جولائی ۲۰۱۸ کے انتخا بات اور ممکنہ سیاسی منظرنامہ 

پارلیمانی نظام حکومت میں ا نتخابات کا انقعاد جمہوری تسلسل اور حکومت کی پر امن تبدیلی کے لیے انتہائی اہم ہے۔ ۱ ۳ مئی کو پاکستان میں دوسری جمہوری حکومت نے ا آئینی مدت مکمل کی اور اقتدار کی باگ ڈور نگران حکو مت کے سپرد کی ۔ پاکستان جہاں مارشل لا ڈ کٹیٹر عوام کی منتخب حکو متوں کو اقتدار سے ہٹاتے رہیں ،ایسے میں دوسری جمہوری حکومت کا دھرنوں و عدالتی ایکٹوزم  کے باوجود پانچ سال مکمل کرنا خوش آئند ہے۔ عام انتخابات کے لیے ۲۵ جولائی کی تاریخ مقرر کی گئی ہے ۔ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں نے انتخابی مہم کا آغاز کر دیا۔ مسلم لیگ (ن) کی پانچ سالہ کارکردگی ، پاکستان تحریک انصاف کی کرپشن مخالف مہم ، ختم نبوت کا معاملہ ، اور علاقائی سیاست کو مدنظر رکھا جائے تو انتخابی نتائج کے نتیجے میں مندرجہ ذیل سیاسی منظر نامے کے امکانات ہیں۔
 ممکنہ سیاسی منظرنامے اور اس کے اثرات

پاکستان تحریک انصاف کی کامیابی

پاکستان تحریک انصاف انتخابات میں اپنی ممکنہ جیت کو لے کر بہت پر امید ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کو حکومت بنانے کے لیے مطلوبہ سیٹیں مل جائیں گیں اور وہ کسی بھی پارٹی سے اتحاد کیے بغیر حکومت تشکیل کر لے گی ۔ پاکستان تحریک انصاف نے اپنی انتخابی مہم کا آغاز اپنی حکومت کے پہلے ۱۰۰ دن کے لائحہ عمل کے اعلان سے کر دیا ہے۔پاکستان کی سیاسی تاریخ میں الیکٹیبلز کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتااور مختلف سیاسی جماعتوں کے الیکٹیبلز نے تحریک انصاف میں شمولیت حاصل کر لی ہے۔ الیکٹیبلز وہ سیاسی امیدوار ہوتے ہیں جنکی اپنے علاقے میں ذات ،برادری کی سیاست کی وجہ سے گرفت مظبوط ہوتی ہے اسی وجہ سے سیاسی پارٹی ٹکٹ دیتے وقت نظریاتی کارکن پہ الیکٹیبلز کو ترجیح دیتی ہے۔ کیونکہ پارٹی ایسے شخص کو ٹکٹ نہیں دیتی جس کا اپنے علاقے میں تنظیمی ڈھانچہ نہ ہو یا وہ علاقے میں اثر رسوخ نہ رکھتا ہو۔

 دوسری طرف مسلم لیگ (ن) کے مختلف اہم سیاسی رہنماوں کی الیکشن ٹریبو نلز اور سپریم کورٹ کی طرف سے نااہلی بلخصوص نوارشریف اور مریم نواز کو نیب عدالت کی طرف سے بلترتیب ۱۰ اور ۷ سال کی سزا  کابھی پاکستان تحریک انصاف کو فائدہ ہو گا ۔ مسلم لیگ (ن) کی انتخابی مہم میں نواز شریف کی غیر حاضری کی وجہ سے مسلم لیگ (ن)کے ووٹر میں بڑھتی بے چینی و مایوسی انتخابی نتائج پہ منفی اثرانداز ہو سکتی ہے، جس کا فائدہ ان کے مخالفین کو ہو گا۔ مگر سوال یہ ہے کہ اگر پاکستان تحریک انصاف کو بھی حکومت بنانے کے بعد فعال و متحرک عدالتوں کا سامنا کرنا پڑا جس کا سامنا مسلم لیگ (ن) کو ہے تو کیا عمران خان انتظامی معاملات میں عدالتی مداخلت پہ سر تسلیم خم کریں گے؟ اسی طرح خارجہ پالیسی کے معاملات میں ریاستی اداروں کی ڈکٹیشن قبول کریں گے یا نہیں؟ اور اگر تحریک انصاف الیکشن ہار جاتی ہے تو کیا وہ ا نتخابی نتائج قبول کرے گی یا ایک بار پھر احتجاجی سیاست اپنائے گی؟ پاکستان کی کمزور معشیت دھرنوں کے منفی معاشی اثرات کی  متحمل نہیں۔

مسلم لیگ (ن) کی جیت

دوسری صورت میں مسلم لیگ (ن) تمام تر سیای مخالفت ، کرپشن کے کیسز ،اداروں کے ساتھ ٹکراؤ کے باوجود ا نتخابات جیت جائے گی۔ علاقائی ترقی(سڑکیں)، ذاتی فوائد، اور برادری نمایاں محرکات ہیں جو ووٹر کے فیصلے پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔ یہ محرکات ووٹر کو پارٹی کے گرد اکٹھا کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) پنجاب میں تمام مخالف قوتوں کے باوجود انہی محر کات کے باعث اپنی مخالف سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں مظبوط ہے۔ پاکستان میں حکو مت کا اختیار کسے ملے گا، اس کا نحصار پنجاب میں حاصل کردہ سیٹوں پہ ہے۔ مسلم لیگ (ن) اپنے دور اقتدار میں کیے گے اہم اقدامات جن میں بجلی کے بحران پر قابو پانے کی کوشش ، دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کامیابیاں، کراچی کا امن بحال کرنا، میٹرو اور اورنج ٹرین جیسے منصوبے اور سب سے قابل ذکر سی پیک کا منصوبہ ہے جن کا کریڈٹ مسلم لیگ (ن) بجا طور پہ لیتی ہے اور اپنی ا نتخابی مہم میں ان کی تشہیر کر رہی ہے، جس کا یقینی طور پر اس کو فائدہ ہو گا۔

 مگر مسلم لیگ (ن) کی جیت کے ساتھ نوازشریف کے بیانیہ پر عوامی مہر ثبت ہو گی کہ عوام کو اپنے نمائندوں کو اقتدار میں لانے اور ہٹانے کا حق ہے کسی اور کو نہیں ۔ ایسی صورت وہ قوتیں جن کی طرف نوازشریف اشارہ کرتے ہیں کیا وہ دوبارہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو کام کرنے دیں گی؟ جس طرح سے  نیب ، سپریم کورٹ متحرک ہے اس سے مسلم لیگ (ن) کے پیش کردہ تاثر کو تقویت مل رہی ہے کہ ان کے خلاف ”پری پول“ دھاندلی کی جا رہی ہے۔ نیب کو یہ تاثر ختم کرنے کی ضرورت ہے۔

ممکنہ معلق پارلیمنٹ

تیسری صورت میں اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ کوئی بھی پارٹی اکثریت حاصل نہیں نہ کر سکے اور ایک معلق پارلیمنٹ وجود میں آئی گی، اور سیاسی جوڑ توڑ کے ذریعے حکومت قائم کی جائے۔ مگر ایسی حکومت کے پاس فیصلہ سازی کا اختیار کس حد تک ہو گا اور کیا وہ پاکستا ن کی موثر خارجہ پالیسی بنا سکے گی یا یہ ایک کٹ پتلی حکومت ہو گی جس کی ڈور کسی اور کے ہاتھ میں ہو گی۔

۲۰۱۸ پاکستان میں انتخابی بلوغت کا نیا مرحلہ ہے ، جس میں  شخصیت پرستی کی سیاست کا اختتام ہو جائے گا اور افراد پارٹی کی علامت نہ رہیں گے بلکہ پارٹی اور اسکا تنظیمی ڈھانچہ اور اس کی فیصلہ سازی کی قوت اس کی جیت میں اہم کردار ادا کریں گی۔ شفاف انتخابات کا انقعاد جمہوری تسلسل کے لیے ناگزیر ہے اور ا س کے لیے الیکشن کمیشن کو مثبت کردار ادا کرنا ہو گا۔ پاکستان کی جغرافیائی اہمیت کے پیش نظر انتخابی نتائج انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ ان نتائج کے اثرات خطے کی امن و ترقی پر اثزانداز ہونگے۔ مظبوط وفاقی حکومت جس کو عوامی تائید حاصل ہو پاکستان میں جمہوری تسلسل کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

***

Image 1: Wiqi22 via Wikimedia Commons

Image 2: Shehbaz Sharif via Flickr

Posted in , Civil-Military Relations, Economy, Elections, Energy, Militancy, Military, Pakistan, Pakistan Elections 2018, Policy, Politics, Security

Kishwar Munir

Kishwar Munir

Kishwar Munir is a Research Associate & Lecturer at School of integrated Social Sciences at the University of Lahore. Formerly, she was an Assistant Professor at Hajvery University in Lahore, Pakistan as well as a doctoral candidate in the Department of Political Science, University of Punjab, Pakistan. She has taught a course titled Political System: Turkey, China, and India at the University of Punjab. Her research interests include terrorism, regional and global security issues, and domestic politics and foreign policy of India and Pakistan. She is an Urdu columnist at Jehan-e-Pakistan. She was an SAV Visiting Fellow in July 2017. She can be contacted at kishwarmunir786@gmail.com.

Read more


Continue Reading




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *