Hambantota_Port-1-1-1095×616

 

سری لنکا کو اپنی آزادی کے بعد پہلی مرتبہ نادہندگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ۱۲ اپریل ۲۰۲۲ کو سری لنکا کی حکومت نے اعلان کیا کہ ماسوا کثیرالجہتی بینکوں کے ، وه اپنے تمام غیر ملکی قرضہ جات کی بازِ ادائیگی معطل کردے گی ۔ وه اب بین الاقوامی ماللیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے بیل آؤٹ  کی خواہاں ہے اور اسے تقریباً ۳۰ بلین امریکی ڈالرز کے قرضہ جات کی تنظیمِ نو کرنے کی ضرورت ہے۔ بہت سے لوگوں کے لیۓ یہ نادہندگی چین کی  “قرضہ جات کے جال” پر مبنی سفارتکاری  کا  نتیجہ ہے۔ سری لنکا کو، عام فہم کے مطابق ہمبنٹوٹا کی بندرگاہ پہلے ہی چین کے حوالے کرنا پڑچکی ہے کیونکہ وہ اپنا قرض ادا کرنے سے قاصر تھا۔ ہمبنٹوٹا قرضہ جات کا جال “میم”، جیسا کہ ڈیبورہ برویٹیگم اسے پکارتی ہیں، ماہرین کے مابین  گردش کرتا رہتا ہے، حتیٰ کہ چینی ماہرین کے مابین بھی مگر سری لنکا کے ماہرینِ معاشیات نے اسے طویل عرصے قبل ہی رد کر دیا تھا۔ سری لنکا کے قرض کی پریشانی کی اصل تصویر اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔

ہمبنٹوٹا: چین کی قرضہ جات کے جال کی حکمتِ عملی؟

قرضہ جات کے جال کی حکمتِ عملی کی اصطلاح کو بھارتی جغرافیائی حکمتِ عملی ساز  برہما چیلانے نے زبانِ زدِ عام کیا تھا۔(ذاتی) رائے پر مبنی ایک مقالے میں، جس کا وسیع پیمانے پر حوالہ دیا گیا، چیلانے نے دلیل پیش کی کہ ممالک کو بڑے قرضہ جات کے دام میں پھنسانا “واضح طور پر چین کی جغرافیائی حکمتِ عملی کا مقصد” ہے اور انہوں نے چین پر ایسے منصوبے بنانے کا الزام عائد کیا، جن کی بدولت ممالک کیلئے  قرضوں کی ادائیگی مشکل ہو جاتی ہے، اور انہیں مجبوراً اپنے اہم اثاثے چین کے حوالے کرنا پڑتے ہیں۔ چیلانے کے   الزام کا پسِ منظر یہ تھا کہ اکتوبر ۲۰۱۶ میں سری لنکا نے اعلان کیا کہ وہ ہمبنٹوٹا کی بندرگاہ کا ۸۰ فیصد حصہ چائنہ مرچنٹس ہولڈنگ کے حوالے کر دے گا۔ روٗٹرز نے اطلاع دی کہ سری لنکا “ملک کے قرض کے بوجھ کو کم کرنے کے لیئے” حصص فروخت کرے گا۔ سری لنکا کے وزیرِ خزانہ روی کرونانائیکے کے مطابق اس معاہدے سے حاصل ہونے والی رقم کو “گراں غیرملکی قرضوں کی ادائیگی” کے لیئے استعمال کیا جانا تھا۔ تاہم بندرگاہ چین کو “بیچی” نہیں گئی تھی بلکہ سری لنکا کے اخبارات کے مطابق اسے ننانوے سالہ لیز  پر دیا گیا تھا۔ بہرحال کرونانائیکے کے بیان کی (غلط) تشریح کی گئی اور یہ سمجھا گیا کہ سری لنکا کو یہ بندرگاہ اس لیئے چھوڑنا پڑی کہ وہ چین کو اپنا قرض ادا کرنے سے قاصر ہو گیا تھا۔ قرضہ جات کے جال کی سفارتکاری کی حکایت وائرل ہو گئی۔ مئی ۲۰۱۸ میں، ہارورڈ کے گریجویٹ طلباء کے امریکی محکمہ خارجہ کی پالیسی کے تجزیاتی مشقی مضمون میں ہمبنٹوٹا کے کیس کو     چین کی “قرض نامہ سفارتکاری” کہا۔ مصنفین نے  اسے “جارح معاشیات”  کی یو-ایس نیشنل ڈیفنس اسٹریٹجی  کی ۲۰۱۸ میں کی گئی تعریف کی مثال کے طور پر پیش کیا تھا : چین نے “اہم اثاثوں کے حصول کے لیۓ قرضوں کے ذریعے زبردستی فائدہ” اٹھانے کی سعی کی ۔  کئی اخبارات نے اس کا چین کی جارح قرض گاری کی تعلیمی دلیل کے طور پر حوالہ دیا۔  

مغرب کو ادائیگی

تاہم جیسا کہ سری لنکا کے ماہرینِ معاشیات نے بعد میں اس کی نشاندہی کی، سری لنکا کے بازِ ادائیگی کے بحران کا چین سے بہت کم تعلق تھا۔ یقیناً ہمبنٹوٹا کی بندرگاه کی تعمیر اقتصادی  طور پر ایک قابلِ مواخذہ امر تھا، لیکن اس کی تعمیر کے لیۓ چائنہ ایگزم بینک سے حاصل کیۓ گئے قرضے زیادہ تر رعایتی شرائط پر، عموماً ۲ فیصد کی معین شرح پر جبکہ دیگر فیسیں ۵۔۰ فیصد کی شرح پر ، کئی اقساط میں حاصل کئے گئے جن کی عرصیت  کی اوسط مدّت ۱۵ سے ۲۰ سال تھی۔ لیز (کی ابتدا) کے وقت ہمبنٹوٹا کے لیۓ قرض کی ادائیگی سری لنکا کے کل سالانہ بیرونی  قرضہ جات کا محض  ۵ فیصد تھی، کیونکہ اس وقت تک) کچھ قرضہ جات کی ادائیگی ابھی شروع بھی نہیں ہوئی تھی۔  سری لنکا کے  غیر ملکی قرضہ جات کا سب سے بڑا  حصہ انٹرنیشنل سوورن بونڈز (آئی ایس بیز) کا تھا، جنھیں ۲۰۰۷ سے بین الاقوامی سرمایہ کاری کی منڈیوں سے تجارتی قرضوں کی صورت میں حاصل کیا گیا تھا ۔

 وزیرِ خزانہ کرونانائیکے کے بقول “گراں غیر ملکی قرضہ جات” جنہیں رویٹرز اور دیگران نے چینی قرضوں سے تعبیر کیا تھا، درحقیقت ۵ بلین امریکی ڈالرز کے (آئی ایس بیز) تھے جن کی عرصیت  کی مدّت ۲۰۱۹ سے ۲۰۲۲ کے درمیان تھی۔ سری لنکا (بشمول دیگر ممالک ) کے ان اکاؤنٹس کو کئی تحقیقی مقالوں میں کیس اسٹڈیز کا درجہ دیا گیا جو بی آر آئی کے تناظر    میں قرضہ جات کے جال کی حکمت عملی کے ثبوت کی کھوج میں تھے مثلاً براوٴٹیگم (۲۰۱۹)، جونز اور ہمیری (۲۰۲۰)، اور ایکر و دیگر (۲۰۲۰) کسی کو بھی اثاثوں پر تسلط قائم کرنے کا ثبوت نہیں ملا۔ مزید براں انہوں نے یہ واضح کیا کہ قرض لینے والے، جیسا کہ سری لنکا، محض بدقسمت مظلوم نہیں تھے، بلکہ وه چینی ترقیاتی مالیاتی نظام کے ساتھ سرگرمی سے نتائج کو نہج دے رہے تھے۔ تاہم قرضہ جات کے جال کی حکایت کو بین الاقوامی عوامی اور سیاسی مباحثوں میں غلبہ حاصل رہا۔ 

چین نے سری لنکا کی نادہندگی کو مؤخر کرنے میں مدد دی 

جون ۲۰۲۲ میں سری لنکا کی جانب سے غیر ملکی  كرنسی کے ریاستی قرضہ جات  کی نادہندگی کے اعلان کے بعد، امیش مورامودالی اور تھیلینا پانڈو والا نے سری لنکا کی  قرض داری کی صورت حال میں چین کے کردار کا تفصیلی بیان پیش کیا۔  ۲۰۰۰ کے اوائل میں سری لنکا کے غیر ملکی قرضہ جات میں چین کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم تھا ۔ ۲۰۰۵ میں سری لنکا کی خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد، صدر مہندا راجہ پاکسا کے انفرا اسٹرکچر (بنيادی تنظیمی ڈھانچہ) میں ترقی  کے تصور  کے تحت اور چین کی جانب سے مزید قرض گاری پر آمادگی کی بدولت، چینی قرضوں میں بتدریج اضافہ ہوا، خصوصاً تب جبکہ سری لنکا درمیانی آمدن کے نچلے طبقے میں شامل ممالک کی فہرست میں آ گیا اور دیگر قرض خواہان نے (قرض کے سلسلے میں ) اپنی جانچ پڑتال مزید سخت کر دی۔ راجہ پاکسا  کے منصوبوں میں ان کے آبائی صوبے ہمبنٹوٹا میں ایک نئی بندرگاه اور تجارتی مرکز کی تعمیر بھی شامل تھی، جس کے لیۓ چین نے کئی اقساط میں فنڈ دینے پر رضا مندی ظاہر کی ۔ جب ۲۰۰۸-۲۰۰۷ کے عالمی مالیاتی بحران نے ترقی یافتہ ممالک میں قرض کی منڈیوں تک رسائی کو آسان بنا دیا، تب سری لنکا نے بڑے پیمانے پر قرض لیا ۔ تاہم سری لنکا کی برآمدات جمود کا شکار ہو گئیں، ہمبنٹوٹا بندرگاه خسارے میں چل رہی تھی جبکہ ادائیگی کے توازن میں کمزوریاں بڑھ گئیں۔ ۲۰۱۵ میں راجہ پاكسا کی حکومت کو اقتدار سے باہر کر دیا گیا۔ ان کے جانشین رانیل وکرما سنگھے کے لیۓ اپنے پیش رو کے غیر منافع بخش پسندیدہ منصوبے سے چھٹکارا حاصل کرنا، غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر کو متحرک کرنے کا طریقہ تھا جو اپنی عرصیت مکمل کرنے والے آئی ایس بیز کی ادائیگی کرنے کے لیۓ درکار تھے تاکہ آئی ایم ایف جیسے کثیرالجہتی اداروں سے قرض لینے سے مشروط پالیسی اصلاحات سے بچا جا سکے۔

 ورلڈ بینک کے اندازے کے مطابق چینی قرضے سری لنکا کے ۶۳ بلین امریکی ڈالرز کے بیرونی قرضہ جات کا ۱۲ فیصد تک ہیں۔ اگرپبلک اور پبلک گیرنٹیڈ (پی پی جی) قرضہ کی جامع تعریف کو مد نظر رکھیں جس میں سری لنکا کی حکومت اور ریاستی ملکیتی اداروں، (ایس او ایز ) کو چینی تجارتی قرض گاری شامل ہے، تو یہ رقم بڑھ جاتی ہے ۔ چین کا پی پی جی میں حصہ تقریباً ۲۰ فیصد ہے۔ آئی ایس بی  سری لنکا کے  غیر ملکی قرضہ جات کا تقریباً  ۵۔۳۶ فیصد بنتے ہیں ۔ ۲۰۲۱ میں چین کے ۲۶ فیصد کے مقابلے میں کل غیر ملکی قرضہ جات کی ادائیگی میں آئی ایس بی  کا حصہ ۴۷ فیصد تھا ۔ مورا مودالی اور پانڈو والا کا دعویٰ  ہے کہ چین کے قرض کا تخمینہ زیادہ لگایا گیا جبکہ قرضہ جات کے جال کی بحث نے اصل مسئلے سے توجہ ہٹا دی- سری لنکا کا معاشی جمود کے باوجود بین الاقوامی منڈیوں سے بلند شرح پر قرض لینے کا انتخاب سری لنکا کے قرضہ جات کا بڑا حصہ مغرب کی طرف واجب الادا ہے۔  چین نے سری لنکا کو قرضہ جات کے جال میں نہیں پھنسایا بلکہ اس نے سری لنکا کی  نادہندگی اور کسی بھی قسم کی  ضروری اصلاحات کو  کئی سال تک مؤخر کرنے میں کردا ادا کیا ۔ 

صرف واضح طور پر اصل خامیوں کی نشاندہی کر کے ہی ان کے بارے میں کچھ کیا جا سکتا ہے 

سری لنکا اس بات کی اچھی مثال ہے کہ کیسے پہلی کہانی ہمیشہ موجود رہتی ہے ۔ بعد میں ہونے والی تحقیق کے لیۓ قرضہ جات کے جال کپر مبنی سفارتکاری کے مفروضے  کو رد کرنا اور عوامی  تاثرات میں ایک بار قائم ہو جانے والے تصور کو درست کرنا بے حد مشکل ہو گیا ہے۔ اس سلسلے میں قرضہ جات کے جال پر منبی سفارتکاری چین کے سوشل کریڈٹ سسٹم کے بارے میں فسانوں سے کچھ مماثلت رکھتی ہے ۔ یہ فسانے اس وسیع پیمانے پر پھیلے ہوئے ہیں کہ اصل نظام کو واضح کرنے کی کوششیں، نظام کے مسائل کی نفی کرنے کے الزامات کو ہوا دیتی ہیں۔ 

تاہم صرف اصل خامیوں پر توجہ مرکوز کرنے اور انھیں واضح طور پر پہچاننے  سے ہی (شاید) سری لنکا کے مسائل کے بارے میں کچھ کیا جا سکے ۔آپ کسی ایسی چیز سے لڑتے ہوۓ وسائل ضائع نہیں کرنا چاہتے جس کا سرے سے کوئی وجود ہی نہ ہو ۔

خاص طور پر اس لیۓ کہ چین دنیا کا سب سے بڑا دوطرفہ  لین دار ہے اور اس کے بہت سے قرض داروں کو زیادہ مقروض ہونے کے خطرے کا سامنا ہے، اس لیۓ قرض خواہ اور قرض داروں کے تعلقات کا درست تجزیہ کرنا اہم ہے ۔ غلط تشریحات قرض داروں کے حقیقی اور گھمبیر مسائل سے توجہ ہٹا دیتی ہیں اور مسائل کے حل تلاش کرنے اور مستقبل کے مسائل کو روکنے میں مدد نہیں کرتیں۔ تاہم اس وقت بڑا چیلنج سب سے بڑے دوطرفہ قرض گار، چین اور اس کے حریف بھارت اور جاپان، کو اس بات پر آمادہ کرنا ہو گا  کہ وه سری لنکا کے قرضہ جات کی تنظیم نو کرنے کے لیۓ مشترکہ نقطہ نظر پر اتفاق کر سکیں۔ ایک درمیانی آمدنی والے ملک کی حیثیت سے سری لنکا جی-۲۰ کامن فریم ورک کے لیۓ اہل نہیں قرار پا سکا، جو ایک ایسا پروگرام ہے جوکہ بہت زیادہ مقروض ممالک کی مدد کرتا ہے تاکہ وه کووڈ ۱۹ کے بحران کے باعث ہونے والے فسادات سے نمٹ سکیں۔ اب چین، سری لنکا کے سب سے بڑے لین دار کی حیثیت سے سری لنکا کے قرضہ جات کی تنظیمِ نو میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

Editor’s Note: A version of this piece originally appeared on 9DashLine and has been republished with permission of the editors.

***   

Click here to read this article in English.

Image 1: Hambantota Port via Wikimedia Commons

Image 2: Asian Development Bank via Flickr

Share this:  

Related articles

<strong>بھارتی خارجہ پالیسی ۲۰۲۲ میں: سال بھر کا جائزہ</strong> Hindi & Urdu

بھارتی خارجہ پالیسی ۲۰۲۲ میں: سال بھر کا جائزہ

بھارت نے گزشتہ برس کے دوران اپنی خارجہ پالیسی میں…

<strong>آئی ایم ایف کے اصلاحی پروگرام میں پاکستان کی ماند پڑتی دلچسپی</strong> Hindi & Urdu

آئی ایم ایف کے اصلاحی پروگرام میں پاکستان کی ماند پڑتی دلچسپی

مقامی معیشت دانوں اور پالیسی سازوں میں پائے جانے والے…

<strong>پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی اور غذائی عدم تحفظ</strong> Hindi & Urdu

پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی اور غذائی عدم تحفظ

گزشتہ کچھ برسوں کے دوران، انتہائی نوعیت کی موسمیاتی کیفیات…