حالیہ پاک۔بھارت بحران کشمیری حریت پسندوں کو کیا پیغام دیتا ہے؟


اس سال ۱۴ فروری کو ایک ۲۰ سالہ کشمیری حریت پسند، عادل ڈار نے پلوامہ، کشمیر میں بارود سے بھری ایک گاڑی کو بھارتی پیرا ملٹری قافلے کے ایک ٹرک کو ٹکر مار کر سنٹرل ریزرو پولیس فورس کے ۴۰ سے زائد اہل کاروں کو ہلاک کر دیا اور اس حملے میں خود بھی ختم ہو گیا۔ پلوامہ میں یہ حملہکشمیر میں پچھلی تین دہائیوں سے جاری مسلح تصادم میں یہ خونی ترین حملہ تھا۔ اس خود کش حملے کے فوری ردِ عمل میں بھارتی حکومت نے پاکستان پر جیشِ محمد کی معاونت کرنے کا الزام لگایا، جس گروہ نے یہ حملہ کروانے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ اس حملے کے کچھ دن بعد ہی بھارت نے بین الاقوامی سرحد پار کر کے پاکستان کی سر زمین کے اندر فضائی حملے کئے، جن کی تفصیلات ابھی تک غیر واضح اور متنازعہ ہیں۔

پاکستان کی جوابی کاروائی کرنے کے بعد بین الاقوامی برادری نے ان دو جوہری قوتوں کے درمیان حالات مزید سنگین ہونے پر اپنی توجہ مرکوز کی۔ جنگ کے خطرات ابھی بھی منڈلا رہے ہیں اگرچہ پاکستان نے بھارتی پائلٹ ونگ کمانڈر ابھینندن ارتھامن کو، جس کے جہاز کو پاکستان کی حدود کے اندر گرایا گیا تھا اور پائلٹ کو زندہ سلامت پاکستانی فوج نے پکڑ لیا تھا، بحفاظت بھارت کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ سرحد پار گولہ باری دونوں طرف سے ابھی بھی جاری ہے جسکی وجہ سے روزانہ کی بنیاد پر فوجی اور سولین ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔ مختلف ممالک، بشمول امریکہ، نے جنگی کاروائیوں کی شدت میں کمی لانے کے لئے کوشش کی۔

پلوامہ حملہ جنگجوؤں کے لئے اس اشارے کا نتیجہ تھا کہ مسلح گروہوں کے لئے حقِ خود ارادیت کی جدوجہد کی طرف توجہ حاصل کرنے کا واحد راستہ ششدر و حیران کرنے والے اور زیادہ سے زیادہ ہلاکتوں کا باعث بننے والے حملے ہی ہو سکتے ہیں۔ اور یہ مفروضہ درست ثابت ہوا، کیونکہ اس حملے کے فوراً بعد سفارتی سرگرمیوں میں تیزی آئی اور نظر انداز شدہ کشمیر  پر عالمی اقوام کی توجہ مرکوز ہوئی اور پاکستان و بھارت کو بھرپور جنگ کے دھانے پر لا کھڑا کیا۔ اگرچہ سفارتی سرگرمیوں میں تیزی اور اقوامِ عالم کی توجہ کو دونوں ملکوں میں جنگ چھڑ جانے کے خطرے سے براہِ راست منسلک نہیں کرنا چاہیئے بلکہ ان تمام اقدامات کا رخ اس بنیادی وجہ کی طرف کرنا چاہئے جسکی وجہ سے ایسی جنگ شروع ہونے کا خطرہ پیدا ہوتا ہے، یعنی کشمیر کا تنازعہ۔ جب تک کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوتا اس تنازعے کی وجہ سے دونوں ممالک کی افواج کا آمنا سامنا ہوتا رہے گا اور جوہری جنگ کا خوف منڈلاتا رہے گا۔

کیا کشمیر حقیقتاً کم خطرناک تنازعہ ہے؟

پلوامہ حملے سے پہلے کشمیر کا مسئلہ دیگر بین الاقوامی تنازعات کے مقابلے میں اپنی اہمیت کھوتا جا رہا تھا۔ پچھلی دہائی کی نسبت بھارت اپنے موجودہ اسنداد بغاوت مزاحمتی طریقہ کار بدولت زیادہ تعداد میں شدت پسندوں کو مار بھگانے میں کامیاب ہوتا رہا ہے۔ ان جنگجوؤں کی تربیت غیر معیاری ہوتی جا رہی ہے اور ان کے پاس اسلحہ بھی کم ہوتا ہے۔ جنگجو تنظیمیں اب مقامی لوگوں کو زیادہ تعداد میں بھرتی کر رہی ہیں اور ۹۰ کی دہائی کی نسبت جبکہ ان کو سرحد پار پاکستان سے مدد ملتی تھی، جنگجوؤں کی تربیت کا معیار گر گیا ہےاور اسلحہ میں کمی آ گئی ہے۔ کشمیریوں کی جدوجہد کو بھر پور طریقے سے سفارتی سطح پر پیش نہ کرنے پر جنگجو تنظیموں کے کمانڈر پاکستان کے روپے پر اپنی برہمی کا اظہار کر چکے ہیں۔ پلوامہ حملے کے علاوہ، پچھلی ایک دہائی میں جنگجو اپنی جدوجہد کے خلاف مزاحمتی کاروائیوں کے نقصانات اور قیمت کو اس حد تک بڑھانے میں کامیاب نہیں ہوئے کہ وہ بھارتی حکومت یا بین الاقوامی برادری کی توجہ اپنی طرف مبذول کرا سکتے۔

کچھ تجزیہ کار کشمیر کو ایککم شدت والا تنازعہ قرار دیتے ہیں کیونکہ اس میں تشدد کی کاروائیاں ایک محدود علاقے میں ہوتی ہیں البتہ اس طرح کی درجہ بندی پچھلے ستر سالوں سے ہونے والے انسانی جانوں کے نقصانات کو مدِ نظر نہیں رکھتی۔ پچھلی ایک دہائی میں ہونے والے انسانی جانوں کے نقصان کو مندرجہ ذیل فہرست میں دکھایا گیا ہے۔

 پچھلے ایک عشرہ میں ہر سال اوسطاً ۴۰۵ افراد (سولین، جنگجو، اور سیکورٹی اہلکار) ہلاک کئے گئے۔اسی عشرے کے دوران ہر سال اوسطاً ۲۹۷ لڑاکا فوجی (”کمبیٹینٹس“) مارے گئے اور یہ ہلاکتیں فوجی کاروائیوں کے دوران واقع ہوئی ہیں۔ اس لئے ”اپسالہ تنازعہ ڈیٹا پروگرام“ کے مطابق کشمیر ایک فعال تنازعہ ہے اور اگر ہلاکتوں کی سالانہ اوسط کو مدِ نظر رکھا جائے تو یہ تنازعہ ”جاری جنگ،“ جہاں جنگی کاروائیوں میں کم از کم ۱۰۰۰ ہلاکتیں ہوں، کے زمرہ کے قریب جاتا دکھائی دیتا ہے۔ البتہ کشمیر کا تنازعہ اب بھی کم شدت والا تنازعہ ہی سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ اموات پورے ایک سال کے عرصے پر پھیلی ہوئی ہیں۔

کشمیر بحیثیت جوہری فلیش پوائنٹ

اگرچہ پچھلے دس سالوں میں کشمیر میں ہلاکتیں تواتر کے ساتھ ہوتی رہی ہیں۔۔۔اور ساتھ ہی نظر انداز کی جاتی رہی ہیں۔۔۔یہ ایک ہی دن میں پیرا ملٹری فورسز کی ۴۰ ہلاکتیں تھیں جن نے پاکستان اور بھارت کو جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔ ۱۹۷۱کے بعد پہلی مرتبہ بھارت کا پاکستانی فضائی حدود میں جا کر حملے کرنے کے بعد ان دو ہمسایہ ملکوں کی افواج کا آمنے سامنے آ جانے سے تنازعہ خطرنات ترین شکل اختیار کر گیا۔

بھارتی میڈیا کے اہم عناصر اور بالی وڈ کی بہت سی نامور شخصیات نے مطالبہ کیا پاکستان کو سبق سکھانا چاہئے۔ اسی طرح پاکستان کے میڈیا کے ایک حصے نے جذبات بھڑکانے والی شہ سرخیاں لگائیں جبکہ کئی ایک عوامی نمائندوں نے جنگ لڑنے کی مخلافت کی۔ بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے اعلان کیا ان کے ملک کی افواج کومکمل آزادی ہے جبکہ پاکستان میں ان کے ہم منصب نے کہا کہ ”اس مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہئے۔“ بھارت نے اپنی فضائی حدود چندگھنٹوں کے لئے بند کیں جبکہ پاکستان نے تقریباً ایک ہفتے کے لئے۔ سری نگر میں ہسپتالوں کی چھتوں پر ریڈکراس کے نشان پینٹ کئے گئے اور لائن آف کنٹرول کے قریب دیہاتوں کو خالی کرا لیا گیا۔ عروج پر پہنچی ان تیاریوں کو دیکھ کر محسوس ہوتا تھا کہ ایک بھر پور جنگ پوری شد و مد کے ساتھ کسی بھی وقت شروع ہو سکتی ہے۔

اس لئے کشمیر کے تنازعے کی وجہ سے جنوبی ایشیا میں جوہری جنگ چھڑ جانے کے امکانات ہر وقت موجود رہتے ہیں۔ مستقبل میں بھارتی افواج کے خلاف پلوامہ حملے جیسا حملہ پھر سے الزام تراشی اور فوجوں کے آمنے سامنے آجانے جیسی خطرنات صورتِ حال پیدا کر سکتا ہے۔ درحقیقت المیہ یہ ہے: صرف سیکورٹی فورسز کی زیادہ تعداد میں ہلاکتیں ہی حکومت کی توجہ اپنی طرف کھنچتی ہیں جبکہ کشمیریوں کی ایک ایک یا دو دو ہلاکتوں کی خبر کو حالات کو معمول پر لانے کے لئے ضروری سمجھ کر بھلا دیا جاتا ہے۔

پلوامہ حملہ اس لئے جنگجوؤں کے لئے اس واضح پیغام کا نتیجہ تھا کہ منظم اور زیادہ سے زیادہ ہلکتوں کا ذریعہ بننے والے حملے ہی ایسا راستہ رہ گیا ہے جس سے وہ توجہ حاصل کرنے، اپنی جدوجہد کو جائز قرار دلوانے اور بین الاقوامی اداروں کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لئے اختیار کر سکتے ہیں۔ افغانستان میں ہونے والے واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ ایک ایسی حکمتِ عملی ہے جس سے اپنے مقصد میں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔ طالبان کے بار بار ہولناک حملوں نے، جس میں افغانستان بھر میں سینکڑوں سولین اور سیکورٹی اہلکار لقمہِ اجل بنے، امریکہ کو طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے پر مجبور کیا۔ پچھلے سترہ سالوں میں، جب سے دہشت گردی کے خلاف جنگ شروع ہوئی، اب تک صرف افغانستان میں ایک لاکھ سینتالیس ہزار (۱۴۷،۰۰۰) افراد موت کا شکار ہوئے۔

اس کے مقابلے میں کشمیر میں اتنے بڑے پیمانے پر ہلاکتیں نہیں ہوئیں اگرچہ کہ مرنے والے لوگوں کیتعداد کافی زیادہ ہے اگر ہم تین عشروں میں مارے جانے والے لوگوں کی تعداد کو اس میں شامل کریں۔ پچھلے کئی برسوں سے بھارتی ریاست کی پر تشدد بغاوت مزاحمتی حکمتِ عملی، جنگجوؤں کو مفلوج کر دینے میں کامیاب نظر آ رہی تھی جن کے ممبران اب مقامی لوگوں کے گھروں میں زبردستی داخل ہو جاتے ہیں اور مقامی پولیس اہلکاروں سے اسلح چراتے ہیں۔ بھارت کا سیکورٹی ڈھانچہ اس بارے میں بہت پر اعتماد تھا کہ ”آپریشن آل آؤٹ“ کو ۲۰۱۹ میں جاری رکھنے سے کشمیری بغاوت کا مکمل خاتمہ ہو جائے گا۔ لیکن پلوامہ حملے نے بھارت کو اپنی حکمتِ عملی کا ازسرِ نو جائزہ لینے پر مجبور کر دیا ہے۔ ان حملوں کے فوری ردِ عمل میں بھارتی حکومت نے کشمیر میں جماعتِ اسلامی، جو کہ ایک قومی اسلامی پارٹی ہے، کے خلاف بھرپور کاروائی شروع کی، اس کے قائدین کو گرفتار کیا گیا، اور پھر اس تنظیم پر پابندی لگا دی۔ حکومت نے اپنے حکم نامے میں کہا ہے کہ جماعت کے دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ گہرے رابطے ہیں اور یہ کسی وقت بھی اپنی ملک دشمن سرگرمیوں میں اضافہ کر سکتی ہے حتیٰ کہ بھارتی یونین کی سرزمین پر داعش کو تشکیل دینے کی کوشش بھی کر سکتی ہے۔

اس وقت جبکہ کشمیر میں آزادی کے حامی گروپس کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے، بین الاقوامی سطح پر ان دو ہمسایہ ممالک کے درمیان تعلقات بہتر بنانے کے لئے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک اعلامیہ جاری کیا جس میں پلوامہ حملہ کی مذمت کی گئی۔ تناؤ اور کشیدگی کی اس فضا میں اسلامی ممالک کی تنظیم، ”او آئی سی“ نے بھارتی وزیرِ خارجہ کو پہلی دفعہ اپنے اجلاس میں شرکت کی دعوت دی جسکی وجہ سے پاکستان نے اس حکومتی سربراہان کے اجلاس کا بائکاٹ کیا۔ اس سربراہی اجلاس کے بعد ”او آئی سی“ نے ایک قرارداد پاس کی جس میں کشمیر میں بھارتی سفاکانہ کاروائیوں پر نتقید کی گئی اور عمران خان کے کشیدگی میں کمی لانے کے اقدامات کو سراہا گیا۔ 

مجموعی طور پر بین الاقوامی سطح پر اس دیرینہ تنازعے کو ختم کرنے کی کوششوں سے ملے جلے اشارے ملے ہیں۔ کشمیر کے مسئلے کو مخصوص کوششوں کے ذریعے حل کرنے کے لئے ابھی مزید بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔

بین الاقوامی برادری کا ایک فیصلہ کن کردار

ایک بھر پور اور مکمل جنگ کی تیاریاں، سفارتی سرگرمیوں میں اضافہ، کشمیر کا بحیثیت جوہری فلیش پوائنٹ بین الاقوامی توجہ کا مرکز بننا اور کشمیر میں حقِ خود ارادیت کے حامی گروپس پر جبر و تشدد کیا جانا، یہ سب کچھ اس لئے ہوا کہ پلوامہ حملے میں بےمثال تعداد میں مسلح افواج کی ہلاکتیں ہوئیں۔ اتنی کثیر تعداد میں فوجیوں کے ہلاک ہونے اور بھارت میں الیکشن سر پر کھڑے ہونے کے ماحول میں جنگ کے حامیلوگوں نے پاکستان سے بدلہ لینے اور نفرت کی فضا قائم کرنے میں کامیابی حاصل کی اور بھارت بھر میں کشمیریوں پر حملے کرنے کا جواز پیدا کیا۔ اس طریقے سے پیدا شدہ کشیدگی کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کی جدوجہد کی بین الاقوامی توجہ میں مزید اضافے اور سفارتی سرگرمیوں میں مزید تیزی کا ذریعہ بنی۔

اگر پہلے کوئی شک رہ بھی گیا تھا تو جنگجوؤں کو اب یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ زیادہ ہلاکتیں ہی کشمیر کے مسئلے کو زندہ رکھ سکتی ہیں اور عالمی طاقتوں اور بین الاقوامی فورم کی توجہ حاصل کر سکتی ہیں۔ کشمیر میں مزید خون ریزی اور جنوبی ایشیا میں دو جوہری اسلحہ برادر ملکوں میں جنگ کو روکنے کے لئے بین الاقوامی برادری کو مل بیٹھ کر متفقہ طور پر یک جہتی کے ساتھ اس تنازعے کی بنیادی وجہ پر بات چیت کرنے کے لئے بھارت اور پاکستان کو مذاکرات کی میز پر کشمیر کے لوگوں کے ساتھ بیٹھنے پر مجبور کرنا ہو گا۔                        

***

Click here to read this article in English.

Image: shankar s. via Flickr

Posted in , Border, Crisis, Escalation Control, Extremism, Foreign Policy, Geopolitics, India, India-Pakistan Relations, Kashmir, Militancy, Nuclear, Pakistan, Politics, Security, United States

Basharat Ali

Basharat Ali

Basharat Ali has a post-graduate degree in Conflict Analysis and Peace Building from Nelson Mandela Center for Peace and Conflict Resolution in Jamia Millia Islamia, New Delhi. He is currently enrolled as a Ph.D. student at the same University’s Academy of International Studies. Basharat’s Ph.D. is a theoretical exploration of political violence in Kashmir. Previously, he has contributed to Outlook Magazine, Dawn, and Kashmir INK among other South Asian publications. Besides research and writing, he is passionate about reviewing books. Basharat Ali is also a Contributing Editor to Wande Magazine.

Read more


Continue Reading




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *