سال ۲۰۱۹ کی جانب : نئے پاکستان کیلئے ایک کٹھن راستہ


پاکستان کے ۲۲ویں وزیراعظم عمران خان کے انتخاب کے ساتھ سال ۲۰۱۸  پاکستان کے لئے نتیجہ خیز ثابت ہوا۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ عمران خان کے لئے  یہ پہلی قومی جیت تھی۔ یہ ملک میں تبدیلی کی علامت ہے کیونکہ اب تک ہر دفعہ مقابلہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل این) کے درمیان ہی ہوتا تھا۔ اگرچہ ۲۰۱۸ میں پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں خاطرخواہ کمی آئی، لیکن انتخابی مہم کے دوران مذہبی جماعتوں کی متحرک کاری سے پیداشدہ سیاسی عدم استحکام سے پاکستان کی اقتصادی ترقی پر ایک تباہ کن ضرب لگا۔ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں پرانی کشیدگی اب بھی موجود ہے، تاہم امریکہ کی افغانستان میں سیاسی حل کی خواہش نے دونوں ممالک کو محتاط طریقے سے چلنے پر امادہ کیا ہے۔

پی ٹی آئی کی حکومت؛ اب تک کی  کارکردگی

اگرچہ ابھی نئی حکومت کا  آغاز ہی ہوا ہے مگر تا حال  حکومت نے اقتصادی پالیسی بنانے میں ناتجربہ کاری کا مظاہرہ کیا ہے۔  عمران خان نے اپنی ابتدائی تقریر میں  اندرونی اور بیرونی مصالحت پر زور دیا، سماجی اور اقتصادی ترقی اور اچھی طرز حکمرانی کی بات کی، جسے ناقدین نے بھی سراہا۔ لیکن اسکے بعد کے حالات و واقعات نے  پی ٹی آئی حکومت کی صلاحیت پر سوال اٹھائے ہیں ۔ ترقیاتی اخراجات میں کٹوتی  اور  گیس پر محصول اور ٹیکسوں  میں اضافے اور امیروں پر ٹیکس لگانے کے  اعلانات سے ملاجلا  ردعمل سامنے آ یا کیونکہ اس سے افراط زر میں اضافہ ہوا۔ کرنسی میں کمی اور ادائیگیوں میں توازن کے بحران کی وجہ سے حکومت نے آئی ایم ایف کی طرفرجوع کرنے کے حوالے سے ملاجلا اشارہ  دیا۔ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے حتمی فیصلہ ابھی تک نہیں آیا۔ وزیر خزانہ نے حکومت کے ۱۰۰ دن مکمل ہونے پر اعلان کیا کہ رقوم کی ادائیگیوں کا بحران ختم ہو گیا ہے جبکہ اس اعلان کے صرف ایک دن بعد روپے کی قدر میں خاطرخواہ کمی لائی گئی، جوکہ ایک بڑا جھٹکا تھا۔   پاکستان کی اقتصادی ترقی میں چین کے مستقبل کے کردار کے حوالے سے بھی ابہام تھا۔ ایک طرف  جبکہ حکومت چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کی بنیاد کو وسیع کرنے کے لئے بات چیت شروع کر رہی تھی، دوسری طرف  وزیراعظم کے اقتصادی مشیر نے پورے ایک سال کے لئے چینی مالی معاونت کے منصوبوں کو روک کر اس کا جائزہ لینے کی تجویز پیش کر دی۔

اقتصادی بحالی کے لئے حکومت کی اہم حکمت عملی اگلے پانچ سالوں میں کم آمدنی والے گھرانوں کے لئے  ۵۰ لاکھ گھر بنانے پر مشتمل ہے۔ حکومت کی توقعات کے مطابق اس پالیسی سے ۶۰ لاکھ لوگوں کو روزگار ملے گا جس سے ۴۰ صنعتیں منسلک ہوںگی۔ ایک اندازے کے مطابق اس منصوبے پر ۱۸۰ ارب امریکی ڈالرخرچ آئے گا جو کہ پاکستان کی مجموعی ملکی پیداوار کے نصف سے زیادہ ہے۔ حکومتی ترجمان نے اس ہاوزنگ منصوبے کے فنڈ کے حوالے سے زیادہ وضاحت فراہم نہیں  کی ہے تاہم اس حکومت کی معاشی سادگی کی پالیسی کے مدنظر توقع ہے کہ اس منصوبے میں سرمایا کاری زیادہ تر نجی شعبے سے کی جائے گی۔

 مذہبی انتہا پسندی: تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) سے نمٹنا

تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) ایک نئی مذہبی سیاسی جماعت ہے جو نومبر ۲۰۱۷ میں مسلم لیگ ن کی جانب سے الیکشن ریفارم بل پر تحفظات کے اظہار کی بنیاد پر ابھری اور عام انتخابات میں ووٹوں کے معیار سے نمایاں کارکردگی کی بدولت پاکستان کی پانچویں بڑی جماعت بن گئی۔ تاہم الیکشن میں زیادہ عددی ووٹ لینے کے باوجود ٹی ایل پی نے سندھ اسمبلی میں صرف دوسیٹیں حاصل کیں۔ نومبر ۲۰۱۸ میں جب ایک عیسائی خاتون آسیہ بی بی نے مبینہ طور پر توہین مذہب کے الزامات سے رہائی حاصل کی تو ایک مرتبہ پھرتحریک لبیک پاکستان حکومت اور عدلیہ کے خلاف احتجاج کے لئے سڑکوں پر نکل آئی۔ تحریک لبیک نے وزیر اعظم، آرمی چیف اور چیف جسٹس کو بھی دھمکیاں دیں اور خود وزیراعظم عمران خان  کی طرف سے انہیں سخت انتباہ کے باوجود حکومتی عزم کے بارے میں شکوک بڑھ گئے۔ 

بجائے اس کے کہ حکومت ان کے خلاف طاقت استعمال کرتی اور پچھلے سال کی طرح فیض آباد واقعہ دوبارہ سے رونما ہوتا، پی ٹی آئی کی حکومت نے پانچ نکاتی معاہدے کے ذریعے ملک گیر دھرنے کو پرامن طریقے سے ختم کرنے کی کوشش کی۔ اس معاہدے میں حکومت نے احتجاج کرنے والوں کا یہ مطالبہ تو مان لیا کہ مناسب قانونی چارہ جوئی کے بعد آسیہ بی بی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل کیا جائے گا، مگر ٹی ایل پی کے سربراہان کو ریاست اور حکومت کے خلاف کھلی بغاوت کا اعلان کرنے پر کسی قسم کی سزا کا سامنا نہ کرنا پڑا ۔  بعد میں پولیس آپریشن میں ٹی ایل پی کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی اور پارٹی کے باقی رہنماوں کو حفاظتی تحویل میں لیا گیا۔ اگر پاکستان کو اپنی جمہوریت مضبوط بنانی ہے تو اس کے لئے اسے اپنی دوسری آئینی ترمیم، توہین رسالت کے قانون اور ان تمام مذہبی اور سیاسی اداکاروں سے نمٹنا ہوگا جو انتخابی فائدے کے لئے زہر اگلتے ہیں۔ ۱۹۸۶ سے ۲۰۰۳ کے بیچ کی ۲۷ سالہ مدت میں ۴۲ فیصد توہين رسالت کے مقدمات مسلمانوں کے خلاف درج کئے گئے ۔ اس حقیقت سے ظاھر ہوتا ہے کہ کس کثرت سے اس قانون کو ذاتی دشمنیوں سے نمٹنے کے لئے غلط استعمال کیا جاتا ہے۔

امریکہ، افغانستان اور انڈیاکے لئے پاکستان کی خارجہ پالیسی

جب سے ٹرمپ نے صدر کا عہدہ سنبھالا ہے تب سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات خراب ہوئے ہیں۔ کیونکہ ٹرمپ مسلسل الزامات لگا رہے ہیں کہ  پاکستان دہشت گردوں کی حمایت کرتا ہے۔  تاہم حالیہ مہینوں میں دونوں ممالک  افغانستان میں ایک ممکنہ پرامن حل کی تلاش میں ایک دوسرے کے قریب آئے ہیں۔ پاکستان کے لئے امریکہ سے تعلقات کی بہتری کا دارومدار اس بات پر ہے کہ افغانستان سے باعزتنکلنے میں پاکستان امریکہ کی کتنی مدد کر سکتا ہے۔  یہ پاکستان کے لئے ان تلخ تعلقات کو بہتر بنانے کا ایک بہترین موقع ہے جو ایک دہائی سے زائد عرصے سے دونوں ممالک کے درمیان کوئٹہ شورہ، حقانی نیٹورک، سلالہ واقعہ اور اسامہ بن لادن کے خلاف ایبٹ آباد اپریشن کی وجہ سے الزامات اور جوابی الزامات کے   نتیجے  میں مرتب ہوے ہیں۔ امریکی سفارتی حلقوں کی جانب سے طالبان سے بات چیت کی خواہش پاکستان کے لئے خوش آئیند ہے کیونکہ ایک طویل عرصے سے پاکستان کی پوزیشن رہی ہے کہ اس مسئلے کا حل  صرفسیاسی طریقے سے ممکن ہے۔ 

 افغانستان میں حصول امن کی کوششوں میں اس وقت پاکستان اور امریکہ کے درمیان اختلاف کا ایک بڑا نقطہ یہ ہے کہ امریکہ سمجھتا ہے کہ طالبان کے اوپر پاکستان اثرورسوخ رکھتا ہے۔ اگرچہ پاکستان، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے طالبان کی حکومت کو تسلیم کیا ہے، تاہم طالبان کے اوپر پاکستان کا اثرورسوخ اس لئےمحدود  ہے کیونکہ طالبان اپنے مالیاتی اور آپریشنل معاملات میں زیادہ خود مختار ہو گئے ہیں۔ پاکستان کو یہ بات یقینی بنانی چاہئیے کہ امن کی جانب عمل نہ صرف جاری رہے بلکہ تکمیل تک پہنچ جائے۔

بھارت کے ساتھ مذاکرات کی ناکام  کوشش اور اس سال اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی میں سخت تقاریر کے باوجود، کرتار پور سرحد کا کھولنا پاکستان کی طرف سےصحیح سمت میں ایک مثبت قدم ہے۔ پاکستان کے معاشی استحکام کے لئے علاقائی امن کو مضبوط بنانا انتہائی  ضروری ہے۔ بھارت کے ساتھ پاکستان کے موجودہ تجارت کا حجم ۶.۲اربڈالر ہے، جبکہ دونوں  ممالک کے درمیان کھلی باہمی تجارت کی مکمل صلاحیت اندازاً ۳۰ارب ڈالر ہے۔

۲۰۱۹ :ایک جائزہ

 ۲۰۱۹ میں پاکستان کے لئے تین چیزیں بنیادی اہمیت کی حامل ہیں۔ اول، نسبتاً نئی حکومت کے لئے اپنے  سماجی و اقتصادی وعدوں کو پورا کرنا سب سے بڑا چیلنج ہوگا۔ اگر ضمنی انتخابات کے نتائج اور گزشتہ تین عام انتخابات کے نتائج کو دیکھا جائے  تو ہم سمجھ سکتے ہیں کہ اگر”نیاپاکستان” کا خواب پورا نہیں ہوتا تو حکمران جماعت  کی مقبولیت پر ضرب پڑ سکتا ہے۔  اس کے علاوہ یہ بھی ضروری ہے کہ پاکستان غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ کیلئے کوشش کرے کیونکہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ۲۰۱۹ میں اقتصادی ترقی کی شرح کم ہوکر ۴.۸ فیصد پر آجائیگی جبکہ سال ۲۰۱۸ میں یہ شرح  ۵.۸ فیصد تھی ۔

سال ۲۰۱۹ کا دوسرا اہم چیلنج مالیاتی ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے ساتھ مذاکرات ہیں۔  اکتوبر میں ایف اے ٹی ایف نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ اسٹریٹیجک انسداد دہشت گردی سے متعلقہ کمزوریوں پر توجہ دے کر کارروائی کرے۔ جنوری میں ایف اے ٹی ایف کا اگلا اجلاس ہوگا اور پھر مذاکرات کی حتمی حیثیت اگلے سال ستمبر میں طے کی جائے گی، اور تب تک پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کے  قواعدوضوابط کی تسلی بخش تعمیل کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے.

بل آخر، افغانستان میں مذاکرات کے ذریعے ایک سیاسی حل ابھی پاکستان کی بہترین امید ہے۔ صدر ٹرمپ کی طرف سے پاکستان پر دوغلی پالیسیوں کا الزام اور پھر بعد میں مدد کے لئے فون کالز اس بات کا اشارہ دیتا ہے کہ امریکہ افغانستان میں جنگ کے خاتمے کے لئے کتنا بے تاب ہے۔  اب جبکہ  امریکہ اور پاکستان، طالبان کے ساتھ ممکنہ بات  چیت کے مرحلے میں داخل ہورہے ہیں  تو امریکہ کے ساتھ اس امن مذاکرات میں شمولیت اور اس کی کامیابی کو یقینی بنانا ۲۰۱۹ میں پاکستان کی سب سے بڑی کامیابی ہوسکتی ہے۔

***

Click here to read this article in English.

Image 1: Pakistan Tehreek-e-Insaf via Flickr (cropped)

Image 2: Pakistan Tehreek-e-Insaf via Flickr

Posted in , Afghanistan, China, Cooperation, Crisis, Economics, Economy, Elections, Foreign Policy, Geopolitics, India, India-Pakistan Relations, Internal Security, Pakistan, Pakistan Elections 2018, Policy, Politics

Farhan Hanif Siddiqi

Farhan Hanif Siddiqi

Farhan Hanif Siddiqi is an Associate Professor in the School of Politics and International Relations at the Quaid-e-Azam University, Islamabad. His research interests border on nationalism and ethnicity, theories of International Relations and democracy/democratization. He is the author of "The Politics of Ethnicity in Pakistan: The Baloch, Sindhi and Mohajir Ethnic Movements," published by Routledge in 2012. He was an SAV Visiting Fellow in January 2017.

Read more


Continue Reading




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *