پاک-امریکا تعلقات: پاکستان پر امریکی دباؤ خطے کیلئے نقصان دہ

 

امریکا ۹/۱۱،۲۰۰۱ کے بعد ہونے والی افغان جنگ میں اب تک ایک کھرب ڈالر سے ذیادہ خزانہ گںوا چکا ہے۔ طالبان اور القاعدہ کو شکست دینے کیلیے ۲،۳۸۶ امریکی فوجی جاں بحق اور ۲۰،۰۴۹ زخمی ہو چکے ہیں۔ اس جانی اور مالی نقصان کے باوجود امریکی ریاست، خصوصی طور پر امریکی جرنیل، افغانستان میں مزید فوجی طعینات کرنا چاہتے ہیں۔

اس خواہش کا اظہار پہلے افغانستان میں طعینات امریکی کمانڈر نکولسن اور ان کے بعد سینٹ کام کمانڈر ویٹیل نے سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کو افغان جنگ کے بارے میں اپنے بیان میں کیا۔ اس بیان کی فوری حمایت سینیٹر مککین اور گراہم نے اپنے آرٹیکل میں کی جو امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں ۱۳ مارچ کو شائع ہوا۔ اس سب کے بعد گویا لگتا یوں ہے کہ امریکی صدر ڈانلڈ ٹرمپ افغانستان میں مزید فوجی بھیجنے پر مجبور ہو جائیں گے۔

امریکی افواج اور افغان حکومت کی مستقل ناکامیوں کا نتیجہ یہ ہے کے آج طالبان ملک کے ۴۳ فیصد حصے پر راج کر رہے ہیں۔ اس ناکامی کا ذمہ دار امریکی ریاست اور تھینک ٹینک کے چند افراد پاکستان کو ٹھہرا رہے ہیں۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان نے امریکی اتحادی ہونے کے باوجود افغانستان میں امریکا کا پورے دل سے ساتھ نہیں دیا۔ اس کی وجوہات پر انگنت تبصرے لکھے گۓ ہیں اور میں انہیں نہیں دہراؤں گا۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اور اس کی عسکری قیادت واقعی ۱۰۰،۰۰۰ امریکی افواج اور ایک کھرب ڈالر کے آڑے آگۓ؟ اور اگر یہ بات درست ہے تو امریکا کو کیا کرنا چاہئے؟

جن لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ پاکستان تمام مسائل کی جڑ ہے، ان میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی بھی شامل ہیں۔ ہڈسن انسٹیٹیوٹ اور ہیریٹیج فاؤنڈیشن کی شائع کردہ حالیہ رپورٹ میں ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنے مقاصد کے حصول کیلئے دہشت گرد تنظیموں کو استعمال کرتا آ رہا ہے۔ ان کا امریکی قیادت کو یہ مشورہ ہے کہ امریکا پاکستان کو اس پالیسی پر سزا دے، اس پر دباؤ ڈالے، عسکری اور معاشی امداد روکے، اور پاکستان اگر پھر بھی باز نہ آئے تو اسے دہشت گرد ملک قرار دیا جائے اور عسکری اور معاشی پابندیاں لگائی جائیں۔ ان سکالرز اور سیاستدانوں کا ماننا ہے کہ جیسے ہی پاکستان، بلخصوص اس کی عسکری قیادت کا گھیرا تنگ ہوگا، پاکستان افغانستان میں ایک مثبت کردار ادا کرے گا۔ ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ عسکری امداد کو کم کیا جائے اوریہ کہ پاکستان کی سیاسی قیادت کو معاشی امداد کے ذریعے مضبوط کرنا فائدہ مند ثابت ہوگا۔

سج تو یہ ہے کہ یہ تمام مشورے غیر حقیقی ہیں۔ پاکستان کا افغان جنگ میں مثبت یا منفی کردار امداد یا پابندیوں سے نہیں تبدیل ہوگا۔ البتہ امریکا اور پاکستان کے بگڑتے تعلقات خطے میں مزید بگاڑ پیدا کریں گے۔ ایک ایسے وقت پر جب امریکا کو ایک مستحکم اور مضبوط پاکستان کی ضرورت ہے، پابندیاں لگانے کے اشارے ہی عدم استحکام پیدا کر سکتے ہیں۔ اس عدم استحکام کا نقصان امریکا اور خطے کے تمام ممالک کو، اور فائدہ دہشت گردوں کو ہوگا۔

ان مشوروں پر عمل درآمد کرنے سے پہلے ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ معاشی اور عسکری پابندیاں عموماً ناکام ہوتی ہیں۔ ایران، شمالی کوریا، اور روس پر لگائی گئی پابندیاں اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ امریکا کی لگائی جانے والی پابندیوں کا سب سے بڑا شکار پاکستان کی فوج نہیں، پاکستان کی جمہوریت اور سیاستدان ہوں گے۔

 واشنگٹن میں قائم سکالرز اور پالیسی میکرز کو مشورے دیتے ہوئے اور پالیسی بناتے ہوئے حقائق کو سامنے رکھنا چاہئے۔ انہیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ افغانستان میں پاکستان کے علاوہ بھی کئی بڑے مسائل ہیں جنہیں دور کر کے امن قائم کیا جاسکتا ہے۔ آخر افغان حکومت کی کرپشن، وہاں کے بگڑتے سیاسی حالات، اور امریکا کی ناکام عسکری اور سیاسی حکمت عملی نے حالات بگاڑنے میں پاکستان سے کہیں بڑا اور نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ ان تمام ناکامیوں کے باوجود پاکستان کو اکیلا یا سب سے بڑا قصوروار ٹھہرانا امریکی عوام اور دنیا کی آنکھوں میں دھول جھوںکنے کے مترادف ہے۔

مشورہ دینے والوں کو پہلے غور سے سوچنا چاہئے۔ کہئں ایسا نہ ہو کہ یہ مشورے حالات کو اور بگاڑ دیں اور امریکا اگلی کئی دہائوں تک ان مشوروں کی بھاری قیمت ادا کرتا رہے۔

***

Image 1: Gage Skidmore, Flickr

Posted in , Afghanistan, Pakistan, Policy, Security, United States

Uzair Younus

Uzair Younus is a nonresident senior fellow at the South Asia Center and works full-time at Dhamiri, an innovation firm helping companies align their business competencies with public good needs. Prior to joining Dhamiri, Uzair was a Director at Albright Stonebridge Group, where he focused on developing and executing advocacy strategies for companies and non-profits operating in South Asia. Uzair regularly publishes articles on South Asian politics and economic issues for Dawn, and has been featured on Bloomberg, CNN, and CNBC. He earned his M.A. in Law and Diplomacy with a concentration in Economic Policy and South Asia from The Fletcher School of Law and Diplomacy at Tufts University.

Read more


Continue Reading


Stay informed Sign up to our newsletter below





Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *