مودی کا دوسرا دور اور پاک بھارت تعلقات

وزیراعظم نریندر مودی کی پہلی مدت پاکستان کے ساتھ مذاکراتی عمل کے آغاز کیلئے انکی کوششوں کے سبب سرحد پار تعلقات کے حوالے سے امید افزاء پیغام کے ساتھ شروع ہوئی۔ تاہم اس کے بعد سے تعلقات خرابی کا شکار ہیں جس کی بڑی وجہ پاکستان سے تعلق رکھنے والے دہشتگردوں کی بھارت میں متعدد کارروائیاں ہیں۔ بھارت- پاکستان تعلقات میں یہ روایت رہی ہے کہ جیسے ہی سفارتکاری یا امن کا سفر شروع ہوتا ہے، پاکستان سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد گروہ اسے داغدار کردیتے ہیں۔ عمران خان کی سربراہی میں پاکستان تحریک انصاف کی قدرے نئی حکومت کے ساتھ پرامن روابط کی کوششیں بھی اس وقت کرچی کرچی ہوگئی تھیں جب اس سال کے آغاز میں پاکستان سے تعلق رکھنے والی دہشت گرد تنظیم جیش محمد ( جے ای ایم) نے جموں کشمیر کے پلوامہ سیکٹر میں بھارتی پیراملٹری دستے پر خودکش حملے میں  ۴۰ فوجیوں کو ہلاک کردیا۔ مودی کی دوسری مدت میں بھارت اور پاکستان موجودہ تناؤ کی راہ پرہی گامزن دکھائی دیتے ہیں اور کچھ مثبت پیش رفتوں کے باوجود بھی مصالحتی کوششوں کی خاطر سنجیدگی سے آگے بڑھنے  کیلئے درکار ثابت قدمی اور رویئے میں تبدیلی کی کمی ہو سکتی ہے۔

حالیہ تاریخ: مودی کے پہلے دور میں تعلقات

 بھارتی افواج کی جانب سے ستمبر ۲۰۱۶ میں اڑی حملے کے بعد پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں “سرجیکل سٹرائیکس”  اور پلوامہ حملے کے ردعمل میں رواں برس کے آغاز میں بالاکوٹ میں فضائی حملے نے بھارت پاکستان تعلقات کے بیانیئے کو تبدیل کردیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستانی سرزمین سے ہونے والی دہشت پر مبنی کارروائیوں کی سزا دینے کیلئے کم از کم اب تک اعلانیہ جوابی فوجی حملے نہیں کئے گئے تھے جس کی بڑی وجہ بھارت میں پھیلا یہ تاثرہے کہ پاکستان ردعمل میں محاذ جنگ پر استعمال ہونے والے چھوٹے جوہری ہتھیاروں ( ٹی این ڈبلیوز) کی جانب رجوع کرسکتا ہے۔

پاکستان کی فل سپیکٹرم ڈیٹرنس پالیسی کے تحت نہ صرف ٹی این ڈبلیوز کے استعمال کا امکان بڑھ چکا ہے اور اگرچہ پاکستانی حکام اس کی تردید کرتے ہیں تاہم مفکرین یہ یقین بھی رکھتے ہیں کہ بوقت استعمال انہیں چلانے کیلئے حکمت عملی وضع کرنے کی سطح کا اختیاربھی ممکنہ طور پر میدان جنگ کے کمانڈروں کو سونپا جائے گا۔ درحقیقت، بالاکوٹ پر بھارت کے فضائی حملے کے بعد پاکستان نے نیشنل کمانڈ اتھارٹی جو جوہری ہتھیاروں پر براہ راست اختیار رکھتی ہے، اس کا اجلاس طلب کرتے ہوئے جوہری حملے کی ڈھکی چھپی دھمکی دی تھی۔ مزید یہ کہ ۲۳ مئی کو جس وقت ایگزٹ پولز مودی کی کامیابی کی پیشنگوئی کررہے تھے، پاکستان نے اعلان کیا کہ اس نے جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت سے لیس شاہین ٹو  بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا ہے۔

بھارت کی جانب سے حالیہ حملوں کے موثر ہونے کے بارے میں بحث کے باوجود یہ حملے واضح اشارہ دیتے ہیں کہ اگرپاکستان کی جانب سے دہشت گردوں کیخلاف اپنا کردار ادا نہ کیا گیا تو بھارت اس کے اندر یک طرفہ کارروائیوں کیلئے تیار ہے۔ بھارت نے ۲۰۱۶ میں اڑی حملے کے بعد پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں غیر روایتی حملے سے لے کے  پلوامہ کے بعد خیبر پختونخواہ میں فضائی حملے تک، دہشت گردی کی شدت کے مطابق تواتر کے ساتھ جوابی کارروائیوں میں اپنے اہداف کو وسعت دی ہے۔  لیکن “غیر فوجی اہداف” کو مہارت سے نشانہ بنانے اور فضائی قوت جو دشمن کے علاقے میں تیزی سے گھسنے اور واپس آنے میں مدد دیتی ہے، کے استعمال کے ذریعے سےبھارت،  پاکستان کے جوہری تھریش ہولڈ کی خلاف ورزی سے بچا رہا ہے۔ مودی کی  پاکستان کے حوالے سے ” گاجر کے مقابلے میں زیادہ چھڑی” والی حکمت عملی کے سبب، مستقبل میں پاکستان سے ہونے والی دہشت گردی کے کسی بھی بڑے واقعے کی صورت میں بھارتی ردعمل زیادہ قوت کا ہوسکتا ہے اور یہ اس میں اضافے سے بھی نہیں شرمائے گا۔

سفارتی اشاروں میں تبدیلی

 پلوامہ حملے اور بالاکوٹ پر فضائی حملے کے بعد والے مہینوں میں  ماحول میں تناؤ کے باوجود بھی مودی کے دوبارہ منتخب ہونے کے بعد ایک غیر محسوس تبدیلی رونما ہوئی ہے۔ مودی کی جیت پر ردعمل دیتے ہوئے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے ٹوئٹر پر لکھا کہ وہ “جنوبی ایشیا میں امن، ترقی اور خوشحالی کیلئے” اپنے بھارتی ہم منصب سے تعاون کرنا چاہتے ہیں۔ مزیدبراں، بھارت میں پاکستان کے سابق ہائی کمشنر اور امور سفارت کاری کے ماہر سہیل محمود حال ہی میں پاکستان کے سیکرٹری خارجہ مقرر کئے گئے ہیں۔  گزشتہ ماہ عید کے موقع پر ان کے نئی دہلی کے دورے سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بہتر ہونے کے بارے میں افواہوں کو بڑھاوا ملا۔ ان پیش قدمیوں کے ردعمل میں مودی بھی کسی حد تک مثبت دکھائی دیئے ، انہوں نے خان کی خواہشات پر انکا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ خطے میں امن اور ترقی ہمیشہ انکی ترجیح رہی ہے تاہم انہوں نے پاکستان کے حوالے سے اپنی سوچ سے جڑی شرط کو دہراتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی اور مذاکرات ایک ساتھ  نہیں ہوسکتے۔

امن کی راہ میں ممکنہ رکاوٹیں

جون ۱۶ کو پاکستان نے لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو ملک کی سب سے بڑی انٹیلی جنس ایجنسی ، دی انٹرسروسز انٹیلی جنس ( آئی ایس آئی) کا نیا ڈائرئکٹر جنرل  تعینات کیا، جسے پاکستانی مبصر عائشہ صدیقہ نے “جنگجوئی پر مبنی فیصلہ” قرار دیا۔ جس وقت مسائل سے دوچار معیشت کے باعث خان کی سربراہی میں سویلین حکومت عدم تسلسل کا شکار ہے، پاکستانی فوج اختیارات اور اثرات دونوں اعتبار سے پھیل رہی ہے۔ سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے حلقوں میں لیفٹیننٹ جنرل حمید کو ایک سخت گیر موقف کے حامل کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور وہ بشمول اس الزام کے کہ انہوں نے سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کو سیاسی طور پر سبوتاژ کرنے کے ذریعے سے خان کو منتخب کروایا،  پاکستان کی داخلی سیاست میں دخل اندازی کے سبب مشہور ہیں۔ ان کے پس منظر کو دیکھتے ہوئے ، ان کی تقرری پاکستانی سول حکومت کیلئے بھارت کے ساتھ کسی بھی قسم کے سمجھوتے کو مشکل بنا سکتی ہے۔

پاک بھارت تعلقات میں پیش رفت کو درپیش ایک اور چیلنج یہ ہے کہ مودی کے انتخاب نے  پاکستان کی کچھ طاقتور اشرافیہ کی تنقید کو بڑھاوا دیا ہے۔ مودی کی انتخابات میں جیت کو بعض پاکستانی قانون سازوں کی جانب سے  بھارت کی پاکستان کے حوالے سے مزید جارحیت پر مبنی پالیسی کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ بعض پاکستانی مبصرین یہ دلیل دیتے ہیں کہ ووٹوں کی بھاری تعداد کے ساتھ دوبارہ منتخب ہونے والی مودی حکومت براہ راست پاکستان کے حوالے سے زیادہ غیر روایتی حکمت عملی  اپنانے میں خود کو زیادہ محفوظ تصور کرسکتی ہے، جیسا کہ پختون اور بلوچوں میں بغاوت کو بھڑکانا۔ بعض تو یہاں تک کہتے ہیں کہ مودی کا دوبارہ انتخاب پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ میں ان سخت گیر موقف رکھنے والوں کو قوت بخش سکتا ہے جو کئی دہائیوں سے پاکستانیوں اور مسلمانوں کو نشانہ بنانے والے ہندو اکثریت کے حامل بھارت کے بھوت سے ڈرا رہے ہیں۔ یوں، مودی کی قوم پرست حکومت سے مذاکرات کی خان کی کوششیں پاکستانی تزویراتی حلقوں میں شک کی نگاہ سے دیکھی جاسکتی ہیں۔

جہاں تک مودی کا تعلق ہے تو وہ پاکستان پر دباؤ ڈالنے والے اپنے اس موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں کہ بھارت کے ساتھ مذاکرات سے قبل پاکستان دہشت گردی کیخلاف جنگ میں مزید کردار ادا کرے اور اس کے ذریعے سے وہ بطور طاقتور شخص اپنا تشخص برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے اپنی تقریب حلف برداری میں پاکستانی وزیراعظم کومدعوکرنے سے بچنے کیلئے جنوبی ایشیا میں علاقائی تعاون کی تنظیم (سارک) کے بجائے خلیج بنگال ممالک کی تکنیکی اور اقتصادی تعاون تنظیم  ( بمسٹیک) کے سربراہوں کو مدعو کیا۔ فی الوقت بمسٹیک میں تمام جنوبی ایشیائی ریاستیں ماسوائے افغانستان، مالدیپ اور پاکستان کے شامل ہیں اور ماہرین اسے سارک کے متبادل کی بھارتی کوشش قرار دیتے ہیں۔ اسے پاکستان پر عالمی سطح پر دباؤ بڑھانے کیلئے نئی دہلی کی وسیع تر حکمت عملی کے ضمن میں بھارت کی جانب سے پاکستان کو سفارتی محاذ پر تنہا کرنے کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔ مودی پاکستان پر عالمی دباؤ ڈالنے کیلئے بین الاقوامی اجلاسوں میں اس موقف کو مسلسل دہرارہے ہیں کہ “مذاکرات اور دہشتگردی ساتھ ساتھ جاری نہیں رہ سکتے”۔ ان کے دوبارہ انتخاب کے بعد پہلا بیرون ملک دورہ مالدیپ کا تھا، جہاں انہوں نے دہشت گردی کیخلاف بین الاقوامی کانفرنس کا مطالبہ کیا۔ کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے موقع پر مودی نے عمران خان کی موجودگی میں پاکستان پر ڈھکے چھپے الفاظ میں حملہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ریاستیں جو دہشتگردی کی معاونت، امداد اور رقوم فراہم کرتی ہیں ان کو قابو میں  کیا جائے۔ اور حال ہی میں، مودی نے چینی صدر زی چن پنگ کو پیغام دیا ہے کہ پاکستان کو دہشتگردی سے نمٹنے کیلئے فیصلہ کن اقدام اٹھانا ہوں گے۔

بھارت اور پاکستان: جارحانہ امن کا مستقبل؟

۲۰۱۶ سے مودی کی حکمت عملی پاکستان پر اسکی سرزمین پر موجود دہشتگردی کے اڈوں کیخلاف کارروائی کیلئے دباؤ ڈالنے پر مبنی رہی ہے۔ اور اب بعض اشاروں سے لگتا ہے کہ خواہ معمولی ہی صحیح شائد تبدیلی آرہی ہے۔ معاشی دباؤ جیسا کہ فائنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی جانب سے بلیک لسٹ کئے جانے اور بھارت سے سرحدوں پر تجارت پر پابندی کا سامنا ہونے کے بعد ، پاکستان نے ۲۰۰ سے زائد دینی مدارس قبضے میں لئے ہیں اور بعض دہشت گردی کے اڈوں کو بند کیا ہے۔ مزید براں، حال ہی میں، مبینہ طور پر پاکستان نے بھارتی زیرانتظام کشمیر میں ایک دہشتگردی کے ممکنہ حملے کے بارے میں خفیہ معلومات کا تبادلہ کیا ہے۔ 

تاہم اسلام آباد کے ساتھ مذاکرات کی بحالی سے نئی دہلی کو جو چیز روک رہی ہے وہ ہے اعتماد کی کمی ہے کہ آیا پاکستان اپنی سرزمین سے بھارت میں حملے کرنے والے دہشتگردوں کیخلاف کارروائی کی صلاحیت اور خواہش رکھتا ہے۔ پاکستان کی جانب سے سرحد پار دہشتگردی روکنے کے بارے میں مودی کا غیر لچکدار موقف، بمع ان کی شدید قوم پرست بنیاد اور سفارتی محاذ پر ملنے والی حالیہ کامیابیاں جیسا کہ اقوام متحدہ کی جانب سے جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کو دہشت گرد قرار دیا جانا، پاکستانی رویے میں قابل ذکر تبدیلی کے بغیر بھارت کی جانب سے کسی بھی سمجھوتے کو مشکل بنا سکتی ہیں۔

***

Click here to read this article in English.

Image 1: Giridhar Appaji Nag via Flickr Images

Image 2: Mikhail Metzel/TASS via Getty Images

Posted in , Crisis, Deterrence, Elections, Foreign Policy, India, India-Pakistan Relations, Internal Security, leadership, Pakistan, Policy, Politics, Security, Terrorism

Saurav Sarkar

Saurav Sarkar

Saurav Sarkar is a Research Associate at the Center for Air Power Studies, Western Air Command, New Delhi, India. Previously, he was a Research Assistant at the Institute of Chinese Studies (ICS), New Delhi. He holds a Masters degree in International Relations from Amity Institute of International Studies, Amity University, Uttar Pradesh, India where he is a Member of its Area Advisory Board. He did his BA (Honors) in English from the same university. He is also qualified to be an Assistant Professor as per the University Grants Commission – National Eligibility Test requirements. His research interests include Chinese naval strategies in the Indo-Pacific, counterterrorism, and Afghanistan-Pakistan and China-Pakistan strategic ties.

Read more


Continue Reading


Stay informed Sign up to our newsletter below





Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *