غیر مبہم بھارتی کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن

بھارت کا  فوجی ڈاکٹرائن جسے عمومی طور پر کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن“( سی-ایس-ڈی) کہا جاتا ہےاور جو۱۹۸۰ میں بھارتی آرمی جنرل کےسندر جی کے  جارحانہ فوجی نظریے سے متاثر ہو کر بنایا گیا ، اب مزید ڈھکا چھپا نہیں رہاہے۔ حال ہی میں تعینات کیےگئے نئے بھارتی آرمی چیف جنرل بپن روات نے ایک انٹرویو میں کہا “کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن اصل میں روائتی فوجی آپریشنز کےلئے ہے”۔ انہوں نے مزید کہا “کمزوری صرف اُسی صورت میں کنٹرول کی جا سکتی ہے کہ اگر آپ حکمتِ عملی کو مانیں، اگر آپ حکمتِ عملی نہیں مانتے، پھر آپ اپنی کمزوری کی وجہ سے محدودوسائل پر اکتفا کرتے ہیں”۔ سیاسی طور پر کسی بھی پابندی سے مبرّا  سی-ایس-ڈی ایک کھلا اعلان اور اعتراف ہونے کے ساتھ  بھارت کی مبہم روائتی طاقت  کا اظہار بھی ہے۔ یہ صورتحال  پاکستان کےاس خوف کی تصدیق کرتی ہے کہ بھارت کی جانب سےکسی بھی وقت جارحانہ روائتی طاقت کا استعمال ہو سکتا ہے۔

بظاہر جنرل روات کا مقصد سی-ایس-ڈی کو پرکھنا اور اس میں موجود خامیوں کو دور کرنا ہے۔ تاہم اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بھارتی فوج  نام نہاد  سی-ایس-ڈی کے سائے تلے اور فضائیہ کی مدد سے افواج کو تیزی سے متحرک بنا سکتی ہےاور پاکستانی علاقوں پر قبضہ کر سکتی ہےتا آنکہ سیاسی و عسکری مقاصد حاصل نہیں  ہو جاتے۔ اور ساتھ ہی ساتھ ایسی کسی بھی مہم کے دوران اس بات کوبھی  یقینی  بنانا کہ پاکستان اپنے جوہری ہتھیار استعمال نہ کر سکے۔ لیکن چونکہ بھارت اپنے فوجی ڈاکٹرائن میں مزید ارتقاء کا خواہش مند ہے تو یہ تدابیر پاکستان کو حفاظتی اقدامات، جیسا کہ جنگی استعمال میں آنے والے جوہری ہتھیار بنانے کےلئے مجبورکرے گا۔

جنرل راوات کا  سی-ایس-ڈی کا اعتراف کوئی اچھنبے کی بات نہیں ہے۔ بہت سے پاکستانی یہ بات یقین سے کہتے ہیں کہ بھارت ایک عرصہ سے سی-ایس-ڈی کو وسعت دینے پر کام کر رہا ہے۔ اس بات سے قطع نظر کہ بھارتی فوج سی-ایس-ڈی کو وسعت دینے میں کامیاب ہوتی ہے یا نہیں،حالیہ عرصے میں بھارتی روائتی و جوہری طاقت میں تبدیلی ضرور قابلِ غور ہے، یہ تبدیلیاں بھارتی جارحانہ رویے کی عکاس ہیں جو کہ بھارت کے بیلسٹک میزائل پروگرام ، جوہری آبدوزوں، بین البراعظمی بیلسٹک میزائل پروگرام اور روائتی ہتھیاروں کو جدید صلاحیت کا حامل بنانے جیسے اقدامات سے عیاں ہے۔

پاکستان میں بہت سے لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ بھارت دانستہ طور پر پاکستان  پر سٹریٹیجک دباؤ بڑھا رہا ہے۔ اسی تناظر میں پاکستان قابل  بھروسہ کم سے کم ڈیٹرنس کو برقرار رکھنے کے اصول کی وجہ سے اگر  کچھ حفاظتی اقدامات کرتا ہے تو یقیناً اس کے پاس جواز بھی ہوگا  (ڈیٹرنس برقرار رکھنے کا مطلب دونوں ملکوں کے بیچ جنگ کو روکنا ہے)۔ اسی طرح بھارتی معاندانہ منصوبہ بندی کے پیچھے کوئی جوابی تدبیر ہو سکتی ہے اور اسلام آباد کا یہ خیال ہے کہ یہ پاکستان کے مفاد میں ہے کہ جنوبی ایشیا میں طاقت میں مکمل برابری نہ سہی مگر کم سے کم توازن ضرور برقرار رکھا جائے۔ پاکستان  ہتھیاروں کی دوڑ میں ادلے کا بدلہ فارمولے پر کاربند نہیں ہونا چاہتا چونکہ یہ کم سے کم ڈیٹرنس رکھنے کے اصول سے متصادم ہو گا۔ مزید برآں ایسا کرنا عالمی برادری کے سخت رویے کا باعث بھی بن سکتا ہے اور جوہری عدم پھیلاؤ کے نظریے سے بھی منحرف ہونے والی بات ہے چونکہ پاکستان جوہری عدم پھیلاؤ پر سختی سے کاربند رہا ہے۔

کچھ ایسے اشارے ملتے ہیں کہ سی-ایس-ڈی مسائل حل کرنے کی بجائے ان میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے- اولاً سی-ایس-ڈی کا بنیادی نکتہ پاکستانی علاقوں میں مداخلت کرنا ہے جو یقیناً پاکستان کی علاقائی سالمیت اور خود مختاری کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔ بھارت میں جو دہشت گرد حملہ آور ہوتے ہیں انکو بھارتی فوج اور خفیہ ادارے سی-ایس-ڈی کو استعمال میں لائے بغیر بھی روک سکتے ہیں۔ دہشت گردی کو کنٹرول نہ کر سکنا بھارتی خفیہ اداروں کی  ناکامی ہے اور یہ اب بھارت کا بہت بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ سی-ایس-ڈی  دہشت گردی  کاحل محض جنگ ہی بتاتا ہے تاہم ایسا کرنا پورے خطے کو تباہی کی لپیٹ میں لے آنے جیسا ہے۔ غالباً  بھارتی سیاسی قیادت کو سی-ایس-ڈی کا متبادل تلاش کرنا ہو گا اور دہشت گردی کی بیخ کنی کےلئے اندرونی پالیسیوں میں مناسب ردوبدل زیادہ کارگر ثابت ہو گی۔

سی-ایس-ڈی کا ایک اور منفی پہلو یہ بھی ہے کہ اسکا استعمال بھارتی سیاسی قیادت کی ساکھ کو داؤ پر لگا دے گا چونکہ ابھی تک تو سویلینز ہی فوجی معاملات کو دیکھتے رہے ہیں۔ جبکہ عسکری قیادت سی-ایس-ڈی کو علی العلان جائز سمجھتی ہے اور یہ نکتہ سول-عسکری قیادت میں  اختلافات کو جنم دے سکتا ہے۔ یہاں ایک اور سوال بھی کھڑا ہوتا ہے کہ سی-ایس-ڈی کو بنانے اور اسکو استعمال کرنے کا حقیقی اختیار سیاسی قیادت کے پاس ہے یا عسکری؟ اور اگر بھارتی فوج اپنی مرضی کرنے میں کامیاب ہوتی ہے تو یہ ماضی سے متصادم ہو گا اور فوج کے سویلینز پر اثرورسوخ کو ظاہر کرے گا۔

سی-ایس-ڈی کا استعمال عالمی برادری کی ناگواری کا باعث بھی بن سکتا ہے۔روائتی طاقت کہ جس میں بھارتی رویہ بھی جارحانہ ہے اور محدود جنگ کی صورت میں اسکی پوزیشن بھی پاکستان کے مقابلے میں بدرجہا بہتر ہے، عالمی برادری کو براہ راست ملوث کر دے گی جو بھارت کو ان سٹریٹیجک فوائد کی  یاد دہانی کراتے ہوئے سمجھداری سے کام لینے پر مجبور کر سکتی ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ سی-ایس-ڈی جنوبی ایشیا کی سٹریٹیجک فضا میں مسائل پیدا کر دے گا۔ سی-ایس-ڈی کو وسعت دینا اور ایک آزاد ریاست کے خلاف اسکی تعیناتی یا استعمال، وہ بھی دہشت گردی کے مبہم مفروضے پر، کوئی قابل عمل پالیسی نہیں ہونی چاہئے۔ یہ  سوچ پہلے سے موجود فوجی تناؤ کو  ایٹمی جنگ کی طرف دھکیلے گی جسکی خواہش نہ تو بھارتی سیاسی اور نہ ہی عسکری قیادت  کر سکتی ہے۔ اس لیے ایک  متبادل حکمتِ عملی کی ضرورت ہے جو جنوبی ایشیا کے ڈیٹرنس میں استحکام کا باعث بنے۔

***

Click here to read this article in English.

Posted in , Cold Start Doctrine, Conventional Forces, Defence, India, India-Pakistan Relations, Pakistan

Zafar Khan

Zafar Khan

Zafar Khan (Ph.D. Strategic Studies, University of Hull, UK) authored the book “Pakistan Nuclear Policy: a minimum credible deterrence” (Routledge: London, 2015). Currently, he serves as an Assistant Professor at the Department of Strategic Studies, National Defense University, Islamabad where he teaches seminars on arms control and disarmament and programs and policies of nuclear weapons states. His areas of interest include proliferation/nonproliferation, nuclear policy, security strategy, cyber-studies, foreign policy, and international relations theory. His papers have appeared in various national and international peer-reviewed journals.

Read more


Continue Reading




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *