India-Pakistan-Cricket

میری نسل کے کرکٹ شائقین جنہوں نے نئی صدی کی ابتدا کے بعد ہوش سنبھالا، جب پیچھے مڑ کے پاک بھارت کرکٹ رقابت کو دیکھتے ہیں تو انہیں کچھ بھی دکھائی نہیں دیتا ہے: تیرہ برس میں محض ایک دوطرفہ سیریز اور ٹورنامنٹس کے کچھ میچز۔ دوطرفہ تعلقات میں جاری تناؤ اور اعتماد کے فقدان کے باوجود تین پیش رفتیں ایسی ہیں جو پاک بھارت کرکٹ بحالی میں کامیابی کے امکانات کو بڑھا دیتی ہیں۔

ان میں سرفہرست نئی ٹیسٹ چیمپیئن شپ اور سپرلیگ ہیں جو کرکٹ کو پہنچنے والے ان بیرونی دھچکوں کیخلاف  دور رس اثرات کا حامل میکنزم فراہم کرتی ہیں جو بحالی امن کے لیے  وقفے وقفے سے کی گئی کوششوں میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ دوئم دونوں ممالک حالیہ برسوں کے سب سے نمایاں بحالی اعتماد کے قدم (سی بی ایم) پر عمل پیرا ہیں جوکرکٹ کے میدان میں نہیں  بلکہ کشمیر میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر فروری ۲۰۲۱ سے سیزفائر کی شکل میں جاری ہے۔ سوئم، رمیز راجہ کی پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے سربراہ کے طور پر حالیہ تعیناتی جو کہ پاک بھارت کرکٹ کی حمایت کے انکے سابقہ ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے حالات کے معمول پر آنے کے امکانات کو بڑھا دیتی ہے۔

پاکستان بھارت کے ہمراہ کرکٹ کی بحالی چاہتا ہے کیونکہ پی سی بی کے لیے اس کی بڑی معاشی قیمت ہوگی جو کہ بقول رمیز راجہ کے مضبوط ”کرکٹ معیشت“ تخلیق کرنے میں مشکلات کا شکار ہے۔ اس کے برخلاف بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا (بی سی سی آئی) انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) سے ہونے والی بیش بہا قیمت کے علاوہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے ریونیوز میں بھی سب سے بڑا حصے دار ہے۔ تاہم کرکٹ کے دوبارہ آغاز سے جڑے عوامل میں سب سے اہم معاشی نوعیت کا نہیں ہے۔ اس کی نوعیت سیاسی ہے۔ ۲۰۰۸ کے ممبئی دہشت گرد حملوں کے بعد پاک بھارت کرکٹ تعلقات کی معطلی کے بعد سے یہ کھیل سیاسی تعلقات میں مزید جکڑچکا ہے۔  بھارتی رہنما دہشت گردی یا پاکستان پر ”کمزور“ دکھائی دینے سے خوفزدہ ہیں، جو بھارت میں بحالی کرکٹ کے لیے عزم میں نمایاں کمی کا باعث بنتا ہے۔ کرکٹ اگرچہ فی الحال تقسیم پر مزید تیل چھڑکنے کا کام کررہا ہے  تاہم پاکستانی اور بھارتی قوم کے درمیان ایک منفرد اور دیرپا تعلق قائم کرنے میں اس کا کردار اسے سول سوسائٹی میں عوام کے عوام سے رابطے کے لیے ایک طاقت ور ہتھیار بھی بناتا ہے۔

میدان میں اجنبی

پاک بھارت کرکٹ کی تاریخ  اتار چڑھاوٴ کا شکار رہی ہے، اور اس  میں تازہ ترین رکاوٹ ۲۰۰۸ کے ممبئی دہشت گرد حملوں کے بعد واقع ہوئی۔ یہ حملے پاکستان میں موجود بھارت مخالف عسکری گروہ لشکر طیبہ نے آئی پی ایل کے پہلے دو ایڈیشنز کے درمیانی وقفے میں کیے تھے۔ حملے سے کچھ مہینوں پہلے آئی پی ایل کے افتتاحی ایڈیشن میں پاکستانی بولر سہیل تنویر سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے بولر تھے۔ لیکن آئندہ برس کی نیلامی میں کسی ٹیم نے بھی ان کے لیے بولی نہیں لگائی اور اسی طرح پاکستان کے دیگر ۱۱ کھلاڑیوں میں سے بھی کسی کے لیے بولی نہیں لگائی گئی۔ ٹیم مالکان کا کہنا تھا کہ وہ نہیں جانتے ہیں کہ آیا بھارتی حکومت پاکستانی کھلاڑیوں کو ویزے جاری کرے گی یا نہیں۔

اس کے بعد بھارت نے ۲۰۰۹ میں پاکستان کا ایک دورہ منسوخ کیا جس سے یہ واضح ہوگیا کہ پاکستان کو تنہا کرنے کی پالیسی سفارتی میدانوں سے نکل کے کرکٹ کے میدان میں داخل ہوچکی ہے۔ اس کے بعد سے  بھارت نے پاکستان کے خلاف کھیلنے سے اصولی طور پر انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ دہشت گردی اور کرکٹ ایک ساتھ نہیں چل سکتے ہیں ماسوائے بین الاقوامی ٹورنامنٹس کے، جہاں  پوائنٹس بلاشبہ اصولوں سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔

پاکستان نے بھارت کے ہمراہ کرکٹ کی بحالی پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ ۲۰۱۴ میں امید کی ایک کرن اس وقت پیدا ہوئی تھی جب پی سی بی اور بی سی سی آئی نے دوطرفہ کرکٹ کی بحالی کے لیے ایک یادداشت پر دستخط  کیے۔ تاہم بھارتی حکومت نے اپنے کھلاڑیوں کو  پاکستان کیخلاف کھیلنے کی اجازت سے انکار کردیا اور وہ برف جس کے پگھلنے کی کرکٹ شائقین امید کررہے تھے، کبھی بھی عملی روپ نہ دھار سکی۔ گزشتہ دہائی کے دوران بھارت میں کرکٹ اور سیاست میں تفریق کیلئے بالکل بھی آمادگی دکھائی نہیں دی جس کے بعد پاکستان کو تنہا کرنے پر مبنی موقف میں اضافہ ہوتا گیا۔ پاکستان، کرکٹ اور دہشتگردی کا ایک دوسرے میں باہم پیوست ہونا نہ صرف وقت کا کڑا امتحان ثابت ہوا ہے بلکہ ایک ایسی بحث کا روپ دھار چکا ہے جو نہ صرف قومی دھارے کے ذرائع ابلاغ بلکہ سوشل میڈیا پر بھی خصوصاً کرکٹ سے وابستہ حلقوں میں بارہا ابھرتی رہتی ہے۔

۲۰۱۹ کے پلوامہ حملوں کے بعد بھارت کے موجودہ اور سابقہ کھلاڑیوں جن میں ہربھجن سنگھ، گوتم گھمبیر اور یوزیندرا چاہل شامل ہیں، انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ بھارت، آنے والے ورلڈ کپ میچ میں پاکستان کیخلاف میچ کا بائیکاٹ کرے (اگرچہ  سچن ٹنڈولکر اور سنیل گواسکر جیسے مشہور ترین کھلاڑی جنہوں نے گزشتہ دہائیوں میں پاکستان کیخلاف بے تحاشہ کرکٹ کھیلی ہے، اس بائیکاٹ کی حمایت نہیں کی)۔ میچ کھیلا گیا اور بھارت جیت گیا۔ بعد ازاں بی جے پی کے وزیر داخلہ امیت شاہ نے بھارت کی فتح کو ”پاکستان پر ایک اور حملہ“ قرار دیا۔ ملکی سطح کے سیاستدانوں سے تو اس قسم کی جنونی وطن پرستی کی توقع کی جاسکتی ہے لیکن کرکٹرز کی جانب سے  بذریعہ دباؤ یا جذباتیت کھلے عام بائیکاٹ کی حمایت یہ ظاہر کرتا ہے کہ حکومت کی جانب سے قوم پرستی پر مبنی رویہ بھارت میں کرکٹ کے میدان میں کس حد تک سرایت کرچکا ہے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان کوئی بھی کرکٹ میچ سیاست یا قوم پرستی سے مکمل طور پر محفوظ نہیں رہا ہے۔ دونوں ملکوں کی جانب سے فخریہ سینہ پھلائے نعرے بازی اور قوم پرستی کا زہر کھیل کے میدان میں اور باہر بحث کا حصہ بن جاتا ہے۔ تاہم سیاست کے برخلاف کھیل عوام کو ہار، جیت کی شکل میں اپنے جذباتی غبار کو نکالنے کا موقع دیتا ہے۔ شائد یہی وجہ ہے کہ  پاکستان اور بھارت کے درمیان کچھ مخصوص کرکٹ میچوں نے پاکستان اور بھارت کو ایک تناؤ کے حامل جغرافیائی سیاسی ماحول میں سفارتی اعتبار سے ایک دوسرے کے قریب آنے کا موقع دیا ہے۔ مرحلہ وار ٹائم لائن، مقامی سطح پر اعتماد کی بنیاد پر پیش رفت اور کرکٹ سے متعلقہ سی بی ایمز کے  ذریعے پاکستان اور بھارت ایک بار پھر کرکٹ کے تعلقات کو  معمول پر لاسکتے ہیں۔

کرکٹ سی بی ایمز کی جانب سفر

دونوں ممالک اگرچہ وقفے وقفے سے سی بی ایمز کا نفاذ کرتے رہے ہیں لیکن بیرونی جھٹکے بہت سے اقدامات کے انجام تک پہنچنے سے قبل ہی انکے خاتمے کا سبب بنے ہیں۔ ایسے میں کرکٹ روشنی کی واحد کرن بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ آئی سی سی نے حال ہی میں دو ٹورنامنٹس کا اعلان کیا ہے: ٹیسٹ چیمپیئن شپ اور ورلڈ کپ سپر لیگ۔ یہ نئے اقدامات، ٹورنامنٹ کی طرز پر تین برس کے دوران کھیلی جانے والی تمام دو طرفہ سیریز کے میچوں کا مجموعہ ہیں جس میں ہر میچ کے کچھ پوائنٹس ہیں۔

۲۰۲۳ میں یہ ٹورنامنٹ دوبارہ شروع ہوگا۔  اگر بھارت اور پاکستان اس وقت تک کرکٹ تعلقات بحال کرلیتے ہیں تو ایسے میں یہ ٹورنامنٹ آنے والے برسوں میں پاک بھارت بلا تعطل کرکٹ  کے لیے ایک نظام فراہم کرے گا۔ دوطرفہ میچ جنہیں باآسانی منسوخ بھی کیا جاسکتا ہے، اس  کے مقابلے میں ان  ٹورنامنٹس کے ذریعے میچزکا انعقاد، کرکٹ سے متعلقہ  سی بی ایمز کو تعلقات کے اس پریشان کن اتار چڑھاؤ کیخلاف تحفظ دے گا جو دونوں ممالک کو ورثے میں ملا ہے۔  میچوں کی منسوخی ٹورنامنٹ میں کامیابی کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے کیونکہ ٹیم اہم پوائنٹس  سے ہاتھ کھڑے کردیتی ہے۔

اسی دوران پاکستان اور بھارت  آسان ترین اہداف پر توجہ دے سکتے ہیں۔ دونوں حکومتیں آئی پی ایل اور پاکستان سپرلیگ (پی ایس ایل) کی مقامی ٹیلی ویژین سے نشریات پر پابندی کے خاتمے پر غور کرسکتی ہیں۔ آئی سی سی پاکستانی مبصرین کو بھارتی کرکٹ میچوں پر تبصرے کے لیے طلب کرسکتی ہے اور اسی طرح بھارتی مبصرین کو پاکستانی میچوں کے لیے طلب کرسکتی ہے اور حتیٰ کہ  تبصرے کا یہ دائرہ کار سرحد پار تک وسیع کرتے ہوئے آئی پی ایل اور پی ایس ایل تک بڑھاسکتی ہے۔  چونکہ کرکٹ دونوں ملکوں میں محبوب کھیل ہے  ایسے میں یہ انتہائی اہم ہے کہ ممکنہ روابط کے کسی ذریعے کو نظراندازنہ کیا جائے۔ ۲۰۱۷ میں بھارت نے پاکستان کی نابینا کرکٹ ٹیم کو ویزے جاری کیے تھے۔ نیز یہ کہ توجہ کا مرکز اگرچہ مردوں کی قومی ٹیم رہتی ہے (جس میں یہ مضمون بھی شامل ہے)، خواتین کے کھیل کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے خواتین کی پہلی سیریز کے انعقاد کے بارے میں بھی سوچا جانا چاہیے۔ 

قومی سطح پر اعتمادسازی کے اقدامات بھی تعلقات کو جلد معمول پر لانے میں مدد دے سکتے ہیں۔ فروری ۲۰۲۱ کا سیزفائر کامیاب ترین سی بی ایم ہے جس پر فی الوقت دونوں ممالک عمل پیرا ہیں۔ کیا ایل او سی پر کرکٹ تعلقات کو معمول پر لانے کے عمل میں کردار ادا کرسکتی  ہے؟  شائد۔ شدید مثبت سوچ رکھنے والے افراد بھی شائد کشمیر میں ایل اوسی پر پاکستانی اور بھارتی سپاہیوں کو ہتھیار زمین پر رکھے کرکٹ کھیلتے دیکھنے کا تصور کرنے میں دقت محسوس کریں۔ تاہم شنگھائی تعاون تنظیم کی جانب سے ۲۰۱۸ میں منعقدہ مشترکہ عسکری مشقوں کے غیرجارحانہ ماحول میں  پاکستانی اور بھارتی سپاہی بالی ووڈ کی موسیقی پر ایک ساتھ ناچتے دیکھے گئے تھے۔ تاہم سیزفائر ہو یا نا ہو، روس میں ہونے والی دوستانہ عسکری مشقوں کی نسبت ایل اوسی پر زیادہ جارحیت رہتی ہے۔ لیکن تمام تر مشکلات کے باوجود ایل او سی پر جوانوں کے درمیان منظم طور پر طے شدہ، مربوط اور غیررسمی کرکٹ میچ ایک طاقتور علامت ہوگا اور ممکنہ طور پر کرکٹ تعلقات کی معمول پر واپسی میں ایک اہم سرگرمی کا محرک بن سکے۔

اگر بھارت کرکٹ کی بحالی پر آمادہ ہو تو اس کے پاس سرحد پارکرکٹ کے ضمن میں قابل تعاون شراکت دار موجود ہیں۔  وزیراعظم عمران  خان پاکستان کے مقبول ترین کرکٹر ہیں اور پی سی بی کے چیئرمین رمیز راجہ تقریباً بیس برس (۲۰۱۷ تک بشمول آئی پی ایل) بین الاقوامی مبصر رہے ہیں۔ خالصتاً کرکٹ کے نقطہ نگاہ سے دونوں کو اپنے کرکٹ کے دور میں بھارتیوں کی جانب سے بے پناہ سراہا گیا ہے۔

عمران خان اور رمیز راجہ دونوں اکھٹا دورہ بھارت کرچکے ہیں، بھارتی ہجوم کے سامنے کھیل چکے ہیں اور باقاعدگی سے بھارتی ذرائع ابلاغ پر آتے رہے ہیں۔ دونوں نے قبل ازیں کرکٹ کی بحالی کی حمایت کی ہے۔ رمیز راجہ نے ۲۰۰۴-۵  میں  پاک بھارت کرکٹ سیریز کے لیے کامیاب مذاکرات کیے تھے جس پر انہیں اور سیریز، دونوں کو  دو ملکوں کو قریب لانے کے اعتراف میں لوریس ایوارڈ سے نوازا  گیا تھا۔  بھارت میں کرکٹ کے مداحوں کا قریبی مشاہدہ اور دوسری جانب خود  بھارتی کرکٹ کا ان دونوں کو جاننا، سخت گیر موقف رکھنے والی ان آوازوں کو معتدل بنانے میں کردار اداکرسکتا ہے جو کرکٹ کی بحالی کی صورت میں لامحالہ اٹھیں گی۔

حالات کو معمول پر لانے کا اگر کوئی وقت معین ہے تو وہ یہی ہے

بین الاقوامی تعلقات میں، خاص کر جنوبی ایشیا میں افراد کی قوت بہت محدود ہوتی ہے۔ انتظامی ڈھانچوں میں خامیاں، جغرافیائی سیاسی جھٹکے اور ادارہ جاتی روایات  پائیدار امن کے لیے تمام تر نیک نیتی سے کام کرنے والے سیاستدانوں کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ اسی کے ساتھ ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ ایسا کبھی بھی نہیں ہوا کہ جب پاکستان میں کرکٹ کی دیرپا حکمت عملی ترتیب دینے پر مامور دو افراد، عظیم ترین کرکٹ کے کھلاڑی اور کرکٹ کی مقبول ترین آواز ہوں۔ شائقین کرکٹ پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ امید کی جاسکتی ہے کہ حکومتوں پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔

پاکستان اور بھارت نے آخری بار تقریباً تئیس برس قبل، میری پیدائش سے چند مہینے پہلے، چنائی میں ٹیسٹ میچ کھیلا تھا۔  اس میچ میں پاکستان بھارت کو معمولی فرق سے شکست دینے میں کامیاب ہوا تھا۔ جس وقت پاکستانی کھلاڑی فتح کے بعد میدان میں خوشی سے چکر لگا رہے تھے تو بھارتی مداحوں نے کھڑے ہوکے ان کا خیرمقدم کیا تھا۔  کمینٹری باکس سے ہرشا بھوگلے نے اس موقع پر افسردہ لہجے میں کہا کہ ”میں نے کھیل کے لیے اس سے زیادہ والہانہ لگاؤ کبھی نہیں دیکھا۔“ اس پیغام کی گونج آج بھی باقی ہے۔  وقت آگیا ہے کہ جب حکومتیں بھی اس جانب دھیان دیں۔

***

Click here to read this article in English.

Image 1: Gareth Copley via Getty Images

Image 2: Tom Shaw via Getty Images

Share this:  

Related articles

طالبان کو تسلیم کرنے کی سیاست Hindi & Urdu

طالبان کو تسلیم کرنے کی سیاست

اقتدار پر قبضے کے تقریباً تین ماہ اور عبوری حکومت…

خارجہ پالیسی میں غائب” صنف” Hindi & Urdu

خارجہ پالیسی میں غائب” صنف”

یہ بات تقریباً عالمی طور پر تسلیم شدہ ہے کہ…

تاریخ کے جھروکوں سے: پاکستان اور تحریک نسواں کی خارجہ پالیسی Hindi & Urdu

تاریخ کے جھروکوں سے: پاکستان اور تحریک نسواں کی خارجہ پالیسی

پاکستان نے ۲۰۲۱ میں متعدد آزمائشوں کا سامنا کیا، جن…