Nawaz_Sharif

پچھلے سال میں جب سے بین الاقوامی تحقیقاتی صحافیوں کے کنسورشیم  نے نواز شریف اور انکے خاندان کی آفشور کمپنیوں اور اربوں ڈالر جائداد کےلئے رقوم کی منتقلی کی تفصیلات کو عام کیا ہے، تب سے وزیراعظم کو مختلف اطراف جیسا کہ حزبِ اختلاف کی جماعتوں ، فوج، میڈیا اور عوام کی طرف سے دباؤ کا سامنا ہے۔

سپریم کورٹ نے نواز شریف کیخلاف اکتوبر ۲۰۱۶ میں پانامہ سے متعلق کئی درخواستوں کو سماعت کےلئے منظور کیا ہے اور پھر کیس سے متعلق پانچ ججوں پر مشتمل ایک بڑا بینچ تشکیل دیا۔ یہ کیس  حزبِ اختلاف کی جماعتوں پاکستان تحریکِ انصاف ، جماعتِ اسلامی، وطن پارٹی اور آل پاکستان مسلم لیگ نے شروع کیا اور عوام کو بتایا کہ اسکا مقصد بدعنوانی کوختم کرناہے۔

وزیراعظم کی نا اہلی سے متعلق کوئی واضح پیش گوئی نہیں تھی کہ جس سے ملک کی سیاسی صورت حال تیزی سے تبدیل ہو جاتی۔ بہت سوں نے یہ اندازہ لگایا کہ عدالت تفتیش کا دائرہ کار بڑھاتے ہوئے متعلقہ اداروں کو مزید تفتیش کا حکم دے گی۔ پاکستانی سیاست میں بدعنوانی ایک ایسا المیہ ہے جو مسٹر شریف اور پانامہ لیکس سے کہیں بالاتر ہے۔ عدالتِ عظمی نے قانون کی حکمرانی برقرار رکھتے ہوئے ایک صاف شفاف طریقے سے اور عوامی خواہشات کے مطابق اگر تفتیش کی ہوتی تو لچکدار جمہوری ماحول کے اندر رہتے ہوئے ایک مثال قائم کی جا سکتی تھی۔

اسکے باوجود کہ پانچ میں سے دو ججوں نے وزیراعظم کو دھوکہ دہی کا مرتکب قرار دیا اور شریف خاندان کی قسمت کو “گاڈ فادر” سے تشبیہ دی، اعلی عدالت نے فیصلہ دیا کہ وزیراعظم کے خلاف ناکافی  ثبوت ہیں۔ تاہم عدالت نے  وزیراعظم کے بیٹوں  حسین اور حسن نواز کو مزید تحقیقات کےلئے مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی (جے-آئی-ٹی) کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ مجوزہ  جے-آئی-ٹی  نیب (NAB) ،  ایف آ-ئی- اے(FIA )،  ایم-آئی (MI)،    آئی-ایس-آئی(ISI)،   ایس-بی-پی(SBP)  اور   ایس-ای-سی-پی (SECP)  پر مشتمل ہو گی جسکی سربراہی ایف آ-ئی- اے  کے  اسسٹنٹ ڈائریکٹر جنرل لیول کےافسر کے  پاس ہو گی۔

سوال یہ اٹھتے ہیں کہ  وزیراعظم کے خلاف بنائی گئی ٹیم کی افادیت  انکے بر سرِاقتدار ہوتے ہوئے کیا ہو گی؟ صاف شفاف اور غیر جانبدارانہ تفتیش کا ہونا وزیراعظم کے ہوتے ہوئے بظاہر نا ممکن ہے۔ جے-آئی-ٹی  اس موقع پر مکمل غیر موئثر دکھائی دیتی ہے کیونکہ ماضی میں بننے والی جے-آئی-ٹیز کا ریکارڈ شاندار نہیں رہا ہے اور وہ مناسب  تحقیقات کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ پانامہ لیکس کی وجہ سے وزیراعظم کی قانونی حیثیت سیاسی اور عوامی سطح پر مشکوک بن گئی ہے۔ حال ہی میں لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے وزیراعظم سے مستعفی ہونے کا کہا بصورتِ دیگر مشرف دور میں ججوں کی بحالی کی تحریک سے بھی بڑی تحریک چلانے کا عندیہ دے ڈالا۔ یہ صورتحال اس بات کی غماز ہے کہ وزیراعظم کو رضاکارانہ طور پر مستعفی ہو جانا چاہئے تھا اور  الیکشن کمیشن آف پاکستان کو نئے انتخابات کرانے کی اجازت دے دی جاتی۔ پانامہ کیس نے انکی سیاسی اور اخلاقی قدرومنزلت پر کاری ضرب لگائی ہے جو کہ مستقبل میں(کارگر) سیاسی نتائج حاصل کرنے پر بھی اثر انداز ہو گی۔

فیصلے کو دیکھتے  ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ پی -ٹی-آئی  نےاگرچہ قانونی جنگ میں تو سبکی اٹھائی ہے تا ہم وہ اس ساری صورتحال  کو عوام میں اپنی ساکھ کو  بہتر کر سکتی ہے۔ پی -ٹی-آئی کے چیئرمین عمران خان احتجاج کر رہے ہیں اور  وزیراعظم کا استعفی مانگ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر وزیراعظم پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں تو کم سے کم ۶۰ دن کےلئے خود کو منصب سے الگ کر لیں تاکہ عدالتِ عظمی کے فیصلے کی روشنی میں  جے-آئی-ٹی آذاد تحقیقات کر سکے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین آصف زرداری نے بھی  وزیراعظم کے  استعفی کے ساتھ ساتھ احتجاج کا عندیہ دیا ہے۔ اس سب کے باوجود عمران خان کو محض جلسے جلوس منعقد کرنے سے آگے کا سوچنا ہو گا۔انکو گورننس کو دیکھنا ہو گا، لوکل اور بین الاقوامی مدد حاصل کرنا ہو گی اور ایک واضح سیاسی  و قومی پلیٹ فارم وضع کرنا ہو گا۔

اس ساری صورتحال میں آگے بڑھنے سے پہلے کیا کرنا ہو گا؟ اولاً۔۔۔ ایک معتبر، صاف شفاف اور غیر جانبدار بورڈ کا تقرر کر نا ہو گا جو کیس میں عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچائے بغیر منطقی انجام تک پہنچائے۔ ثانیاً۔۔۔ وزیراعظم کو پارلیمنٹ تحلیل  کر کے اختیارات نگران حکومت کو منتقل کر  دینے چاہئیں اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کو نئےاور آزاد  انتخابات  کی اجازت دے دینی چاہئے۔ ایسا کرنے سے وزیراعظم کوکمزور ہوتی سیاسی ساکھ کو بہتر بنانے کا موقع ملے گا۔ تیسرا یہ کہ جمہوری نظام کے چلتے رہنے کےلئے فوج کو جے-آئی-ٹی میں اپنا کردار صحیح اور دائرہ اختیار کے اندر رہتے ہوئے ادا کر نا چاہئے۔ تاہم سیاسی معاملات میں اور ایک حاضر سروس وزیراعظم کیخلاف تحقیقات میں فوج کی  تحقیقاتی ایجنسیوں کو شامل کرنا ایک(خطرناک) مثال قائم کر دے گا۔  مزید برآں مارشل لاء یا اس سے ملتا جلتا کوئی بھی  فوجی اقدام  اندرونی و بیرونی طور پر قومی مفاد کی قطعی طور پر آبیاری نہیں کرے گا۔ ایم-آئی اور آئی-ایس-آئی کے لوگوں کا جے-آئی-ٹی میں شامل کیا جانا فوج کے بحثیت ادارے اور پیشہ وارانہ کردار پر سوالیہ نشان ثبت کر دے گا۔ اس لئے یہ لازم ہے کہ سیاسی معاملات کی تفتیش میں فوج کو خود سے اس صورتحال سے الگ کر لینا چاہئے۔

سیاسی نقطہ نظر سے اگر حکمران جماعت ان تمام الزامات کے سامنے ڈٹ جاتی ہے اور سیاسی مدت پوری کر لیتی ہے تو پہلے  سے اخلاقی گراوٹ  کا شکار وزیراعظم یقیناً بچی کھچی  سیاسی و اخلاقی ساکھ بھی کھو بیٹھیں گے۔

***

Click here to read this article in English.

Image 1: Prerna Goyal, Wikimedia

Image 2: Pakistan Tehreek-e-Insaf, Flickr

Share this:  

Related articles

پاکستان اور جوہری احتراز پر بڑھتی ہوئی بحث Hindi & Urdu

پاکستان اور جوہری احتراز پر بڑھتی ہوئی بحث

پاکستان اور بھارت نے ۱۹۹۸ میں جوہری تجربوں کے بعد…

ہاٹ ٹیک: فلسطین میں بحران کے بارے میں ہم ہندوستان اور پاکستان کی عوامی ردعمل سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟ Hindi & Urdu
پاکستان کے لیے سیاحت بطور سافٹ پاور Hindi & Urdu

پاکستان کے لیے سیاحت بطور سافٹ پاور

فروری میں جب کے-ٹو پہاڑ کو موسم سرما میں سر…