سال ۲۰۱۹ کی جانب: افغانستان کیلئے ایک غیر یقینی کا سال


 اقوام متحدہ کے ۲۰۱۷ سٹریٹیجک جائزے  میں افغانستان کو ایک مرتبہ پھر بعد از  جنگ والے ممالک کی فہرست سے  فعال جنگی ممالک والے گروپ میں ڈال دیا گیا ہے۔ اب جب ہم ۲۰۱۹ میں داخل ہورہے ہیں تو یہ جنگ نہ صرف فعال اور جاری ہے بلکہ زیادہ خطرناک ہو رہی ہے۔  پچھلے سال ۵۵۰،۰۰۰ مزید شہری بے گھر  ہوئے اور  ۳۔۳ ملین لوگ خوراک کی قلت کا شکار ہوئے۔ مزید ۶۳ لا کھ افراد کو انسانی اور حفاظتی امداد کی ضرورت ہے۔ یہ جنگ افغان فوجیوں کے لئے بھی کافی نقصان دہ رہی ہے جس میں ابھی تک ۴۶،۰۰۰ اہلکار جان سے ہاتھ  دو بیٹھے ہیں۔ آئندہ ۲۰۱۹ میں کمزور سیکورٹی حالات، سیاسی عدم استحکام اور امریکہ اور افغانستان کے ہمسایوں کے درمیان تعقات میں کشیدگی جنگ کو پر امن طریقےسے ختم کرنے کی راہ میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔

میدان جنگ: امریکہ اور طالبان

پینٹاگون کی طرف سے امریکی سنٹرل کمانڈ کی سربراہی کے لئےمنتخب کردہ لیفٹننٹ جنرل کینتھ مکینزی کا کہنا ہے کہ اگرچہ  جنگ اس وقت جمود کی حالت میں ہے، دوسرے محاذوں پر کوششیں جاری ہیں۔  امریکہ اس وقت دو مشنز پر کام کر رہا ہے، ایک  نیٹو کے سائے میں باعزم سہارا مشن جس کو افغان فورسز کی ٹریننگ، مدد اور مشورے کےلئے ۲۰۱۵ میں نئی شکل دے دی گئی۔ اس کے علاوہ امریکہ جس دوسرے محاذ پر سرگرم ہے وہ ہے  او ایف ایس جس میں امریکی انسداد دہشتگردی فور سز اتحادی افواج کے ساتھ مشترکہ کاروائی کرتی ہیں اور ۲۰۱۷ سے ان کاروائیوں میں اضافہ بھی ہوا ہے۔ افغان حکومت کا اب صرف ۵۵ فیصد اضلاع پر کنٹرول ہے، جو کہ ۲۰۱۵ سے اب تک کم ترین سطح پر ہے۔ ۲۰۱۸ کے سب سے طاقتور حملوں میں سے ایک تب ہوا جب طالبان نے غزنی صوبے پر قبضہ حاصل کرنے کی کوشش کی، جس میں سب سے بنیادی طور پر ہزارہ اکثریتی ضلعوں کو نشانہ بنایا  گیا۔  طالبان کی اپنے کنٹرول کو بڑھانے کے لئے نسلی و مذہبی مسائل کو بڑھاوا  دے کرسماجی تقسیم میں اضافہ کرنے کی ایک لمبی اور خونی تاریخ ہے۔  

یہ بات واضح ہے کہ امریکہ نے طالبان کی طاقت اور امداد کو حقیقت سے کم سمجھ کر کمزور فوجی کاروائی کی۔ دسمبر ۲۰۱۸ میں جنرل رچرڈ کلرک کا کہنا تھا کہ طالبان کی تعداد ۶۰ ہزار ہے جبکہ اس سے پہلے وہ ۲۰ ہزار کا اندازہ لگا رہے تھے۔  مزید براں، افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن کے مطابق جنوری سے ستمبر ۲۰۱۸ تک ۸۰۵۰ شہری حملوں کے شکار ہوئے جس میں ۲۷۸۹ جاں بحق اور ۵۲۵۲ زخمی ہوئے اور ۲۰۱۷ میں بھی حالات ملتے جلتے تھے۔

خودکش اور پیچیدہ حملوں میں اضافے کے ساتھ شہریوں کے اموات میں بھی پانچ فیصد تک اضافہ ہوا۔ مثلاً اکتوبر میں جنرل عبدالرازق پر ایک منظم حملہ ہوا اور  امریکہ کے جنرل آسٹن میلر،  جوافغانستان میں امریکی اور نیٹو فورسز کے سربراہ ہیں، اس حملے میں بال بال بچے ۔  جنرل عبدالرازق طالبان کے جنوبی مرکزی علاقے میں سب سے طاقتور آدمی تھے جنہوں نے انتہا پسندوں کے خلاف سخت کاروائیاں کیں اور قندہار کو کئی سالوں تک محفوظ رکھا۔ یہ زمینی حقائق اور صدر ٹرمپ کا  ۱۴ ہزار امریکی فوجیوں میں سے  آدھی فورسز کی افغانستان سے ممکنہ واپسی کے حکم کی میڈیا رپورٹس ،  جس کی وجہ سے افغان آبادی میں غیر یقینی کی سی صورتحال پیدا ہوگئی ہے جبکہ دوسری طرف دہشتگردوں کو جیت کا احساس ہورہا ہے۔

طالبان کو امن عمل میں شامل کرنا

افغانستان کے صدر غنی نے فروری میں طالبان کو ایک قانونی سیاسی گروپ تسلیم کرلیا اور ان کو غیر مشروط امن مذاکرات کی  دعوت دی۔ اس سلسلے میں مارچ ۲۰۱۸ میں ازبکستان میں بین الاقوامی امن کانفرنس منعقد ہوئی جس میں امریکہ سمیت اتحادیوں نے شرکت کی۔ یہ بات چیت انتخابات سے پہلے اس امید کے ساتھ کی گئی کہ الیکشن پر امن طریقے سے ہوں اور طالبان انتخابات کے عمل میں رکاوٹیں پیدا نہ کریں۔  افغانستان کے پارلیمانی اور صدارتی انتخابات ۲۰۱۶ میں منعقد ہونے  تھے لیکن ان کو ملتوی کیا گیا۔

۲۰ اکتوبر کو پارلیمانی الیکشن میں ووٹ ڈالنے کے لئے ۱۲ ملین ووٹروں میں سے ۹ ملین لوگ ووٹ ڈالنے کے لئے نکلے جن میں ۳ ملین خواتین شامل تھیں۔ اقوام متحدہ کے امدادی مشن، ”یوناما“ کے ریکارڈ کے مطابق الیکشن کے دوران تشدد سے تقریباٗ ۴۳۵ شہری الیکشن سے متعلقہ تشدد کا شکار ہوئے۔ انتخابات کے بعد، آزاد  الیکشن شکایات کمیشن ( آئی ای سی سی) نے کابل میں ڈالے گئے ایک ملین سے زیادہ ووٹ کالعدم قرار دئے جس کی وجہ افغان خودمختار الیکشن کمیشن (ٓائی ای سی) کی طرف سے  الیکشن میں بدانتظامی اور بڑے پیمانے پر دھوکہ دہی قرار دی۔ پارلیمانی انتخابات کے نتائج کا اعلان ابھی تک نہیں کیا گیا اور الیکشن میں ہونے والے بد انتظامی کے الزامات کے حوالے سے ابھی تک کوئی کاروائی نہیں کی گئی۔

نومبر میں  جنیوا وزارتی اجلاس میں افغانستان پر اپنا کنٹرول دکھانے کی غرض سے غنی نے “امن کیلئے روڈمیپ” کا اعلان کیا جس میں طالبان کو امن عمل میں شریک کرنے کا طریقہ بیان کیا گیا تھا۔ یہ غنی حکومت کی اپنے اتحادیوں کو یہ پیغام دینے کی  حکمت عملی تھی انہیں اس امن عمل سے علیحدہ نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم اس جمہوری عمل کے لئے گرد و نواح کی صورتحال غیر یقینی ہے کیونکہ پارلیمانی انتخابات کی ناکامی نے آنے والے صدارتی انتخابات میں مزید تاخیر اور پیچیدگی پیدا کر دی  ہے۔

جغرافیائی سیاست کی سیاق و سباق 

امریکہ اور افغان حکام چاہتے ہیں کہ افغان حکومت کو نظرانداز کئے بغیر طالبان کو امن مذاکرات میں شامل کیا جائے لیکن خطے کے اہم کرداروں اور ممالک کے ساتھ امریکہ کے تعلقات اس مقصد کے حصول کے لئے فائدہ مند ثابت نہیں ہو رہے۔ افغانستان کے ہمسایوں سے  تعلقات کے معاملے میں امریکہ کے خارجہ مفادات اور افغانستان کے مفادات میں ہم آہنگی موجود نہیں ہے۔  جب ٹرمپ نے نئی ایشیائی حکمت عملی کا پہلا اعلان ۲۰۱۷ میں فورٹ میئر میں کیا تو انھوں نے اس میں  بھارت  کے کردار پر زور دیا جبکہ پاکستان پر کھری تنقید کی اور کہا  کہ پاکستان  امریکی اتحادی ہونے کے باوجود انتہا پسندو ں کی مدد کرتا ہے۔ یہ بات بھی نہایت اہم ہے کہ پاکستانی فوج کے بارے میں اس حوالے سے  مستند معلومات موجود ہے  کہ  یہ اُن ۲۰ انتہاپسند گروہوں میں سے چند کو مدد  فراہم کرتی  ہے جو پاک افغان بارڈر کے درمیان سرگرم رہے ہیں۔ جون ۲۰۱۸ میں پاکستان کو دہشتگردوں کی معاشی امداد روکنے میں ناکامی کی وجہ سے ”ایف اے ٹی ایف“ کی مشکوک فہرست میں شامل کردیا گیا۔

 امریکہ کی دشمنی افغانستان کے ہمسائے ملک ایران کی طرف بھی پھیل چکی ہے اور مئی میں صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ تمام جوہری معاہدے ختم کرنے کا اعلان کیا اور ایران پر پابندیاں بھی عائد کردی گئیں۔ ایران حکومت پر غزنی صوبے میں تشدد کو بڑھانے کے لئے طالبان کو اسلحہ مہیا کرنے کا الزام لگایا گیا جسے ایران حکام نے مسترد کر دیا۔ دوسری طرف ایران نے امریکہ پر داعش کو افغانستان منتقل کرنے کا الزام لگایا ہے۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ کے افغانستان کے ہمسایوں کے ساتھ خراب تعلقات کی وجہ سے افغان حکومت کو خاصکر نقصان پہنچ رہا ہے۔ طالبان امریکہ سمیت پاکستان ، ایران، سعودی عرب اور چین کے ساتھ مذاکرات میں شامل ہوچکے ہیں اور اسکے ساتھ ساتھ متحدہ عرب امارات اور ماسکو کے ساتھ مذاکرات میں طالبان نے افغان حکومت کی مذاکرات میں شمولیت سے سختی  سے انکار کیا۔ اور اسی طرح رواں ماہ سعودی عرب میں ہونے والے مذاکرات میں بھی طالبان نے افغان حکام کے ساتھ ملاقات سے انکار کر دیا ہے۔

ٹرمپ نے ستمبر میں زلمے خلیلزاد کو افغانستان کے لیے امریکہ کا خصوصی سفارتی نمائندہ مقرر کیا ہے جس کی پہلی ترجیح “افغان حکام اور طالبان کے درمیان مفاہمت کےلئے مواقع بڑھانا ہے”۔ اس نئے عہدے پر خلیلزاد اپنے وفد کے ساتھ پاکستان، افغانستان، ازبکستان، روس، ترکمانستان ، بیلجئم، متحدہ عرب امارات اور قطر کے دورے کرچکے ہیں۔ طالبان کو باہر سے بڑی مدد مل رہی ہے جس میں معاشی وسایل، محفوظ پناہ گاہیں اور حتّٰی  کہ کاروباری ذرائع بھی شامل ہیں۔

اگرچہ طالبان کو مدد مہیا کرنے والے یہ ممالک طالبان پر افغان حکومت کے ساتھ بات چیت کرنے کے لئے دباؤ ڈال سکتے ہیں تاہم وہ طالبان کے ذریعے امریکہ پر دباؤ ڈال رہے ہیں تاکہ امریکہ خطے میں اپنی مداخلت محدود کرے۔ اس بڑھتے دباؤ کی وجہ سے شاید امریکی خارجہ پالیسی متاثر ہوچکی ہے، جس وجہ سے ٹرمپ نے جزوی انخلا کے لئے دھمکی دی اور افغانستان میں جنگ ختم کرنے کے لئے پاکستان، بھارت اور روس کو فیصلہ کن کردار ادا کرنے کی دعوت دی ہے۔

سال ۲۰۱۹ کی جانب

ماضی سے یہ بات واضح ہے کہ افغانستان میں سیکورٹی صورتحال کی ناکامی، سیاسی عدم استحکام اور اہم ممالک کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے طاقت کا توازن افغان حکومت کے ہاتھ سے نکل گیا ہے  اور امن مذاکرات میں طالبان کے موقف کو تقویت مل گئی۔ افغان جنگ میں پیچیدگیوں کو ختم کرنے کے لئے نئی حکمت عملی نافذ کرنا ٹرمپ اور صدر غنی کی الیکشن میں دوبارہ کامیابی کے لئے بہت اہم ہے۔

چونکہ افغان حکومت کی طاقت ایک بڑی حد تک امریکہ کے سہارے کی وجہ سے ہے، اس لئے امریکہ کی خارجہ پالیسی غیردانستہ طور پر  افغان حکومت کو اندرونی اور بیرونی طور پر متأثر کرے  گی۔ امریکہ نے سال  ۲۰۱۸ کا آغاز افغانستان کے لئے سخت خارجہ پالیسی سے کیا۔ امریکہ نے افغانستان میں اپنے فوجیوں کی تعداد میں اضافہ  کیا اور افغانستان کے ہمسایہ ممالک پر تنقید کی۔ سال کے اختتام پر تشدد میں اضافے، طالبان کا مختلف علاقوں پر قبضہ اور جمہوری عمل میں تاخیر سے ٹرمپ کو یقین ہوگیا کہ جلد کامیابی ممکن نہیں۔  نتیجتاً افغان حکومت کو، جسے اس کے قریب ترین اتحادی نے چھوڑنے کا اشارہ دیا ہے، سال ۲۰۱۹ میں طالبان سے نرم رویے اور اچھے تعلقات کے ذریعے طاقت کے حصول کےلئے جدوجہد کرنی ہوگی۔

***

Click here to read this article in English.

Image 1: Chairman of the Joint Chiefs of Staff via Flickr

Image 2:  Ashraf Ghani via Twitter

Posted in , Afghanistan, Cooperation, Crisis, Doctrine, Foreign Policy, Geopolitics, Internal Security, leadership, Looking Ahead 2019, Militancy, Pakistan, Peace, Politics, Security, United States, US

Soraya Parwani

Soraya Parwani

Soraya Parwani is in her final year at the University of British Columbia, majoring in Political Science and minoring in Economics. She is the Vice President of Communications for the Asia Pacific Foundations Youth Council. Her most recent projects include being a delegate at the "Canada and Peacekeeping" event hosted by World Vision, and a youth delegate for the "Youth as Peace Builders" forum hosted by the United Nations Association in Canada. Soraya has previously done internships in Afghanistan at The Organization for Policy Research and Development Studies and Canadian Women for Women in Afghanistan. Her work has been featured in a number of media outlets including The Diplomat, and Eurasia Review.

Read more


Continue Reading




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *