سی-پیک علاقائی تعاون کا باعث بنے گا  یا  کشیدگی کا؟

۲۰۱۳ میں سی-پیک منصوبے کے سامنے آنے کے بعد سے اسے ایک ایسے منصوبے کے طور پر بیان کیا گیا جو پاکستان کی سماجی و معاشی تبدیلی کا باعث بنے گا۔ ریاستِ پاکستان کے دونوں اہم ستون یعنی حکومت اور فوج،ان خواہشات کو حقیقت میں تبدیل کرنے کےلئے تمام ضروری اقدامات کر رہے ہیں۔ حکومت نے چین کے ساتھ کئی معاہدے (ایم-او-یوز) کئے ہیں اور چینی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے جبکہ فوج نے قومی مفاد کا منصوبہ سمجھتے ہوئے چینی  مزدوروں  اور رُوٹ کی سکیورٹی کےلئے ہر طرح کی خدمات پیش کی ہیں۔

اگرچہ جنوبی ایشیا کے کچھ ممالک نے سی-پیک میں دلچسپی دکھائی ہے تاہم بھارت اس منصوبے سے نالاں دکھائی دیتا ہے اور اسی تناظر میں  بڑھتے ہوئے چین-پاکستان معاشی تعاون کو روکنے کےلئے  اقدامات کر رہا ہے جیسا کہ ایران اور افغانستان کے ساتھ مل کر چاہ بہار بندرگاہ کی تعمیر۔ مزید برآں جہاں سی-پیک چین اور پاکستان کو مشترکہ مفادات کی وجہ سے قریب کرے گا، یہی منصوبہ علاقائی  طور پر ترجیحات کو ممکنہ طور پرمنقسم بھی کر سکتا ہے۔

سی-پیک کے اَرلی ہارویسٹ اور لانگ ٹرم منصوبے:

جب ۲۰۱۳ میں پاکستان مسلم لیگ –ن اقتدار میں آئی تو پاکستان کو توانائی بحران کا سامنا تھا جس کی وجہ سے تمام طبقات مسائل سے دوچار تھے۔ چونکہ مسلم لیگ-ن کے انتخابی منشور میں توانائی مسائل کے حل کا وعدہ تھا اس لئے وزیراعظم نواز شریف نے عالمی برادری سے مدد چاہی اور چین نے اس پُکار پر سی-پیک کی صورت میں  مدد کی ٹھانی۔

سی-پیک کی بنیادی سرمایہ کاری (۵۲ بلین امریکی ڈالر) میں سے ۳۳ بلین ڈالر توانائی کے شعبے میں  لگائے گئے۔ سی-پیک کا پیلا فیز، جسے اَرلی ہارویسٹ پروگرام کا نام دیا گیا تھا،۲۰۱۵ میں شروع کیا گیا جسکا مقصد مارچ ۲۰۱۸ تک ۱۰۴۴۰ میگاواٹ بجلی کا حصول تھا۔ یہ پیداوار یقیناً موجودہ بحران کے خاتمے کےلئے کافی ہے۔ ان منصوبوں سے اب ملک کے مختلف حصوں میں  بجلی کی لوڈ شیڈنگ میں خاطر خواہ کمی آئی ہے۔ مزید برآں کئی جاری منصوبے ۲۰۱۹ تک مکمل ہو جائیں گے جس سے تونائی میں خود کفالت خارج از امکان نہیں۔ پہلے فیز کی کامیابی سے تکمیل کے بعد  سی پیک اب دوسرے مرحلے یعنی لانگ ٹرم پلان میں داخل ہو رہا ہے جس میں سڑک اور ریل کا انفراسٹرکچر، زراعت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی جیسے اہم شعبے شامل ہیں۔ لانگ ٹرم پلان کو مزید تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، 1)شارٹ ٹرم (۲۰۲۰) میڈیم ٹرم (۲۰۲۵) اور 3) لانگ ٹرم (۲۰۳۰)۔

چین کا  سی-پیک کا خاکہ:ایک علاقائی وژن:

دنیا کے دوسرے حصوں کے برخلاف جنوبی ایشیا میں علاقائی تعاون سرحدی تنازعات اور متصادم تزویراتی ترجیحات کا شکار رہا ہے۔ ۲۰۱۳ میں اپنے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (بی-آر-آئی) منصوبے کو متعارف کرنے کے بعد سے چین نے جنوبی ایشیا میں معاشی مفادات کی تکمیل کا آغاز کیا۔ پاکستان چین کا پہلے سے ہی قدرتی طور پر معاشی اور دفاعی اتحادی   تھا جبکہ جنوبی ایشیائی خطہ تزویراتی طور پر مشرق وسطیٰ کے تجارتی راستوں کے قریب واقع ہے۔ چین کے بی-آر-آئی اور سی-پیک جیسے منصوبے اتنی اہمیت کے حامل ہیں کی ایران اور افغانستان، جنہوں نے ماضی میں چین کے ساتھ قریبی تعلقات نہیں دیکھے ہیں، نے بھی سی-پیک میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ اپنے طور پر چین اور پاکستان دونوں نے سی-پیک میں افغانستان کی شرکت چاہی ہے  تاکہ نہ صرف افغانستان کا بیرونی امداد پر انحصار کم کیا جاسکے بلکہ اس عمل سے پاکستان کے ساتھ تعلقات بھی بہتر ہو سکیں گے۔ پَس اسی لئے سی-پیک میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ نہ صرف علاقائی شراکت داری کا باعث بن سکے بلکہ پاکستان کے معاشی مفادات بھی حاصل کر سکے۔

چینی تزویراتی اور معاشی مفادات:

یہ کثیر سرمایہ کاری چین کے علاقائی اور اس سے آگے کے مفادات کا بھی کام کرتی ہے۔ لانگ ٹرم پلان میں ایک اہم منصوبہ گوادر بندرگاہ کا ہے جو کہ اس وقت تعمیر اور ترقی کے دوسرے مرحلے میں ہے۔گوادر بحیرہِ عرب اور خلیج فارس  میں  آبنائے ہرمز  کے قریب ایک گہری سمندری بندرگاہ ہے۔ چین کا گوادر پر سرمایہ کاری کا مقصد اس کو مصروف بندگاہ بنانا ہے جو قریبی بندرگاہوں جیسے دبئی اور اومان کےلئے چیلنج بن جائے گی۔ گوادر  چین کی درآمدی و برآمدی  سامان کی ترسیل کےلئے راستوں کو کم کرتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ  مشرق وسطیٰ تک تجارت کےلئے مصروف سٹریٹ آف ملاکا‘  کا متبادل بھی ہے۔ پہلے مرحلے میں گوادر بندرگاہ کی تعمیر میں ۸۰ فیصد (۲۴۸ ملین ڈالر) سرمایہ لگانے کے بعد اب چین نےاگلے ۴۰ سال کےلئے بندرگاہ کا آپریشنل کنٹرول حاصل کر لیاہے۔

یہ تجارتی راستہ نہ صرف چین کا خلیجی ممالک، مشرق وسطیٰ اور افریقہ تک رسائی بڑھائے گا بلکہ بحرِ ہند  میں بھی تزویراتی اور عسکری قدم رکھنے کا موقع دے گا۔تاہم چین نے اس بارے میں اور گوادر کے قریب جیوانی کے مقام پر بحری اڈے کی تعمیر کی تمام خبروں کی تردید کی ہے  لیکن اب بھی اندازوں اور وَسوَسوں کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ خبریں بھی سامنے آئیں کہ گوادر کو  پیپل لبریشن آرمی کے جہازوں کی لنگر اندازی کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے لیکن اس دعوے کو بھی چین نے یکسر مسترد کر دیا۔ جو بھی صورت حال ہو یہ تو بہر حال واضح ہے کہ سی-پیک چین کے تزویراتی مفادات  کا کام تو یقیناً کرے گا۔

جغرافیائی سیاست اور تفرقات:

جہاں چین سی-پیک کے فوائد حاصل کرے گا وہیں بھارت اس منصوبے کی مخالفت میں سینہ سپر ہے چونکہ وہ سمجھتا ہے کہ پاکستانی کشمیر سے راہداری گزرنے کا مطلب بھارتی خو دمختاری کی خلاف ورزی ہے۔ اس سے مزید گھمبیر صورتحال یہ ہے کہ بھارت اور چین  ایک دوسرے کے مخالف ہیں اور بھارت  چین-پاکستان معاشی اقدامات کو خطے میں اپنی ‘انرجی (توانائی) سکیورٹی’ کےلئے نامناسب سمجھتا ہے۔ بھارت کا یہ بھی خیال ہے کہ گوادر بندگاہ چین کے بھارت کو  بحرِہند میں  گھیرے میں لینے کے مترادف ہے وہ بھی جب بیجنگ اور اسلام آباد کے گہرے عسکری مراسم ہیں۔ تاہم چین اور پاکستان نے کئی مرتبہ اس خیال کی نفی کی ہے اور کہا ہے کہ سی-پیک کا مقصد معاشی تعاون ہے جو کسی دوسرے ملک کے خلاف نہیں ہے۔

سی-پیک سے متعلق بھارتی پریشانی کو رفع کرنے کےلئے چین نے راہداری کے کشمیر سے گزرنے پر بات چیت کا عندیہ دیا اور منصوبے کا نام بھی تبدیل کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔ اسکے باوجود چونکہ بھارت کی زیادہ تر پٹرولیم مصنوعات اسی علاقے سے گزرتی ہیں جہاں گوادر بندرگاہ کا اثر ہو گا تو بھارت سی-پیک کی اپنے تناظر میں تشریح کرتا ہے۔ بھارت  نے تین ملکی چاہ بہار بندرگاہ کو ترقی دی اور اب اس کا کنٹرول بھی سنبھال لے گا۔اسکے علاوہ بھارت نے حال ہی میں اومان کی دقم بندرگاہ  پر عسکری و لاجیسٹیکل استعمال کی رسائی حاصل کر لی ہے۔ چونکہ ڈوکلام کی وجہ سے چین اور بھارت کی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اس لئے یہ واضح نہیں کہ دونوں ملکوں کے (خطرناک)عزائم ختم ہوں گے یا ان میں مزید پختگی آئے گی۔

۲۰۱۸ سی-پیک کےلئے اہم سال:

سال ۲۰۱۸ سی-پیک کے مستقبل کےلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس لئے نہیں کہ منصوبہ لانگ ٹرم پلان  کے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے بلکہ اس لئے بھی کہ اس سے پاکستان میں صنعت سازی شروع ہو رہی ہے۔ اس مقصد کےلئے چین اور پاکستان نے راہداری کے ساتھ سپیشل اکنامک زون  قائم کرنے کے معاہدوں پر دستخط کئے ہیں۔ چین کے نیشنل ڈویلپمینٹ اینڈ ریفارمز کمیشن نے حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا اور ۹ سپیشل اکنامک زون  قائم کرنے پر  بورڈ آف انویسٹمینٹ  اور منسٹری آف پلاننگ، ڈویلپمینٹ اینڈ ریفارمز کے ساتھ کامیاب بات چیت کی۔سی-پیک کے پانچ سال سے کم عرصہ کے دوران ایک امید قائم ہوئی ہے ۔اَرلی ہارویسٹ منصوبوں کی بر وقت تکمیل اور کامیابی سے سی-پیک کا تابناک مستقبل دیکھا جا سکتا ہے جو پاکستان کے معیشت کو تبدیل کر سکتا ہے۔

سی-پیک  پورے خطے میں معاشی رواداری اور اشتراکیت کےلئے ایک بہترین موقع ہو سکتا ہے ۔ تاہم گھمبیر جغرافیائی سیاسی صورتحال سے یہ بھی لگتا ہے کہ منصوبہ اختلافات  کو جنم دے گا۔ اس لئے چین اور پاکستان کےلئے یہ ضروری ہے کہ جنوبی ایشیا میں  جغرافیائی سیاسی دراڑوں کے بچاؤ کےلئے اپنی حکمتِ عملی کو گاہے بگاہے ازسرِ نو ترتیب دیتے رہیں۔

ایڈیٹر نوٹ؛ یہ آرٹیکل ساؤتھ ایشین وائسز کی نئی “سی-پیک؛اب کہاں کھڑا ہے” سیریز کا حصہ ہے جس میں سی-پیک کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا ہے۔ باقی کے آرٹیکلز پڑھنے کےلئے یہاں کلک کریں۔

***

Click here to read this article in English.

Image 1: umairadeeb via Flickr (cropped) 

Image 2: Bloomberg via Getty

Posted in , Afghanistan, China, CPEC Today, Defence, Economy, Energy, India, Indo-Pacific, Maritime, Military, Pakistan, Politics, Regional Connectivity, Uncategorized

Muhammad Daim Fazil

Muhammad Daim Fazil

Muhammad Daim Fazil is a lecturer in the Department of International Relations at the University of Gujrat, Sialkot Campus, Pakistan. He was an SAV Visiting Fellow from July through December 2016. He has previously worked as a Media Researcher and Coordinator at Pakistan's state-run TV channel PTV NEWS. He holds an M.Phil degree in International Relations from National Defence University, Islamabad and currently pursuing his PhD in International Relations from the University of Punjab, Lahore. His work has been featured in The Diplomat, The Print, The National Interest, and others.

Read more


Continue Reading




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *