صدر ٹرمپ کی پاکستان سے متعلق حکمت  عملی کو درپیش مسئلہ

افغانستان کے ہمسائے میں امریکہ کے پاس واحد اتحادی پاکستان ہے۔ لیکن گزشتہ برس وائٹ ہاؤس نے جنوبی ایشیا سے متعلق نئی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے  پاکستان پر زور دیا کہ وہ “تہذیب، آرڈر  اور امن کا مظاہرہ “کرتے ہوئے افغانستان میں  جنگ ختم کرنے کی امریکی کوششوں  میں مدد کرے۔ تب سے  اب تک امریکی رویہ سرد ہو گیا ہے اور اس دوران امریکہ نے گھٹتی ہوئی سکیورٹی امداد کو معطل کر دیا، پاکستان کے اہم اتحادی درجے کو ختم کرنے سے دھمکایا اور عسکری تربیتی پروگرام کو بھی معطل کر دیا ہے۔ افغانستان میں دیرپا امن کےلئے  پاکستان کی امریکہ کو مدد انتہائی اہم ہے۔ اس سے بھی اہم یہ ہے کہ ایک مستحکم  اور پھلتا پھولتا پاکستان   قلیل اور طویل مدتی  عالمی استحکام کےلئے اشد ضروری ہے۔ جہاں صدر ٹرمپ کی بھارت سے متعلق حکمتِ عملی طویل مدتی شراکت داری ہے وہیں ان کی پاکستان سے متعلق  پالیسی  قلیل مدتی اور مختصر ہے۔ 

امریکہ کی پاکستان میں سکڑتی اہمیت:

جنوبی ایشیا سے متعلق صدر ٹرمپ کی پالیسی کے ایک سال بعد  امریکہ پاکستان میں اپنی اہمیت کھو دینے کے خطرے سے دوچار ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں لیکن ہم یہاں دس بیان کریں گے۔ پہلی؛ امریکہ نے پاکستان کے ساتھ شراکت داری ایک مقصد تک محدود کر دی ہے  اور وہ یہ ہے کہ پاکستان پر دباؤ ڈالتے ہوئے افغانستان میں عسکری اور انسدادِ دہشت گردی کے مقاصد کا حصول ہے۔ دوسری؛ امریکہ نے بظاہر  جغرافیائی اور قومی سلامتی  کے مقاصد کھو دئے ہیں کیونکہ اب وہ افغانستان سے باعزت رخصتی کی کھوج میں ہے۔ تیسری؛ اس کم تر ہوتے فائدے کی وجہ سے امریکہ نے پاکستان کی عسکری و معاشی امداد میں کمی کردی ہے  اور اس عمل نے پاکستان کو امریکی معاشی حریف چین کے قریب کر دیا ہے۔ چوتھی؛ پاکستان کی سیاسی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی جو تاریخی طور پر امریکہ کے بہت قریب رہی ہے اب سکڑ کر محض سندھ تک محدود رہ گئی ہے۔ پانچویں؛ سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ بے چینی میں ہے اورحالیہ پاکستانی انتخابات میں ایک نئی جماعت تحریک انصاف کے ساتھ شراکت داری یا تعلقات بنانے میں زیادہ   دلچسپی نہیں لے رہا ہے۔ 

چھٹی؛ پاکستان سے دوری کی وجہ سے امریکہ نے پاکستان کے ہمسایوں کے ساتھ اسکے (پاکستان کے) تعلقات بہتر کرنے میں کردار ادا کرنے  کو بھی کم کر لیا ہے جس کی وجہ سے پاکستان  یا تو اب ایسے مسائل کو دو طرفہ بات چیت یا پھر  دیگر ذرائع سے حل کرے گا۔ ساتویں؛ چونکہ امریکہ نے یورپ میں  غیر روائتی سیاسی و معاشی  طریقوں سے اپنے روائتی اتحادیوں کو تنہا کر دیا ہے تو اس میں پاکستان کےلئے بھی سبق پنہاں ہے۔ آٹھویں؛ چونکہ امریکہ نے بھارت سے تعلقات کو وسعت دینے کے ساتھ ساتھ مضبوط کر لیا ہے تو ایسے میں پاکستان کے اندر  امریکہ نواز کسی بھی سیاسی جماعت کےلئے بھی مشکلات کھڑی ہو گئی ہیں۔ نویں؛ چین کے ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کے وجہ سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ چین کا پاکستان میں کردار اور  دیگر ملکوں کا اثرورسوخ پاکستان میں  وارد ہو جائے گا۔ اور آخری وجہ یہ ہے کہ  پاکستان کی نئی حکومت  ایسا کوئی  قدم نہیں اٹھائے گی کہ جس سے امریکہ کے ساتھ تعلقات بہتر ہو سکیں۔ تحریک انصاف عوامی جماعت کے طور پر ابھری ہے جس کا مقصد  فلاح و بہبود، سادگی، انسانی ترقی اور امن امان میں بہتری لانا ہے اور ساتھ ہی ساتھ پاکستان کے اندر امریکی ڈرون حملوں پر تنقید جاری رکھنا بھی ہے۔ 

بلاشبہ امریکہ کی پاکستان میں کم ہوتی اہمیت صدر ٹرمپ کےلئے پریشان کن نہیں ہے لیکن یہ ہونی چاہئیے۔ صدر ٹرمپ کی گزشتہ برس جنوبی ایشیائی  پالیسی  میں پاکستان سے متعلق بیان  انکے دور اندیش نہ ہونے کا غماز ہے کیونکہ افغانستان میں طالبان سے نبرد آزما ہونے میں پاکستان کا کردار رہا ہے۔  پاکستان اور افغانستان نے دہشت گردی سے امریکہ کی نسبت کئی گناہ زیادہ نقصان اٹھایا  ہے۔ لیکن کئی پاکستانی دہشت گردی کو معیشت، بنیادی ڈھانچے،صحت کی سہولیات، تعلیم، موسمی تبدیلی، لوڈ شیڈنگ اور امن و امان جیسے مسائل سے کم   تر سمجھتے ہیں۔ پاکستان دنیا کا چھٹا بڑا ملک ہے مگر یہاں اوسط عمر سب سے کم  اور شرح پیدائش سب سے زیادہ ہے، جبکہ پاکستان کی فوج دنیا کی چھٹی بڑی فوج ہے جو جوہری ہتھیاروں سے لیس ہے۔ چین، بھارت، افغانستان ، ایران اور  خلیج فارس سے قربت کی بدولت پاکستان غیر معمولی جغرافیائی  اہمیت کا حامل ہے۔ ماضی میں پاکستان  سرد جنگ اور ۹/۱۱ کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا  قریبی اتحادی رہا ہے۔ اس لئے پاکستان سے تعلقات استوار رکھنے اور نہ رکھنے دونوں صورتوں کے نفع و نقصان ہے۔ اپنے حدود اربع اور محلِ وقوع کی وجہ سے  پاکستان عالمی سیاسی، معاشی اور سکیورٹی صورتحال پر  اثر انداز ہو سکتا ہے۔ 

پاکستان سے روابط کےلئے چیلنجز اور فوائد؛

غیر یقینی پاکستان سے نمٹنے کا طریقہ یہ ہے کہ اسکے ساتھ متواتر روابط رکھے جائیں کیونکہ ایک  اتحادی کو برقرار رکھنا نئے اتحادی کی تلاش سے بہتر ہے۔ صدر ٹرمپ کی جنوبی ایشیائی پالیسی میں پاکستان کےلئے خاصہ مشورہ تھا کہ اگر پاکستان طالبان سے بنرد آزما ہونے میں امریکہ کی حمائت نہیں کرتا تو اسکے پاس “کھونے کو بہت کچھ ہے” ۔ تاہم ان دھمکیوں کا خاطر خواہ اثر نہ ہو سکا  جبکہ  متبادل آپشنز زیادہ پُر اثر ہیں۔ اگر امریکہ پاکستان کے ساتھ روابط کو محدود کرنا جاری رکھتا ہے تو اسکا نتیجہ محض یہ نہیں ہو گا کہ پاکستان امریکی منشا کے مطابق چلنا چھوڑ دے گا بلکہ اس سے  پاکستان ایسے اقدامات بھی کر سکتا ہے جس سے امریکی مفادات کو نقصان پہنچے۔ پاکستان اور چین کی شراکت داری، ایک غیرمستحکم پاکستان  امریکہ کے مفادات کے مطابق نہیں ہے۔ جیسا کہ امریکی وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن نے ۲۰۰۹ میں ہماری یاددہانی کی تھی کہ آخری دفعہ جب پاک-امریکہ تعلقات میں تھماؤ آیا تو اس ہی دوران طالبان ابھر کر سامنے آئے تھے۔

چاہے امریکہ کی تعلقات کو بحال کرنے کی خواہش ہو یا ایسی کوئی دلیل پاکستان کی طرف سے ہو تو بھی اس تعلق کو سرد جنگ کے زمانے جیسا (دوستانہ) بنانا  دو وجوہات کی بنا پر انتہائی مشکل ہے، ایک پاکستان میں نئی حکومت اور دوسرا چین کا اثرورسوخ۔ نئی حکومت کے پاس امریکہ کے ساتھ میل جول کا طریقہ کار  اس طرح سے نہیں ہے جو   پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کے پاس تھا اور اسی لئے بہت سارے معاملات کو از سرِ نو ترتیب دینا پڑے گا۔ جبکہ چین کا اثرورسوخ پاک-امریکہ تعلقات کو کئی طرح سےمتاثر کرتا ہے۔ جہاں امریکہ اور چین دونوں ہی پاکستان پر اپنا اثر چاہتے ہیں وہیں دونوں   یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کو (پاکستان سے) زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کرنے کےلئے موقع فراہم کریں گے۔ 

امریکہ کے اپنے پیدا کردہ مسائل؛

جہاں  پیار اثر انداز نہیں ہو پا رہا تو وہاں مار اثر کر سکتی ہے اور یہ خیال صدر ٹرمپ کو سوچنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ لیکن ایسا ہونا نہیں چاہئیے۔ یقیناً پاکستان معاشی طور پر منجمد ہے ، مہنگائی بڑھ رہی ہے، تجارتی خسارہ ہے اور قرضے ہوشربا ہیں۔ پاکستان کی یہ عادت ہے کہ وہ اپنی آمدن سے زیادہ کرچ کرتا ہے اور پھر  انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ سے قرضے پکڑتا ہے تا کہ سود کی ادائیگیاں کر سکے۔ امریکہ کا قرضے دینے والوں پر خوب اثر چلتا ہے اور اسی کو استعمال کرتے ہوئے وہ پاکستان سے “ڈو مور ” کا مطالبہ کر سکتا ہے۔ لیکن اپنے حجم اور جغرافیائی اہمیت کی وجہ سے  ایسی کسی بھی سزا کے نتائج  کا تعین کرنا مشکل ہے: کیا پاکستان اپنی معیشت کا در بند کر دے گا، کوئی اور ملک آ کر پاکستان کو ریسکئو کرنے کی کوشش کرے گا، یا ملک عدم استحکام کا شکار ہو جائے گا، جس سے تمام ـــــ عالمی برادری پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

زیادہ دور کی بات نہیں جب امریکہ کے پاکستان کے ساتھ کثیر جہتی تعلقات تھے اور وہ پاکستان کی اہمیت کو افغان جنگ کے تناظر کے علاوہ بھی مدِنظر رکھتا تھا۔ پاکستان میں امریکہ کی غیر مقبولیت یا کم توجہ ہونے کے وجہ امریکہ خود ہی ہے اور اسی لئے یہ سب کچھ بہتر ہو سکتا ہے۔ تاہم تحریکِ انصاف کی حکومت اور ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کے بعد حالات کو نارمل کرنا مشکل ہے۔ لیکن ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ حالات کا بہتر ہو نا ہی  بہرحال امریکہ و عالمی مفاد میں ہے۔ 

ایڈیٹر نوٹ: امریکہ کی جنوبی ایشیا اور افغانستان سے متعلق نئی پالیسی کا صدر ٹرمپ  کی طرف سے فورٹ مئیر ملٹری بیس  آرلنگٹن، ورجینیا پر ایک سال قبل اعلان کیا گیا تھا ۔ اس پالیسی میں امریکہ کی نہ صرف افغانستا ن  بلکہ خطے میں موجودگی کے حوالے سے  تبدیلی سامنے آئی۔ اس چار حصوں پر مشتمل سیریز میں  نیہا دیویودی نے بتایا ہے کہ  جنوبی ایشیائی پالیسی نے افغان امن مرحلے پر اثرات ڈالے ہیں، بسم اللہ علی زادہ  نے  بیان کیا ہے کہ پالیسی سےافغانستان میں  سیاسی اور سکیورٹی  صورٹھال کیا بنی ہے، شریاس دیش مکھ  اس پالیسی کا بھارت-امریکہ تعلقات پر اثر بتاتے ہیں جبکہ عزیر کیانی اور سکندر شاہ  اس پالیسی کے پاک-امریکہ تعلقات پر اثرات کا جائزہ لیتے ہیں۔  مکلمل سیریز پڑھنے کےلئے یہاں کلک کریں۔

***

Click here to read this article in English.

Image 1: The White House via Flickr

Image 2: Alex Brandon via Getty

Posted in , Cooperation, Defence, Economy, Elections, Foreign Policy, Geopolitics, leadership, Militancy, Military, Pakistan, Policy, Politics, Terrorism, Trump South Asia Review, United States

Uzair Kayani

Uzair Kayani

Uzair J. Kayani is an assistant professor of law at the Lahore University of Management Sciences. He has also served as adjunct faculty at the university's School of Humanities and Social Sciences, where he taught game theory, and at the School of Business, where he taught business law. His research interests include law and economics, political science, and international law. Uzair holds a J.D. from the University of Chicago law school and an M.A. in political science from Washington University in St. Louis. He is a graduate of Middlebury College and Deep Springs College.

Read more

Sikander Shah

Sikander Shah

Professor Sikander Shah is a pioneering member of the Shaikh Ahmad Hassan School of Law at the Lahore University of Management Sciences. He obtained a B.A. in Economics and a Juris Doctorate (Cum Laude) from the University of Michigan, Ann Arbor. He has held visiting faculty positions at the Temple Law School, the Wayne State Law School and the University of Michigan Law School and holds the position of adjunct faculty at the Maurer School of Law, Indiana University Bloomington. Professor Shah served as the Legal Advisor to the Ministry of Foreign Affairs, while he was on sabbatical in 2012-2013. Professor Shah’s teaching and research interests are focused on Public International Law, International Human Rights Law, International Humanitarian Law, Corporate Governance and Constitutional Design.

Read more


Continue Reading




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *