Me and my four active phones

Note: Some of the hyperlinks in this essay lead to graphic images.

اگست ۲۰۲۱ میں افغانستان پر طالبان کے قبضے نے ملک کے بارے میں غیرمصدقہ اطلاعات کی ایک لہر کو جنم دیا۔ طالبان کی اقتدار میں آمد اور نیٹو افواج کے انخلاء کے بعد اطلاعات کی کمی نے اسے بڑھاوا دے ڈالا۔ ابتداً زیادہ تر غیر مصدقہ اطلاعات کا محور امریکی اقدامات رہے۔ تاہم مجموعی طور پر یہ دو موضوعات کے حوالے سے رہی ہیں: طالبان کا رویہ اور پنج شیر میں ہونے والی پیش رفت جو افغانستان کی سرزمین پر واحد طالبان مخالف مزاحمتی تحریک کا گڑھ ہے۔

یہ غیرمصدقہ اطلاعات ذرائع ابلاغ کی متعدد رپورٹس کا حصہ بن چکی ہیں اور انہیں پوائنٹر انسٹی ٹیوٹ، ایسوسی ایٹڈ پریس اور ایجنسی فرانس پریس کے فیکٹ چیکر عزیر رضوی نے یکجا کیا ہے۔ تاہم اس میں سے زیادہ تر مواد امریکی انخلاء کے بعد محض ابتدائی چند ہفتوں کا احاطہ کرتا ہے۔ دنیا کے افغانستان سے منہ موڑ لینے کے سبب ملک کے بارے میں غیرمصدقہ اطلاعات کی تحقیقات کی کوششیں دم توڑ چکی ہیں- غلط معلومات گھڑنے کا سلسلہ انتہائی بڑے پیمانے پر جاری ہے جو کہ ایک خطرناک پیش رفت ہے۔ یہ غیرمصدقہ اطلاعات طالبان کو توانا کرتی ہیں نیز خطے میں افغانستان کے پڑوسیوں و واشنگٹن کی اندرونی حالات جاننے کی اس صلاحیت کی راہ میں حائل ہوتی ہیں جس کی انہیں طالبان حکومت کو تسلیم کرنے سمیت  مستقبل کے اہم پالیسی فیصلوں کے حوالے سے ضرورت ہے۔ 

مواد

غیرمصدقہ اطلاعات کے پہلے دور میں امریکی انخلاء کے ہنگامہ خیز حتمی دنوں میں واشنگٹن کو برا بنا کے پیش کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس میں سے زیادہ تر جھوٹی اطلاعات تھیں، جانتے بوجھتے غلط مواد جس کا مقصد بدنام کرنا تھا۔ سوشل میڈیا  پر ایسی فوٹو شاپ کی گئی پوسٹس نشر کی گئیں جن میں ملک چھوڑنے والے افغان باشندوں کو بھاری اسلحے سے لیس دکھایا گیا تھا، جو یہ تجویز کرتا تھا کہ واشنگٹن دہشت گردوں کو افغانستان سے نکلنے میں مدد کر رہا ہے۔ دیگر  خبروں میں امریکی صدر جوبائیڈن پر  طالبان کو ۸۰ بلین ڈالر مالیت کا اسلحہ دینے اور حتیٰ کہ امریکی فوجی کتوں کو لاوارس چھوڑ دینے کا جھوٹا الزام لگایا گیا تھا۔  اس میں سے زیادہ تر مواد کی روسی ذرائع ابلاغ اور ری پبلکن پارٹی نے تشہیر کی تھی، جسے حکومتی حریفوں کی جانب سے وائٹ ہاؤس کے پھوہڑ پن سے کیے گئے انخلاء  سے فائدہ اٹھانے اور اسے مزید بدنما بنا کے پیش کرنے کو کوشش سمجھا جا سکتا ہے۔ 

انخلاء کے بعد غیر مصدقہ اطلاعات کا رخ افغانستان میں موجود کرداروں کی جانب ہو گیا۔ طالبان کے مظالم کی ایسی کئی رپورٹس سامنے آ چکی ہیں جو کبھی رونما نہیں ہوئے۔ اس میں غلط شناخت کے ساتھ تصاویر شامل ہیں جیسا کہ خواتین کی طالبان کے ہاتھوں مبینہ نیلامی جو دراصل لندن میں ۲۰۱۶ میں داعش کے خلاف ہونے والے ایک احتجاج کی تھی، اور ایک مرد کی تصویر جو زنجیروں میں جکڑی خواتین کی قیادت کر رہا تھا جو دراصل ۲۰۰۳ میں عراق میں کھینچی گئی ایک تصویر کو ڈیجیٹل طریقے سے ایڈٹ کیا گیا تھا۔ وہ تصاویر جن کے بارے میں فرض کیا گیا کہ وہ طالبان ممبران کی جانب سے مقامی آبادی کو بحری جہازوں کے کنٹینرز میں قید کرنے کی ہیں، ایک فلم سے لی گئی تھیں اور ایک تصویر جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ طالبان ایک شخص کو اڑتے ہوئے ہیلی کاپٹر سے لٹکا کے پھانسی دے رہے ہیں، اصل میں ایک طالبان رکن کی تصویر تھی جو ہیلی کاپٹر سے جھنڈا باندھ رہا تھا۔ دیگر پوسٹس میں طالبان کی جانب سے خواتین کو اغواء کرنے کے بارے میں الجزیرہ کی ایسی تحقیق جو سرے سے موجود نہیں اور مسیحی مشنریز کو قتل کرنے کا طالبان کے مبینہ منصوبہ شامل ہیں جس کے جھوٹا ہونے کا پول بھی کھل گیا تھا۔ 

غیرمصدقہ اطلاعات کا دوسرا بڑا ہدف پنج شیر ہے۔ وہاں طالبان جنگجوؤں کی مبینہ تصاویر اصل میں فرانسیسی سپاہیوں کی تھیں۔ بھارتی ٹی وی چینلز نے ایک ویڈیو نشر کی جس میں پاکستانی طیاروں کو پنج شیر پر حملہ کرتے دکھایا گیا تھا حالانکہ دیگر جگہوں پر یہ ویڈیو  ویلز میں پرواز کرتے امریکی جیٹس کے طور پر نشر کی گئی تھی جبکہ کچھ واقعات میں ویڈیو گیمز کی تصاویر استعمال کی گئیں تھیں۔ سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے پنج شیر میں مزاحمت کے طاقتور ہونے کی تصدیق کی جو اس سبب قابل اعتراض دکھائی دیتی ہے کہ  طالبان مخالف افراد کے تاجکستان میں پناہ لینے کی تصدیق ہو چکی ہے اور ایسی اطلاعات نہیں ہیں کہ وہ افغانستان میں متحرک طور پر آپریشنز کی قیادت کر رہے ہیں۔

ایسا مواد بالخصوص باعث تشویش ہے جو مشکوک دکھائی دیتا ہے تاہم اس کے غلط ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی یا نہیں ہو سکتی ہے یا جس میں تصدیق شدہ پیرایہ جیسا کہ وقت کی تصدیق ممکن نہیں۔ اس ماہ کے اوائل میں  بظاہر طالبان جنگجو  کے ہاتھوں ایک شخص کو سزائے موت دینے کی آڈیو سے عاری ایک ویڈیو پھیلی تھی۔ بعض مشاہدہ کاروں نے سمجھا کہ یہ طالبان کی جانب سے سابق افغان سپاہی کو مارنے کا ایک حالیہ واقعہ ہے جو طالبان کی جانب سے جوابی قتل عام نہ کرنے کے عہد کی خلاف ورزی ہے۔ تاہم بعد ازاں، اسی ویڈیو کی آواز کی حامل ایک اور نقل سامنے آئی جس میں دونوں افراد کے مابین مختصر گفتگو بھی محفوظ تھی جو یہ ظاہر کرتی تھی کہ اسلحہ بردار شخص دوسرے شخص کو اس اعتراف کے بعد قتل کرتا ہے کہ موخرالذکر افغان انٹیلی جنس سروس نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سیکیورٹی (این ڈی ایس)  کا ایک افسر ہے۔ سماجی میڈیا کے بعض صارفین کا خیال  ہے کہ اس کا مطلب ہے کہ یہ ویڈیو طالبان کے قبضے سے پہلے کی ہے کیونکہ قبضے کے بعد این ڈی ایس کا وجود ختم ہو چکا ہے۔ اس کا یہ مطلب ہوا کہ دکھایا گیا قتل اگرچہ گھناؤنا ہے تاہم یہ جوابی قتل عام نہ کرنے کے طالبان کے عہد کی خلاف ورزی نہیں۔ تاحال اس سانحے کی تاریخ کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

ایک اور غیر نتیجہ خیز مثال ٹوئٹر کی ایک پوسٹ تھی جس میں دعوی کیا گیا تھا کہ طالبان کے وزیر دفاع نے کہا ہے کہ افغانستان کو پنج شیر میں موسم بہار میں جنگ کی تیاری کرنی چاہیئے۔ ٹوئٹ پر ردعمل دینے والوں نے جب ذرائع کا پوچھا تو پوسٹ کرنے والے نے جواب نہیں دیا۔ طالبان، جنہوں نے بارہا  اپنی جنگ ختم کرنے کا دعویٰ کیا ہے، انہوں نے آنے والے تنازعے کے بارے میں علی الاعلان کچھ نہیں کہا ہے۔ لیکن انہوں نے اس کی تردید بھی نہیں کی ہے۔

وجوہات

افغانستان میں غیر مصدقہ اطلاعات، اطلاعات کی بے حد کمی سے جنم لیتی ہیں۔ یہ گزشتہ برسوں میں اس وقت پیدا ہونا شروع ہوئی جب طالبان کی جانب سے بھرپور شورش نے ملکی سلامتی کی صورتحال کو ابتر کیا جس سے بڑے شہروں کے باہر ذرائع ابلاغ کی کوریج زیادہ مشکل ہو گئی۔ تاہم طالبان کے قبضے اور امریکی انخلاء کہ جس کی وجہ سے نہ صرف  غیر ملکی ذرائع ابلاغ کو اپنی سرگرمیوں کو محدود کرنا پڑا بلکہ یہ بہت سے افغان صحافیوں کے ملک چھوڑنے اور باقی رہ جانے والے افغان رپورٹرز پر طالبان کے چھاپوں کا بھی سبب بنا، اس کے بعد اس میں زیادہ اضافہ ہوا ہے ۔

اطلاعات کے خلاء کو بہت طرح کے کھلاڑیوں نے پر کیا ہے۔ ان میں سے کچھ سوشل میڈیا کے معصوم صارفین ہیں جو ایسا مواد شیئر کرتے ہیں جسے وہ غلطی سے سچ سمجھتے ہیں۔ تاہم بہت سے ممکنہ طور پر سخت گیر خیالات کے حامل افراد ہیں جو اپنے مخالفین کیخلاف بیانیے کو طاقت بخشنے کے لیے غلط معلومات کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہیں۔ بھارتی قوم پرست ٹی وی چینلز نے پنج شیر میں پاکستانی جیٹس کی جھوٹی تصاویر نشر کیں جو غالباً اپنے پاکستانی حریف کو ایک جارح کے طور پر پیش کرنے کی کوشش تھی۔ طالبان کے شدید نقاد اور امریکی سیاست دان جنہوں نے بائیڈن اور انخلاء کے ان کے فیصلے کی مخالفت کی تھی، انہوں نے طالبان کے اقدامات کے بارے میں جھوٹا مواد پوسٹ کیا تاکہ ممکنہ طور پر ان کے مظالم کی حقیقت پر زور دے سکیں۔  طالبان کیخلاف مزاحمت کے حامیوں نے تحریک کے طاقت پکڑنے کا ڈھول غالباً مبالغے کی حد تک پیٹا تاکہ طالبان کے اپنی طاقت کے بارے میں بیانیے کو کمزور کر سکیں۔

ہر صورت میں یہ سوشل میڈیا اور اس کی غلط خبروں کو بڑھاوا دینے اور تیزی سے پھیلانے کی صلاحیت ہی ہے کہ جس نے افغانستان میں اطلاعات کے خلا کو سب سے زیادہ پر کیا ہے۔  غیرمصدقہ اطلاعات کی تیاری و پھیلاؤ کے لیے یہ صورتحال سازگار ماحول فراہم کرتی ہے۔

افغانستان میں معلومات کی کمی اور اس خلا کو پر کرنے والے کردار یہ وضاحت کرنے میں مدد دیتے ہیں کہ پنج شیر کے بارے میں اتنی غیرمصدقہ اطلاعات کیوں ہیں۔ یہ خطہ بہت دور دراز ہے اور اس میں پتھریلے پہاڑی سلسلے شامل ہیں جس کا مطلب یہ ہوا کہ سیل کوریج ناقص ہے اور رابطے انتہائی مشکل ہو سکتے ہیں۔ اس کا نتیجہ خصوصاً معلومات کی انتہائی کمی کی صورت میں ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ طالبان کے خلاف مزاحمت کے آخری گڑھ کے طور پر باقی  رہنے کے سبب پنج شیر پروپیگنڈا کی جنگ میں ایک غیرجانبدار میدان ہے جہاں طالبان اور مزاحمت کے حامی دونوں ہی طاقت اور صلاحیتوں کے حوالے سے رائے قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو کہ حقیقت سے متصادم ہو سکتی ہے۔

نتائج

ان غلط معلومات سے طالبان سب سے زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں۔ طالبان کے ہاتھوں بدسلوکی کی جھوٹی خبریں ان کی جانب سے ہونے والی اصل بدسلوکی  سے توجہ ہٹاتی ہیں جو ان کے قبضے کے بعد سے مسلسل  پھیل رہی ہے۔ اس میں خواتین کے ساتھ مار پیٹ، صحافیوں پر حملے اور انتقاماً قتل شامل ہیں۔ طالبان کو جب ان کی جانب سے اصل بدسلوکی پر مبنی تصاویر دکھائی جاتی ہیں تو وہ اسے جھوٹا مواد قرار دے کے مسترد کر سکتے ہیں۔ شیر آیا، شیر آیا کی مانند صورتحال سے اب طالبان پوری طرح فائدہ اٹھا سکتے ہیں: یعنی کوئی چیز اگر پہلے بہت بار جھوٹ رہ چکی ہے تو وہ اب بھی جھوٹ ہی ہو گی ۔ مزید براں، اطلاعات کا خلا جو غیر مصدقہ معلومات کی اس لہر کا موجب ہے طالبان کو زیادہ پرتشدد کارروائیوں کے لیے ایک آڑ فراہم کرتا ہے۔ بڑے شہروں سے باہر کے علاقے جہاں آزادانہ رپورٹنگ بہت کم ہوتی ہے اور جہاں سیل فون کے خراب سگنل شہریوں کی خبریں فراہم کرنے کی کوششوں کی راہ میں رکاوٹ ہو سکتے ہیں، وہاں مار پیٹ، گرفتاریوں اور ڈرانے دھمکانے کے واقعات کی اکثر تصدیق نہیں ہو سکتی ہے۔

عملی طور پر طالبان اعلیٰ قیادت کے بے خبر ہونے کی آڑ لے سکتے ہیں۔  یہ انہیں خود کو اپنے پرانے روپ کے مقابلے میں زیادہ نرم خو اور معتدل کے طور پر پیش کرنے کے لیے زیادہ موقع دیتی ہے۔ طالبان رہنماؤں کی نئی نسل  تعلقات عامہ کے مقاصد کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال کے فن میں مہارت حاصل کر چکی ہے۔ طالبان کی اعلیٰ قیادت کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس جانتے بوجھتے تصنع سے پر دکھائی دیتے ہیں جہاں زیادہ تر سرکاری بیانات اور غیرملکی رہنماؤں سے ملاقاتوں کی تصویر پر مبنی مواد شیئر کیا جاتا ہے۔ طالبان نے قبضے کے بعد کی ایسی تصاویر جو انہیں بہتر انسان دکھاتی ہیں، ان سے بھی فائدہ اٹھایا ہے گو کہ یہ ان صحافیوں کی نیت نہ تھی جنہوں نے یہ تصاویر فراہم کی ہیں۔ میں نے ایسی ویڈیوز دیکھی ہیں جن میں طالبان ممبران بمپر گاڑیوں میں خوشی خوشی سفر، جم کے سامان کا معائنہ اور جھولوں پر جھولتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔ 

درحقیقت غیرمصدقہ اطلاعات طالبان کی تعلقات عامہ کی کوششوں کو فروغ دیتی ہیں جو دراصل طالبان کے تاریک پہلووؤں کو نظرانداز کرنے کی وجہ سے غیرمصدقہ اطلاعات کی ایک اور شکل پیش کرتی ہیں۔ طالبان کی تعلقات عامہ کی مہم بھی بلاشبہ سفید جھوٹ پر مبنی ہوتی ہیں جیسا کہ جب اس گروہ نے ذرائع ابلاغ  کے ایک افغان ادارے کو ایک ویڈیو یہ کہتے ہوئے فراہم کی تھی کہ یہ ایک سابق افغان وزیر خارجہ کے گھر میں شراب سے بھرے ہوئے طاق دکھاتی ہے۔ یہ ویڈیو طالبان کے اس دعوے کے ساتھ نشر کی گئی۔ اصل میں یہ ویڈیو چیک سفارت خانے کی تھی۔  یہ حقیقت کہ طالبان غلط معلومات سے فائدہ اٹھاتے ہیں، یہ اشارہ دیتی ہے کہ ان کے پاس غلط معلومات کو پھیلانے والوں سے نمٹنے میں معمولی دلچسپی ہو گی۔  دوسرے لفظوں میں طالبان کی جانب سے  زیادہ آزاد صحافت اور ذرائع ابلاغ کی زیادہ بہتر صورتحال کو فروغ دینے کیلئے کوششوں کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا ہے، گو کہ یہ ان کو بیرون ملک سے اس قبولیت کا بڑا حصہ دلوا سکتا ہے جس کی وہ خواہش کرتے ہیں۔

افغانستان کی عوام جو مایوس کن انسانی و معاشی بحران، ایک ظالمانہ حکومت اور ریاست اسلامیہ کی دہشتگردی کے مسلسل خطرے کے سبب مصائب کا شکار ہیں، غیرمصدقہ اطلاعات کا سلسلہ ان کے سامنے ایک الجھا دینے والا، غیر حتمی یا سراسر غلط مواد پیش کر کے ان کی تکلیفوں کو مزید ابتر بنانے کا خطرہ رکھتا ہے۔ وہ افغان جنہیں انٹرنیٹ تک رسائی حاصل نہیں خاص کر دوردراز علاقوں میں مقیم افغانوں کو بلاشبہ آن لائن غلط معلومات کے اس سلسلے کا سامنا نہیں ہے (۲۰۲۲ کے اوائل تک، افغانستان میں انٹرنیٹ کا پھیلاؤ ۲۳ فیصد کے قریب تھا)۔ تاہم ملک نے، خاص کر بڑے شہروں نے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ٹیلی کمیونیکیشن کی دنیا میں ایک انقلاب دیکھا ہے ۔ افغانستان کی ۴ کروڑ کی آبادی میں سے ۷۰ فیصد سے زائد سیل فونز استعمال کرتے ہیں اور ایک تہائی سوشل میڈیا تک رسائی رکھتے ہیں۔ (قبضے کے بعد طالبان کی جانب سے سیل فونز پر پابندی عائد کرنے کی خبروں کی قلعی کھلنا غیرمصدقہ اطلاعات کی ایک اور مثال ہے۔) اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ لاکھوں کی تعداد میں افغان سوشل میڈیا پر طالبان کی تعلقات عامہ کی مہمات کا سامنا کریں گے۔

 پنج شیر کے بارے میں غیرمصدقہ اطلاعات اور ابہام علاقائی کرداروں کی مستقبل کی پالیسیوں پر بھی اثرانداز ہو سکتے ہیں۔  ابھی کے لیے بیشتر علاقائی کرداروں نے طالبان کی حکومت کو (رسمی طور پر تسلیم کیے بغیر) قبول کر لیا ہے اور ایک کمزور مزاحمت کی  حمایت میں ان کی کوئی دلچسپی دکھائی نہیں دیتی ہے۔ تاہم تباہ شدہ معیشت، طالبان کی اپنی نا اہلی اور اندرونی تقسیم جیسے عناصر میں کسی قسم کے اختلاط کی وجہ سے اگر اقتدار پر ان کی گرفت کمزور پڑتی ہے جس سے تشدد اور خانہ جنگی کا خطرہ بڑھے تو ایسے میں بعض علاقائی کردار اپنے کردار پر دوبارہ غور کر سکتے ہیں۔ ایسے موقع پر پنج شیر میں مزاحمت اور دیگر ممکنہ طالبان مخالف مسلح گروہوں کی صلاحیتوں کے بارے میں درست اور قابل بھروسہ معلومات ناگزیر ہوں گی۔ ضروری نہیں کہ مزاحمتی اراکین کہ جن کے بیرونی امداد کی خواہش رکھنے کا امکان ہو اور جو اپنی صلاحیتوں کو بڑھا چڑھا کے بیان کر سکتے ہوں، ان کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کافی ہوں۔ ان چیلنجز کو اگرچہ وہاں خفیہ طور پر موجود کسی بھی علاقائی کردار کے لیے کم کیا جا سکتا ہے لیکن پھر بھی جب تک معلومات کی کمی وہاں بڑے پیمانے پر پھیلی رہے گی، علاقائی کرداروں کو اپنی پالیسی کی تشکیل کے لیے درکار معلومات کے حصول میں دشواری رہے گی۔ 

افغانستان کے بارے میں غیرمصدقہ اطلاعات امریکی پالیسی کے چناؤ کے عمل کو بھی پیچیدہ کرتی ہیں۔ جیسا کہ میں نے نومبر میں ساؤتھ ایشین وائسز کے لیے یہ تحریر کیا تھا کہ  مستقبل میں واشنگٹن کے طالبان سے تعلقات جس میں باضابطہ طور پر تسلیم کرنا شامل ہے، اس کا بڑی حد تک دارومدار طالبان کے سب کو ساتھ لے کے چلنے اور انسانی حقوق کے حوالے سے  ریکارڈ پر ہوگا۔ واشنگٹن صرف اسی صورت میں طالبان سے زیادہ قریبی روابط رکھے گا کہ جب اسے ان امور پر واضح پیش رفت دکھائی دے گی۔ تاہم  پنج شیر پر حملہ کرنے کے مبینہ خطرے سے لے کے طالبان کے مظالم  کی جھوٹی تصاویر تک، طالبان کے رویے کے بارے میں جھوٹی اور غیر تصدیق شدہ معلومات ان کے کردار کو سمجھنے کی کوششیں پیچیدہ بنا دیتی ہیں۔ نیز افغانستان میں امریکی حکومت کی عملی طور پر عدم موجودگی اور پڑوسی ریاستوں کے ہمراہ انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کا کوئی نیا معاہدہ نہ ہونے سے واشنگٹن کے لیے خود اپنے ذرائع کے ذریعے وضاحت پانا مشکل ہے (امریکی حکام طالبان کی جانب سے نجی ملاقاتوں میں کروائی گئی یقین دہانیوں پر ممکنہ طور پر یقین نہیں کریں گے)۔

یہ عوامل عمومی طور پر امداد دینے والے ممالک، خاص کر مغرب پر بھی لاگو ہوتے ہیں: وہ انسانی بنیادوں پر فراہم کی جانے والی امداد کے علاوہ یکدم معاشی معاونت کا فیصلہ کرنے سے قبل طالبان کے کردار پر واضح ادراک چاہیں گے۔ لیکن اتنے بڑے پیمانے پر غیر مصدقہ اطلاعات کی موجودگی میں  تخمینہ لگانے کے لیے معلومات یکجا کرنا آسان نہیں ہو گا۔

افغانستان شائد شہہ سرخیوں سے تو غائب ہو گیا ہو لیکن حقائق کی پڑتال کرنے والے (فیکٹ چیکرز) اور شعبہ ابلاغ کے محققین کے لیے انتہائی ضروری ہے کہ وہ وہاں غیر مصدقہ اطلاعات پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں۔ درحقیقت افغانستان کے بارے  میں معتبر اور تصدیق شدہ معلومات کی ایسے وقت سے زیادہ کبھی ضرورت نہیں ہو سکتی کہ جب ملک دنیا کے بدترین انسانی بحران سے گزر رہا ہو ۔ علاوہ ازیں، معلومات کی کمی کے باوجود اب بھی بہت سے بہترین افغان صحافی اور غیرملکی رپورٹرز جن میں ایسے فری لانسرز بھی شامل ہیں جن کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں، وہ موقع پہ پہنچ کے بہادری کے ساتھ اور معتبر رپورٹنگ کر رہے ہیں۔ اس کی بہترین صورت یہ ہو سکتی ہے کہ ایسے تمام صحافیوں کی فہرست پر مبنی ایک دستاویز جو افغان تجزیہ کاروں کے غیرجانبدار گروہ، ذرائع ابلاغ کے محققین اور دیگر ماہرین کے جائزے کے بعد عوام میں تقسیم کے لیے مرتب کی جا سکتی ہے۔

ایسی کوئی بھی فہرست تیار کرنے میں بلاشبہ خطرات ہیں۔ ہمیشہ سے سکڑتا معلومات کا شعبہ جو طالبان کے ذرائع ابلاغ پر کریک ڈاؤن کے بعد مزید ابتری کا شکار ہوا، اہم ناموں پر مبنی دستاویز کی تیاری کی کوششوں کو پیچیدہ کر سکتا ہے۔ مزید براں، بعض افغان صحافی اپنی حفاظت کی خاطر ایک ایسی دستاویز میں اپنے نام کی اشاعت کے ذریعے وسیع پیمانے پر شہرت نہیں چاہیں گے جو عوامی نوعیت کی ہو اور بڑے پیمانے پر پھیلانے کے لیے ہو۔  لہذا، ایک اور تجویز ایسے اداروں کی فہرست کی تیاری کی ہے جو افغانستان میں ذرائع ابلاغ کے امور پر توجہ مرکوز کرتے ہیں اور جو فیلڈ میں موجود اپنے ذرائع تک رسائی دینے پر تیار ہوں جو اپنی شناخت خفیہ رکھتے ہوئے خبریں فراہم کر سکیں۔ ان ذرائع تک رسائی مانگنے والوں کی بلاشبہ باقاعدہ چھان پھٹک کی جائے۔

سوشل میڈیا کے دور میں،  توجہ کھینچنے  والے  موضوعات سے اثرانداز ہونے اور ان کی تصدیق کے بغیر انہیں آگے بڑھانے میں اکثر کشش محسوس ہوتی ہے۔ لیکن افغانستان کے بارے میں خبریں حاصل کرنے کا محفوظ ترین راستہ انہیں پرانے رواج کے مطابق حاصل کرنا ہی ہے جو کہ موقع پر موجود افراد سے خبروں کا حصول ہے۔ 

***

Click here to read this article in English.

Image 1: Institute for Money, Technology and Financial Inclusion via Flickr 

Image 2: Resolute Support Media via Flickr

Share this:  

Related articles

<strong>پاکستان میں پناہ گزینوں کے نظم و نسق کو درپیش چیلنجز</strong> Hindi & Urdu

پاکستان میں پناہ گزینوں کے نظم و نسق کو درپیش چیلنجز

اگست ۲۰۲۱ میں افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کے…

<strong>پاک امریکہ تعلقات کے ۷۵ برس: تسلسل کو برقرار رکھنا  </strong> Hindi & Urdu

پاک امریکہ تعلقات کے ۷۵ برس: تسلسل کو برقرار رکھنا  

اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے نے ۲۹ ستمبر کو…

<strong>پاکستان کی نئی حکمت عملی: ٹیکنالوجی کی بنیاد پر تعاون</strong> Hindi & Urdu

پاکستان کی نئی حکمت عملی: ٹیکنالوجی کی بنیاد پر تعاون

جنوری ۲۰۲۱ میں پاکستان نے اپنی پہلی قومی سلامتی پالیسی…