,

پاک بھارت جوہری مقابلے کا مستقبل

Indo-Pak crises

پاکستان اور بھارت کو جوہری طاقت بنے رواں ماہ ۲۲ برس مکمل ہوگئے ہیں۔ یہ ۲۲ برس دونوں ممالک کے مابین متعدد بحرانوں کے گواہ بنے، جن میں سے ہر بحران کم از کم تھوڑی بہت جوہری بازگشت کا سبب بنا۔ گزشتہ برس بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ۵ اگست،۲۰۱۹ کو آرٹیکل ۳۷۰ اور ۳۵ اے کی منسوخی کے ذریعے بھارتی زیر انتظام جموں و کشمیر کی نیم خود مختار حیثیت ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے نے نئی دہلی اور اسلام آباد کو مستقل تناؤ کی شاہراہ پر آمنے سامنے لاکھڑا کیا ہے۔ بھارتی زیر انتظام جموں و کشمیر میں تقریباً ۳۰۰ روز گزر جانے کے باوجود بھی کشمیری پابندیوں کا شکار ہیں، اور لائن آف کنٹرول پر مسلسل فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔

 پاکستان اور بھارت کے مابین تازہ ترین بحران، پلوامہ بالاکوٹ تنازعے نے دونوں ممالک کے مابین جوہری اشتعال انگیزی کی نمو پذیر کیفیت کو عیاں کیا ہے۔ بھارت کو یقین تھا کہ بین الاقوامی سرحد کے پار حملہ پاکستانی عزائم کا امتحان ہوگا جس سے اس کا جوہری فریب کھل جائے گا۔  بھارت نے تاہم، جس مفروضے کی بنیاد پر بالاکوٹ حملے کا منصوبہ بنایا، اس میں خامیاں تھیں اور یہ منصوبہ  مندرجہ دو حقائق کو سمجھنے میں غلطی کا نتیجہ تھا: بھارتی زیر انتظام کشمیر میں جاری شورش  کی بدلتی اور بڑھتی ہوئی مقامی حیثیت،اور فل سپیکٹرم ڈیٹرنس پالیسی کے تحت پاکستان کے ردعمل کو جانچنے میں غلطی۔  پلوامہ بالاکوٹ بحران میں پاکستان کی جانب سے اپنی حیثیت منوانے اور عزم کے عملی مظاہرے سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دوسری غلط فہمی دور ہوگئی ہے جو مستقبل میں ڈیٹرنس کو بھی مضبوط کرے گی۔ البتہ بھارت کی جانب سے کشمیر کی تحریک آزادی کے بدلتے حقائق کے ادراک میں کمی بہرحال ایک ایسا مسئلہ ہے جو آنے والے برسوں میں بھی پاک بھارت بحران کے جاری رہنے کی علامت ہوسکتا ہے۔ اور جس کا نتیجہ ایک ایسے تنازعے کی صورت میں ہوسکتا ہے جس میں دونوں فریق خطرات مول لینےاور اپنے بلند عزائم کے اظہار کی خواہش کے ساتھ اشتعال انگیزی کے سفر پر گامزن ہوں۔

کشمیر میں جاری شورش کی بدلتی نوعیت

بھارتی زیرانتظام کشمیر میں ۱۴ فروری ۲۰۱۹ کو پلوامہ قصبے میں کشمیری عادل احمد ڈار نے بھارتی سینٹرل ریزرو فورس کے قافلے پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں ۴۰ جوان مارے گئے۔ حملہ کی ذمہ داری جیش محمد نے قبول کی۔ تحقیقات کے بعد پاکستان نے حملے میں شمولیت کے بھارتی دعوے کو مسترد کردیا۔ کچھ ماہ بعد اقوام متحدہ نے جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کے حملے سے تعلق کو رد کیا لیکن انہیں عالمی دہشت گرد قرار دے دیا۔ تاہم سوشل میڈیا پر خود جیش محمد کی جانب سے اعتراف کے سبب اس حملے سے انکے تعلق کو رد نہیں کیا جاسکتا۔ اظہرقبل ازیں ۱۹۹۹ میں، بھارتی اغوا شدہ طیارے کی فلائٹ ۸۱۴ کے مسافروں کے بدلے میں بھارتی قید سے رہا کئے گئے تھے۔ قابل غور امر یہ ہے: جیش محمد جیسے گروہ جموں و کشمیر میں کیونکر جگہ پاتے ہیں اور یہ نوجوان کشمیریوں کو بھرتی کرنے میں کیسے کامیاب ہوجاتے ہیں؟ بھارت آخر کب تک اپنے زیر انتظام جموں و کشمیر میں انتظامی کمزوریوں سے آنکھیں بند رکھے گا اور پاکستان کو ”سزا  دینے“ میں راہ فرار ڈھونڈے گا؟

وقت کے ساتھ بدلتی کشمیر میں جاری شورش کی نوعیت کو سمجھنے کیلئے ضروری ہے کہ کشمیر بطور علامت اور کشمیر بطور تزویرات میں فرق کو سمجھا جائے۔ ۱۹۹۰ کی دہائی سے لے کر ۲۰۱۶ میں برہان وانی کی موت تک، علامتی و تزویراتی کشمیر دو علیحدہ علیحدہ وجود تھے۔ علامتی کشمیرایک ”ایسا مقام ہے جہاں قومی و ذیلی شناخت کے حامل متعدد گروہ ایک دوسرے کیخلاف صف بستہ ہیں۔ یہ تنازعہ شناخت، تصور اور تاریخ کے ٹکراؤ کے بارے میں بھی اسی قدر ہے جس قدر کہ یہ خطے، وسائل اور اس کے باسیوں سے متعلق  ہے۔“ اسکے برعکس تزویراتی کشمیر میں ”سرحد کے دونوں پار موجود فوجی اسٹیبلشمنٹ اس امر پر مصر ہیں کہ کشمیر انکے ملک کے عملی دفاع کیلئے انتہائی اہم ہے۔“

۸۰ کی دہائی کے اواخر اور ۹۰ کی دہائی کے آغاز میں وادی کشمیر میں مسلح شورش کی ابتدا میں، بھارتی تسلط کو چیلنج کرنے کے ذریعے پاکستان کو موقع ملا کہ وہ کشمیر میں جاری سٹیٹس کو کی حیثیت کو تبدیل کرے۔ اگرچہ پاکستان کشمیریوں کی مالی معاونت، اسلحے کی فراہمی اور کشمیریوں کو تربیت دینے سے انکاری رہا ہے تاہم محققین نے مشاہدہ کیا ہے کہ ”شورش کی گہری ترین جڑیں بھارتی داخلی امور میں جانکلتی ہیں؛ عسکریت پسندوں کیلئے  پاکستانی حمایت ایک اہم تاہم ثانوی عنصر کے طور پر دیکھی گئی ہے۔“ بعض دیگر محققین  کی رائے میں ”کشمیری نوجوانوں میں اس وقت مایوسی اور بنیاد پرست نظریات کیلئے آمادگی بڑھتی ہے جب تعلیم اور معاشرے کے حوالے سے انکے خوابوں کی راہ میں رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں اور معاشی و سیاسی خودمختاری کی راہیں مسدود کی جاتی ہیں۔“ 

برہان وانی کی موت نے دونوں کشمیروں کے درمیان فرق کی لکیر دھندلی کردی۔ ۱۹۹۴ میں شورش کے دور عروج میں جنم لینے والے وانی دور جدید کے ذرائع ابلاغ کو استعمال میں لاتے ہوئے آزادی کی دم توڑتی خواہش کو کشمیری انتفادہ میں تبدیل کرنے میں اہم کردار رکھتے تھے۔ ان کی موت نے مزاحمت کو ایک نئے مقام تک پہنچا دیا ہے جو کہ زیادہ ہمہ جہت، طاقتور اور مقامی ہے۔ حتیٰ کہ غالباً پاکستان بھی اس رونما ہوتی تبدیلی سے پوری طرح باخبر نہیں جس کے تحت  بھارتیوں سے نفرت اور آر ایس ایس-بی جے پی گٹھ جوڑ سے نمو پانے والی اس مقامی تحریک کو آنے والے برسوں میں پاکستان کی جانب سے مالی یا اخلاقی مدد کی ضرورت بھی باقی نہ رہے۔  ان پہلوؤں کو نہ سمجھے جانے کی صورت میں علامتی و تزویراتی کشمیر ایک ایسے تصادم کی جانب بڑھ رہے ہیں جو پاکستان اور بھارت کے مابین جوہری دشمنی کو ترتیب دے سکتا ہے۔

عملی میدان میں تبدیل ہوتے ان حقائق کی وجہ سے مستقبل میں جموں و کشمیر میں بھارت کی جانب سے غیر روایتی جنگی جوابی کارروائیاں مشکل ہوسکتی ہیں۔ بڑھتے ہوئے غم و غصے اور بھارتی سیکیورٹی فورسز کیخلاف کارروائیوں سے مامور کشمیر میں جڑ پکڑتی یہ تحریک اشتعال انگیزی کیلئے پاکستان کو مورد الزام ٹھہرانے کی بھارتی کوششوں کو مشکل بنا سکتی ہے۔

پاکستانی صلاحیت، عزائم اور تھریش ہولڈ کو سمجھنے میں غلطی

اس نئی حقیقت کے دوسرے حصے کا تعلق پاکستان کی جانب سے جوابی کارروائی سے متعلق ابہام ختم کردینے اور قدرے کم جوہری تھریش ہولڈ سے ہے۔ پاکستان کے پہلے ڈائریکٹر جنرل برائے سٹریٹجک پلان ڈویژن لیفٹیننٹ جنرل خالد قدوائی نے ۲۰۰۲ میں ایک انٹرویو کے دوران چار سرخ لکیریں بیان کی تھیں، جنہیں پار کرنے کی صورت میں پاکستان جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی جانب جاسکتا ہے۔ ۲۰۰۲ سے ہی ان چاروں تھریش ہولڈز میں موجود ابہام نے بھارت کو یہ اطمینان دیئے رکھا کہ جب تک ان چارسرخ لکیروں کو پارنہیں کیا جاتا وہ پاکستان کو دباؤ میں لاسکتا ہے۔

بھارت کی جانب سے پاکستان کیخلاف پہلی مرتبہ دباؤ ۲۰۱۶ میں اڑی حملے کے بعد آیا۔ جنگجوؤں کی جانب سے ۱۲ویں انفنٹری برگیڈ پر ۱۸ ستمبر کو حملے اور نتیجتاً ۱۷ بھارتی جوانوں کے مارے جانے کے بعد بھارت نے پاکستان پر الزام عائد کیا، جسے پاکستان نے مسترد کردیا۔ اس کے بعد بھارت نے ایل او سی کے پار سرجیکل سٹرائکس کیں۔ پاکستان نے تاہم ان حملوں کی تصدیق سے انکار کیا، لہذا جوابی کارروائی کا کوئی دعویٰ بھی نہیں کیا گیا۔ یہ امر آج بھی صیغہ راز ہے کہ ان حملوں سے کیا حاصل کیا گیا۔

اڑی حملے کے بعد پاکستان کی جانب سے جوابی کاروائی نہ کئے جانے سے بھارت کو یہ تاثر ملا کہ بھارتی سرجیکل سٹرائیکس کی تردید جاری رکھنا، اپنے مفاد کی خاطر ساکھ بچانے کی پاکستانی حکمت عملی ہوسکتی ہے۔ اس سے بھارت کو یہ جھوٹا اعتماد بھی ملا کہ اس نے مقامی وبین الاقوامی برادری کیلئے ایک نیا پیمانہ طے کردیا ہے۔ یہ صورتحال فروری ۲۰۱۹ میں تبدیل ہوگئی۔ جیسا کہ ریٹائرڈ ایئر کموڈور قیصر طفیل نے پاکستان پالیٹیکو کیلئے اپنے مضمون میں بیان کیا ہے کہ بھارتی ایئرفورس (آئی اے ایف)  کی جانب سے ۲۶ فروری کو بالاکوٹ کے اندر ناکام حملے کے بعد پاک فضائیہ (پی اے ایف) نے نشانہ بنانے کے لائق ایسے مقامات کی فہرست تیار کی جو بھارتی ایئرفورس کے حملے کے ہم پلہ ہوسکتے تھے۔ پی اے ایف نے بھارتی زیرانتظام کشمیر کے پونچھ راجوڑی نوشہرہ سیکٹر میں بھارتی فوجی اہداف کے قرب و جوار کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا تاکہ اس کی صلاحیت و عزائم کا اظہار ہوسکے اور اصل میں بھارتی فوجی اہداف کو نشانہ بھی نہ بنایا جائے۔ پی اے ایف کے حملوں کا مقصد اشتعال انگیزی میں اضافہ نہیں تھا۔ اس حملے کے نتیجے میں ہونے والی لڑاکا طیاروں کی لڑائی میں پی اے ایف نے ایک بھارتی مگ ۲۱ بایسن کو مار گرایا اور پائلٹ گرفتار کرلیا۔ جذبہ خیرسگالی کے اظہار کے طور پر پاکستان نے بھارت کو پائلٹ واپس کردیا جس سے بحران طے پا گیا۔

 بھارت کو پاکستان پر حاصل روایتی برتری کو دیکھتے ہوئے جوابی کارروائی کے ذریعے اپنے عزائم کا اظہار اسلام آباد کیلئے بذات خود ایک تزویراتی مقصد تھا۔ پاکستان کی جانب سے اپنی صلاحیتوں کا اظہار اور روایتی حملوں کے ذریعے ردعمل سے دونوں جوہری فریقوں کے مابین ڈیٹرنس بحال ہوگیا۔ اس کا مظہر یہ امر ہے کہ اشتعال انگیزی کا اگلا دور نہیں شروع ہوا۔ وہ امر جس سے بحران کو ختم کرنے میں مدد ملی اور جسے ناکافی توجہ ملی ہے، وہ پاکستان کی منطق پر مبنی فیصلہ سازی تھی۔ اس کا مظہر بھارتی پائلٹ کی فوری رہائی اور ایل او سی کے اطراف اہداف کا محتاط طریقے سے انتخاب تھا۔

پاکستانی جوہری ردعمل کے حوالے سے ممکنات کے ضمن میں ۲۰۰۲ میں بیان کی گئی سرخ لکیریں اب مزید نشان راہ نہیں رہی ہیں۔ جیسا کہ جنرل قدوائی نے حال ہی میں کہا ہے کہ مستقبل میں کسی بھی حملے کے ردعمل کیلئے کوئڈ پرو کو پلس ہی نئی پالیسی ہوگی جہاں ”پلس“ سے مراد ”وہ خطرہ ہے جو کچھ چیزوں کو حالات کی صوابدید پر چھوڑ دے۔“ یہ پاکستان کی تزویراتی ڈاکٹرائن کی سوچ میں آنے والی تبدیلی کا واضح اشارہ ہے۔

مستقبل میں پاک بھارت جوہری مقابلہ: ڈیٹرنس کو حاصل شدہ فوائد

پلوامہ بالاکوٹ بحران سے درست سبق سیکھنا بے حد اہم ہے۔ درحقیقت مستقبل میں پاک بھارت جوہری مسابقت کیا رنگ اختیار کرسکتی ہے، اس بارے میں اس بحران میں اہم مضمرات موجود ہیں۔

وپن نارنگ نے دلیل دی ہے کہ ”فی الوقت جنوبی ایشیا میں غالب بیانیہ یہ ہے کہ اشتعال انگیزی آسان ہے اور اسے قابو میں رکھنا بھی آسان ہے۔ ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں فریقوں کو یقین ہے کہ وہ اہم چالیں چل سکتے ہیں اور بنا کوئی نقصان اٹھائے صورتحال سے باہر نکل سکتے ہیں۔ پلوامہ اور اس کے نتائج سے لیا گیا یہ غلط سبق خطرناک ہے۔“  یہ صورتحال کی ضرورت سے زیادہ سادہ تشریح ہے۔  بحران میں کسی ایک بھی فریق نے کسی مرحلے پر یہ یقین نہیں کیا کہ اشتعال انگیزی آسان اور قابو پانے کے قابل ہے۔ پاکستان کی جانب سے اپنی صلاحیت اور عزائم کا اظہار عقلیت پر مبنی اور جمع تفریق کے بعد کیا گیا تھا۔ اس امر کی تعریف کی جانی چاہئے کہ اسلام آباد نے  بھارتی حملے کے ردعمل میں اہداف کے چناؤ و حملے کے طریقے کار اور پائلٹ کی رہائی کے ذریعے سے بحران کو ٹالنے میں مدد دی۔ غالباً پاکستانی ردعمل روایات کے برعکس اور ان پیشنگوئیوں سے یکسر مختلف تھا جن کے مطابق روایتی طور پر کم حیثیت، جوہری ہتھیاروں سے لیس ریاست کسی تنازعے کو جوہری سطح پر قدرے جلدی لے جائے گی، یہی وجہ ہے کہ مفکرین کیلئے پاکستان کو اس کا سہرا دینا مشکل ہورہا ہے۔

ایسی صورت میں پلوامہ بالاکوٹ بحران سے حاصل شدہ مثبت کلیدی نکات کی جانب اشارہ کیا جاسکتا ہے۔

دوران بحران پاکستان کی جانب سے صلاحیت اور عزائم کے ابلاغ اور بھارت کا اس سے باخبر ہونا جنوبی ایشیا میں ڈیٹرنس کی مضبوطی کا سبب ہوسکتا ہے۔ یہ مرکزی نوعیت کا نکتہ ہے کیونکہ بحران کے دوران غیر جوہری سطح پر باہمی کمزوریاں عیاں ہوچکی ہیں۔ اس قسم کے حالات دفاعی پوزیشن پر موجود ریاست کو بحران کی ابتدائی سطح پر ہی اس کو وسیع کرنے اور شدت میں اضافے کیلئے دباؤ میں لاتے ہیں۔

اسی طرح  بھارت کی جانب سے پاکستان پر دباؤ بڑھانے کیلئے اپنی بری و فضائی سپاہ کے ہم قدم بحری جوہری اثاثوں کی فوری تنصیب، پاکستان کیلئے اہم اطلاع ہے جو بھارتی صلاحیتوں اور اسکے عزائم کے حوالے سے پاکستانی تخمینوں کو تبدیل کرے گی۔ اس صورت میں بھی یہ ڈیٹرنس کیلئے کامیابی ہے۔

اس امر کا تذکرہ بھی اہم ہوگا کہ جوہری ہتھیاروں کی شمولیت کے بعد، طاقت کے توازن کے بجائے عزائم کا توازن ہی اب وہ عنصر ہے جس کی اہمیت  باقی رہ جاتی ہے۔ بھارت اور پاکستان دونوں ادراک رکھتے ہیں کہ اشتعال انگیزی ممکن ہوسکتی ہے، خواہ دونوں میں سے کوئی بھی فریق اس کا خواہاں نہ ہو۔ اصولی طور پر دیکھا جائے تو ہر بحران میں کارفرما دکھائی دینے والی اس غیر یقینی کیفیت کا ادراک نیز عزائم کا موجودہ توازن ہی وہ عناصر ہیں جنہیں مستقبل کے بحران میں توازن پیدا کرنے والی قوت کے طور پر کردار ادا کرنا چاہئے۔

مستقبل میں، بھارت اور پاکستان دونوں کو یہ یقین ہونا چاہئے کہ فریق مخالف، روایتی وجوہری توازن کو نظرانداز کرتے ہوئے، اپنے تزویراتی مفادات کے دفاع کیلئے اشتعال انگیزی کا خطرہ مول لینا چاہتا ہے۔ کشمیر دونوں ممالک کے تزویراتی مفادات میں سے ایک ہے۔ اگلے بحران کا دارومدار اس امر پر ہوگا کہ کس طرح دونوں ممالک بلند پایہ عزائم اور خطرات کے اظہار کے ذریعے جوہری جنگ کے خطرے کو اپنے تزویراتی فوائد کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ یہی عزائم و خطرات ہی بحران کا نتیجہ طے کریں گے۔ داؤ پر لگے عوامل اور انہی سے جڑے وعدوں کی صورت موجود شکنجوں کو دیکھتے ہوئے امید ہے کہ شائد جوہری جنگ کے خطرے کو اپنے فائدے کیلئے استعمال کرنا زیادہ مشکل نہ ہو۔ بقول رابرٹ جرویس، ”اس  جانب معمولی سا اشارہ بھی کہ اشتعال انگیزی جوہری جنگ تک لے جاسکتی ہے، انتہائی جوشیلے دشمن کیخلاف ڈیٹرنس بحال کرنے کیلئے کافی ہے۔“ جہاں اس حوالے سے تشویش موجود ہے کہ پاکستان اور بھارت دونوں محفوظ طریقے سے اشتعال انگیزی کے ادوار چھیڑنے کے حوالے سے پراعتماد ہوسکتے ہیں، وہیں یہ خدشہ کہ فریق مخالف چھیڑ خانی کرسکتا ہے بذات خود اشتعال انگیزی کیخلاف ایک ڈیٹرنس ہے۔

***

Click here to read this article in English.

Image 1: Jack Zallium, Flickr

Image 2: Government of Pakistan

Posted in , , Deterrence, India, India-Pakistan Relations, Kashmir, LoC, Nuclear, Nuclear Weapons, Pakistan, Security

Rabia Akhtar

Rabia Akhtar

Rabia Akhtar is Director, Centre for Security, Strategy and Policy Research and heads the School of Integrated Social Sciences at the University of Lahore, Pakistan. She is a member of the Prime Minister’s Advisory Council on Foreign Affairs. She is also a Nonresident Senior Fellow at the Atlantic Council South Asia Center. Dr. Akhtar holds a PhD in Security Studies from Kansas State University. She has written extensively on South Asian nuclear security and deterrence dynamics. She is the author of the book ‘The Blind Eye: U.S. Non-proliferation Policy Towards Pakistan from Ford to Clinton’. Dr. Akhtar is also the Editor of Pakistan Politico, Pakistan’s first strategic and foreign affairs magazine. She received her Masters in International Relations from Quaid-i-Azam University, Islamabad and her Masters in Political Science from Eastern Illinois University, USA. She is also a Fulbright alumna (2010-2015).

Read more


Continue Reading


Stay informed Sign up to our newsletter below





Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *