15155484824_d85cee16a5_o-1095×616

و ۱۹ویں صدی کے وسط سے میانمار میں بار بار پھوٹنے والی دشمنی اور تشدد نے  روہنگیا پناہ گزینوں کی بڑی تعداد کو پڑوسی ممالک میں پناہ لینے پر مجبور کیا ہے۔ اگست ۲۰۱۷ میں مسلم شورش پسندوں کی جانب سے مسلح افواج پر حملے کے جواب میں میانمار کی فوج نے روہنگیا قوم کیخلاف جارحیت کا مظاہرہ کیا جس کے بعد تشدد کی لہر پھیل گئی۔ روہنگیا قوم کے دیہاتوں پر طاقت کے بہیمانہ استعمال اور روہنگیا کی جانب سے تشدد کے آغاز کی تاحال نا معلوم وجوہات، سمجھ میں نہ آنے والا معمہ ہے نیز میانمار انتظامیہ نے روہنگیا پناہ گزینوں کی بڑے پیمانے پر ہجرت کو روکنے کے لیے کچھ نہیں کیا۔ ان میں سے بہت بڑی تعداد نے بنگلہ دیش میں پناہ پائی۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے پناہ گزین (یو این ایچ سی آر) نے تقریباً دس لاکھ روہنگیا  مہاجرین اور پناہ کے خواہش مند افراد کی رجسٹریشن کی ہے جن میں سے بڑی تعداد بنگلہ دیش (۸۶۰۰۰۰) کے ساتھ ساتھ ملائیشیا (۱۰۱۰۰۰) اور بھارت (۱۸۰۰۰) میں مقیم ہے جبکہ انڈونیشیا، نیپال، تھائی لینڈ اور دیگر ممالک میں بھی یہ کم تعداد میں موجود ہیں۔ کم تعداد میں گنتی اور غیررجسٹرشدہ پناہ گزینوں کے سبب اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

اگرچہ دنیا نے روہنگیا پناہ گزینوں کی ہجرت کو ایک سنگین انسانی بحران قرار دیا تھا لیکن بین الاقوامی برادری میانمار کی حکومت پر یہ دباؤ ڈالنے میں ناکام رہی کہ وہ اپنے موقف پر دوبارہ غور کرے، اس طرح روہنگیا قوم کے مصائب کیخلاف ریاست کا غیرلچک دار رویہ جاری رہا۔ پناہ دینے والے ممالک بڑی تعداد کے بوجھ تلے دب گئے اور تتماداو (میانمار کی مسلح افواج) پرعلاقائی و عالمی تنقید اثرانداز نہ ہو سکی۔ اسی کے ساتھ ساتھ نیشنل لیگ برائے جمہوریت کی منتخب حکومت کو بھی میانمار کی اقلیت یا قومیتوں کے حقوق میں کوئی دلچسپی نہ تھی۔

روہنگیا مسئلے کی جڑ قومیت اور شہریت کے متنازعہ سوال میں ہے۔ ۱۹۸۲ کا شہریت کا قانون محض آٹھ قوموں (کچین، کایا، کائن، چن، مون، بمار، راکھینی اور شان) کو ”شہری“ تسلیم کرتا ہے، جس کے نتیجے میں میانمار میں ۱۳۵ نسلوں کے افراد بشمول روہنگیا شہریوں کو ملنے والے حقوق اور سہولیات سے محروم ہو جاتے ہیں۔ تتماداو نے روہنگیا قوم کا شہریت کا مطالبہ ہمیشہ مسترد کیا ہے اور ان کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ موجودہ تنازعہ اس لیے بھڑکا تھا کیونکہ روہنگیا قوم نے شہریت کا مطالبہ کیا تھا۔ حالانکہ تاریخی حقائق یہ تجویز کرتے ہیں کہ روہنگیا اور راکھینی میانمار (اس وقت کے برما) کے صوبے اراکان میں صدیوں سے اکھٹا رہے ہیں۔ میانمار میں منتخب حکومت کا تختہ الٹنے اور فوج کے حالیہ قبضے نے روہنگیا قوم کے مصائب میں مزید اضافہ کیا ہے۔ اس امر کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا ہے کہ فوج روہنگیا قوم کی ”محفوظ اور باعزت طور پر واپسی“ کے لیے کسی قسم کے کوئی اقدامات کرے گی خاص کر ایسے میں کہ جب ”وہ خود ہی ایک ایسی نسل کشی کی لہر کی اصل مجرم تھی جس کے نتیجے میں اگست ۲۰۱۷ کے دوران میانمار کی مشرقی ریاست راکھینی سے روہنگیا قوم کا سب سے بڑا انخلاء ہوا۔“ شہریت کی تعریف کے بارے میں غیرمفاہمتی رویے نے نہ صرف روہنگیا قوم کی وقفے وقفے سے ہجرت کو جنم دیا ہے بلکہ اندرون ملک بھی ایسی غیردوستانہ زمینی صورتحال پیدا کی ہے جس سے ان کی اس زمین پر واپسی کے امکانات کم ہوگئے ہیں جسے وہ اپنی سرزمین تصور کرتے ہیں۔

محدود حمایت کا سامنے آنا

ایک طرف جہاں بین الاقوامی برادری نے روہنگیا بحران کو حل کرنے کے لیے میانمار پر زور ڈالنے کی کوشش کی ہے وہیں غیرریاستی عناصر بشمول ایکٹوسٹ، ذرائع ابلاغ، اور دیگر متعدد پریشرگروہوں کی ریاستی رویہ پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت محدود رہی۔ ریاستی سطح پر دباؤ کی نسبت  حکومت، دیگر قوموں اور متاثرہ آبادی کے درمیان خلیج کو پر کرنے کے لیے  مقامی سطح کی سفارتی کوششیں زیادہ موثر ہوسکتی ہیں کیونکہ وہ دائرہ اختیار رکھنے والے تمام اداروں تک پہنچ سکتے ہیں نیز وہ اس روایتی نظام سے ہٹ کے کام کرسکتے ہیں جس کے تحت قومی حکومتیں روایتی طور پر کام کرتی ہیں۔ تاہم روہنگیا بحران کی شدت کے باوجود میانمار اور جنوبی ایشیا میں شہری حقوق کی تنظیموں اور حمایتی گروہوں کی مقامی سطح کی سفارتی کوششیں اتنی موثر نہیں تھیں۔ ادارہ جاتی سطح پر عسکری موجودگی  نے میانمار کے اندر مقامی سطح پر سفارت کاری کے امکانات بہت محدود کردیے ہیں، حتیٰ کہ ”ملک میں موجود انسانیت اور صحت کے لیے کام کرنے والے بین الاقوامی کارکنوں کو بھی طویل عرصے سے عائد پابندیوں کے سبب مقامی گروہوں کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے کام کرنا پڑتا ہے۔“ یہ ملک میں مقامی سطح پر کام کرنے والے بین الاقوامی کرداروں کو دستیاب محدود مواقع کی کیفیت کو واضح کرتا ہے۔

یہ واضح دکھائی دیتا ہے کہ پڑوسیوں نے بھی روہنگیا کا کھلے دل سے خیرمقدم نہیں کیا ۔ راکھینی خطے کی نامساعد صورتحال، میزبان ممالک کی جانب سے روہنگیا قوم کی وطن واپسی کی کوششوں کی راہ میں رکاوٹ تھی۔ مزید براں بھارت اور خطے میں روہنگیا مسلمانوں کو ”دہشت کی نگاہ“ سے دیکھے جانے کے عمل نے ان کی حیثیت کو مشکوک بنا دیا ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ، جنوبی ایشیائی ریاستیں میانمار کیخلاف ایسا کوئی ہتھیار نہیں رکھتی ہیں جس کے ذریعے اس کی پالیسیوں اور باعزت وطن واپسی کے لیے درکار تبدیلیاں کروا سکیں۔ بھارت، سرحد پر استحکام کو یقینی بنائے رکھنے کی اپنی مجبوری کی وجہ سے تتماداو کے سامنے یہ مسئلہ رکھنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہے جبکہ خطے میں دیگر ممالک میانمار سے محدود رابطے رکھتے ہیں اور وہ میانمار سے اس کے رویے پر پوچھ گچھ سے قاصر ہیں۔ مغرب کی جانب سے میانمار پر تنقید کے خلاف چین کی حمایت نے تتماداو کو مزید آزادی دے دی ہے۔ 

دنیا نے ۲۰۱۷ میں ہونے والی تازہ ترین ہجرت کو رنجیدگی سے دیکھا، جبکہ متعدد بین الاقوامی تنظیموں اور ایجنسیوں نے روہنگیا کیلیے آواز اٹھائی جس میں اقوام متحدہ، اسلامی تعاون کی تنظیم، نارویجن رفیوجی کونسل اور ۲۰۲۰ انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس شامل ہے جس نے میانمار کو حکم دیا کہ وہ روہنگیا اقلیتی گروہوں کا تحفظ کرے اور ہنگامی طور پر ”عبوری اقدامات“ کرے۔ ماضی میں میانمار کی فوج کیخلاف عائد کی گئیں معاشی پابندیاں غالباً اس لیے کبھی بھی کامیاب نہیں ہوسکیں کہ میانمار کی منافع بخش تیل اور گیس کی صنعتوں تک رسائی سمیت بین الاقوامی کاروباری تعلقات کی وجہ سے ان کی سرگرمیوں میں رکاوٹ پیدا نہیں ہوئی ۔ بدقسمتی سے عالمی برادری بشمول علاقائی  تنظیمیں جیسا کہ آسیان مذمت پر مبنی کھوکھلے بیانات کے علاوہ مداوے کیلئے کوئی بھی اقدام اٹھانے میں ناکام رہی تھیں۔ میانمار، بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا، نیپال، بھوٹان اور تھائی لینڈ پر مشتمل تکنیکی و معاشی اتحاد بمسٹیک بھی اس مسئلے سے نمٹنے میں ناکام رہا ہے۔ درحقیقت، بین الاعلاقائی بات چیت زیادہ سے زیادہ غیررسمی نوعیت کی رہی ہے اور سختی سے پیغام دینے میں ناکام رہی ہے۔

 

گو کہ بھارت اور بنگلہ دیش اقوام متحدہ کے ۱۹۵۱ کے پناہ گزین کنوینشن کے دستخط کنندگان میں شامل نہیں ہیں تاہم دونوں ممالک نے روہنگیا آبادی کو مدد اور پناہ دی ہے حالانکہ دونوں کی صلاحیتوں میں بے حد فرق ہے۔ مقامی سطح پر موجود غیرریاستی عناصر خاص کر بنگلہ دیش، بھارت اور ملائیشیا میں موجود افراد نے اپنی اپنی حکومتوں پر وقفے وقفے سے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی ہے تاکہ روہنگیا پناہ گزینوں کے اضافی تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے تاہم وہ اس میں معمولی کامیاب ہوئے۔ سری لنکا اور بھارت کی وفاقی حکومتیں جہاں بڑی حد تک خاموش رہی ہیں، وہیں بنگلہ دیش نے میانمار پر زور دینے کی کوشش کی ہے کہ وہ نقصان دہ پرانی پالیسیوں کا دوبارہ جائزہ لے۔ بنگلہ دیش کے ہمراہ پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے لیے دو طرفہ معاہدے کے باوجود ان پر عمل نہیں ہوسکا ہے۔ خود روہنگیا بھی فوج کی جانب سے کسی یقین دہانی کے بغیر وطن واپسی سے ڈرتے ہیں۔ بھارت میں ذرائع ابلاغ اور شہری حقوق کے محافظین مثلاً  روہنگیا آبادی کو جلاوطن کرنے کی اجازت دینے والے بھارتی سپریم کورٹ کے قانون کیخلاف مزاحمت کار بھی بھارتی حکومت کو روہنگیا پناہ گزینوں کو میانمار واپس بھیجنے کے فیصلے سے روکنے میں ناکام رہے ہیں۔ ایک اور چونکا دینے والی مثال ملائیشیا کی ہے جہاں  عدالتی حکم کے باوجود امیگریشن حکام نے ۱۰۸۶ روہنگیا افراد کو میانمار واپسی کے لیے اس کی بحریہ کے سپرد کیا تھا۔

ہم مذہب ہونے کی وجہ سے روہنگیا آبادی کو مقامی مسلم آبادیوں کی حمایت حاصل رہی ہے لیکن بعض صورتوں میں وہ مذہب، معاشی خدشات، ماحولیاتی خرابی  اور دیگر عناصر کے سبب وجہ تنازعہ بھی رہے ہیں۔ ۲۰۱۷ میں بدھ مت کے پیروکاروں کی جانب سے روہنگیا افراد پر حملے کی اگرچہ سری لنکن حکومت نے مذمت کی تھی لیکن یہ حقیقت کہ اس جزیرے پر مسلمان پناہ گزینوں کا خیرمقدم نہیں کیا گیا، مشاہدہ کاروں کی نگاہ سے اوجھل نہیں ہے۔ اسی طرح نیپال میں مقامی آبادی کے دباؤ کے سبب روہنگیا پناہ گزینوں کو مخصوص علاقے تک محدود رکھا جاتا رہا ہے۔ یوں لامحالہ روہنگیا پناہ گزین اندھیرے مستقبل کے ساتھ میزبان ممالک کے خیموں میں مقید ہو کے رہ جاتے ہیں۔

انڈونیشیا میں مذہبی عنصر نے بہت سے پناہ گزینوں کے حق میں کام کیا ہے۔ ایک طرف جہاں سول سوسائٹی کی سیکولر تنظیموں نے انڈویشیا کی حکومت پر روہنگیا پناہ گزینوں کی حفاظت کے لیے سیاسی اور قانونی اقدامات کے لیے زور دیا وہیں اسلامی سول سوسائٹی کی  تنظیمیں بھی انسانیت کے نام پر حکومت پر دباؤ ڈالتی رہیں جس کے نتیجے میں انڈونیشا کا کردار بنگلہ دیش کے مسلمان ملک ہونے کے باوجود اس کے متضاد دکھائی دیتا ہے۔ بنگلہ دیش میں ناراضگی کا سامنا کرنے والی روہنگیا آبادی کے حمایتی گروہوں، ذرائع ابلاغ اور شعبہ تعلیم سے تعلق رکھنے والوں نے ان کی بھرپور حمایت کے ساتھ آبائی وطن واپسی اور بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔ اس جانب بھی نشاندہی کی گئی کہ ”روہنگیا آبادی کی نمائندگی کا جامع انتظام نہ ہونے کے سبب، کیمپوں میں روزمرہ امور جن میں خدمات کی فراہمی سے لے کے شکایت کی صورت میں درخواست دائر کرنے تک کے مسائل شامل ہیں، ان میں درپیش رکاوٹوں کو دور کرنے میں دشواری کا سامنا ہے۔“ مزید یہ کہ ”بڑھتی ہوئی ضروریات کے باوجود“ ہربرس عطیہ کنندگان کی تعداد گھٹتی جا رہی ہے جو کہ مقامی این جی اوز اور سول سوسائٹی کے گروہوں کی سرگرمیوں پر اثرانداز ہوتی ہے۔

اگرچہ زیادہ تر میزبان ممالک نے صعوبتوں کا شکار روہنگیا آبادی سے انسانیت کے نام پر تعاون کیا ہے تاہم مذمت یا میانمار کی حکومت پر روہنگیا سے تعلقات پر نظرثانی کے لیے دباؤ ڈالنے میں ناکامی  جنوبی ایشیائی ریاستوں کو درپیش سیاسی المیے کی جانب نشاندہی کرتی ہے۔ پناہ گزینوں کی میزبانی پر سلامتی خدشات کو اٹھانے والے جارحانہ سوچ کے حامل سیاسی ماہرین نے بارہا روہنگیا پناہ گزینوں کے مصائب پر روشنی ڈالنے والے غیرریاستی عناصر کو خاموش کروایا ہے۔ اسی طرح بھارت کی جانب سے صوبہ اراکان میں گھروں کی تعمیر کے بجائے پناہ دینے سے انکار روہنگیا آبادی کیلئے مقامی سفارت کاری کی محدود وسعتوں کی جانب اشارہ کرتی ہے۔

مقامی سطح کی سفارتی کوششیں، روہنگیا بحران کے بارے میں زیادہ آگاہی کا حامل ماحول تخلیق کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ تاہم حال ہی میں فوجی بغاوت مخالف نیشنل یونٹی گورنمنٹ جو پارلیمنٹ کے منتخب ممبران اور مختلف قومیتوں و سول سوسائٹی کے رہنماؤں پر مشتمل ہے، اس نے ۱۹۸۲ کے متعصبانہ شہریت کے قانون کو واپس لینے کی تجویز دی ہے۔ ایسی کوششوں کو مزید توانائی بخشنے کے لیے مقامی سطح پر پیش رفتوں کی ضرورت ہے تاکہ  روہنگیا کے مستقبل کو بہتر طور پر تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ مقامی سطح پر مستحکم کوششیں محفوظ زمینی صورتحال پیدا کرسکتی ہیں جو کہ روہنگیا کو درپیش تعصب اور ایذارسانی کا سلسلہ ختم کرسکتی ہے تاکہ انہیں ایک ایسا مستقبل دیا جاسکے جو تشدد اور جارحیت سے پاک ہو اور جہاں وہ باعزت طور پر محفوظ زندگی گزار سکیں۔

Editor’s Note: This article is part of a joint-series run with 9DashLine exploring the role of subnational diplomacy in South Asia.

***

Click here to read this article in English.

Image 1: United to End Genocide via Flikr

Image 2: UN Women via Flikr

Posted in:  MigrationMyanmarSouth AsiaSubnational DiplomacyUN

Share this:  

Related articles

طالبان کو تسلیم کرنے کی سیاست Hindi & Urdu

طالبان کو تسلیم کرنے کی سیاست

اقتدار پر قبضے کے تقریباً تین ماہ اور عبوری حکومت…

خارجہ پالیسی میں غائب” صنف” Hindi & Urdu

خارجہ پالیسی میں غائب” صنف”

یہ بات تقریباً عالمی طور پر تسلیم شدہ ہے کہ…

تاریخ کے جھروکوں سے: پاکستان اور تحریک نسواں کی خارجہ پالیسی Hindi & Urdu

تاریخ کے جھروکوں سے: پاکستان اور تحریک نسواں کی خارجہ پالیسی

پاکستان نے ۲۰۲۱ میں متعدد آزمائشوں کا سامنا کیا، جن…