pakistan_missile_technology_weapon_deadly_missile_rocket_warfare_defence-499202.jpgd-2-1095×616

نینا ٹینن والڈ، اسٹمسن سینٹر کے لیے اپنے حالیہ تحقیقی مقالے میں جنوبی ایشیا میں غیر اعلانیہ جوہری احتراز یا جوہری ہتھیاروں کے استعمال میں پہل سے خود کو باز رکھنے کی روایت کا بصیرت آموز تجزیہ پیش کرتی ہیں۔ مربوط انداز میں تحریرشدہ یہ مقالہ پاکستان اور بھارت دونوں کے جوہری مملکت کا درجہ پانے کے بعد سے ان کے جوہری رویے، اعلانات اور ڈاکٹرائن کا جائزہ لیتا ہے۔ دستیاب مواد کے وسیع تر مطالعے کی بنیاد پر وہ یہ نتیجہ اخذ کرتی ہیں کہ یہ احتراز پاکستان میں کمزور ہے اور بھارت میں کمزور پڑ رہا ہے، جس کی بڑی وجہ بعض اندرونی عناصر ہیں اور کسی حد تک یہ وجہ ہے کہ دونوں کی ملکیت میں جوہری ہتھیاروں کو ابھی مختصر عرصہ بیتا ہے۔

 ایک اور نقطہ نگاہ پیش کرتے ہوئے میری دلیل یہ ہے کہ یہ عناصر اس نتیجے کو سہارا نہیں دیتے ہیں۔ درحقیقت جوہری احتراز نہ تو پاکستان میں کمزور ہے اور نہ ہی بھارت میں یہ دباؤ میں ہے۔ اس کے بجائے میں ان کی اس دلیل پر زیادہ توجہ دوں گی کہ ”احتراز ہرجگہ خطرے کا شکار دکھائی دیتا ہے۔“ لہذا عالمی ماحول جو کہ بعض قسم کے جوہری رویے اور لہجے کے استعمال کی  زیادہ اجازت دیتا دکھائی دیتا ہے، اسی کی پیروی کرتے ہوئے  پاکستان اور بھارت میں بھی احتراز  کمزور پڑتا دکھائی دیتا ہے حالانکہ یہ دونوں ریاستوں میں بدستور ٹھوس ہے۔

قبل اس کے کہ  اس احتراز کے حوالے سے دونوں ریاستوں کے خیالات کو علیحدہ علیحدہ جانچا جائے، ایک عمومی نکتہ بیان کیے جانے کی ضرورت ہے۔ سرد جنگ میں شامل قوتوں کی جانب سے  اپنائی گئی جوہری ہتھیاروں کے عدم استعمال کی روایت  جس نے جوہری احتراز کے تصور کو جنم دیا، اسے نظریاتی حریفوں کے درمیان حائل جغرافیائی فاصلے کی حمایت حاصل تھی نیز پراکسی لڑائی کی سہولت مئیسر تھی۔ اپنی سرزمین پر علاقائی محاذ آرائی جو جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا موجب بن سکے، وہ عملی طور پر غیر حاضر تھی۔ دوطرفہ معاہدے ”جنہوں نے بحران سے نمٹنے کے لیے بعض روایات اور اصولوں کو قائم کیا،“ انہوں نے بھی  حریفوں  کو اپنے ہتھیاروں کے  استعمال میں ہوشمندی سے کام لینے اور دوسرے فریق کو کسی قسم کی برتری حاصل کرنے سے روکے رکھنے میں کردار ادا کیا۔  جوہری ہتھیاروں پر مفاہمت کو یقینی بنائے رکھنے کے سبب اس لائحہ عمل نے ہتھیار استعمال نہ کرنے کی روایت کو برقرار رکھا اور یوں یہ پابندی مضبوط تر ہوگئی۔

اس کے برعکس جنوبی ایشیا میں جوہری طاقتیں جغرافیائی لحاظ سے ایک دوسرے سے جڑی ہوئی اور غیرحل شدہ علاقائی تنازعوں کی تاریخ رکھتی ہیں۔ مزید براں ایک جوہری ریاست کی جانب سے دوسری کے خلاف دہشتگردی کی حمایت اس میں ایک نئی جہت کا اضافہ کرتی ہے۔ سلامتی کی یہ پیچیدہ کیفیت جنگ کے امکانات کو نمایاں طور پر بڑھاتی ہے جو جوہری سطح تک جاسکتی ہے جو کہ اس احتراز کو ختم کرسکتی ہے۔بہرصورت ،خود کو باز رکھنے کی روایت پر عمل جاری ہے۔ یہ جوہری خطرات سے آگہی کو ظاہر کرتا ہے اور اس جوہری احتراز کو مضبوطی بخشتا ہے حالانکہ واشنگٹن-ماسکو طرز پر توازن کے لیے کسی قسم کے انتظامات بھی نہیں کیے گئے ہیں۔

جوہری احتراز پر حکمت عملی کے نکات- بھارت

ٹینن والڈ یہ اعتراف کرتی ہیں کہ بھارت میں جوہری احتراز کا کڑا احساس پایا جاتا ہے۔ تاہم وہ اس پابندی کے بھارت میں کمزور پڑنے کے لیے دو پیش رفتوں کی نشاندہی کرتی ہیں جن میں نو فرسٹ یوز (این ایف یو) سے ڈاکٹرائن کی سطح پر مسلسل دوری  اور زیادہ جارحانہ جوہری رویہ اپنانا شامل ہیں۔ تاہم ان پیش رفتوں کو سیاق و سباق کے اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ مختلف نتیجہ کلام کی جانب لے جاتی ہے۔

ٹینن والڈ کی جانب سے شناخت کردہ این ایف یو سے ”ڈاکٹرائن کی سطح پر دوری“ بیانات سے اخذ کی گئی ہے۔ ان میں سے بعض بیانات ان افراد کی جانب سے دیے گئے جو کبھی بااثر سویلین بیوروکریٹس، عسکری و سیاسی رہنما تھے۔ اب سبکدوشی کے بعد وہ آزادانہ اپنے ذاتی خیالات کا اظہار کررہے ہیں تاہم وہ فیصلہ سازی کرنے والی رسمی کڑی نہیں ہیں۔ بعض نمایاں کھڑے سیاسی رہنماؤں مثلاً اگست ۲۰۱۹ میں موجودہ وزیر دفاع کا ایک بیان اور بعد ازاں اسی برس انتخابی ریلی میں وزیراعظم کے ایک بیان کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔ یہ دونوں بیانات اس لیے نمایاں دکھائی دیتے ہیں کیونکہ یہ بھارت، جو کہ غیرذمہ داری سے جوہری حوالے دینے کا عادی نہیں ہے، اس کی خاصیت نہیں ہیں۔ تاہم روایات سے  اس انحراف کو دو عوامل سے منسوب کیا جاسکتا ہے: سب سے پہلے تو انتخابی عمل کے لیے قوم پرستی، جو کہ جمہوریتوں میں عام ہے۔ ۲۰۱۹ میں قومی انتخابات کے ضمن میں کی گئی تقریریں پاکستان کے ساتھ تازہ تازہ ختم ہوئے بحران پر مبنی تھیں تاکہ حکمران جماعت بی جے پی کے دہشتگردی کو سبق سکھانے کے عزم کا اظہار کیا جاسکے۔ دوئم، جوہری گھن گھرج کے عادی نہ ہونے والے ممالک کے رہنماؤں کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے غیرذمہ دارانہ حوالے۔ اگر سابق صدر ٹرمپ اور روسی صدر پوٹن جوہری ہتھیاروں پر نقطہ نظر میں اس قدر عامیانہ رویہ اپنا سکتے ہیں تو ایسے میں کیا یہ حیران کن  ہے کہ یہ رجحان دوسروں تک بھی پھیل گیا؟ واضح رہے کہ بلیٹن برائے جوہری سائنسدان کی جانب سے تباہی سے فاصلے کا وقت بتانے والی گھڑی کو ۲۰۱۸ میں  دو منٹ قبل از نصف شب پر سیٹ کیا گیا تھا جس کی ایک وجہ ”امریکہ اور شمالی کوریا کی بڑھکیں اور اشتعال انگیز اقدامات“  تھے اور ۲۰۱۹ میں بھی اسی وجہ سے یہ گھڑی یہی وقت بتاتی رہی۔ نتیجے میں پیدا ہونے والی جوہری آزاد خیالی بھارتی حکام کے بیانات سے بھی جھلکتی دکھائی دی۔

تاہم یہ امر ذہن نشین رہے کہ معمول کے حالات میں بھارتی حکومت این ایف یو پر اپنے عزم پر ڈٹی رہی ہے۔ مثال کے طور پر مارچ ۲۰۲۰ میں پارلیمنٹ کے ایک اجلاس کے دوران حکومت نے اپنی این ایف یو کی پالیسی پر روشنی ڈالی تھی  اور فروری ۲۰۲۱ میں وزیر خارجہ کی جانب سے کانفرنس برائے تخفیف اسلحہ کے موقع پر اس عزم کو دوہرایا گیا تھا۔

این ایف یو سے ڈاکٹرائن کی سطح پر انحراف معمولی فیصلہ نہیں ہوگا خاص کر ایسے میں کہ جب بھارتی جوہری ڈاکٹرائن اس کی تزویراتی ثقافت پر مبنی ہو اور جس کی جھلک نہ صرف ”گاندھی کے فلسفہ ء عدم تشدد“ میں دکھائی دیتی ہو بلکہ مسائل کے حل کے لیے طاقت کے استعمال میں پہل نہ کرنے پر مبنی ہزار سالہ پرانی تہذیب سے بھی  اس کے آثار ملتے ہوں۔  لہذا اس احتراز کے ساتھ تاریخی بندھن موجود ہے۔ وہ ”برتری“ جو بھارت کو حاصل ہوتی دکھائی دیتی ہے وہ پہلے سے موجود ان عقائد کا باہمی نتیجہ ہے۔ اس احتراز کی وجہ یہ نہیں کہ اس طور پر اس کی نیت کی گئی تھی بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ استعمال میں پہل کی تشہیر پر انحصار کے بجائے این ایف یو کو اخلاقی و ضابطے کے اعتبار سے زیادہ ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔ درحقیقت بھارت نے  جوہری ہتھیاروں کی عالمی حیثیت کو کم کرنے اور جوہری ہتھیاروں سے پاک دنیا کے قیام کی جانب ایک قدم کے طور پر این ایف یو کو آفاقی حیثیت دینے کی بارہا حمایت کی ہے۔ وہ اس پابندی کو مضبوط کرنا چاہتا ہے نا کہ کمزور کرنا ۔ 

بھارت کے جارحانہ جوہری انداز اختیار کرنے پر اپنے دوسرے نکتے کی حمایت میں ٹینن والڈ اس جانب اشارہ کرتی ہیں کہ  بھارت ”پہلے سے زیادہ تیار ہونے پر زور دے رہا ہے اور اپنی جوہری سہہ رخی طاقت میں موجود خلا کو  بین البراعظمی میزائل اور جوہری ہتھیاروں سے لیس آبدوزوں کے ذریعے پر کررہا ہے۔“ لیکن یہ صلاحیتیں ایک قابل بھروسہ این ایف یو کیلئے ہیں جسے بھارت نے ۱۹۹۹ میں اپنے تحریری جوہری ڈاکٹرائن میں بیان کیا ہے۔ اس وقت اس نے ”اطمینان بخش مقدار میں، بچے رہنے کے قابل اور عملی اعتبار سے تیار جوہری قوتوں“ کی تیاری کی ضرورت کی نشاندہی کی تھی۔ ٹیکنالوجی میں بہتری کے ساتھ ساتھ، پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت ان صلاحیتوں پر کام، تجربہ اور انہیں عملی شکل دی جا رہی ہے۔

ان پیش رفتوں کی نشاندہی کے علاوہ بعض  مفکرین نے اشارہ دیا ہے کہ بھارت کی جانب سے بعض ٹیکنالوجیز جیسا کہ ”زیادہ مہارت سے عین نشانے پر حملہ کرنے والے ہتھیار اور اہداف حاصل کرنے کی صلاحیتیں“ بھارت کو ”پاکستان کو غیرمسلح کرنے کی محدود صلاحیت“ فراہم کرسکتی ہیں۔ ٹینن والڈ یہ دلیل پیش کرنے کے لیے کہ ایسے اقدامات پابندی کے کمزور پڑنے کا اشارہ دیتے ہیں ان ذرائع کا حوالہ دیتی ہیں، حالانکہ بذات خود بھارت نے جوہری حملے کے ذریعے نہتا کرنے پر کبھی بات نہیں کی ہے۔

درحقیقت بھارت کے جوہری فلسفے کو دیکھتے ہوئے جو کہ جوہری جنگ کے تصور سے باز رکھتا ہے، پاکستان کو جوہری ہتھیاروں سے ”محدود سطح پر محروم کرنے“ کی نہ تو کوئی گنجائش باقی رہتی ہے اور نہ کوئی عسکری جواز۔ بھارت نے اپنے پڑوسیوں کے برعکس ٹی این ڈبلیوز یا ایم آئی آروی سے لیس میزائلوں کے تصور کی کبھی حمایت نہیں کی۔ دوئم یہ کہ بھارت اس سب کے بجائے  روایتی ٹھیک نشانے کی ٹیکنالوجی اور بہتر انٹیلی جنس، نگرانی اور جاسوسی کا استعمال کرے گا، جیسا کہ بالاکوٹ فضائی حملے میں کیا گیا جو اتفاقیہ زد میں آکے نشانہ بننے کے امکانات کو کم سے کم تر بنانے کیلئے احتیاط سے ترتیب دیے گئے تھے۔ سوئم، بھارت یہ یقین رکھتا ہے کہ جوہری ہتھیار روایتی ہتھیاروں سے ڈرامائی طور پر مختلف ہیں۔ ٹینن والڈ یہ اعتراف کرتی ہیں کہ وہ ممالک جو جوہری اور روایتی ہتھیاروں کے درمیان فرق کرتے ہیں، ان میں احتراز کا شدید احساس موجود ہوتا ہے۔ بھارت کی جانب سے ابہام کو دور رکھنے اور غیرمتوقع جارحیت کے امکانات کو کم کرنے کی خاطر فقط اپنے بیلسٹک میزائلوں کو جوہری کردار سونپنے اور کروز میزائلوں کو روایتی میزائل کے طور پر برقرار رکھنے کے سوچے سمجھے فیصلے کو دیکھا جائے تو ایسے میں ایسا کوئی اشارہ نہیں ملتا جو اس پابندی کے نرم پڑنے کا پتہ دیتا ہو۔

 اس کے بعد ٹینن والڈ کا نتیجہ کلام کہ بھارت میں یہ پابندی نرم پڑ رہی ہے، ٹھوس زمین پر قائم دکھائی نہیں دیتا ہے۔ درحقیقت غیرذمہ دارانہ اور غیر روایتی بیانات دیے گئے ہیں  لیکن وہ خاص پس منظر میں ہیں جنہیں اوپر بیان کیا گیا ہے۔ صلاحیتوں میں اضافہ ہورہا ہے تاہم طویل عرصے سے منظرعام پر موجود دستاویز کے مطابق یہ موثر این ایف یو کے لیے بھارت کے جوہری ہتھیاروں کی بقا کے لیے ہے۔ سب سے آخر میں یہ کہ اس امر کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ ایسا ملک جو دشمن کو باز رکھنے کے بجائے سنگین جوابی اقدامات کے ذریعے  ڈیٹرنس کو برقرار رکھنے پر یقین رکھتا ہو، اس کے لیے پابندی بدستور اہمیت کی حامل رہے گی۔

ٹینن والڈ یہ دلیل دیتی ہیں کہ پاکستان میں جوہری احتراز کا تصور اس کی جوہری قوم پرستی اور اس تاثر کی وجہ سے کمزور ہے کہ فقط جوہری ہتھیار ہی بھارت کے خلاف ریاست کا واحد دفاع ہیں ۔ درحقیقت ۱۹۹۹ میں کارگل سے ۲۰۱۹ میں پلوامہ تک بحرانوں میں پاکستانی سربراہوں نے ایک سوچی سمجھی حکمت عملی اپنائے رکھی جو ان کے جوہری ہتھیاروں کی جانب چیخ چیخ کے اشارہ کرتی ہے  اور  بھارتی عسکری جوابی حملے کو روکنے کے لیے اس کے ممکنہ استعمال کا اشارہ دیتی ہے۔  تاہم یہ رائے قائم نہیں ہونی چاہیے کہ پاکستان کی عسکری قوتوں کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا فیصلہ اتنا جلدی یا آسان ہوگا جیسا کہ بحران میں ان کے اپنے ردعمل سے ظاہر ہوتا ہے۔ 

بھارت کو لہولہان کرنے کے لیے  سرحد پار دہشتگردی کی حمایت جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ  کسی معمولی خطرے کی صورت میں بھی جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی تشہیر یا عدم استحکام کی کیفیت پیدا کرنا پاکستان کے لیے روایتی طور پر بالادست رہنے والی بھارتی فوج کا مقابلہ کرنے کے لیے لازم ہو جاتا ہے۔ اگر پاکستان جوہری توازن کو قبول کرنے کے لیے کسی ڈاکٹرائن مثلاً ڈاکٹرائن برائے خاص مقصد یا این ایف یو  پر رضامند ہوجاتا تو وہ اس کے نتیجے میں بھارت کے ہمراہ ایک روایتی تنازعے کے خوف میں مبتلا ہے۔ چونکہ ایسی صورتحال کے امکانات کو رد کرنا ہی اس کے جوہری ہتھیاروں کا بنیادی مقصد ہے، اس لیے پاکستان ٹیکٹیکل جوہری ہتھیاروں کی تنصیب کے ذریعے خطرات کو بڑھانے اور دوہرے استعمال کے قابل میزائلوں کے ذریعے شکوک و شبہات میں الجھانے کو ترجیح دیتا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ جوہری احتراز کمزور ہے بلکہ  یہ سمجھا جاتا ہے کہ اس کی زبانی کلامی حمایت کے بجائے عدم توازن کی تشہیر ڈیٹرنس کے ضنمن میں زیادہ فائدہ مند ہوگی ۔

ٹینن والڈ بالکل درست کہتی ہیں کہ  پاکستان کی جوہری حکمت عملی سے پیدا ہونے والے خطرات ہرگزرتے بحران کے ساتھ ساتھ بڑھ سکتے ہیں۔ اسلام آباد اگرچہ  یہ سمجھتا ہے کہ وہ عدم استحکام سے نمٹ سکتا ہے، لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب بھارت فرض کیے گئے ردعمل سے ہٹ جاتا ہے جیسا کہ اس نے ۲۰۱۶ اور ۲۰۱۹ کی سرجیکل اسٹرائیکس کے موقع پر کیا۔ اس عمل کے دوران بھارت نے خطرے میں اضافے کی کیفیت کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کیا، یہ وہ رویہ ہے جو بالعموم پاکستان کی جانب سے اپنایا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں دونوں فریقوں کی جانب سے خطرہ مول لینے کے لیے غیرمعمولی آمادگی سامنے آئی۔ لیکن یہاں یہ غور کرنا اہم ہے کہ دونوں ریاستیں اس خوف سے خطرے  کو بڑھانے میں ہچکچاہٹ کا شکار تھیں کہ مبادہ یہ قابو سے باہرہوجائے۔ پاکستان نے جوابی کاروائی کی لیکن خواہ یہ طے شدہ حکمت عملی تھی کہ عسکری ٹھکانوں کو جانتے بوجھتے ٹھکانہ نہ بنایا جائے بلکہ صرف ”بھارتی جنگجوؤں کی توجہ حاصل کی جائے“ یا قسمت کا کھیل تھا کہ بم بھارتی فوجی تنصیبات پر نہ گرے اور یوں اشتعال انگیزی کے ایک نئے دور سے بچنا ممکن ہوا۔

کیا بھارت اور پاکستان جوہری پابندی کے سبب باز رہے؟ کیا وہ مستقبل میں بھی باز رہیں گے؟ گوکہ اس بارے میں حتمی رائے نہیں دی جاسکتی نیز احتراز کے حوالے سے عالمی سطح پر بیدار ہونے والے جذبات اہمیت رکھیں گے، لیکن یہ حقیقت بجا ہے کہ احتراز قابل غور عنصر ہے۔ بلاشبہ یہ اکلوتا عنصر نہیں ہوسکتا اس لیے دونوں ممالک یا کسی دوسرے پر اس کے اثرات  کو بڑھا چڑھا کے بیان نہیں کیا جاسکتا۔

عالمی جوہری ماحول کے اثرات

 جوہری استعمال کے قواعد تمام متعلقہ فریقوں کی جانب سے مشترکہ دباؤ کی بنیاد پر کمزور یا طاقتور ہوتے ہیں نا کہ کسی ایک خاص جوڑی میں اس کی موجودگی کی مدت کی بنیاد پر۔ لہذا، میں ٹینن والڈ کی رائے سے اختلاف کروں گی کہ ”نئی جوہری ریاستوں میں احتراز فطرتاً کمزور ہے“ جیسا کہ بھارت اور پاکستان میں کیونکہ ان کی عدم استعمال کی روایت محض ۲۳ برس پرانی ہے۔ اس کے بجائے بشمول جنوبی ایشیا کے، احتراز کے خوشگوار اثرات اس کے عالمی سطح پر نفاذ سےآتے ہیں۔ لیکن امریکہ روس بداعتمادی جس نے جارحانہ دفاع کے سلسلے کو ”معمول“ بنایا اور امریکہ شمالی کوریا جوہری قوم پرستی دونوں نے معاندانہ خیالات کو ہی پیدا کیا ہے۔

ٹینن والڈ بالکل درست کہتی ہیں کہ جوہری احتراز کو توانا بنانا پاکستان اور بھارت کے مفاد میں ہے، جیسا کہ یہ دوسری جوہری ریاستوں کے معاملے میں ہے۔ ان کی تجاویز بامعنی ہیں لیکن یہ محض مختصر علاقائی سطح پر نہیں ہونی چاہییں۔ تمام یا پھر زیادہ سے زیادہ ریاستوں  کی جانب سے ایک مشترکہ سیاسی اعلامیہ کے ذریعے پابندی ہر جگہ پر اس احتراز کو توانا بنانے میں موثر ہوگی۔ اسی طرح ڈیٹرنس کی خلاف ورزی کے تباہ کن نتائج کے بارے میں ایسی فلموں کے ذریعے عوام کی یادداشت تازہ کی جائے جو جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے بعد کے دنوں میں معاشرتی سیاسی معاشی ماحول پر اثرات کا احاطہ کرتی ہوں ۔ یہ جوہری استعمال کے خلاف رائے عامہ قائم کرنے اور خطرات میں تخفیف کے لیے سربراہوں پر دباؤ ڈالنے میں مددگار ہوگا اور یہ وہ اقدامات ہیں جو احتراز کو مزید توانا کریں گے۔

جہاں تک بالخصوص پاکستان بھارت کے جوہری ہتھیاروں کو قابو میں رکھنے پر تجاویز کا تعلق ہے تو یہ نہ صرف سیاسی سطح پر دوطرفہ تعلقات کی موجودہ صورتحال کی وجہ سے مشکل ہے بلکہ  اس سے زیادہ پریشان کن معاملہ اس میں چین  کی شمولیت ہے جو کہ پاک بھارت جوہری حرکیات پر بلاشبہ اثرانداز ہے۔ بیجنگ کا ۲۰۲۰ میں پورے برس ہی جارحانہ رویہ اور بڑھتی ہوئی عسکری قوت نے خطرات کے بارے میں بھارت کی رائے میں اضافہ کیا ہے۔ لہذا ایسے میں پابندیوں کے بارے میں چین کی رائے کا تجزیہ ناگزیر ہے۔ عالمی قواعد کی عادتاً توہین کرنے پر مبنی اس کے رویے کو سامنے رکھتے ہوئے دیکھا جائے کہ وہ اس ممانعت کے تحت خود کو باز رکھنے کو کس نگاہ سے دیکھتا ہے؟ یہ سوال مزید تحقیق کا متقاضی ہے۔

دریں اثناء این اے سی اگرچہ جنوبی ایشیا میں موجود نہیں تاہم بھارت اور پاکستان بعض جدید بحالی اعتماد کے اقدامات (سی بی ایمز) برائے جوہری امور رکھتے ہیں: ۱۹۸۸ کا جوہری تنصیبات پر حملے نہ کرنے پر اتفاق، ۱۹۹۹ کی لاہور مفاہمتی یادداشت کے تحت بیلسٹک میزائل کے تجربے سے قبل پیشگی اطلاع اور ہاٹ لائنز کا اجراء نیز ۲۰۰۷ سے جوہری ہتھیاروں سے متعلقہ حادثے کی صورت میں دوسرے کو باخبر کرنے جیسے امور اس میں شامل ہیں۔ یہ بامعنی  سی بی ایمز کی جانب لے جاتے ہیں  لیکن بڑھتے ہوئے خطرات پر مشتمل مستقل رائے نے دوسرے فریق کے جوہری رویے پر اعتماد قائم نہیں ہونے دیا ہے۔

جنوبی ایشیا میں احتراز کے اثرات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔  بھارت اس کی اہمیت کا اعتراف کرتا ہے اور ایسا کہہ چکا ہے؛ پاکستان بھی اعتراف کرتا ہے لیکن اس کی جوہری حکمت عملی کے سبب اس کی مجبوریاں اس کو واشگاف الفاظ میں حمایت کی اجازت نہیں دیتی ہیں۔ گو کہ دوسرے ممالک کی طرح ان دو ممالک کے لیے بھی جوہری احتراز کے طاقتور ہونے یا کمزور پڑنے پر رائے کا تعلق دوسری ریاستوں خاص کر بڑی ریاستوں کے جوہری رویے سے ہے۔ یقیناً پاکستان اور بھارت کا رویہ اس رائے میں اضافہ کرتے ہیں۔ لہذا، کسی بھی خطے میں جوہری احتراز کا تخمینہ اسے عالمی پس منظر سے علیحدہ رکھ کے لگانا ممکن نہیں ہے۔

***

Click here to read this article in English.

Image 1: Pxhere

Image 2: RAVEENDRAN via Getty Images

Share this:  

Related articles

پاکستان کی سافٹ پاور میں موجود غیر استفادہ شدہ صلاحیت Hindi & Urdu

پاکستان کی سافٹ پاور میں موجود غیر استفادہ شدہ صلاحیت

وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں پاکستان کی خارجہ پالیسی…

امریکہ پاکستان جغرافیائی معاشی محور کا ادراک Hindi & Urdu

امریکہ پاکستان جغرافیائی معاشی محور کا ادراک

اپنے حالیہ دورہ امریکہ میں پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمود…

ایران سعودیہ ممکن مفاہمت پر پاکستان اور بھارت کے نقطہ نگاہ کا موازنہ Hindi & Urdu

ایران سعودیہ ممکن مفاہمت پر پاکستان اور بھارت کے نقطہ نگاہ کا موازنہ

صدر بائیڈن کی صدارتی مدت شروع ہونے کے چند ماہ…