,

پاکستان ۲۰۲۰ : سال بھر کا جائزہ

کووڈ ۱۹ کی وبا کے پھیلنے نے ۲۰۲۰ کو دنیا بھر کی حکومتوں کے لیے مشکل سال بنا دیا۔ داخلی سیاسی انتشار، ابھرتی ہوئی مذہبی انتہا پسندی، ناقص معاشرتی اقتصادی نمو اور پالیسی سازی میں بدنظمی نے اس برس کو پاکستان کے لیے مزید دشوار بنا دیا۔ سفارتی محاذ پر دیکھا جائے تو مغربی سرحد پر اثر ورسوخ میں اضافہ، افغانستان کے معاملے میں اپنے کردار پر شاباش، امریکہ سے تعلقات میں بہتری نیز ایرانی سعودی رقابت اور امریکہ چین مقابلے میں ایک غیرجانبدار حیثیت اختیار کرنے جیسے پاکستان کے خارجہ پالیسی اہداف بڑی حد تک پورے ہوئے۔ تاہم  افغان امن عمل میں تعطل، امریکہ میں نئی انتظامیہ اور مشرق وسطیٰ اور ایشیا میں تنازعوں میں اضافے کے امکان کے مدنظر پاکستان کو ۲۰۲۱ میں خاص کر اپنی خارجہ پالیسی کے حوالے سے بے حد محتاط رہنا ہوگا۔  مزید براں، پاکستان کو بھارت کے حوالے سے اپنی سفارتی حیثیت کو مضبوط بنانے میں کامیابی نہیں ملی ہے اور ایک بھرپور مہم کے باوجود وہ مسئلہ کشمیر پر عالمی برادری کی حمایت بھی نہیں جیت پایا ہے۔  ان بیرونی آزمائشوں سے نمٹنے کے لیے پاکستان کے پالیسی سازوں کو اپنے اندر جھانکنا ہوگا جہاں اس کی بڑی کمزوریاں موجود ہیں۔

داخلی سطح پر دراڑیں

۲۰۲۰ میں پاکستانی پالیسی خدشات پر کووڈ ۱۹ چھایا رہا- پاکستان دنیا کے ان چند ابتدائی ممالک میں سے تھا جہاں اس وائرل انفیکشن کے مریض سامنے آئے۔ جیسے جیسے مریضوں کی تعداد میں اضافہ شروع ہوا عمران خان کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کی حکومت پر مربوط پالیسی کی تیاری میں نااہلی پر شدید تنقید شروع ہوئی۔ صحت کے بحران نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مابین پالیسی امور پر تقسیم کو بھی واضح کیا۔ خاص کر سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے سخت لاک ڈاؤن کی پالیسی کی حمایت کرنا چاہی جبکہ  ممکنہ معاشی اثرات کے سبب پی ٹی آئی نے لاک ڈاؤن کی مذمت کی۔ آخرکار تمام صوبائی حکومتیں باہمی اتفاق کے ساتھ خان کی پالیسی کے تحت ”سمارٹ لاک ڈاؤن“ کے  نفاذ پر رضامند ہوئیں اور مئی سے  لاک ڈاؤن کی پابندیوں کو بتدریج اٹھانا شروع کیا۔ پراسرار طور پر لاک ڈاؤن اٹھائے جانے کے ایک ماہ بعد مریضوں کی تعداد میں کمی واقع ہونا شروع ہوئی۔ حکومت کو یقین ہے کہ اس کی سمارٹ لاک ڈاؤن کی پالیسی  کے تحت پورے ملک میں لاک ڈاؤن کے بجائے سٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (ایس او پیز) پر سختی سے عمل درآمد نے اس شرح میں کمی کی ہے۔ تاہم چونکہ عوام نے بمشکل ہی ایس او پیز پر عمل کیا تھا، ایسے میں یہ تاحال واضح نہیں کہ پاکستان کووڈ ۱۹ کی پہلی لہر کا کیسے مقابلہ کرپایا۔

اب جبکہ کووڈ ۱۹ کی دوسری لہر پاکستان میں داخل ہوچکی ہے،  عمران خان کی حکومت کو ہٹانے کے لیے حزب اختلاف کی قیادت میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے نہ صرف سیاسی عدم استحکام کو بڑھاوا دیا ہے بلکہ یہ قوم کی صحت کے لیے بھی ایک خطرہ بن چکی ہے۔ دریں اثناء  اس عدم استحکام اور صحت کے بحران کی وجہ سے معیشت بھی مسلسل زوال پذیر ہے۔ بڑھتے ہوئے سماجی سیاسی عدم استحکام کے معاشی اثرات باعث تشویش ہیں۔ جی ڈی پی نمو میں گراوٹ، اشیائے صرف کی بڑھتی قیمتیں اور روپے کی قدر میں تیز رفتار گراوٹ ملک میں سیاسی اتحاد کی ضرورت کو  ظاہر کرتی ہے۔

جہاں تک قومی سلامتی کی بات ہے تو دہشتگردی کے حملوں میں گزشتہ کچھ برسوں سے نمایاں کمی آئی ہے۔ اس کے باوجود اس برس بلوچستان میں متعدد بم دھماکوں، کراچی میں حزب اختلاف کی ایک ریلی پر حملے اور کراچی سٹاک ایکسچینج کی عمارت کو نشانہ بنانے کی کوشش نے ملک میں موجود دہشتگرد گروہوں کی مسلسل موجودگی کے حوالے سے خدشات کو دوبارہ جگا دیا ہے۔ دہشت گردی کی اس قسم کی کارروائیاں مستقبل میں پاکستان کے لیے مسائل کا باعث  ہوسکتی ہیں کیونکہ رقوم کی ناجائز ترسیل اور دہشتگردی کی مالی معاونت کے خلاف بعض اقدامات کے باوجود ابھی بھی  فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ سے پاکستان کا نام نکلوانے کیلئے بہت کچھ کیا جانا باقی ہے۔

بالخصوص دہشت گرد حملوں کو بھڑکانے والے انتہا پسندانہ نظریات میں اس برس اضافہ ہوا ہے۔ ستمبر میں بڑی سنی جماعتوں مثلا جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام نے اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر ریلی نکالی اور فرقہ واریت پر مبنی نعرے بازی کی۔ توہین مذہب کے خلاف مقدمات اور توہین مذہب کی بنیاد پر ماورائے عدالت قتل کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ دائیں بازو کی سیاسی جماعت تحریک لبیک پاکستان جسے عام حلقوں کی نمایاں حمایت حاصل ہے، سیاسی استحکام اور پاکستان کی داخلی سلامتی دونوں کے لیے کڑی آزمائش ہے۔

بیرونی آزمائشیں

 داخلی پالیسی کے برعکس ۲۰۲۰ میں پاکستان کی خارجہ پالیسی زیادہ مربوط تھی جس کی بڑی وجہ عمران خان کی زیر قیادت  سول ملٹری تعلقات میں بہتری تھی۔ بالخصوص افغانستان کے معاملے میں پاکستان دوہا میں امریکہ طالبان مذاکرات میں سہولت کاری  نیز  بین الافغان مذاکراتی عمل میں تعاون کے لیے  طالبان پر اپنا اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے اپنے خارجہ پالیسی اہداف پورے کرنے اور خطے میں نمایاں کردار حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔ پورے سال کے دوران افغان حکومت کے اہم ترجمان بشمول افغان امن سفیر عبداللہ عبداللہ اور گلبدین حکمت یار کے ساتھ ساتھ افغانستان میں امریکہ کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد نے پاکستان کے متعدد اہم دورے کیے۔ طالبان نے بھی دوہا میں بین الافغان مذاکرات کے آغاز سے قبل اسلام آباد میں ایک اہم سرکاری ملاقات کی۔ افغانستان میں قیام امن کے فروغ میں پنہاں اپنے سیاسی اور معاشی مفادات  کے سبب پاکستان کی موجودہ حکمت عملی کابل میں ایک ایسی اتحادی حکومت کا قیام دکھائی دیتی ہے جس میں طالبان کے پاس نمایاں اختیارات ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی ساز مذاکراتی عمل میں موجودہ تعطل پر مضطرب دکھائی دیتے ہیں جو عمران خان کے کابل کے پہلے سرکاری دورے کے موقع پر ان کی تقریر سے بھی جھلک رہا تھا۔ انہوں نے دونوں افغان جماعتوں کے درمیان سیز فائر کی واشگاف الفاظ میں حمایت کی اور افغانستان میں امن کے قیام کے لئے ”جو کچھ بھی ممکن ہو، وہ سب کر ڈالنے“ پر زور دیا۔

افغانستان میں سفارتی کامیابی نے پاک امریکہ تعلقات کو بہتر بنانے میں مدد دی۔ تاہم جیسا کہ امریکہ افغانستان سے اپنی افواج نکال رہا ہے اور اس کی توجہ کا رخ چین سے طاقت کے مقابلے کی جانب مڑ رہا ہے، ایسے میں پاک امریکہ تعلقات کے لیے بنیادی محرک افغانستان نہیں بلکہ پاکستان کے چین کے ساتھ بڑھتے ہوئے معاشی، سلامتی اور سیاسی تعلقات بن رہا ہے۔ امریکہ اگرچہ پاکستان کے نمبر ایک تجارتی شراکت دار کے طور پر برقرار ہے تاہم پاکستان، پاک چین اقتصادی راہداری کے تحت ہونے والی چینی سرمایہ کاری کو اپنی معاشی ترقی کے لیے بنیادی حیثیت دیتا ہے۔ بھارت کے گرد گھومتے پاکستان کے سلامتی خدشات بھی پاک چین عسکری تعلقات پر اثرانداز ہو رہے ہیں، یہ وہ شعبہ ہے جس میں امریکہ پاکستان کے لیے بہت کچھ نہیں کرسکتا ہے۔ فی الحال جیسا کہ وزیراعظم نے اصرار کیا ہے پاکستان دو عالمی قوتوں کے درمیان ایک غیرجانب دارحیثیت برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ متوازن کرنے کا یہ عمل پاکستان کو جنوبی ایشیا میں ایک منفرد مقام دے سکتا ہے- یہ چین اور امریکہ کے درمیان پس پردہ بات چیت کے لیے سہولت کار کا کردار دوبارہ حاصل کرسکتا ہے۔

پاکستان مشرق وسطیٰ میں ایران اور سعودی عرب کے درمیان اسی سے ملتی جلتی متوازن بنانے کی حکمت پر گزشتہ کئی برس سے عمل پیرا ہے۔ ۲۰۲۰ پاکستان کی  غیرجانب دار حیثیت کے لیے امتحان ثابت ہوا کیونکہ سال کا آغاز ایرانی قدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کے قتل سے ہوا۔ سعودی عرب نے ایران کیخلاف زیادہ سخت موقف اختیار کرنے کیلئے پاکستان پر دباؤ ڈالا لیکن پاکستان نے ثالثی کی پیشکش کے ذریعے اپنی غیرجانب دار حیثیت برقرار رکھنے کی کوشش کی۔ مقصد واضح تھا: دونوں ممالک کو اس امر پہ قائل کرنا کہ اگر مستقبل میں یا جب بھی وہ اپنے تنازعے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہیں تو پاکستان کے دوسرے ملک سے تعلقات ان کے مفادات کے لئے سودمند ہوسکتے ہیں۔ تاہم مشرق وسطیٰ میں ایسی حکمت عملی کام نہیں کرے گی تاوقتیکہ دونوں ممالک خطے میں امن کے خواہاں ہوں۔

پاکستان سعودی عرب تعلقات کے لیے ایک اور دھچکہ پاکستان کی جانب سے مسئلہ کشمیر پر اسلامی تعاون تنظیم کی وزرائے خارجہ کونسل کا خصوصی اجلاس طلب کرنے کی درخواست پر سعودی عرب کا انکار تھا۔ پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے مسئلہ کشمیر پر اسلامی تعاون تنظیم کی غیرفعالیت پر تنقیدی بیان جاری کیے جانے کے بعد تعلقات بری طرح متاثر ہوئے۔ تاہم زیادہ تر تجزیہ کاروں نے اس امر پر اتفاق کیا تھا کہ پاکستان خواہ سیاسی حمایت حاصل کرنے میں ناکام بھی رہے تو بھی وہ ریاض سے مالی معاونت کے سلسلہ برقرار رکھنا چاہے گا۔ لہذا، مشرق وسطیٰ میں تنازعے میں اضافے کے خدشات کے پیش نظر پاکستان کو ایک ایسی جامع حکمت عملی  کی ضرورت ہے جو ایک بلاک پر اس کے معاشی انحصار میں کمی لائے۔ اس مقصد کے لیے پاکستان کو داخلی سطح پر معاشی بدنظمی اور فرقہ واریت کے مسائل سے نمٹنا ہوگا تاکہ قومی مفادات کے مطابق ایک خودمختار خارجہ پالیسی تشکیل دی جاسکے۔

پاکستان کی مشرقی سرحد پر گزشتہ برس بالاکوٹ بحران کے بعد سے صورتحال غیر مستحکم رہی  اور سیزفائر کی خلاف ورزیوں میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے کو ملا۔ اسی دوران جون میں چین بھارت سرحد پر تنازعہ کو پاکستان نے کشمیر میں بھارتی اقدامات کی جانب توجہ دلانے اور کشمیر کی متنازعہ حیثیت پر اپنے موقف کو واضح کرنے کے لیے استعمال کیا۔ کشمیر پر بھارتی پالیسیوں کے خلاف مضبوط سفارتی مہم کے علاوہ، پاکستان غالباً کشمیر میں جاری شورش کی حمایت کے لیے  اپنی کوششوں کو بھی ازسرنو ترتیب دے چکا ہے جو کہ  وادی میں بدامنی میں آنے والی شدت سے ظاہر ہوتا ہے۔ یہ حکمت عملی آگے چل کے پاکستان بھارت تناؤ میں ایک بار پھر تیزی لاسکتی ہے- یہ وہ خطرہ ہے جو کشمیر پر بھارتی دعووں کی نفی کے لیے اسلام آباد نے مول لیا ہے۔ اس ضمن میں بہتر حکمت عملی یہ ہوگی کہ ملک میں جمہوری اور لبرل اداروں کو مضبوط کیا جائے نیز بھارت سے مسائل کے حل کے لیے عسکری ذرائع کی جگہ سفارتی ذرائع  کے استعمال کے ذریعے دنیا میں پاکستان کے تشخص کو بہتر بنایا جائے۔ کووڈ ۱۹ کی وبا اور سارک کی دوبارہ بحالی نے  بھارت اور پاکستان کے درمیان اشتعال انگیزی کو وقتی طور پر روک دیا تھا اور علاقائی تعاون کے امکانات کو بڑھا دیا تھا۔ تاہم  یہ غیر مستحکم نوعیت کے دو طرفہ تعلقات کے لیے ایک عارضی حل تھا- جنوبی ایشیا میں امن کے لیے دونوں ممالک کو انسانی صحت کے بحران سے کہیں زیادہ کی ضروت ہے۔

ایک کٹھن سال کا سامنا

 پاکستان ۲۰۲۰ میں اگرچہ سفارتی محاذ پر کچھ اہم خارجہ پالیسی اہداف حاصل کرنے میں کامیاب رہا تاہم اگلا برس ملک کے لیے زیادہ آزمائشیں لاسکتا ہے۔ افغانستان میں پاکستان کی اہمیت بین الافغان مذاکرات کی کامیابی سے نتھی ہے جبکہ چین سے تعلقات کے سبب امریکہ سے تعلقات متاثر ہوسکتے ہیں۔ دوطرفہ بات چیت کے امکانات میں کمی کے ساتھ ہی بھارت سے جارحانہ تعلقات کی شدت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں بھی ایران سعودی عرب تنازعے میں ممکنہ شدت سے پاکستان کی غیرجانب دار حیثیت ابتری کا شکار ہوسکتی ہے کیونکہ پاکستان سعودی عرب سے بہتر تعلقات کا خواہاں ہے۔ تاہم اس برس میں سب سے بڑی آزمائش داخلی سطح سے پھوٹتی ہے جہاں بڑھتا ہوا سیاسی عدم استحکام، مذہبی انتہا پسندی، اور معاشی بحران مسلسل وفاقی حکومت کی نااہلی کو ظاہر کررہے ہیں۔ یہ عوامل خارجہ پالیسی کے ضمن میں بھی اس کی پالیسیوں کو محض ان پالیسیوں تک محدود کردیتے ہیں جو اس کی داخلی معیشت اور سلامتی کی صورتحال کو مزید ابتری سے بچا سکیں۔

***

.Click here to read this article in English

Image 1: Teseum via Flickr

Image 2: Pakistan PMO via Twitter

Posted in , , Afghanistan, China, Economy, Foreign Policy, Geopolitics, India, Internal Security, Iran, Pakistan, Saudi Arabia, Year in Review 2020

Fizza Batool

Fizza Batool is a doctoral candidate in the Department of International Relations at the University of Karachi in Pakistan. Her doctoral research involves the identification of factors contributing to political participation in illiberal democracies. She is also an Adjunct Faculty at Iqra University and has recently served as a Senior Research Fellow at the Centre for Peace, Security and Developmental Studies (CPSD) - a non-profit policy think-tank in Karachi. Her main research interests include political participation, voting behavior, and comparative politics.

Read more


Continue Reading


Stay informed Sign up to our newsletter below





Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *