6483091829_f5caf1ddce_o-1095×616

وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں پاکستان کی خارجہ پالیسی زیادہ فعال ہوچکی ہے کیونکہ پاکستان نے بین الاقوامی رجحانات پر براہ راست ردعمل دیا ہے۔ سفارتی طور سے پاکستان بین الاقوامی مسائل جیسا کہ ماحولیاتی تبدیلی اور اسلاموفوبیا پر آواز اٹھا رہا ہے۔ فلسطین میں تازہ ترین بحران پر اس کا مضبوط ردعمل اس وسیع تر سفارتی رجحان کا تسلسل ہے جس کا مقصد پاکستان کی سافٹ پاور میں اضافہ کرنا ہے۔

 سفارت کاری کے ساتھ ساتھ حکومت سیاحت کو بھی دنیا میں پاکستان کی مثبت تصویر پیش کرنے کے شاندار موقع کے طور پر دیکھتی ہے۔ خواہ کرتارپور راہداری کی تعمیر ہو، سیاحت کے لیے  مختص چینل ڈسکور پاکستان کا قیام ہو یا پھر سیاحتی منصوبوں کی سیاسی حمایت اور ان کے افتتاح کی بھرپور تشہیر ہو، سیاحتی شعبے میں پاکستان جن وسائل کی سرمایہ کاری کرتا ہے وہ براہ راست پاکستان کے سافٹ پاور ایجنڈے کی تکمیل کا ذریعہ بنتے ہیں۔

سفارت کاری اور سیاحت نے اگرچہ پاکستان کے ایک پرامن اور ترقی پسند ملک کے طور پر تصور کو فروغ دینے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے، تاہم سفارت کاری اور سیاحت کی سافٹ پاور سے ملنے والے فوائد مختصرالمدتی اور محدود ہوتے ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ کہ مختلف نظریات و اخلاقی رجحانات رکھنے والے کرداروں سے مفاہمت پر مبنی سفارت کاری کا نتیجہ وقت کے ساتھ ساتھ بدلتے متضاد موقف کی صورت میں ہو سکتا ہے۔ یہ صورتحال ریاست کی سافٹ پاور میں اضافے کے بجائے اس کو معدوم کر سکتی ہے۔ مثال کے طور پر امریکہ کی جمہوریت کے لیے اخلاقی حمایت اور اسی کے ساتھ ساتھ مشرق وسطیٰ میں آمروں کی سیاسی پشت پناہی نے امریکی سافٹ پاور میں کمی لائی ہے۔ دوئم، گلوبلائزیشن کثیرالمنزلی سیاحت کا رجحان لایا ہے اور سیاحوں کو ایک ہی دورے میں متعدد ممالک کی سیر پر آمادہ کیا جاتا ہے۔ ایسے رجحان کے دور میں پاکستان کے خود سے ملتی جلتی آب و ہوا اور قدرتی و ثقافتی خوبصورتی پر نازاں دیگر جنوبی ایشیائی ممالک سے  سافٹ پاور میں برتری حاصل کرنے کا امکان نہیں ہے۔

سافٹ پاور کے حوالے سے پاکستان کا موجودہ نقطہ نگاہ نقصان کی بھرپائی کے لیے مناسب ہے: عالمی سطح پر ماضی میں تنہائی کے لیے سفارت کاری  اور سلامتی کے اعتبار سے مسخ شدہ تصور کو بہتر بنانے کیلیے سیاحت۔ بین الاقوامی منظرنامے پر زیادہ بھرپور کردار ادا کرنے کے لیے پاکستان کو اپنی سافٹ پاور کی حکمت عملی کی جانچ کرنی چاہیے نیز زیادہ پائیدار شعبوں جیسا کہ میڈیا، تعلیم اور تجارت میں سرمایہ کاری کرنی چاہیئے۔

ذرائع ابلاغ کے ذریعے عالمی بیانیے کی تشکیل

 ریاست کی سافٹ پاور کے ہتھیاروں میں ذرائع ابلاغ اہم مقام رکھتے ہیں۔ بی بی سی، سی این این اور ٹی آر ٹی عالمی سطح پر جگہ بنا چکے ہیں اور متعلقہ ریاستوں کی سیاسی و ثقافتی اقدار کی جانب ناظرین کو متوجہ کرواتے ہیں۔ اگر تفریح کا ذکر کیا جائے تو ہالی ووڈ نے امریکی طرزِ زندگی کی کشش میں اضافے کیلئے مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ ترکی نے بھی حال ہی میں ارطغرل جیسے ڈراموں کے ترجمے و تقسیم کے ذریعے اپنی ثقافت کو بین الاقوامی سطح پر برآمد کرنے کی کوشش کی ہے۔

ایک مستحکم ذرائع ابلاغ کا شعبہ رکھنے کے باوجود پاکستانی میڈیا کے ذرائع بین الاقوامی ناظرین کو متوجہ نہیں کرپاتے ہیں جودنیا کے ہمراہ اپنے موقف کو پیش کرنے کے پاکستان کے امکانات کو معدوم کرتا ہے۔ اس کا الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا بنیادی طور پر ایسے موضوعات کا احاطہ کرتا ہے جن کا ہدف مقامی ناظرین ہوتے ہیں۔ پاکستان کی تفریحی صنعت نے متحرک ہونے کے باوجود خال خال ہی برآمد کے قابل مواد تیارکیا ہے۔ حتیٰ کہ  پاکستان کی مسلح افواج کی شاخ انٹرسروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کی کفالت سے بننے والے بڑے بجٹ کے حامل منصوبے بھی بیرون ملک پاکستان کے تصور کے بجائے زیادہ تر ملک کے اندر عسکری تشخص کو بہتر بنانے پر توجہ دیتے ہیں۔

 پاکستان بھی اپنی سافٹ پاور کو بہتر بنانے کے لیے ذرائع ابلاغ کی صنعت کو بطور ہتھیار استعمال میں لا سکتا ہے۔ پاکستان کا سرکاری نیٹ ورک  پاکستان ٹیلیویژن (پی ٹی وی)، مقامی ذرائع ابلاغ کو بین الاقوامی نوعیت کا بنانے کی پاکستان کی کوششوں کیلئے ایک اثاثہ ثابت ہو سکتا ہے۔ سازوسامان اور مالی وسائل کی کمی کے باوجود، چینل نے ارطغرل نشر کرکے کسی حد تک چینل میں دلچسپی بحال کی ہے۔  حکومت، پاکستانی ثقافت سے مالامال جغرافیائی خطوں پر مبنی تفریحی منصوبوں کی کفالت، غیرملکی زبانوں میں ان کی ڈبنگ اور آن لائن اسٹریمنگ کے ذرائع جیسا کہ نیٹ فلکس کے ذریعے ان کی تقسیم کے ذریعے اس عارضی شہرت کو بروئے کار لا سکتی ہے۔ پی ٹی وی کے انگریزی زبان کے بین الاقوامی چینل پی ٹی وی ورلڈ کی تشہیری حکمت عملی کی تشکیل نو کے ذریعے  بین الاقوامی سطح پر پاکستان تک رسائی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ سوشل میڈیا پر فی الوقت اس کا  کردار محض ٹیلی ویژن نیوز پروگراموں کی تشہیر تک محدود ہے تاہم معلوماتی ذریعے کے طور پر اس میں بہتری لاتے ہوئے مقامی و بین الاقوامی واقعات کو اجاگر اور ان کا تجزیہ کیا جا سکتا ہے۔ پی ٹی وی ورلڈ اپنے آن لائن گرافکس میں بہتری اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے قابل برداشت نیوز ویڈیوز کے باقاعدگی سے اجراء کے ذریعے ڈیجیٹل دنیا میں عالمی ناظرین کی توجہ حاصل کرسکتا ہے۔

مقامی تعلیمی شعبوں کو بین الاقوامی بنانا

 سافٹ پاور کا ایک اور وسیلہ جو تاحال موثر طور پر استعمال نہیں کیا گیا، وہ پاکستان میں تعلیم کا شعبہ ہے۔ طلباء کے تبادلے کے منصوبے ارزاں اور ایک ریاست کی سافٹ پاور کو بڑھانے کا پائیدار ذریعہ ہوتے ہیں۔ فل برائٹ اور شیوننگ جیسے منصوبے دنیا بھر سے طلباء کو متوجہ کرتے اور میزبان ملک کی ثقافت قبول کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ چونکہ میرٹ کی بنیاد پر دیے جانے والے یہ وظیفے اعلیٰ کارکردگی دکھانے والے پرعزم افراد کی توجہ کھینچتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ان طلباء کی جانب سے اپنے آبائی وطن میں بااثرمقام حاصل کرنے اور دوران تعلیم میزبانی کرنے والے ملک کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے  کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔

فی الحال پاکستان اپنی ملٹری اکیڈمیوں میں جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے کیڈٹس کی تربیت کرتا ہے۔ البتہ غیر پاکستانیوں کو اپنی ملٹری اکیڈمیوں میں تربیت دینے کے فوائد، پاکستان کے شعبہ تعلیم میں موجود مجموعی صلاحیتوں کے مقابلے میں بہت کم ہیں۔ فی الوقت، پاکستان کی تین جامعات دنیا کی ۴۰۰ بہترین اور دس جامعات دنیا کی ۱۲۰۰ بہترین جامعات کی کیو ایس درجہ بندیمیں شامل ہیں۔ گو کہ یہ اعدادوشمار اپنی جگہ متاثر کن نہیں، تاہم پاکستان کا تعلیمی نظام تاجکستان، افغانستان، ایران اور سری لنکا جیسی علاقے کی دیگر ریاستوں سے کہیں بہتر ہے جن کی مجموعی طور پر محض آٹھ جامعات ۱۲۰۰ بہترین جامعات کی درجہ بندی میں شامل ہیں۔ پاکستان تزویراتی اعتبار سے اہم ریاستوں کے ذہین دماغوں کو متوجہ کرنے، بین الاقوامی طلبا کو پاکستانی ثقافت کے مثبت پہلوؤں سے متعارف کروانے اور انہیں ان کے آبائی ممالک میں پاکستان کے سفیر کے طور پر تیار کرنے کیلئے ان اعداد وشمارکو استعمال کرسکتا ہے۔ 

اس محاذ پر وزارت خارجہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے ہمراہ تعاون کرسکتا ہے تاکہ ترقی پذیر ممالک کے نوجوانوں کو متوجہ کرنے کے لیے اسٹوڈنٹ ایکسچینج اینڈ لیڈرشپ پروگرام تخلیق کیے جا سکیں۔ مقامی جامعات کے منصوبوں کی تشہیر کے لیے ساؤتھ ساؤتھ کوآپریشن جیسی پیش رفت کہ جس کا مقصد دنیا کے جنوب میں موجود ممالک کے مابین تعاون ہے، کا استعمال ایسے منصوبوں میں دلچسپی بڑھا سکتا ہے۔ باوجودیکہ پاکستان کا بھارت سے مقابلہ ناگزیر ہے جس کے تعلیمی اداروں کی درجہ بندی مقابلتاً بہتر ہے، پاکستان ایک منفرد برتری رکھتا ہے۔ بھارت اور پاکستان کی مشترکہ ثقافت جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مغربی ایشیاء کے عناصر رکھتی ہے، پاکستان ایک مسلم اکثریتی ملک ہے اور اردو زبان عربی رسم الخط میں تحریر کی جاتی ہے۔ یہ بہت سے جنوبی، وسطی اور مغربی ایشیائئ ممالک سے تعلق رکھنے والے طلباء کے لیے پاکستان کے تعلیمی و سماجی ماحول کو قبول کرنا آسان بنا سکتی ہے۔

تجارت کی سافٹ پاور

کھلی منڈیوں کے دور میں تجارت قدرتی طور پر ریاست کے تشخص کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ دنیا بھر میں ایپل اور ہوواوے برانڈز کی کامیابی بالترتیب امریکہ اور چین کے مثبت تاثر کی عکاس ہیں۔ دیگر ممالک نے پوری کی پوری صنعت پر ہی اپنی توجہ مرکوز کی ہے- بھارت نے انفارمیشن ٹیکنالوجی  اور جرمنی نے آٹوموبائل کی صنعت پر۔

پاکستان کی برآمدات اگرچہ بڑھ رہی ہیں مگر اس کی برآمدی فہرست بہت متنوع نہیں ہے۔ اس کی بہت ہی کم مصنوعات صحیح معنوں میں عالمی حیثیت رکھتی ہیں اور بنیادی طور پر ان کی منزل مقصود امریکہ، چین اور یورپ تک محدود ہیں۔ گورمے اور شیزان جیسی کمپنیاں اپنی مصنوعات برآمد کرتی ہیں لیکن بطور برانڈ نام نہ ہونے کی وجہ سے وہ عالمی سطح پر گھر گھر پہچان کروانے سے قاصر ہیں۔ وہ پاکستانی کارخانے جو نامور غیرملکی برانڈز کے لیے مصنوعات تیار کرتے ہیں، غیرملکی سرمایہ کاروں کی سافٹ پاور کو فائدہ دیتے ہیں، ناکہ مصنوعات کنندہ کو۔

 ملک کی تجارتی پیشکشوں سے مکمل فائدہ اٹھانے کے لیے حکومت ایسے برآمدکنندگان کو ترغیبات دے سکتی ہے جو دنیا بھر میں استعمال ہونے والی مصنوعات تیار کرتے ہیں اور نئی منزلیں دریافت کرنے کیلئے تیار رہتے ہیں۔ مزید یہ کہ چیمبر آف کامرس برآمدات کرنے والی کمپنیوں کی بین الاقوامی پہچان کو بہتر بنانے کے لیے مصنوعات کی تشہیر و برانڈنگ کیلیے تربیت گاہوں کا انعقاد کرسکتا ہے۔ مقامی سطح پر تیارکردہ بین الاقوامی مصنوعات سے ملک کا نام جڑا ہوگا تو اس سے عالمی سطح پر پاکستان کا سافٹ پاور تشخص بہتر ہوگا۔

حاصل کلام

پاکستان نے سافٹ پاور کے ہتھیاروں میں سرمایہ کاری کی اہمیت کا اعتراف کرنا شروع کردیا ہے۔ آئی ایس پی آر کا ریئلٹیشو ”۶۰ آورز ٹو گلوری،“ نسٹ انٹرنشپ پروگرام برائے بین الاقوامی طلباء (این آئی پی آئی ایس) اور  باسمتی چاول کے نام پر بھارت سے تنازعہ اس سلسلے میں ملکی کوششوں کو ظاہر کرتا ہے۔

بہرحال، یہ حالیہ پیش رفتیں اپنی جگہ ناکافی ہیں۔ اپنی سافٹ پاور صلاحیت سے مکمل فائدہ اٹھانے کے لیے  پاکستان کو  سلامتی اور جغرافیائی سیاست کے بارے میں اپنے خبط پر قابو پانا ہوگا جو قومی مفادات کی تکمیل کے ذرائع کو محدود کرتا ہے۔ پاکستان کو صحافتی آزادی کے بارے میں ساکھ کو بھی بہتر بنانا ہوگا جو اپنی موجودہ کیفیت میں اس کے سافٹ پاور تشخص کو منفی طور پر متاثر کرتی ہے اور ذرائع ابلاغ کو بین الاقوامی نوعیت کا بنانے کے مفادات پر غالب آتی ہے۔ حکومت کو برین ڈرین اور توانائی کی کمی کے مسئلے سے بھی نمٹنا چاہیے جو کہ اس کے تعلیم اور تجارت کے شعبوں پر منفی طور پر اثرانداز ہوتے ہیں۔

مجموعی طور پر، پاکستان میں تعلیم، ذرائع ابلاغ اور تجارت کے شعبے  سافٹ پاور کو بڑھانے کے لیے مناسب مقدار میں مواقع فراہم کرتے ہیں۔  سافٹ پاور کے ان وسائل میں چھپی غیر استفادہ شدہ صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے اسے ابھی بھی طویل سفر طے کرنا باقی ہے۔

***

Click here to read this article in English.

Image 1: Shahzeb Younas via Flickr

Image 2: Guilhem Vellut via Flickr

Share this:  

Related articles

بھارت اسرائیل تعلقات: شعبہء توانائی میں تعلقات کی تعمیر Hindi & Urdu

بھارت اسرائیل تعلقات: شعبہء توانائی میں تعلقات کی تعمیر

مضبوط تعلقات کو مزید بہتر کرنے کی کوشش میں ہندوستان…

بھارت میں سوشل میڈیا پر سیاست کا غلبہ Hindi & Urdu

بھارت میں سوشل میڈیا پر سیاست کا غلبہ

بھارت کی سیاسی تاریخ میں پہلے ”سوشل میڈیا انتخابات“ سمجھے…

گوادر بندرگاہ: عالمی خواب اور مقامی حقائق Hindi & Urdu

گوادر بندرگاہ: عالمی خواب اور مقامی حقائق

 پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان اور بحیرہ عرب کے…