gwadar

اقتدار سنبھالنے کے بعد سے پاکستان تحریک انصاف کی کوشش رہی ہے کہ پاکستان میں، بالخصوص سیاحتی اور ذراعتی شعبوں میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) میں اضافہ کیا جائے۔ پی ٹی آئی کا عزم ہے کہ وہ ۲۰۱۹-۲۰ کے مالیاتی سال میں ۲.۸  بلین ڈالر رہنے والے ایف ڈی آئی کو اپنی براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری حکمت عملی کے تحت مالیاتی سال ۲۰۲۲-۲۳ میں ۷.۴ بلین ڈالر تک پہنچا دے۔ تاہم ایف ڈی آئی میں اضافے کی حکومتی کوششوں کے باوجود اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق مالیاتی سال ۲۰۲۰-۲۱ کے ابتدائی آٹھ ماہ کے دوران ایف ڈی ائی میں ۳۰ فیصد کمی آئی ہے اور یہ ۱.۸۵ بلین ڈالر سے گھٹ کے ۱.۳ بلین ڈالر رہ گیا ہے۔

۲۰۱۳ میں پاک چین اقتصادی راہداری کے آغاز پر پاکستان کے ایف ڈی آئی میں چین کا حصہ نمایاں بڑھ گیا اور اس نے امریکہ اور برطانیہ  کی جگہ لے لی تھی۔ تاہم مالیاتی سال ۲۰۲۱ کے ابتدائی چھ ماہ میں چین سے ملنے والے نیٹ ایف ڈی آئی میں بھی گراوٹ آئی اور یہ ۳۹۵.۸ ملین ڈالر سے ۳۵۸.۹ ملین ڈالر رہ گیا۔ پاکستان کی فاٹف (فنانشل ایکشن ٹاسک فورس) کی گرے لسٹ میں موجودگی کے ساتھ ساتھ ٹیکس اور شرح سود کی کڑی پالیسیوں نے اس کے غیر ملکی سرمایہ کاری کے ماحول کو نقصان پہنچایا ہے۔ ایف ڈی آئی میں مزید کمی سے بچنے کے لیے داخلی معاشی پالیسوں میں تبدیلی نہ لائی گئی تو پاکستان کا طویل معاشی بحران  سے سامنا ناگزیر ہوگا۔

غیرملکی سرمایہ کاری کی راہ میں حائل آزمائشیں

درآمدات کی بنا پر ہونے والی نمو کے باعث عدم مطابقت کی حامل معاشی پیداواری شرح اور ادائیگیوں میں توازن کا بحران، قرض کی بڑھتی ہوئی ادائیگیاں نیز ٹیکس کا ناقص نظام ملک کے موجودہ اکاؤنٹ اور مالیاتی خساروں میں اضافے اور پاکستانی منڈیوں میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی میں کمی لاتے ہیں۔ اندرون ملک دہشت گردی نے بھی غیرملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مجروح کیا ہے۔ باوجود اس امر کے کہ گزشتہ کچھ برس میں سلامتی کی صورتحال میں بہتری آئی ہے، پاکستان کے ایف ڈی آئی میں اطمینان بخش نمو دیکھنے کو نہیں ملی ہے۔ دہشت گردوں کی مالی معاونت اور رقوم کے ناجائز تبادلے کیخلاف ملکی قوانین تاحال بین الاقوامی معیار سے مطابقت اختیار نہیں کرپائے ہیں۔ پاکستان وقفے وقفے سے فاٹف کی گرے لسٹ پر ہے جس کا نتیجہ معیشت کو ۳۸ بلین ڈالر کے نقصان اور پاکستان میں سرمایہ کاری کے ماحول کے حوالے سے سرمایہ کار کا اعتماد متاثر ہونے کی صورت میں ظاہر ہوا۔  اس کے علاوہ سیاسی عدم استحکام اور سول ملٹری تعلقات میں مسلسل عدم توازن غیرملکی سرمایہ کاروں کی پاکستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے مزید حوصلہ شکنی کا باعث ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر، غیرملکی سرمایہ کار وزارت داخلہ سے سیکیورٹی کلیئرنس کے حصول میں دشواری نیز وفاقی، صوبائی اور مقامی سطح پر سرمایہ کاری کے قوانین میں عدم مطابقت کی اکثر شکایت کرتے ہیں۔

سال ۲۰۲۰ کیلئے امریکی حکومت کی انویسٹمنٹ کلائمٹ اسٹیٹمنٹ کے مطابق پاکستان کی ٹیکس پالیسیاں بھی عدم مطابقت کی حامل ہیں اور یہ اس بنیاد پر تبدیل ہوتی رہتی ہیں کہ کون سی حکومت کون سے شعبے کو ترجیح دینا چاہتی ہے۔ جیسا کہ ورلڈ بنک کی ڈوئنگ بزنس ۲۰۲۰ رپورٹ میں درج کیا گیا، پاکستان دیگر ممالک سے پیشگی ٹیکس کی ادائیگی اور ۳۴ مختلف قسم کے ٹیکسز کی ادائیگی کا مطالبہ کرتا ہے جبکہ دیگر جنوبی ایشیائی ممالک اوسطاً ۲۶.۸ ٹیکسوں کی ادائیگی کی درخواست کرتے ہیں۔ مزید براں پاکستان سرمایہ کاری کیلئے رسمی ترغیبات جیسا کہ ٹیکسوں کی ادائیگیوں میں التواء اور قرضوں پر سبسڈی بھی سرمایہ کاروں کو مہیا نہیں کرتا جو کہ غیرملکی کمپنیوں کی پاکستان میں سرمایہ داری کے مواقع ڈھونڈنے میں مزید حوصلہ شکنی کا باعث ہوتے ہیں۔ کڑی شرائط، تنازعے کے حل کیلئے طویل طریقہ کار، اور بےجا بیوروکریٹک رکاوٹیں یہ تمام سرمایہ کار کے اعتماد کو تہس نہس کردیتے ہیں۔

آئی ایم ایف بیل آؤٹ منصوبے کے تحت اٹھائے گئے کڑے اقدامات نے ملک میں کاروباری ماحول کو مزید ابتر کیا ہے۔ شرح سود کو  ۱۲.۲۵ فیصد سے کم کرکے تقریباً سات فیصد پر لانے سے غیرملکی سرمایہ کاری میں کشش کم ہوئی ہے۔ ”ہاٹ منی“ جسے سرمایہ دار زیادہ شرح سود سے فائدہ اٹھانے کی خاطر تجارتی منڈیوں میں ایک سے دوسری جگہ منتقل کرتے ہیں، شرح سود میں کمی واقع ہونے پر ملک سے باہر نکل جاتی ہے کیونکہ غیرملکی سرمایہ دار اپنی رقوم بلند شرح پر واپسی کی حامل معیشتوں میں منتقل کردیتے ہیں۔

پاکستان اگرچہ اپنی جغرافیائی تزویراتی حیثیت اور تجارتی راستوں کو کلی طور پر استعمال میں لانے میں ناکام رہا ہے تاہم غیر ملکی سرمایہ کار جیسا کہ چین اور امریکہ نے پاکستان کی منفرد جغرافیائی خوبیوں سے منافع کمایا ہے۔ تاہم  ایسے ایف ڈی آئی بالعموم شکنجے اپنے ہمراہ لاتے ہیں؛ پاکستان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے سرمایہ کاروں کے جغرافیائی تزویراتی مفادات پورے کرے۔ مثال کے طور پر ۲۰۰۰ کے وسط میں عسکری تعاون کے مد میں اربوں روپے کے عوض پاکستان نے خطے میں امریکہ کے جغرافیائی سیاسی مفادات کو پورا کیا۔

پاکستان کے سرمایہ کاری ماحول کو درپیش چیلنجز سے نمٹنا

ایف ڈی آئی کے حصول کے لیے پاکستان کو فاٹف کی گرے لسٹ سے باہر آنا ہوگا جس کے لیے اسے منی لانڈرنگ اور دہشتگردی کی معاونت کے خلاف بین الاقوامی معیار کے مطابق کاروائی اور پر زور طریقہ سے ٹاسک فورس کی جانب سے مفوضہ باقی ماندہ ایکشن پوائنٹس کو پورا کرنا ہوگا۔ مزید براں سرمایہ کاروں کی اعتماد سازی کیلئے پاکستان کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ اس کی ٹیکس پالیسی مطابقت کی حامل ہوں، ٹیکسوں کا موثرنظام ہو اور ایک مستحکم سیاسی ماحول رکھتا ہو۔ خاص کر ٹیکس پالیسیوں کو ایک سے دوسری حکومت کے درمیان زیادہ مطابقت کا حامل ہونا چاہیے۔ انکم اور سیلز ٹیکس میں اضافے کی شکل میں تنخواہ دار طبقے پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے دولت مند طبقے کو ٹیکس کے جال میں لانے کی ضرورت ہے۔ مزید براں، پاکستان کا زراعتی شعبہ جو ملکی معیشت میں اہم حصہ ڈالنے کے باوجود بھی سب سے کم ٹیکس دیتا ہے، اس پر متناسب ٹیکس لاگو کیے جانے چاہییں۔

صنعت و حرفت کے شعبے میں حصہ لینے کیلئے مزدوری کی عمر میں موجود آبادی کے حصے کی تعلیم و تربیت بھی ایف ڈی آئی کی توجہ اپنی جانب کھینچ سکتی ہے۔ ایسا کرنے کیلئے پاکستان کو اپنی بجٹ ترجیحات کا دوبارہ جائزہ لینا ہوگا۔ بجٹ کی بھاری مقدار دفاع کے شعبے کے لیے مختص کرنے کے بجائے تعلیم و تحقیق کے مواقع کو مناسب مقدار میں رقوم کی فراہمی ہونی چاہیے اور مستقبل میں ایف ڈی آئی کی خاطر اس کی ترویج کی جانی چاہیے۔

اہم ترین نکتہ یہ ہے کہ پاکستان کو غیرملکی سرمایہ کاری کیلئے اپنی شراکت داری کو چین، امریکہ، سعودی عرب، برطانیہ اور متحدہ عرب امارات سے آگے بڑھانے کی بھی ضرورت ہے  اور اس کے لیے بھرپور سفارتی کوششیں کرنا ہوں گی تاکہ ایف ڈی آئی کے لیے نئے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔ پاکستان مشرقی ایشیا اور ابھرتی ہوئی افریقی معیشتوں کے ہمراہ معاشی سفارت کاری کی کوششیں تیز کرسکتا ہے اور جنوبی ایشیا کے  معاشی مرکز کے طور پر خود میں موجود صلاحیتوں کی تشہیر کرسکتا ہے۔ خوش قسمتی سے پاکستان خطے میں تجارت اور روابط کے ضمن میں وسط ایشیائی ممالک کے ہمراہ بات چیت کے سلسلے میں پہلے ہی متحرک ہوچکا ہے۔

حاصل کلام

چونکہ پاکستان ہرکچھ برس بعد ادائیگیوں میں توازن کے مسئلے سے دوچار ہوتا ہے، اس کی برآمدات اور بیرون ملک سے وصول ہونے والے زرمبادلہ میں مناسب اضافہ نہیں ہوسکا ہے۔ کووڈ ۱۹ نے عالمی معاشی نمو کوسست کیا ہے جس سے دنیا کی سب سے بڑی معیشتوں تک پر بھی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ اس نے آنے والے برسوں میں غیرملکی سرمایہ کاری کا حصول مزید مشکل بنا دیا ہے۔ پاکستان اگرچہ ۱۹۰ ممالک کی درجہ بندی پر مشتمل ورلڈ بنک کی ڈوئنگ بزنس ۲۰۲۰  میں ۲۸ درجے بہتری کے بعد ۱۳۶ سے  ۱۰۸ویں درجے پر آچکا ہے تاہم اسے ابھی بھی بہت ساری رکاوٹوں کو عبور کرنا ہے۔ مزید سرمایہ کاری کے حصول کے لیے پاکستان کو سرمایہ کاروں کو اہم ترغیبات اور اپنی معاشی سفارت کاری کی کوششوں کو وسعت دینا ہوگی، ملک میں امن و امان کی بہتر صورتحال کا موثر پرچار کرنا ہوگا، ٹیکس اور سرمایہ کاری سے متعلقہ دیگر پالیسیوں میں مطابقت یقینی بنانا ہوگی اور ملک میں غیرملکی سرمایہ کاری کی توجہ حاصل کرنے کیلئے سرمایہ کاری کے لیے شرائط میں عمومی نرمی لانا ہوگی۔ پاکستان کا نیا جغرافیائی معاشی ہدف صرف اسی صورت میں پورا ہوسکتا ہے جب ایف ڈی آئی کی راہ میں حائل داخلی رکاوٹیں دور ہوچکی ہوں۔

***

.Click here to read this article in English

Image 1: umairadeeb via Flickr

Image 2: Government of Pakistan via Twitter

Share this:  

Related articles

روہنگیا قوم کی ہجرت: جنوبی ایشیا کی حالت زار Hindi & Urdu

روہنگیا قوم کی ہجرت: جنوبی ایشیا کی حالت زار

و ۱۹ویں صدی کے وسط سے میانمار میں بار بار…

دولت اسلامیہ خراسان: ایک مسلسل خطرہ Hindi & Urdu

دولت اسلامیہ خراسان: ایک مسلسل خطرہ

دہشت گرد تنظیم دولت اسلامیہ خراسان (آئی ایس کے پی)…

ایس اے وی سوال و جواب: افغانستان، طالبان اور ٹی ٹی پی پر اسماعیل خان کے خیالات Hindi & Urdu