1545895871_dbebb9f1a6_o-1095×616

یکم جنوری کو بھارت اور پاکستان کے اخبارات میں ایک بار پھر ایک مختصر اور تفصیلات سے عاری سنگل کالمی خبر تھی جس کے مطابق دونوں ممالک نے اپنی اپنی جوہری تنصیبات کی تفصیل بمعہ دونوں ممالک کے ہاتھوں  گرفتار مچھیروں کی اضافی فہرست کے، تبادلہ کیا ہے۔ یہ پریس ریلیز دونوں ممالک کے درمیان ۱۹۸۸ میں جوہری تنصیبات اور سہولیات پر حملے کی ممانعت پر ان کے درمیان  طے پانے والے اعتماد سازی کے اقدام (سی بی ایم) کی سالانہ  یاد دہانی ہے۔ اس معاہدے کو محض فہرستوں کے تبادلے کے معمول تک محدود کردیا گیا ہے اور بڑھتی ہوئی شفافیت اور ”آسمان پر موجود آنکھوں“  کے اس دور میں معمول کی یہ کارروائی پرانے وقتوں کی ایک یادگار دکھائی دیتی ہے۔  جہاں  دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود سی بی ایمز ایک سنجیدہ اور دیانت دارانہ دوبارہ جائزے کے متقاضی ہیں، وہیں یہ سالانہ تبادلہ ایک عہد یا بظاہر دکھائی دیتے عہد کی یاد دلاتا ہے جس نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کام دکھایا تھا (اور اب بھی دکھا سکتا ہے۔ تاہم یہ ایک کٹھن اور وقفوں کے ساتھ جاری رہنے والے امن عمل کی بھی یاد دلاتا ہے جو اب زیادہ ناممکن محسوس ہوتا ہے۔

 گزشتہ برس کے دوران ان کٹھن تعلقات میں امید کی واحد کرن لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر سیزفائر میں توسیع تھی۔ بھارت کے ہمراہ تناؤ کا شکار تعلقات ہی وہ واحد آزمائش نہیں ہے کہ جس کے ہمراہ پاکستان ۲۰۲۲ میں داخل ہو رہا ہے بلکہ افغانستان میں تیزی سے بڑھتا ہوا انسانی اور ممکنہ طور پر  خانہ جنگی کا خطرہ نازک ترین مرحلہ ہے۔ بدترین صورتحال میں پاکستان کو ایک ایسے وقت میں پناہ گزینوں کی بھاری تعداد کی آمد کا سامنا ہو سکتا ہے جب اسے وبا کی وجہ سے سکھ کا سانس لینے کا موقع نہیں مل رہا ہے۔ داخلی سطح پر  بہتر گورننس کے علاوہ معاشی استحکام بدستور سب سے بڑی ترجیح رہی جس کو ۲۰۲۲ کے آغاز میں جاری ہونے والی نیشنل سیکیورٹی پالیسی (این ایس پی) جس کا طویل عرصے سے انتظار تھا، اس میں نمایاں جگہ دی گئی ہے۔ ان فوری نوعیت کے چیلنجز کے علاوہ  بحر ہند  چین امریکہ مسابقت کا مرکز بننے جا رہا ہے ایسے میں پاکستان کو اپنی حکمت عملی اور خطے میں اپنی حیثیت کے حوالے سے دور رس حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہو گی۔

وبا اور سلامتی کو لاحق ابھرتے خطرات

پاکستان کے لیے ۲۰۲۱ کا آغاز ناخوشگوار تھا۔ کووڈ-۱۹ کی بڑھتی تعداد کے سبب لڑکھڑاتے فیصلہ سازوں کے سامنے پریشانی کی جو سب سے بڑی وجہ تھی وہ دنیا کے گنجان ترین ممالک میں سے ایک میں ویکسینیشن  تھا۔ نا صرف ویکسین کی مسلسل آمد بلکہ عوام جس کی بڑی تعداد ویکسینیشن کے حوالے سے بڑے خدشات رکھتی تھی، اس کو ویکسین لگوانے پر قائل کرنا بھی ایک بڑا چیلنج تھا۔ حکومت نے کووڈ۔۱۹ کی ابتدائی لہر کے دوران لوگوں کو احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد کے لیے مہم چلائی تھی اور اس کے لیے مذہبی رہنماؤں کو استعمال کیا تھا، اس نے ایک بار پھر ایک انسانی المیئے کے جنم لینے سے بچنے کے لیے حفاظتی تدابیر کی تعمیل کے لیے ان کو استعمال کیا۔  ویکسین مہم سے وابستہ آزمائشوں کے علاوہ مناسب مقدار میں ویکسین کا حصول دشوار تھا۔ ۲۰۲۱ کے پہلے نصف کے دوران امریکہ اور بہت سے مغربی ممالک نے اپنی آبادی کو ویکسین لگانے پر توجہ دی ایسے میں پاکستان نے ویکسین کے حصول کے لیے چین اور روس کا رخ کیا۔ پاکستان نے ہر روز ۱۰۰۰ سے کم کووڈ۔۱۹ کے مریضوں کی تعداد کے ہدف کو جون میں پار کیا تاہم ڈیلٹا وائرس اور پھر اومی کرون پہلے سے انتہائی کمزور نظام صحت پر ایک بار پھر شدید دباؤ لے آئے ہیں۔

اس عرصے کے دوران وبا نے اس جانب اشارہ کیا ہے کہ پاکستان کو اپنے سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ گولز (ایس ڈی جیز) جنہیں حاصل کرنے کے لیے اس نے ۲۰۳۰ تک کا ہدف طے کیا ہے، ان کو پورا کرنے کے لیے فوری نوعیت کے اقدامات کی ضرورت ہے۔  سترہ ایس ڈی جیز میں سے پاکستان محض ایک شعبے میں اہم پیش رفت کرنے کے قابل ہوا ہے جو کہ ماحولیاتی تبدیلی ہے۔  پاکستان اور بھارت دونوں کی جانب سے  کوپ ۲۶ کے دوران گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی کے لیے کیے گئے وعدوں کے باوجود، عدم اعتماد اور ہمیشہ سے موجود سرد جنگ کا ماحول کسی بھی علاقائی تعاون کو بظاہر ناممکن بنا دیتا ہے۔

پاک بھارت تعلقات: ایل او سی پر سیزفائر لیکن تناؤ جاری

کووڈ۔۱۹ کی وبا متعدد ملکوں  پر منڈلاتے خطرات کو  پیش منظر پر لائی؛ ایسے میں ۲۰۲۰ اور ۲۰۲۱ بیانیے میں تبدیلی اور انسانی  سلامتی کی حمایت کے لیے ایک بے مثال موقع ہو سکتے تھے۔ تاہم ۲۰۲۱ میں بھی دفاعی بجٹ میں اضافے کا رجحان جاری رہا۔ وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں قوم پرستی میں شدت آئی جبکہ  وزیر داخلہ امیت شاہ کی جانب سے اکتوبر میں کی گئی ایک  تقریر میں ”سرجیکل حملوں“ کی دھمکی نے پاکستان کی توجہ اپنی جانب کھینچی۔ اس نئے سال کے دوران کلیدی ریاستوں کے انتخابات میں  حصہ لینے کے سبب اس جیسی ملتی جلتی بیان بازی پاک بھارت تعلقات میں مزید تناؤ کا باعث ہو سکتی ہے۔

 پاک بھارت تعلقات میں غالباً واحد مثبت پہلو غیر مستحکم ایل او سی پر ۲۰۰۳ کے سیز فائر معاہدے کا از نو سر زندہ ہونا ہے۔ اگرچہ یہ رسمی طور پر دستخط شدہ معاہدہ نہیں ہے لیکن ۲۰۰۳ کے اس عہد نے سرحد کے دونوں پار موجود لوگوں کو کئی برس تک سکھ کا سانس لینے کا موقع فراہم کیے رکھا  تھا۔  اس معاہدے کی بحالی سے قبل ایل او سی دونوں دشمنوں کے درمیان دباؤ ناپنے کا پیمانہ بن گئی تھی  اور جب بھی تعلقات میں کوئی رکاوٹ آتی تھی، اس علاقے میں گرما گرمی دیکھنے کو ملتی تھی۔ ۲۰۲۰ کے دوران ایل او سی پر سیز فائر کی ۵۱۳۳ ریکارڈ خلاف ورزیاں ہوئیں، جس کے نتیجے میں ۴۶ ہلاکتیں بھی ہوئی تھیں جبکہ محض جنوری ۲۰۲۱ کے اختتام تک ۲۹۹ خلاف ورزیاں اور ایک ہلاکت رپورٹ ہوئی۔ اس سیزفائر نے اگرچہ تقسیم کی لکیر کے دونوں پار بسی شہری آبادی کو سکون فراہم کیا ہے لیکن اسے دونوں پڑوسیوں کے درمیان تعلقات میں گرمجوشی کی علامت نہیں سمجھنا چاہیئے نا ہی کشمیر پر ایک بریک تھرو تصور کرنا چاہیئے۔  پاکستان نے آرٹیکل ۳۷۰ اور ۳۵ اے کی ۲۰۱۹ میں ہونے والی منسوخی کیخلاف احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا ہے اور بین الاقوامی فورمز بشمول اسلامی تعاون تنظیم (اوآئی سی) اور اقوام متحدہ میں کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور لاک ڈاؤن کے خلاف اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا۔ چونکہ بین الاقوامی برادری کی جانب سے محدود ردعمل سامنے آیا تھا، ایل او سی پر سیزفائر میں بریک تھرو پر پاکستان میں بھی ملا جلا ردعمل دیکھنے کو ملا۔

امریکہ کا افغانستان سے انخلاء

۲۰۲۱ کے واقعات میں سے وہ ایک جس کے غالباً پاکستان کے لیے سب سے زیادہ دور رس اثرات ہوں گے، وہ افغانستان سے امریکہ کا انخلاء تھا۔ دوحا معاہدے سے اگرچہ امریکہ کی عنقریب رخصتی طے پا گئی تھی  تاہم اچانک انخلاء اور غنی حکومت کے ہتھیار ڈالنے سے تقریباً بحران کی کیفیت پیدا ہو گئی ۔ طالبان  کا فتح کے ماحول میں کابل کی جانب حتمی مارچ پاکستان سمیت تمام متعلقہ فریقوں کے لیے پریشان کن  تھا  کیونکہ اس سے ملک میں عسکری عناصر کی حوصلہ افزائی ہوتی۔ افغانستان کے اندر جاری تنازعے  کے ضمن میں اسلام آباد کی توجہ کا مرکز انسانی تباہی رہی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے عالمی قیادت سے اپنی فوری اپیلوں میں جنم لیتے انسانی بحران اور غیریقینی مستقبل پر توجہ مرکوز رکھی جبکہ اسلام آباد  طالبان کے ہمراہ اپنے تاریخی تعلقات کی وجہ سے میڈیا کے منفی رویے کے اثرات سے نمٹتا رہا۔ پاکستان میں امریکی انخلاء میں ناکامیوں کے لیے خود کو قربانی کا بکرا بنائے جانے پر مایوسی بڑھ رہی ہے ایسے میں امریکہ اور پاکستان کے درمیان اعتماد کی کمی پہلے سے زیادہ تو نہیں تاہم بدستور پہلے کی طرح نمایاں حد تک ہے ۔ افغان اور غیرملکی افراد کا بھاری پیمانے پر انخلاء  اسلام آباد کے تعاون اور بھرپور مدد کے ذریعے ممکن ہوا تھا۔ ابتدائی مہینوں میں جب امداد کی معطلی اور اثاثے منجمد ہونے کے سبب بہت معمولی مقدار یں انسانی امداد ملک میں داخلے کے قابل تھی، ایسے میں پاکستان نے کھانے پینے کی اشیا، ادویات اور ضروری اشیا افغانستان کو فراہم کیں تھیں۔

۲۰۲۲ میں داخلے پر افغانستان انسانی بحران اور خانہ جنگی سے خطرناک حد تک قریب ہے۔ ۱۹۸۰ اور ۱۹۹۰ کی دہائی کا دوبارہ دوہرایا جانا خطے میں کسی ریاست کے لیے قابل برداشت نہیں خاص کر پاکستان کے لیے جو معاشی اور گورننس کے شعبے میں شدید مسائل سے دوچار ہے۔ پاکستان کا افغانستان میں غذائی قلت، لوگوں کے بے گھر ہونے اور ممکنہ معاشی تباہی کی شکل میں انسانی بحران کے لیے معاونت اور حل طلب کرنے کی خاطر اوآئی سی کی کونسل آف فارن منسٹرز کا اجلاس طلب کرنا ثمر آور ثابت ہوا اور ملک میں انسانی بحران سے نمٹنے کیلئے فنڈز کا وعدہ کیا گیا۔ او آئی سی ممبر ریاستوں کے ساتھ ساتھ مغربی ریاستوں کی جانب سے امداد کے وعدے افغانستان میں جنم لیتے انسانی المیے کو روکنے کی جانب اولین قدم ہیں تاہم طالبان کے سامنے گورننس کے حوالے سے کسی قسم کی راہ عمل موجود نہیں ہے ایسے میں بحران کسی بھی طور پر ختم نہیں ہوا ہے۔

 پاکستان کا  سب سے بڑا خدشہ تحفظ کے متلاشی پراکسی یا آزاد عناصر کی جانب سے افغان سرزمین کا استعمال اور اس کے مفادات اور سلامتی کو نقصان پہنچانا رہا ہے۔ اگرچہ طالبان قیادت نے اقتدار میں آنے کے فوری بعد یقین دہانی کروائی تھی کہ افغانستان عسکریت پسندوں کے لیے جائے پناہ نہیں بنے گا تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ریاست اسلامیہ خراسان (آئی ایس کے) بھرپور طریقے سے موجود دکھائی دے رہی ہے اور افغانستان سے کام کرنے والے تحریک طالبان پاکستان کے اثاثوں کیخلاف موثر کارروائی کے ضمن میں معمولی پیش رفت دیکھنے کو ملی ہے۔ پاک افغان سرحد جسے ڈیورنڈ لائن کہا جاتا ہے، اس پر باڑ لگانے کی پاکستان کی کوششوں کو بھی  طالبان قیادت کی جانب سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ طالبان نے حکومت پاکستان اور ٹی ٹی پی کے درمیان مذاکرات کا بھی اہتمام کیا جس کے نتیجے میں ایک مہینے طویل سیز فائر ۹ نومبر سے شروع ہوا تھا جس میں توسیع کی جا سکتی تھی۔ تاہم ٹی ٹی پی نے ایک ماہ بعد اس جواز کے ساتھ معاہدے کو یکطرفہ طور پر ختم کر دیا کہ امن معاہدے کی ابتدائی سطح پر کیے گئے وعدوں میں دھوکہ دہی سے کام لیا گیا ہے۔ پاکستان جہاں مستحکم افغانستان کا خواہاں ہے، وہیں ملک کے اندر امن سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے کیونکہ ملک کے جغرافیائی معاشی عزائم کا دارومداد امن اور استحکام پر ہے۔

مستقبل کے لیے: معیشت پر توجہ

 جب بات اسلام آباد کے معاشی اثاثوں کو محفوظ بنانے کی ہو تو مادی سلامتی اولین جزو ہوتی ہے۔ ان اثاثوں میں جو سب سے  نمایاں اثاثہ ہے اور جسے بے حد تنقید کا نشانہ بنایا گیا وہ پاک چین اقتصادی راہداری ہے جو مستقبل قریب میں ملکی معیشت کے لیے زندگی کی واحد امید دکھائی دیتا ہے۔ تاہم بین الاقوامی اور اسی طرح مقامی ناظرین کے لیے یہ سوال بدستور باقی ہے کہ کیا پاکستان اس معاشی راستے کو اپنے قدم جمانے کے لیے استعمال کر پائے گا۔  اسلام آباد کے لیے سی پیک کا معاشی پہلو اس کو درپیش خدشات میں سب سے کم نوعیت کا ہے کیونکہ ملک دوبارہ زندہ ہونے والے امریکہ چین مقابلے میں بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاسی دراڑوں کے مطابق خود کو ڈھالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ نومبر ۲۰۲۰ میں جو بائیڈن کے انتخاب کے ذریعے امریکہ کو قیادت کے ضمن میں نمایاں تبدیلی دیکھنے کو ملی ہے تاہم جنوبی ایشیا کے حوالے سے وسیع تر امریکی حکمت عملی میں تبدیلی نہیں آئی ہے اور پاکستان کے حق میں نمایاں جھکاؤ دیکھنے کو نہیں ملا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ  انتظامیہ کی سوچ میں تبدیلی آئی ہو، تاہم سی پیک پر امریکی خدشات بدستور وہی ہیں جو ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں تھے۔

ایک طرف جہاں وبا نے عالمی معیشت کو دھچکہ پہنچایا وہیں پاکستان کے لیے اس کے شہریوں کی معاشی زندگی کو برقرار رکھنے کے ساتھ صحت عامہ کے لیے اقدامات کرنا ایک نازک صورتحال تھی۔ پاکستان فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (فیٹف) کی شرائط کے تحت منی لانڈرنگ اور غیرقانونی سرمایہ  کاری پر قابو پانے کیلئے اقدامات میں سختی لانے میں بھی بدستور مصروف رہا۔ جیسا کہ ورلڈ بینک کے تخمینوں میں اندازہ لگایا گیا کہ موثر مائیکرو لاک ڈاؤن، ریکارڈ مقدار میں زرمبادلہ کی آمد اور مددگار معاشی پالیسی نے مالی سال ۲۰۲۱ کے دوران معیشت کی بحالی اور مضبوطی میں مدد کی۔ تاہم  داخلی سطح پر بڑھتی ہوئی طلب، برآمدات کے مقابلے میں زیادہ درآمدات بھاری پیمانے پر تجارتی خسارے کا باعث ہیں۔ ایک مستحکم معاشی پیداوار کے لیے پاکستان کو اپنی برآمدات اور نجی سرمایہ کاری میں اضافے کے ساتھ ساتھ ان کلیدی عناصر کی شناخت کرنا ہوگی جو اس کی برآمدات کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔

استحکام کے لیے راہ عمل

اسلام آباد و دیگر مقامات پر موجود پالیسی ساز یقیناً یہ نتیجہ نکال چکے ہیں کہ پاکستان کا امریکہ پر انحصار اور تعلقات زیادہ سے زیادہ کاروباری نوعیت کے ہیں۔ ایسی صورتحال میں ملک کا چین کی جانب جھکاؤ ایک متوقع قدم ہے تاہم اسلام آباد کو اپنے مفادات کا تحفظ بھی کرنا چاہیئے اور بیجنگ کے ہمراہ حکمت کے ساتھ معاملات کرنے چاہییں۔ چین کی تزویراتی ثقافت نے طویل عرصے سے عدم مداخلت کی ذریعے مل جل کے رہنے کی پالیسی پر زور دیا ہے تاہم یہ اس تاثر سے قطعی طور پر مختلف ہے جو مغرب بیجنگ کے بارے میں رکھتا ہے۔ ایسے میں کہ جب امریکہ بقول شخصے ”نئی سرد جنگ“ میں داخل ہو رہا ہے جہاں کواڈ اور آکس  اس کے قابو پانے  کے ابتدائی ہتھیار ہیں، بحر ہند اپنی اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے اور ممکنہ تنازعے کا متحرک مرکز ہوگا جہاں پاکستان ایک بار پھر خود کو مشکلات میں گھرا ہوا پائے گا۔ اسلام آباد کو دانش کے ساتھ کام لینا چاہیئے اور اپنی پالیسی سازی کو فوری نوعیت کے بجائے دور رس بنانا چاہیئے اور ان محدود امکانات سے آگے بڑھنا چاہیئے جن پر وہ عمل کرتا ہے۔

گورننس کے لیے قابل عمل راہ عمل کی تیاری کے علاوہ  معاشی بحالی اور استحکام پاکستان کیلئے انتہائی تشویش کا باعث ہے اور جسے باعث تشویش ہونے کی ضرورت بھی ہے۔ جغرافیائی معیشت کے لیے پرکشش ہونے کے باوجود پاکستان کی خارجہ پالیسی کا دائرہ محض چند ممالک تک محدود رہتا ہے، جس میں افریقی، لاطینی امریکہ اور جنوب مشرقی ایشیائی دارالحکومتوں اور منڈیوں پر بہت کم توجہ دی گئی ہے۔ افق کو وسیع کرنے کی ضرورت ہے اور جیسا کہ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں، سی پیک، دنیا پر پاکستان کے لیے دروازے کی مانند ثابت ہوگا۔ ایسے میں کہ جب پاکستان ان آزمائشوں کا جائزہ لے رہا ہے، نیشنل سیکیورٹی ڈویژن نے سات برس کے طویل عرصے کے بعد نیشنل سیکیورٹی پالیسی (این ایس پی) ترتیب دی ہے جسے اس نے معاشی سلامتی کو بنیاد بناتے ہوئے  ”شہریوں کے گرد“ گھومتا ہوا قرار دیا ہے۔ این ایس پی ایک ایسے نازک دور میں سامنے آئی ہے کہ جب ملک تیزی سے بدلتے جغرافیائی سیاسی ماحول میں متعدد آزمائشوں کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے میں محض یہ امید کی جا سکتی ہے کہ  یہ ملک کی  ترقی اور استحکام کی جانب  سفر کے لیے وہ راہ عمل ثابت ہو جس کا وعدہ کیا گیا تھا۔

***

Click here to read this article in English.

Image 1: bm1632 via Flickr

Image 2: AFP via Getty Images

Share this:  

Related articles

طالبان کے قبضے کے ایک برس بعد: علاقائی خطرات و اثرات Hindi & Urdu

طالبان کے قبضے کے ایک برس بعد: علاقائی خطرات و اثرات

ایک برس پہلے، ۱۵ اگست ۲۰۲۱ کو طالبان نے کابل…

پاکستان کی خارجہ پالیسی میں شناخت کا تعین Hindi & Urdu

پاکستان کی خارجہ پالیسی میں شناخت کا تعین

 پاکستان کی قومی شناخت آزادی کے وقت سے ہی اسرار…

 عسکری ادارے اور ماحولیاتی تبدیلیاں: پاکستان کی صورتحال Hindi & Urdu

 عسکری ادارے اور ماحولیاتی تبدیلیاں: پاکستان کی صورتحال

نومبر ۲۰۲۱ میں دنیا بھر سے سفارت کار و رہنما…