صدر ٹرمپ کی جنوبی ایشائی پالیسی کا ایک سال؛ افغانستان کےلئے ایک ناکامی

This article has been translated from its original English version by SAV staff. To read the original version, click here.

اگست ۲۰۱۷   کو جب امریکی صدر نے افغانستان اور جنوبی ایشیا سے متعلق نئی پالیسی کا اعلان کیا تو اسے افغانستان میں اس امید کے ساتھ سراہا گیا کہ اس پالیسی سے  حالات افغان حکومت اور اسکے اتحادیوں کے ہاتھ میں ہو جائیں گے۔ اگرچہ  اس پالیسی میں سفارتی اور سیاسی کوششوں کو مکمل نظر انداز نہیں کیا گیا تاہم  ٹرمپ کی نئی حکمت عملی کا محور عسکری نوعیت کا تھا جس میں افغانستان میں فوجوں کی تعداد میں اضافہ کرنا، افغان فضائیہ کو جدت دینااور ڈرون حملوں  میں مطلوبہ مقاصد حاصل کرنے کےلئے  اضافہ کرنا شامل ہیں۔

تاہم اس پالیسی کو نافذ کرتے ہوئے امریکہ غیر متوازی اقدامات میں مگن رہا جیسا کہ “مصالحت یا موت”  (کی پالیسی)،  اپنے حمائت یافتہ افغان فورسزکو کم گنجان آباد علاقوں سے نکال لینا  اور افغانستان کے دیہی علاقوں کو طالبان کے حوالے کرنا۔ حال ہی میں امریکی نیشنل سکیورٹی مشیر  جان بولٹن نے افغان جنگ کو پرائیویٹ کرنے  کا ذکر بھی کیا ہے۔ ایک سال پر مشتمل اس پالیسی کو نافذ  کرنے اور زمینی حقائق کو دیکھتے ہوئے  یہ حقیقت آشکار ہوئی ہے کہ  امریکا کی جنوبی ایشیائی پالیسی  افغانستان میں متوقع نتائج نہیں دے سکی۔ ایک سال بعد اب طالبان افغانستان میں ایک بڑا خطرہ ہیں، امن کےلئے امکانات کم ہیں اور علاقائی کھلاڑی اپنے مقاصد کی تکمیل کےلئے امریکہ سے مختلف حکمت عملی اپنائے ہوئے ہیں۔

زور پکڑتے طالبان؛

اس نئی پالیسی کے ایک سال بعد طالبان نے عسکری اقدامات اور فضائی حملوں کے باوجود اپنی  طاقت دکھائی ہے۔ افغانستان میں امریکی فورسز کے کمانڈر جنرل جان نکولسن نے متنبہ کیا ہے کہ اگر طالبان مصالحت کی طرف نہیں آتے تو وہ  طاقت کے استعمال کے ساتھ کچل دئے جائیں گے۔ ۲۰۱۸ کے پہلے چھ ماہ کے دوران امریکہ نے افغانستان پر ۳۰۰۰ بم گرائےجو ۲۰۱۷ کے مقابلے میں تقریباً دو گناہ ہیں۔

حملوں میں اس شدت کے باوجود طالبان نے اپنی  طاقت دکھاتے ہوئے  کئی علاقے بھی حاصل کئے ہیں۔  مئی میں طالبان نے ایران سرحد سے متصل فراح صوبے پر دھاوا بولا جبکہ اگست میں تزویراتی طور پر اہم غزنی صوبے  پر حملہ کر دیا جو کابل سے ۱۰۰ میل کے فاصلے پر ہے۔ طالبان نے صوبائی دارلحکومت پر ۵ دن تک کنٹرول رکھا اور ۱۴۵ سکیورٹی فورسز کے جوانوں کے ساتھ ساتھ ۶۰ سویلینز کو بھی مار ڈالا۔ اگرچہ طالبان کو غزنی سے پیچھے دھکیل دیا گیا لیکن  غزنی کے ۱۸ میں سے محض ۳ اضلاع مکمل طور پر حکومتی کنٹرول میں ہیں۔ اسی طرح پورے ملک میں صورتحال نازک ہے  کیونکہ طالبان ۵۶ اضلاع کو کنٹرول کئے ہوئے ہیں اور ۱۲۲ میں مزاحمت جاری رکھےہوئے ہیں۔

حالیہ واقعات یہ بتاتے ہیں کہ امریکہ افغانستا ن میں ایسے اقدامات کرنے سے قاصر رہا کہ جس سے ملک پر کنٹرول ہو سکے۔ جولائی کے آخر میں  امریکہ نے افغان  فورسز پر زور دیا کہ کم آبادی والے علاقوں سے نکل کر بڑے شہروں کا کنٹرول  سنبھالنے کی کوشش کریں  لیکن  اس عمل سے طالبان کو شہ اور اعتماد ملے گا۔ بظاہر اس  عمل کا مقصد  افغان سکیورٹی فورسز کی  ہلاکتوں کی تعداد میں کمی کرنا تھا کیونکہ  یہ تعداد ۲۰۱۴ سے اب تک  زیادہ یعنی تقریباً ۲ فیصد سالانہ اضافے کی طرفہے۔ تاہم غزنی حملے کے بعد، نیویارک ٹائمز کے مطابق اس تعداد میں تین گناہ اضافہ ہو سکتا ہے۔

امن مذاکرات کے گھٹتے ہوئے امکانات

اگرچہ ۲۰۰۷سے اب تک امن مذاکرات کے امکانات رہے ہیں اوران میں کئی اتار چڑھاؤ بھی آئے ہیں  لیکن ۲۰۱۸ میں ان کوبحال کرنے میں زیادہ زور دیا گیا ہے۔ جزبہ خیر سگالی کے تحت  افغان حکومت نے جون ۱۲ اور ۱۹ کو یک طرفہ جنگ بندی کا اعلان کیا  جس پر ردِ عمل دیتے ہوئے طالبان نے بھی عید الفطر کے موقع پر تین دن کےلئے جنگ بندی کا اعلان کیا۔

افغان حکومت نے افغان-لیڈ اور مصالحتی عمل پر کافی زوردیا ہے۔  لیکن حالیہ امریکی اقدامات اور روسی دھمکیوں  کی وجہ سے افغان  حکومت کے کردار کو محدود  کئے جانے سے محض طالبان ہی مستفید ہوں گے۔ فروری میں طالبان نے  “امریکی عوام” اور “امن پسند کانگریس مین” کو کھلا خط لکھتے ہوئے اس بات پر اصرار کیا کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ پر طالبان سے براہِ راست بات چیت کےلئے اپنا زور ڈالیں۔ جولائی میں امریکہ نے اس مطالبے پر کان دھرتے ہوئے  اپنے سفارت کاروں  کو طالبان سے براہِ راست بات چیت کا کہا۔ اس عمل نے افغان حکومت کو ایک بار پھر اکسایا کہ وہ  “افغان-لیڈ” مذاکرات کےلئے امریکہ پر زور دے۔ جولائی کے آخر میں طالبان کا مطالبہ پورا کرتے ہوئے  سینئیر امریکی سفارت کار نے قطر میں طالبان  سے ملاقات کی لیکن ملاقات میں افغان حکومت کا کوئی نمائندہ موجود نہیں تھا۔ اسی دوران روس نے ۴ ستمبر کےلئے طالبان کے ساتھ بات چیت کی تاریخ طے کی جس میں امریکہ اور افغان حکومت کو بھی مدعو کیا گیا۔ طالبان نے تو شرکت کی حامی بھری لیکن امریکہ اور افغان حکومت نے اس دعوت کو رد کر دیا۔ اب روس نے صدر اشرف غنی کی درخواست پر بات چیت کو معطل کر دیا ہے۔ اسکے بعد افغان حکومت نے ۲۰ اگست سے ایک اور جنگ بندی کی پیشکش کی لیکن اس بار طالبان نے رد کر دیا۔

یہ اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ  افغان امن عمل سے دور رکھے جانا افغان حکومت کا ڈراؤنا خواب حقیقت ثابت ہو رہا ہے۔ امریکہ اور طالبان کے مابین براہِ راست مذاکرات اس بات کے امکانات بڑھاتے ہیں کہ طالبان کو افغان حکومت کے متوازی ایک  طاقت سمجھا جائے گا جس سے افغانی ریاست کی خود مختاری چیلنج ہو گی۔ اس طرح کا  کچھ معاملہ  روس کی طرف سے بھی ہے۔ افغان حکومت شائد یہ سمجھتی ہے کہ  روس کی طرف سے شروع کیا گیا مذاکراتی سلسلہ جس میں علاقائی کرداروں یعنی پاکستان، ایران اور چین کی شمولیت کا مطلب یہ ہے کہ مذاکرات افغانستان کےلئے مددگار نہ ہوں گے۔

غزنی آپریشن نے امن عمل میں ایک اور رکاوٹ  یعنی طالبان کے القاعدہ کے ساتھ قریبی تعلقات کو آشکار کیا۔ مقامی میڈیا کے مطابق کم و بیش ۳۰۰ القاعدہ ممبران نے غزنی میں طالبان کے شانہ بشانہ لڑائی لڑی۔ ۲۷ جولائی کو جاری کی گئی اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ میں بھی  اس بات کی تصدیق کی گئی کہ  القاعدہ کا  طالبان کے ساتھ  تعلق مضبوط ہے۔ یہ صورتحال امن عمل کو مزید پیچیدہ کر سکتی ہے چونکہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کی شرطوں میں سے ایک امریکی شرط یہ تھی کہ طالبان عالمی دہشت گرد گروہوں سے لاتعلقی کریں۔

اسی لئے ٹرمپ کی نئی افغان حکمت عملی زیادہ کارآمد نہیں رہی۔ طالبان افغان حکومت کو امن بات چیت میں شامل کرنے پر راضی نہیں، طالبان کے القاعدہ سے تعلق پر وہ خاصے طاقتور لگتے ہیں،  اور واشنگٹن اور ماسکو کی اندرونِ خانہ کوششیں افغان حکومت کے بحیثیتِ خود مختار  ریاستی کردار کو بھی کمزور کرتی ہیں۔

ایک خطہ جو جنگ اور امن پر تقسیم ہے؛

جیسے ہی صدر ٹرمپ نے نئی پالیسی کا اعلان کیا اسکو تمام علاقائی ملکوں بشمول پاکستان، ایران، روس اور چین نے تنقید کا نشانہ بنایا۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہ تمام ممالک اپنے اپنے مفادات کےلئے افغانستان سے متعلق ایسی پالیسی بنا رہے ہیں جو امریکی وژن سے متصادم ہے۔

یہ امر کئی ایک انفرادی اور اجتماعی کوششوں میں ظاہر ہوا ہے۔ مثال کے طور پر ان چاروں ملکوں کے انٹیلی جنس چیف حال ہی میں ملے ہیں اور انسدادِ دہشت گردی اور داعش سے نمٹنےکے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔ اسی دوران ایران نے بھی تربیت یافتہ افرادی قوت دے کر طالبان کی حمائت میں اضافہ کر دیا ہے ۔ افغان پولیس اور حکومت ایران کو فراح صوبے میں حملے کا ذمہ داربھی ٹھہراتی ہے۔ روس کا بھی ایسی ہی حمائت کا اضافہ کرنے کا شبہہ ہے اور ممکنہ طور پر انکو امن بات چیت میں شامل کرنے کےلئے کوششیں کی ہیں۔

ایران کے بارے میں پالیسی میں حالیہ تبدیلی نے ایران کو امریکہ کے افغانستان میں وجود پر مختلف طرح سے دیکھنے پر مجبور کر دیا ہے اور روس  بھی اپنے قریب  افغانستان میں امریکی موجودگی پر شاکی ہے۔ امریکہ اور چین کے درمیان جاری  تجارتی جنگ  کی وجہ سے دونوں ملکوں کے بیچ افغانستان کے معاملے پر مخالفت بڑھے گی۔ اور پھر پاکستان میں امریکی ڈرون حملوں اور ٹرمپ کی پاکستان میں طالبان ٹھکانوں کا الزام اسلام آباد کو بھی امریکہ سے دور کر دیتا ہے۔ مختصراً ایسا لگتا ہے کہ امریکہ اور افغان حکومت  داعش  کو کنٹرول کرنے اور امن کوششوں  میں اکیلے ہیں۔

خلاصہ؛

نئی پالیسی کے اعلان کے ایک سال بعد یہ بات واضح ہے کہ اس نے امریکہ کےلئے کوئی مثبت تبدیلی  پیدا نہیں کی ہے۔ افغان طالبان مزید مضبوط ہو گئے ہیں، اب وہ تزویراتی صوبوں کےلئے بھی خطرے کا باعث بنے ہوئے ہیں،  القاعدہ سے تعلق کی وجہ سے  امن بات چیت کے امکانات کم تر ہو رہے ہیں، افغان حکومت کو مسلسل  نظر انداز کیا جا رہا ہے اور علاقائی کردار  افغانستان  میں امریکی جنگ اور امن کی کوششوں سے مختلف پالیسی پر کام کر رہے ہیں۔

ایڈیٹر نوٹ: امریکہ کی جنوبی ایشیا اور افغانستان سے متعلق نئی پالیسی کا صدر ٹرمپ  کی طرف سے فورٹ مئیر ملٹری بیس  آرلنگٹن، ورجینیا پر ایک سال قبل اعلان کیا گیا تھا ۔ اس پالیسی میں امریکہ کی نہ صرف افغانستا ن  بلکہ خطے میں موجودگی کے حوالے سے  تبدیلی سامنے آئی۔ اس چار حصوں پر مشتمل سیریز میں  نیہا دیویودی نے بتایا ہے کہ  جنوبی ایشیائی پالیسی نے افغان امن مرحلے پر اثرات ڈالے ہیں، بسم اللہ علی زادہ  نے  بیان کیا ہے کہ پالیسی سےافغانستان میں  سیاسی اور سکیورٹی  صورٹھال کیا بنی ہے، شریاس دیش مکھ  اس پالیسی کا بھارت-امریکہ تعلقات پر اثر بتاتے ہیں جبکہ عزیر کیانی اور سکندر شاہ  اس پالیسی کے پاک-امریکہ تعلقات پر اثرات کا جائزہ لیتے ہیں۔  مکلمل سیریز پڑھنے کےلئے  یہاں کلک کریں۔

***

Click here to read this article in English.

Image 1: U.S. Joint Chiefs of Staff website

Image 2: Stringer/AFP via Getty Images

Image 3: Afghanistan Presidency Press Office/Handout/Anadolu Agency via Getty Images

 

Posted in , Afghanistan, Cooperation, Defence, Drones, Foreign Policy, Geopolitics, Internal Security, Iran, Militancy, Military, Negotiations, Peace, Policy, Politics, Security, Trump South Asia Review, United States, US

Bismellah Alizada

Bismellah Alizada

Bismellah Alizada holds a BA in political science from Kabul University. He has been involved in civil society and human rights activism since 2012 when he co-founded Youth Development Association (YDA), a local CSO focused on youth and women empowerment through advocacy, training, and awareness raising. He is a contributor to the Global Voices, the Diplomat, and the Institute of Peace and Conflict Studies (IPCS) in New Delhi. Currently, he is the deputy director at Organization for Policy Research and Development Studies (DROPS), a research and advocacy organization based in Kabul. He has also co-translated the book China in the 21st Century: What Everyone Needs to Know.

Read more


Continue Reading




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *