بچپن میں ریل کا سفر ہم تمام گھر والوں کے لیے سالانہ رسم کی حیثیت رکھتا تھا۔ موسم سرما میں برف باری کے باعث لارنس کالج گھوڑاگلی مری دسمبر میں تین ماہ کی سالانہ تعطیلات کے لیے بند ہوجاتا،اور ہم مری سے ساہیوال روانہ ہوجاتے۔ ریل کا یہ سفر ایک دیومالائی خواب کی طرح محسوس ہوتا۔ جیسے ہی ریل صوبہ پنجاب میں اپنی منزل کی طرف گامزن ہوتی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا کے جھونکے، کھیتوں میں لہلہاتی سرسبز فصلیں، سرسوں کے حدِنظرپھیلےہوے پیلے پیلےمخملی پھول نظروں کے لیے تمانیت اور روح کے لیےآسودگی کا باعث بنتے۔ تاہم پنجاب میں اب یہ منظربڑی حد تک تبدیل ہو چکا ہے۔
گزشتہ چند دہائیوں کے دوران پاکستان میں رہائشی کالونیوں کی تعمیر میں بے پناہ تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ بدقسمتی سے یہ کالونیاں زیادہ تر زرعی زمین پرتعمیر کی گئی ہیں۔ اگرچہ پاکستان کی آبادی میں اضافے سے کوئی بھی صوبہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا ہےمگر اس اضافے کے سب سے زیادہ اثرات پنجاب میں ظاہر ہورہے ہیں۔ صوبہ پنجاب اپنی زرخیز زمین کی وجہ سے پاکستان کے تمام صوبوں میں ممتاز پہچان رکھتا ہے۔ مگرآبادی کے اضافے اور رہائشی کالونیوں کے بےتحاشا پھیلاؤکی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا صوبہ بھی پنجاب ہی ہے۔ شروع شروع میں تو ان رہائشی بستیوں کا مرکز لاہوراور گردونواح میں تھا، مگرنہایت منافع بخش کاروبار ہونے کی وجہ سے جلد ہی یہ رجحان صوبے کے تقریباً تمام ہی بڑے شہروں میں پھیلتا نظر آیا۔ ان رہائشی علاقوں کی تعمیرکے لیے منصوبہ بندی کی کمی اورمناسب قانون سازی کے فقدان کی وجہ سےیہ کالونیاں بنیادی طور پر زرعی زمین پر تعمیر کی جارہی ہیں۔ جس کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ زرعی زمین کا رقبہ سکڑتا جا رہا ہے بلکہ دیگر ماحولیاتی مسائل بھی تیزی سے جنم لے رہےہیں۔ شمالی علاقہ جات میں جنگلات کی بے دریغ کٹائی بھی ایک تشویش ناک صورتحال اختیار کر چکی ہے۔ ۲۰۰۵ کے زلزلہ میں ہونے والی تباہی جنگلات کی کٹائی سے ہونے والے اثرات اور نقصانات کی غماذ ہے۔
پاکستان کےصنعتی مراکز ، جو کہ آبادی کے لحاظ سے بڑے شہروں میں شمارکیےجاسکتے ہیں، میں یہ مسئلہ مزید سنگین ہوتا جارہا ہے۔ ان شہروں میں کراچی، حیدرآباد، ملتان، فیصل آباد، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، لاہور اور پشاور قابل ذکر ہیں۔ یہ شہر صنعتی اور رہائشی پھیلاؤ کے باعث نہ صرف ماحولیاتی آلودگی کا شکار ہورہے ہیں بلکہ یہاں کےرہائشیوں کی صحت کے لیے شدید نقصان کا باعث بھی بن رہے ہیں۔ اس پرمستزاد یہ کہ ان شہروں میں کاروباری صنعت کے فضلے کو بھی مناسب طور پرتلف کرنے کا کوئی موزوں انتظام نہیں ہے جس کے باعث ان زہرآلود کیمیائی اجزا کو کھیتوں میں ہی بہا دیا جاتا ہے۔ ان کیمیائی اجزا کی وجہ سے نہ صرف زرعی زمین کا ایک وسیع رقبہ ناقابل استعمال ہوچکا ہے بلکہ زیرزمین پانی کے ذخائر پینے اور حیاتیاتی مصرف کے کے لیےناقابل استعمال ہو چکے ہیں۔ چنانچہ پاکستان میں نہ صرف ماحولیاتی آلودگی کا مسئلہ سنگین تر ہوتاجا رہا ہے بلکہ غزائی اجناس کی سالانہ پیداوار میں بھی کمی واقع ہورہی ہے جس کا اندازہ غلے اور کھانے پینے کی دیگراشیا کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے سے بخوبی ہو جاتا ہے۔
اگرچہ پاکستان اوربھارت کے درمیان کشمیر اور پانی کی تقسیم پر کئی دہائیوں سے تنازعات حل طلب ہیں مگر گزشتہ چند سالوں سے ان تنازعات نے سنگین صورتحال اختیار کر لی ہے۔ بھارت نے حال ہی میں سندھ طاس معاہدے سے علیحدہ ہونے کی دھمکی دے ڈالی ہے۔ جس پر پاکستان نے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کو اعلان جنگ تصور کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ اگر بھارت یک طرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان کی طرف بہتے ہوئے دریاؤں کا رخ موڑتا یا روکتا ہے تو پاکستان میں خشک سالی اور قحط سالی کے ساتھ ساتھ پینے کے پانی کا بھی شدید بحران پیدا ہو جائےگا۔ پاکستان میں مناسب تعداد میں پانی ذخیرہ کرنے کے لیے ڈیم نہ ہونے کی وجہ سے پانی کی کمی کا مسئلہ پہلے ہی درپیش ہے جبکہ گزرتے وقت کے ساتھ یہ صورتحال گھمبیر ہوتی چلی جا رہی ہے، اور صوبوں میں تنازع کا باعث بن رہا ہے۔ ایسی صورتحال میں بھارت کی طرف سے پاکستان کا پانی روکنے یا دریاؤں کا رخ تبدیل کرنے کی کوشیشیں، پاکستان کو انتہائی اقدامات اٹھانے پر مجبور کر سکتی ہیں۔
پانی کے مسئلہ پربھارت کے ساتھ کشیدہ ہوتے ہوئے تعلقات، پانی ذخیرہ کرنے کی کم ہوتی ہوئی صلاحیت، بڑھتی آلودگی اورتیزی سے پھیلتی ہوئی رہائشی کالونیوں کے باعث سکڑتی ہوئی زرخیززمین جیسے مسائل پاکستانی حکومت کے لیے چیلنج کی حیثیت اختیار کرچکے ہیں۔ ان مسائل پر اگر بروقت اور مناسب توجہ نہ دی گئی تو یہ پاکستان کی اندرونی اور بیرونی سلامتی کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتے ہیں۔ ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں زرعی زمین کے بچاؤ اور آلودگی کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مناسب قانون سازی کی جائے۔ جبکہ دوسری طرف پاکستان اور بھارت کا مل جل کر بات چیت کے ذریعے کشمیر اور پانی جیسے مسائل کا حل نکالنا نا گزیر ہوچکا ہے۔ یہ مسائل مستقبل میں پاکستان کےلیے نہ صرف زرعی بحران اور غذائی قلت کو جنم دے سکتے ہیں بلکہ جنوبی ایشیا میں کشیدگی اورجنگ کی وجہ بھی بن سکتے ہیں- پاکستان اوربھارت کو اس بات کا احساس کرنا ہو گا کہ جنوبی ایشیا میں جوہری جنگ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے جس سے پاکستان اور بھارت ماضی کا قصہ پارینہ بن سکتے ہیں۔
***