FATA-1095×616

    پاکستانی سیکیورٹی اپریٹس نے خیال کیا کہ  ۲۰۱۷  میں تحریک طالبان (ٹی ٹی پی) کا زوال ان کے رہنما احسان اللہ احسان کی گرفتاری اور پاکستانی سیکیورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن سے مکمل ہو چکا ہے۔ تاہم، ٹی ٹی پی نے ۲۰۲۱ میں اپنے حملے دوبارہ شروع کر دیے۔  پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلیکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز کی ۲۰۲۱ کی سیکیورٹی رپورٹ ٹی ٹی پی کے حملوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو ظاہر کرتی ہے جو کہ زیادہ تر فاٹا کے علاقے میں واقع ہوئے۔ اس علاقے میں ٹی ٹی پی کی حالیہ بحالی دو واضح وجوہات پر مبنی ہے: ٹی ٹی پی کی سابق وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) میں افغانستان و پاکستان سرحدی علاقوں سے افراد کی بھرتی، اور فاٹا میں مقامی آبادی میں ٹی ٹی پی کی مقبولیت۔ اس حقیقت کے باوجود کہ ٹی ٹی پی مختلف نسلی عسکریت پسند گروہوں کی پشت پناہی کرنے والی بڑی تنظیم ہے — جس میں عرب، ازبک، افغان، چیچن اور پنجابی عسکریت پسند شامل ہیں — ٹی ٹی پی کے اندر سب سے طاقتور دھڑے تاریخی طور پر محسود گروپ کے ہی رہے ہیں۔ یہ زیادہ تر پشتونوں پر مشتمل ایک نسلی گروہ  ہے جو زیادہ تر فاٹا اور پاکستان کے خیبر پختونخواہ (کے پی) کے علاقے میں موجود ہے۔ اس طرح فاٹا ٹی ٹی پی کو بھرتی اور آپریشنل لیوریج دیتا ہے، جو بنیادی طور پر دو عوامل سے متاثر ہوتی ہے: ایک فاٹا کا غیر محفوظ سرحدی علاقہ، اور دوسرا  افغانستان سے مقامی اور مہاجر پشتونوں کا ارتکاز ہے، جن کی سیاسی شکایات کی وجہ سے ٹی ٹی پی کو ان کے استحصال کا موقع ملتا ہے۔ اس طرح فاٹا پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی کی عمل درامد کے لیے لیے ایک مشکل خطہ بنا ہوا ہے: افغانستان سے اس کی نسلی جغرافیائی قربت اور اس کی سابقہ ​​سیاسی طور پر خود مختار حیثیت نے اسے سرحد پار سے نسلی تنازعات اور دہشت گردی کے پھیلاؤ کے لیے حساس بنا دیا ہے۔

ٹی ٹی پی سرحدی باڑ کے باوجود حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔

ٹی ٹی پی کے لیے، پورے فاٹا میں آپریشنل فائدہ اس کی بین الاقوامی آپریشنل صلاحیت اور افغانستان کو محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کرنے کی صلاحیت  ہے۔ اس خطہ پر باڑ لگانے کے لیے پاکستانی حکومت کی کوششوں کا مقصد سرحد پار عسکریت پسندی اور غیر قانونی انسانی و ہتھیاروں کی اسمگلنگ کو روکنا تھا لیکن مقامی لوگوں اور افغان حکومت کی جانب سے انہیں زبردست مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ باڑ لگانے کے باوجود، ٹی ٹی پی اپنے سرحد پار، نسلی عسکریت پسند گروپوں جیسے حقانی نیٹ ورک (پشتون غالب) کے ساتھ بین الاقوامی روابط کا استعمال جاری رکھے ہوئے ہے جس کے ارکان اب طالبان کے زیر کنٹرول افغانستان میں اعلیٰ قیادت کے عہدوں پر قابض ہیں۔ درحقیقت، ٹی ٹی پی کو حال ہی میں طالبان کی قیادت کے ہاتھوں اس کے سینکڑوں ارکان کی سابقہ افغان حکومت کے زیر انتظام جیلوں سے رہائی کے بعد تقویت ملی ہے۔

ٹی ٹی پی کا ۲۰۲۱ میں دوبارہ ظہور اس بات کو واضح کرتا ہے کہ دہشت گردی کے انسداد میں  سرحد پر باڑ لگانے کے عمل کی افادیت محدود ہے اور یہ کہ کس طرح نسلی عسکریت پسند گروہوں کی نسلی و سیاسی وابستگی زمینی سرحدوں سے باہر پھیلی ہوئی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ سرحد پر باڑ لگانے سے القاعدہ اور ٹی ٹی پی جیسے بین الاقوامی دہشت گرد اور نسلی عسکریت پسند گروپوں کے خطرے کے تصور میں مزید اضافہ ہوا ہے، ۲۰۲۱ سے سرحدی علاقوں (فاٹا اور بلوچستان دونوں میں) کے قریب ان کی بڑھتی ہوئی کارروائیاں اس بات کا واضح  ثبوت ہے۔

انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی کے طور پر طاقت کے استعمال کے اثرات

سرحد پر باڑ لگانے کی موجودہ پالیسی کی طرح، ماضی میں پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی ٹی ٹی پی کے خلاف ساختی اور جبری مداخلتوں پر ہی مرکوز رہی ہے۔ فاٹا میں پاکستانی فوج کی  ۲۰۰۹ سے ۲۰۱۱ تک اور پھر ۲۰۱۴ سے ۲۰۱۹ تک کاروایاں اس نیم خودمختار علاقے میں فوجی آپریشن جیسے کے ضرب عضب کی صورت میں موجود تھے جو کہ خطے میں پاکستان کی فوج کی طرف سے آخری جارحانہ کاروائی تھی۔ فاٹا کے علاقے کو دہشت گرد اور باغی گروپوں سے خالی کرانے کے لیے امریکی ڈرون حملوں کے ذریعے بھی مسلسل نشانہ بنایا جاتا رہا ہے، جس کے نتیجے میں انسانی جانی نقصان ہوا۔ اس علاقے کے لوگوں نے  ۲۰۰۷ میں بڑے پیمانے پر اندرونی طور پر بے گھری  کو سہا۔ پاکستان اگرچہ ٹی ٹی پی کو ختم کرنے میں کامیاب رہا، لیکن طاقت کے استعمال کا ایک بڑا نتیجہ فاٹا کی مقامی آبادی میں پاکستانی حکومت اور سیکورٹی فورسز کے خلاف نسلی سیاسی شکایات کو جنم دینے کی صورت میں سامنے آیا۔ حکومت نے ۲۰۱۵ میں انتظامی اور اقتصادی اصلاحات متعارف کرانے کے لیے فاٹا کے صوبہ کے پی کے ساتھ  الحاق کا اعلان کیا۔ ان اقدامات نے فاٹا کی خود مختار سیاسی شناخت کو تبدیل کر دیا،  مزید اقدامات جیسے کہ سرحد پر باڑ لگانے نےسرحد پار  معاشی سرگرمیوں کو روکا اور مقامی لوگوں کے روزمرہ کے سفر میں رکاوٹ پیدا کر دی، جس سے  مقامی آبادی کی زندگی متاثر ہوئی۔

اگرچہ ان اقدامات کا مقصد  فاٹا کو باقی پاکستان کے ساتھ مرکزی دھارے میں شامل کرنا تھا مگر ان کے نتیجے میں پاکستانی ریاست کے خلاف مقامی لوگوں میں شکایات پیدا ہوئیں۔ پاکستان کے قبائلی علاقوں سے پشتون تحفظ موومنٹ  جیسی نسلی سیاسی تحریکوں کا ابھرنا عوام کے سیاسی تور پر متحرک ہونے کا  ثبوت ہے جو عسکریت پسندی، مقامی معیشت کی تباہی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ سے ہونے والے نقصانات کے ردعمل میں مقامی لوگوں میں پیدا ہوئی۔  ماضی میں ٹی ٹی پی نے حکومت کے خلاف اس طرح کی مقامی شکایات کو پاکستانی ریاست کے خلاف  اسکری بھرتیوں اور خودکش حملوں کے لیے مالی امداد کے حصول اور دہشت گردی  کے لیے استعمال کیا ہے۔ خطے میں ٹی ٹی پی کی موجودہ بحالی بنیاد پرستی پر مبنی تشدد اور دہشت گردی کو مشتعل مقامی لوگوں کو بھرتی کرنے اور ان کو متحرک کرنے کی صلاحیت سے الگ کر کے نہیں سمجھا جا سکتا ہے۔ پاکستانی ریاست نے فاٹا میں اعتماد سازی کے کچھ اقدامات کرنے کی کوشش کی ہے، جن میں بحال شدہ آئی ڈی پیز کے لیے چھوٹے گرانٹس، عسکریت پسندوں کی بحالی کی سہولیات اور بچوں کی صحت کی مد میں مدد شامل ہے، اس کے باوجود مرکزی حکومت کو لے کر مقامی آبادی میں ہم آہنگی اور سیاسی اعتماد کی شدید کمی ہے۔

انسداد دہشت گردی کے لیے پاکستان کی حکمت عملی میں تبدیلی

پاکستان نے کے پی کے علاقوں، بشمول فاٹا، میں مذہبی اور ثقافتی تعلیمات میں امن کے اظہار کا استعمال کرتے ہوئے عسکریت پسندوں کو اپنا نظریہ تبدیل کرنے میں مدد دینے کے لیے کئی انتہا پسندی کو ختم کرنے کے پروگرام اور کیمپ شروع کیے ہیں۔ ریاست نے بنیاد پرست بیانیے کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے ۔ ان کوششوں میں   “پیغام پاکستان” جیسے اقدامات شامل ہیں جو کہ اسلام کے نام پر خودکش بم دھماکوں اور دہشت گردی کے استعمال کی مذمت کرنے والے علماء کو اکٹھا کرتا ہے۔ ۲۰۱۵ میں ۲۱ ویں آئینی ترمیم نے پاکستان کے سیکیورٹی سیکٹر کے علاوہ دیگر ذرائع کے ذریعہ طاقت کے استعمال کو غیر قانونی قرار دیا۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے ۲۰۲۱ میں ٹی ٹی پی کے ساتھ ممکنہ مصالحتی مذاکرات میں دلچسپی کا اشارہ دیا جو منظم طریقے سے تخفیف اسلحہ اور عسکریت پسندوں کے دوبارہ انضمام کا باعث بن سکتے ہیں۔ تاہم، اس پر معاشرے کے سِول اور سیاسی شعبوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا۔

ٹی ٹی پی نے دسمبر ۲۰۲۱ میں حکومت کے ساتھ جنگ بندی کی خلاف ورزی کی اور تخفیفِ اسلحہ یا تخفیفِ جنگ میں عدم دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔ پاکستانی آبادی اب بھی دہشت گردی کے حملوں سے ۶۰,۰۰۰ افراد کے نقصان پر افسوس کا اظہار کر رہی ہے جبکہ اس صورتحال میں سابق عسکریت پسندوں کو ان کے نظریے اور بھرتی کی صلاحیت کو نشانہ بنانے کی مضبوط پالیسی کے بغیر معاشرے میں دوبارہ انضمام  کا موقع دینا حکومت کی ایک خطرناک پالیسی آپشن  لگتی ہے۔ ٹی ٹی پی غیر حقیقی مذاکرات جیسے ریاست کے زیر حراست اپنے قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ جیسی شرائط طے کرتی رہتی ہے۔ ٹی ٹی پی اور دیگر بنیاد پرست گروہ ان کے اور حکومت کے درمیان معدومیت کی اس کیفیت کا فائدہ اٹھا رہے ہیں  ہے تاکہ پاک افغان سرحدی علاقوں اور بالخصوص فاٹا کے قریب حملے جاری رکھ سکیں ۔

ایک نئی سمت؟ قومی سلامتی کی پالیسی اور آگے بڑھنے کا راستہ

شاید پاکستان نے اپنی داخلی سلامتی کے لیے اپنی جنگی طاقت کے استعمال پر مائل انداز کو اپنانے کے عزم کا اشارہ دیا ہو، جو سابق فاٹا میں دہشت گرد گروپوں کے تئیں اس کی پالیسیوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ ملک کی نئی قومی سلامتی پالیسی کے مطابق جو کہ ۲۰۲۶ تک کارآمد ہے — ملک کی تمام قومی سلامتی کی ترجیحات کو مجموعی طور پر سمیٹتی ہے۔ ۲۰۱۴ کا پچھلا “نیشنل ایکشن پلان” پُرتشدد انتہا پسندی اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے جارحانہ کارروائیوں اور ادارہ جاتی ہم آہنگی پر مرکوز تھا۔ این ایس پی کے پی کے علاقوں (بشمول فاٹا) میں عدم مساوات کو کم کرنے کی حکومتی کوششوں کی بات  بھی کرتی ہے۔ حکومت کا مقصد عوامی مشغولیت، اقتصادی اصلاحات اور افغانستان کی جانب نرم سفارتی نقطہ نظر متعارف کروانا ہے۔ اس سے ریاست کو تنازعات کے انتظام سے آگے بڑھ کر فاٹا سمیت سرحد کے قریب جنگ زدہ علاقوں کی مفاہمت اور بحالی پر توجہ دینے میں مدد مل سکتی ہے۔

نوجوانوں کی بھرتی اور فاٹا کے قبائلی رہنماؤں کی افغان تنازعہ میں شرکت ٹی ٹی پی جیسے بین الاقوامی عسکریت پسند گروپوں کے لیے اس علاقے کو پرتشدد تنازعات کے چکروں میں مصروف رکھنے کے لیے ایک اہم آپریشنل ترغیب تھی۔ مستقبل میں اس پر قابو پانے کے لیے، حکومت اور بین الاقوامی برادری کی توجہ مقامی معیشت، انفراسٹرکچر اور کمیونٹی کی زندگی کی بحالی میں مدد پر مرکوز ہونی چاہیئے۔ ایک اور اقدام میڈیا میں ان کی ثقافتی اقدار کی مثبت تصویر کشی اور سیاسی مصروفیات کے ذریعے ان کے تحفظات کا احترام کرتے ہوئے پشتون شناخت کو دہشت گردی اور بنیاد پرستی سے الگ کرنا ہو سکتا ہے۔ اس سے گروہ بندی کو کم کرنے اور نسلی سیاسی شکایات کی بنیاد پر مقامی لوگوں کو بھرتی کرنے کے لیے بنیاد پرست طبقات کی صلاحیت کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ دو ملکی سطح پر، پاکستانی اور افغان حکومتوں کو بین الاقوامی عسکریت پسند گروپوں کے خلاف انسداد دہشت گردی کے اقدامات پر اتفاق رائے پیدا کرنا چاہیئے اور بنیاد پرست عسکریت پسندی اور دہشت گردی کے علاقے کو کم کرنے کے لیے سرحد پر باڑ لگانے جیسی کوششوں پر تعاون کرنا چاہیے۔ خطے میں انسداد دہشت گردی کی کوششوں کے لیے اس جامع انداز کو اپنانے سے فاٹا کو دوبارہ تشدد کی ف‍ضاء  سے نکالنے میں مدد مل سکتی ہے۔

***

Click here to read this article in English.

Image 1: Abdul Majeed/AFP via Getty Images

Image 2: Abdul Basit/AFP via Getty Images

Share this:  

Related articles

<strong>تزویراتی خودمختاری : پاکستان بمقابلہ بھارت</strong> Hindi & Urdu

تزویراتی خودمختاری : پاکستان بمقابلہ بھارت

  یوکرین میں روس کی جنگ کے بعد اقوام عالم…

<strong>پاکستان میں پناہ گزینوں کے نظم و نسق کو درپیش چیلنجز</strong> Hindi & Urdu

پاکستان میں پناہ گزینوں کے نظم و نسق کو درپیش چیلنجز

اگست ۲۰۲۱ میں افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کے…

<strong>پاک امریکہ تعلقات کے ۷۵ برس: تسلسل کو برقرار رکھنا  </strong> Hindi & Urdu

پاک امریکہ تعلقات کے ۷۵ برس: تسلسل کو برقرار رکھنا  

اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے نے ۲۹ ستمبر کو…