China-Pakistan-boder-1095×616

امریکہ اور چین کے درمیان عظیم طاقت ہونے کی مقابلہ بازی  شدت اختیار کرنے کے ساتھ ہی ریاستیں بھی تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی دستور کے مطابق اپنی جگہ سنبھالنے کے لیے دوڑ دھوپ میں مصروف ہیں۔ پاکستان کو بھی اسی مشکل صورتحال کا سامنا ہے اور اس کی خارجہ پالیسی بدستور بڑی حد تک امریکہ اور چین کے ہمراہ تعلقات سے متعین ہوتی ہے۔ فی الحال ایسا کوئی بھی اشارہ نہیں ملا ہے کہ پاکستان کو دونوں میں سے کسی ایک طاقت کا ساتھ دینا ہو گا تاہم پاکستان کب تک اس کمزور حیثیت کو برقرار رکھ سکتا ہے؟

باوجود یہ کہ پاکستان نے حال ہی میں جاری کی گئی قومی سلامتی پالیسی (این ایس پی) میں اشارہ دیا ہے کہ وہ “کیمپ پالیٹکس” کا حصہ نہیں بننا چاہتا، تاہم چین کے ہمراہ گہرا ہوتا معاشی تعاون اس کی جانب مسلسل جھکاؤ کو ظاہر کرتا ہے، جس کی بہترین مثال ۲۰۱۵ میں پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کا قیام ہے۔ دریں اثنا پاکستان کے امریکہ سے ڈگمگاتے تعلقات جمود کا شکار ہیں۔ افغانستان سے امریکی انخلاء نے پاکستان اور امریکہ کے درمیان دو طرفہ تعلقات کے مستقبل کے بارے میں سنجیدہ نوعیت کے سوالات اٹھائے ہیں کیونکہ دونوں کے درمیان بات چیت کا مرکز تاریخی اعتبار سے افغانستان رہا ہے۔

 پاکستان اگرچہ چین کے ہمراہ بڑھتے ہوئے تجارتی تعلقات سے فائدہ اٹھا رہا ہے لیکن پاکستان کے سب سے بڑے تجارتی شراکت دار کے طور پر امریکہ کا کردار برقرار ہے۔ پاکستان امریکی عسکری ہارڈ ویئر اور امریکی برآمدی منڈی پر بھی بڑی حد تک انحصار کرتا ہے۔ لہذا چین کے ہمراہ گہرے ہوتے تعلقات کے باوجود پاکستان امریکہ سے علیحدگی کا متحمل اور معاشی سرمایہ کاری و سلامتی تعاون کی حوصلہ شکنی نہیں کر سکتا ہے۔ جب تک ممکن ہو سکے، پاکستان کو اپنی تزویراتی خودمختاری کو برقرار رکھتے ہوئے خود کو اس غیرارادی ریلے سے بچانا ہو گا جو ملک کو چین کی جانب دھکیل رہا ہے اور امریکہ کے ہمراہ اپنے تعلقات کو بحال کرنا ہو گا۔ پاکستان کے پاس چین امریکہ تناؤ میں اضافے بڑھنے سے پہلے امریکہ کے ہمراہ اپنے تعلقات کے دوبارہ جائزے کے نہایت محدود مواقع ہیں۔ اسلام باد میں پالیسی سازوں کو دہشت گردی کے مقابلے اور سلامتی کے علاوہ دو طرفہ تعاون کے لیے ممکنہ مواقعوں کی شناخت کرنا ہو گی جن میں معاشی پیش رفت، سائنٹیفک تعاون اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں جدت طرازی شامل ہو سکتی ہے۔ اس کے لیے عوامی سطح کے رابطے، امریکہ میں مقیم پاکستانی برادری سے تعلقات کے ساتھ ساتھ غیرملکی سرمایہ کاری کیلیے کشش پیدا کرنے کے لیے پاکستان کی معاشی پالیسیوں کے ازسرنو جائزے پر توجہ مرکوز کرنا ہو گی۔

چین کی جانب جھکاؤ سے جڑے مفادات

حال ہی میں ہونے والے تین واقعات نے پاکستان کو چین کے زیادہ قریب کرنے اور امریکہ سے روابط میں کمی میں حصہ ڈالا ہے۔ اولاً امریکہ کا افغانستان سے انخلاء پاکستان کے امریکہ سے دو طرفہ تعلقات میں بڑی تبدیلی کی نمائندگی کرتا ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں سے یہ تعلقات بڑی حد تک افغانستان میں سلامتی کی صورتحال کے مطابق صورت اختیار کیے ہوئے تھے جس نے تعاون کے لیے مواقع فراہم کئے تھے تاہم اس نے دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات کے امکانات کو بھی محدود کیا تھا۔ اس پس منظر میں افغانستان میں امریکی مداخلت میں کمی کا مطلب پاکستان سے روابط میں بھی کمی ہو سکتی ہے۔

پاکستان کی فنانشل ٹاسک فورس (فیٹف) کی گرے لسٹ میں شمولیت نے بھی امریکہ سے تعلقات کو آلودہ کیا اور پاکستان کو چین کی جانب دھکیلا ۔ جون ۲۰۱۸ میں پاکستان  دہشتگردی کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کی روک تھام کیخلاف ناکافی اقدامات کے سبب فیٹف میں شامل ہوا تھا۔ گرے لسٹ میں شمولیت کی وجہ سے پاکستان کے بینکنگ سیکٹر پر اس کے سنگین اثرات مرتب ہوئے نیز اس نے عالمی معاشی حلقوں کو خبردار کرنے کے لیے ایک اشارے کا کام دیا جس سے پاکستان کے لیے غیرملکی سرمائے تک رسائی مشکل ہوئی۔ اس کے بعد سے چین کی  معاشی معاونت پاکستان کا بڑا بیرونی ذریعہ ہے۔

آخری وجہ، امریکہ کا بھارت کے ہمراہ دفاعی شعبے میں بڑھتا ہوا تعاون ہے جو جنوبی ایشیا کے علاقائی توازن اور استحکام کو متاثر کر رہا ہے۔ پاکستان کے بھارت کے ہمراہ تعلقات طویل عرصے سے جارحیت اور عدم اعتماد کے سبب خراب ہیں۔ بھارت اور امریکہ کے درمیان بڑھتا ہوا دفاعی تعاون خاص کر بیسک ایکسچینج اینڈ کوآپریشن ایگریمنٹ (بیکا) جو کہ دونوں کے درمیان چار بنیادی دفاعی معاہدوں میں سے آخری ہے، اس نے اسلام آباد کے کان کھڑے کیے ہیں۔ چین کے ہمراہ دوستی نے پاکستان کو از حد ضروری بیرونی حمایت فراہم کی اور خطے میں طاقت کے توازن کو مستحکم کیا جو کہ بھارت کے حق میں جھک چکا تھا۔ 

امریکہ کے ہمراہ متحرک اور مسلسل روابط کی غیر موجودگی میں پاکستان چین پر غیر ضروری حد تک انحصار کر رہا ہے۔ تاہم امریکہ  کے ہمراہ مستحکم تعلقات پاکستان کو ایسا تزویراتی میدان فراہم کر سکتے ہیں کہ جہاں وہ دونوں طاقتوں کے سامنے اپنی حیثیت کو منوا سکے اور اس کا فائدہ اٹھا سکے۔ حالیہ برسوں میں پاکستان کی معیشت پر اپنا اثرو رسوخ استعمال کرنے میں چین کی اہلیت بے حد بڑھ چکی ہے جس کی بڑی وجہ یہی ہے کہ اب چین پاکستان کا سب سے بڑا قرض دہندہ ہے۔ جون ۲۰۱۳ میں پاکستان کا کل غیر ملکی قرضہ ۴۴.۳۵ بلین ڈالر تھا اور اس میں محض ۹.۳ فیصد چین کو واجب الادا تھا۔ آئی ایم ایف کے مطابق اپریل ۲۰۲۱ میں پاکستان کا بیرونی قرضہ بڑھ کے ۹۰.۱۲ بلین ڈالر ہوچکا ہے  جس میں سے ۲۷.۴ فیصد ( ۲۴.۷ بلین ڈالر) چین کا ہے۔ اگرچہ تاحال چین نے  پاکستان کی معاشی پالیسیوں پر براہ راست اثرانداز ہونے سے احتراز برتا ہے تاہم  پاک چین اتحاد کے حمایتی چین کے “مفادات پر مبنی” تعلقات کی نوعیت کو اکثر کم اہمیت دیتے ہیں۔ اس امر کی کوئی ضمانت موجود نہیں ہے کہ مستقبل میں پاکستان کے فیصلے خطے میں چین کے وسیع تر مفادات کا نتیجہ نہیں ہوں گے۔

پالیسی پر سوچ بچار

 پاکستان کے چین کی جانب بڑھتے ہوئے جھکاؤ کے ساتھ ساتھ یہ امر غیر واضح ہے کہ وہ کب تک دونوں بڑی طاقتوں کے ساتھ مفادات پر مبنی تعلقات کو برقرار رکھ سکتا ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ امریکہ کے ہمراہ اپنے تعلقات کو بحال کرے تاکہ کسی حد تک تزویراتی ابہام کو برقرار رکھا جا سکے۔ اگر یہ اقدامات کامیاب ہوجاتے ہیں تو ایسے میں پاکستان دو عظیم طاقتوں کے عین درمیان میں اپنی موجودگی کی منفرد حیثیت کو استعمال میں لاتے ہوئے امریکہ اور چین دونوں سے سرمایہ کاری اور معاشی مدد حاصل کرنے کے قابل ہو سکتا ہے۔ اس کے لیے امریکی پالیسی سازوں سے براہ راست روابط قیمتی ثابت ہوسکتے ہیں اور دونوں ممالک کو اپنے خدشات دور کرنے اور مستقبل میں معاونت کے لیے شعبوں کی شناخت کرسکتے ہیں۔

پاکستان کو اس معاملے کی جانب بھی توجہ دینی ہوگی کہ وہ کیسے سلامتی کے گرد گھومتے تعلقات کو معاشی تعاون، سائنٹیفک اشتراک اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں جدت طرازی کی بنیاد پر تشکیل دے۔ یہ امر اہم ہوگا کہ پاکستان دو طرفہ تعلقات کو حکومتی سطح سے آگے بڑھاتے ہوئے زیادہ گہرائی میں عوامی سطح کا بنائے۔ پاکستانی نژاد امریکی کاروبار، نجی شعبے کو قرضے دینے والی کمپنیوں، سرمایہ داری کرنے والے بنکرز، اکائونٹنٹ، وکلا اور مشیروں پر مشتمل سلیکون ویلی میں ایک پھیلتا ہوا نیٹ ورک بناتے ہیں۔ پاکستان کے اندر بطور ڈیجیٹل معیشت برآمد کی بہت صلاحیت موجود ہے اور اسے امریکہ کے ہمراہ غیر سلامتی شعبوں میں تعلقات پر اثرانداز ہونے کے لیے اپنی ہمہ جہت پاکستانی برادری کو استعمال میں لانا چاہیے۔ امریکی کمپنیاں اور حکومت بھی جنوب اور جنوب مشرقی ایشیا کو سپلائی چین شعبے کی تنظیم نو اور سرمایہ کاری کے لیے بڑے موقع کے طور پر دیکھتی ہے۔ پاکستان کی آبادی ۲۲ کروڑ ہے جس میں سے ۶۴ فیصد سے زیادہ آبادی ۳۰ برس کے اندر کی ہے، ایسے میں پاکستان کو چاہیئے کہ وہ خود کو اس پہلو سے مشتہر کرے  اور سستی مزدوری پر زور ڈالے۔ داخلی لحاظ سے پاکستان کاروباری افراد کی حوصلہ افزائی اور امریکہ سے مواقع اور سرمایہ کاری کو متوجہ کرنے کے لیے اپنی معیشت کی وسعت اور نجی شعبے کی مداخلت کے طریقوں پرغور کر سکتا ہے۔

 امریکی تعاون کے کیلئے میدان خالی رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان جمہوری اصولوں کے بارے میں اپنے عزائم  کے بارے میں خدشات کو دور کرے اور فیٹف ہدایات پر عمل درآمد کرے۔ تاحال پاکستان نے ۲  ہم آہنگ ایکشن پلانز کے تحت ۳۴ میں سے ۳۰ معاملات پر کام کیا ہے اور گرے لسٹ سے اخراج کے عمل کو تیز کرنے کے لیے پاکستان کو باقی ماندہ امور کی تکمیل تک کام جاری رکھنا ہوگا۔ فیٹف کی گرے لسٹ سے اخراج امریکہ کی جانب سے زیادہ معاشی مداخلت میں مددگار ہوسکتا ہے  جویورپی ممالک کو بھی حوصلہ افزاء پیغام دے سکتا ہے۔

 سی پیک امریکی پالیسی سازوں کے لیے  پاکستان چین تعلقات کی گہرائی کے حوالے سے خدشات میں سے اولین ہے۔ ان خدشات کے حوالے سے مطمئن کرنا سب سے زیادہ اہم ہوگا تاہم یہ بدستور پاکستان کے لیے حساس نوعیت کا معاملہ ہے۔ امریکہ اور چین کے حوالے سے ایک متوازن سوچ اپنانے کے لیے سی پیک معاہدوں پر دوبارہ مذاکرات کی کامیابی کا امکان نہیں ہے اور اسے داخلی سطح پر شدید تنقید اور چین کی جانب سے مخالفت کا سامنا ہوگا۔  بجائے اس کے کہ پاکستان سی پیک کے حوالے سے امریکی خدشات کو دور کرنے کے لیے  بڑے اقدامات اٹھائے وہ سرکاری بیانات  اور امریکہ- پاکستان دو طرفہ معاہدوں کو استعمال میں لاسکتا ہے تاکہ یہ ظاہر کرسکے کہ چینی سرمایہ کاری اور سی پیک قرضے ملک میں چینی تزویراتی گہرائی میں معاونت نہیں کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ خود امریکہ اور کثیرالملکی پلیٹ فارمز جیسا کہ ورلڈ بنک اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک (اے ڈی بی) بھی “پرانی شاہراہ ریشم” کی دوبارہ بحالی کو قابل قدر قرار دے چکے ہیں۔ یہ اقدامات سی پیک کے حوالے سے پاکستان کے مجموعی نقطہ نگاہ کے تزویراتی کے بجائے معاشی اہداف کے زیر رہنمائی ہونے کے لیے جواز پیش کرتے ہیں، خاص کر خطے میں جغرافیائی معاشی سرگرمی اور پاکستان کے لیے ایک پائیدار معیشت کی تخلیق کا ہدف۔ افغانستان کی دیگر ممالک کے ہمراہ تجارت میں سی پیک کو بطور ذریعہ پیش کرنے کی کوشش بھی چینی سرمایہ کاری کے حوالے سے مغربی خدشات کو دور کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

مستقبل کے لیے راہ عمل

 عظیم طاقتوں کے ہمراہ پاکستان کے تعلقات اگرچہ انتہائی متضاد دکھائی دیتے ہیں، تاہم بیجنگ یا واشنگٹن دونوں میں سے کسی ایک کی جانب سے بھی محض انہی کے ساتھ تعلقات قائم رکھنے کا مطالبہ نہیں کیا گیا ہے۔ مستقبل قریب میں چین کی جانب سے پاکستان سے وابستہ امیدوں میں نمایاں اضافے کا امکان ہے، خاص کر اس  صورت میں کہ جب پاکستان چین پر معاشی طور پر انحصار شروع کر دے۔ بدقمستی سے اگر پاک امریکہ تعلقات میں جمود برقرار رہتا ہے تو ایسے میں امریکی پالیسی حلقوں میں پاکستان کے چین کے زیر اثر چلے جانے کے حوالے سے پائے جانے والے خدشات حقیقت کا روپ دھار سکتے ہیں۔  یہ ایک اہم صورتحال ہے کہ جسے پاکستانی رہنماؤں کو امریکی پالیسی سازوں کے ہمراہ زیر بحث لانا چاہیئے تاکہ امریکی  رہنماؤں کو پاکستان کے ہمراہ باہمی طور پر فائدہ مند تعلقات قائم رکھنے پر مجبور کیا جا سکے۔

تاحال پاکستان، چین امریکہ مقابلے میں مرکزی اکھاڑہ نہیں ہے۔ اس کو ایسا کرنے کی ضرورت بھی نہیں، خاص کر ایسے میں کہ اگر ملک امریکہ کے ہمراہ دو طرفہ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے اور چین کے ہمراہ بڑھتے ہوئے تعلقات میں اپنی خود مختاری کو برقرار رکھے۔ آنے والے وقت میں پاکستان کو  امریکہ سے مفاہمت کے امکانات کو سبوتاژ کرنے یا چین کے ہمراہ اپنے تعلقات کی اہمیت کو کم کرنے سے گریز کرنا چاہیئے اور علاقائی امن و سلامتی کے وسیع تر مفاد میں امریکہ اور چین دونوں سے تعاون کو برقرار رکھنا چاہیئے۔

***

Click here to read this article in English.

Image 1: Nain Malik via Wikimedia Comms

Share this:  

Related articles

یوکرین کا بحران جوہری اصولوں کے لیے کیا معنی رکھتا ہے؟ Hindi & Urdu

یوکرین کا بحران جوہری اصولوں کے لیے کیا معنی رکھتا ہے؟

یوکرین پر روسی حملے کے موقع پر ولادیمیر پوٹن نے…

یوکرین اور جنوبی ایشیا میں غیر وابستگی کی واپسی Hindi & Urdu

یوکرین اور جنوبی ایشیا میں غیر وابستگی کی واپسی

جنوبی ایشیا کی (معاشی حجم کے اعتبار سے) چار سب…

ادھر کنواں ادھر کھائی: روس-یوکرین بحران پر بھارتی موقف Hindi & Urdu

ادھر کنواں ادھر کھائی: روس-یوکرین بحران پر بھارتی موقف

بھارت نے  یوکرین پر روسی حملے کے خلاف اقوام متحدہ…