیر دشواری (یا مخالفت) کے طے نہیں کر سکتی اور نہ ہی یکساں اور ہموار طریقے سے واپسی کا سفر کاٹتی ہے۔۔۔اس کے سفر کا انداز اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ آزاد جمہوریت کو مضبوط کرنے کے لئے کسی بھی مناسب موقع سے بروقت فائدہ اٹھانا کتنا ضروری ہے اور اسی طرح کسی ممکنہ خطرے سے بروقت مقابلہ کرنا اس سے پہلے کہ وہ پھیل جانے میں کامیاب ہو جائے۔“ جنوب ایشیائی جمہوریت کی بقا کا انحصار انتخابی عمل کے لگاتار ہوتے رہنے میں تھا اور آئندہ بھی اسی میں رہے گا۔ 

Click here to read this article in English.

Image: USAID Afghanistan

Posted in , Afghanistan, Bangladesh, Bhutan, Elections, India, Maldives, Media, Military, Nepal, Pakistan, Politics, Security, Sri Lanka

Avishek Jha

Avishek Jha

Avishek Jha is a Programmes Fellow with Academe India. He is a Young India Fellow, Class of 2018, from Ashoka University, India. Prior to the Fellowship, he pursued his Masters in International Relations and Bachelors in Political Science from Jadavpur University, Kolkata, India. He has been a journalist and a research analyst, associated with different organizations like ThePrint in New Delhi, the Sunay Policy Advisory in Gurgaon and the Centre for Public Policy Research in Cochin among others. His areas of research include Indian politics and South Asia.

Read more


Continue Reading




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *