چینی وزارت دفاع کا وائٹ پیپر، بھارت کیلئے اہم مضمرات

 چینی وزارت برائے قومی دفاع کا جولائی کے اختتام پر شائع کردہ نیشنل ڈیفنس وائٹ پیپر (این ڈی ڈبلیو پی) چینی کمیونسٹ پارٹی کی  ۱۹ویں قومی کانگریس کے بعد سے دفاع اور سلامتی کی پالیسی پر آنے والی تازہ ترین سرکاری دستاویز ہے۔ قومی کانگریس کے بطور تکمیلی جز، یہ وائٹ پیپر ژی جن پنگ کی ”غیر متنازعہ“ قیادت میں چین کے ترقیاتی اہداف اور خارجہ پالیسی کی ترجیحات کا نقشہ بیان کرتا ہے۔ ”ایک نئے عہد میں چین کا قومی دفاع“ نامی یہ وائٹ پیپر خطروں کے بارے میں چین کے طرز فکر، اسکے فوجی ارادوں اور فوجی اخراجات کے تخمینوں کے حوالے سے عالمی برادری کو اپنا فہم بہتر بنانے کا موقع عطا کرتا ہے۔ خاص کر، یہ ۲۰۱۷ اور ۲۰۱۸ کی امریکی قومی سلامتی اور قومی دفاعی حکمت عملی پر مبنی رپورٹس، جن میں چین کی بطور امریکی تزویراتی حریف شناخت کی گئی تھی، کا بلاغت سے بھرپور جواب فراہم کرتا ہے۔

نئی دہلی کے نقطہ نگاہ سے یہ وائٹ پیپر چین کی تزویراتی سوچ اور مستقبل کے ارادوں  کے بارے میں اس آمرانہ بصیرت سے آگاہی دیتا ہے، جو آگے چل کر خود بھارتی جغرافیائی تزویراتی ماحول پر اثرانداز ہوسکتی ہے۔ اس اعتبار سے اس پیپر کے تین پہلو ہیں جو نئی دہلی کو متاثر کرسکتے ہیں۔

سب سے پہلا، خود بیجنگ کا اپنی سلامتی کے بارے میں طرز فکر ہے۔ یہ پیپر اگرچہ کثیرالقطبی عالمی نظام کے توازن اور امن قائم رکھنے کیلئے چینی عزم کے بارے میں رٹا رٹایا تبصرہ کرتا ہے تاہم ملکی مجموعی سلامتی کے بارے میں اس کی رائے منفی ہے۔ نئی منڈیوں کے ظہور اور جنگ پر امن کے غلبے کیلئے پر امید دنیا کے بارے میں توصیفی کلمات کے فوراً بعد ملک کے اندر علیحدگی پسند تحریکوں سے جڑے خطرات سے  لیکر بیرون ملک امریکہ سے بڑھتے ہوئے جغرافیائی تزویراتی اور فوجی مقابلے کا سفاکانہ تذکرہ ہے۔ بظاہرمتضاد محسوس ہونے والی یہ رائے ظاہر کرتی ہے کہ باوجود اس کے کہ چین یہ سمجھتا ہے کہ موجودہ کثیرالقطبی عالمی نظام اور بڑی طاقتوں کے درمیان کسی تنازعے کی عدم موجودگی اسکی معاشی نمو کیلئے فائدہ مند ہے تاہم وہ یہ سمجھتا ہے کہ غیر علاقائی قوتوں کی آشیرباد سے جاری علیحدگی پسند تحریکیں نیز ایشیا پیسیفک میں امریکہ سے مقابلہ اسکے عروج اور قومی سلامتی کیلئے رکاوٹ ہے۔ وائٹ پیپر کا بغور جائزہ یہ تجویز کرتا ہے کہ چین اندرون اور بیرون ملک ان رجحانات کو عدم استحکام کا باعث سمجھتا ہے اور ردعمل میں زیادہ متحرک دفاعی اور سلامتی پالیسی اپنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

بھارت کیلئے پہلا پوشیدہ پیغام یہ ہے کہ چین، نئی دہلی کی ایکٹ ایسٹ پالیسی کو بنیاد بناتے ہوئے اپنے لئے راہ عمل چنے گا۔ مودی حکومت کی جانب سے ۲۰۱۴ میں ترتیب دی گئی ایکٹ ایسٹ پالیسی کو اکثر چینی تجزیہ کار جنوب مشرقی ایشیا میں چینی حیثیت کا مقابلہ کرنے کیلئے بنائی گئی پالیسی بیان کرتے ہیں۔ لہذا،  چینی تزویراتی تحفظات کے سبب وجود میں آنے والی زیادہ ضخیم دفاعی اور سلامتی پالیسی محض دونوں ممالک کے درمیان جغرافیائی تزویراتی رسہ کشی کو شدید کرے گی ، جس سے بھارت کے قلیل سفارتی اور فوجی وسائل پر اضافی بوجھ ہوگا۔ علاوہ ازیں، علیحدگی پسند تحریکوں کو کچلنے کی وسیع پالیسی کے حصے کے طور پر بیجنگ کی جانب سے امکان ہے کہ وہ ایسے علاقوں کے معاملے میں زیادہ سخت رویہ اپنا لے جن پر اس کا بھارت کے ساتھ تنازعہ ہے، خاص کر اروناچل پردیش میں توانگ۔ بالخصوص حال ہی میں نئی دہلی کی جانب سے لداخ کو بھارتی ریاست کے طور پر شامل کرلینے کے بعد چین میں پائی جانے والی بے چینی کے پیش نظر چین آئندہ چند ماہ میں متنازعہ سرحدوں پر بارہا طاقت کی نمائش کرسکتا ہے، جس کا بھارت کی جانب سے ہوشیاری کے ساتھ فوجی اور سفارتی سطح پرتوازن قائم کرنا ضروری ہے۔

 دوسرا اہم موضوع جس پر وائٹ پیپر میں روشنی ڈالی گئی  وہ ایشیا پیسفک خطے میں چین کا دیگر طاقتوں جن میں امریکہ، جاپان اور آسٹریلیا شامل ہیں، کے ساتھ بڑھتا ہوا تناؤ ہے۔ دستاویز امریکی اقدامات کو خطے کے تزویراتی توازن کو کمزور کرنے کا باعث بیان کرتی ہے؛ جاپان پر الزام لگاتی ہے کہ وہ جنگ کے بعد اپنائی گئی تکنیکوں جو اسے جارحانہ صلاحیتیں بڑھانے سے روکتی ہیں، انہیں ختم کرنے کی کوشش کررہا ہے؛ اور آسٹریلیا کے بڑھتے ہوئے فوجی اخراجات پر تشویش کا اظہار کرتی ہے۔ دستاویز دلیل دیتی ہے کہ ایشیا پیسیفک میں معیشت اور تزویراتی مراکز میں تبدیلیوں کے سبب حصول طاقت کیلئے بڑے مقابلے نے خطے کو غیر متوازن کرنا شروع کردیا ہے۔

اس پس منظر میں وہ علاقے جن کے بارے میں چین واضح طور پر محتاط ہے، نئی دہلی کی جانب سے وہاں کسی قسم کی تزویراتی پیش رفت جیسا کہ بحیرہ جنوبی چین میں ویتنام کے ہمراہ تیل کی تلاش کا مشترکہ منصوبہ یا جنوب مشرقی ایشیا میں فوجی تعیناتی میں اضافہ چین کو مزید آگ بگولہ کرے گا۔ تشویش میں اضافے کا سبب وائٹ پیپر میں بطور خاص ان ممالک کو نشانہ بنایا جانا ہے جو بشمول بھارت  قواڈ کے اراکین ہیں،  جو”آزاد انڈو-سپیسفک” کو فروغ دینے کیلئے ۲۰۱۷ میں دوبارہ بحال ہونے والا ایک غیر رسمی گروہ  ہے۔ غالباً یہ چین کی خارجہ پالیسی کے ضمن میں بھارت کو فی الوقت کم حیثیت کی حامل طاقت  گرداننا ہے کہ جس کی وجہ سے وائٹ پیپر میں اسے اس تند و تیز لفظوں کی بوچھاڑ سے چھوٹ مل گئی جس کا نشانہ باقی کے قواڈ رکن ممالک بنے، نئی دہلی کو یہ سمجھنا ہوگا کہ معاشی اور فوجی اعتبار سے بڑھتی ہوئی اہمیت اسے بڑی طاقتوں کے بارے میں چینی ریڈار پر لے آئے گی اور مستقبل میں سلامتی اور تزویراتی میدانوں میں کواڈ کے ہمراہ کوئی بھی پیش رفت بیجنگ میں چین مخالف کے طور پر سمجھی جائے گی۔ ماضی میں، چینی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ بھارت کی طرف سے طاقت کے مغربی ادوار کی تائید لامحالہ دونوں ممالک کو مقابلے اور محاذ آرائی کی جانب لے جائے گی۔

وائٹ پیپر کا آخری اور غالباً سب سے اہم پہلو چین کا انفارمیشن، سائبر اور آؤٹر سپیس ملٹری ٹیکنالوجی کے میدان میں پیش رفت پر زور دینا ہے۔ ۲۰۱۵ کے دفاعی وائٹ پیپر میں ”انفارمیشن ٹیکنالوجی کے بل پر جنگ“ کے ابھرتے ہوئے رجحان کا محض حوالہ تھا ، جبکہ اس برس کا وائٹ پیپیر فوجی تنصیبات اور نظام کیلئے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے حصول اور نفاذ کیلئے پیپلز لبریشن آرمی ( پی ایل اے) کو باقاعدہ ۲۰۲۰ کا ہدف دیتا ہے۔ یہ چین سے یہ مطالبہ بھی کرتا ہے کہ وہ ایک ایسی جدید فوج تیار کرے جو ”جدید ترین ٹیکنالوجی“ استعمال کرے جیسا کہ مصنوعی ذہانت کا فوجی آپریشنز میں استعمال۔  مزید براں، وائٹ پیپر سائبر سپیس کے میدان میں صلاحیتوں میں اضافے کے علاوہ آؤٹر سپیس ٹیکنالوجی کو بہتر بنانا بھی چینی فوج کو جدید ترین خطوط پر استوار کرنے کے حوالے سے اہم ہدف کے طور پر شناخت  کرتا ہے، جو کہ ۲۰۱۵ کے دفاعی وائٹ پیپر میں شامل نہیں تھا۔

ماضی میں بھارت نے چین کی جانب  سے تسلسل کے ساتھ کئے جانے والے سائبر حملوں پر محدود ردعمل دیا ہے۔ تاہم سائبر اور آؤٹر سپیس کے میدان میں چین کے اداروں کی بڑھتی ہوئی تعداد اس کی جارحانہ صلاحیتوں میں تیزی سے آتی جدت اور مہارت کے آغاز کا پتہ دیتی ہے، جبکہ بھارت میں سپیس سیکیورٹی کے میدان میں مربوط حکمت عملی کی کمی، ان شعبوں میں کسی تنازعے کے بڑھنے کی صورت میں اس کے اثاثوں کو غیر محفوظ بنا سکتی ہے۔  دونوں طاقتوں کے درمیان موجود فوجی طاقت کے موجودہ فرق کو دیکھتے ہوئے چین کی جانب سے سائبر اور آؤٹرسپیس صلاحیتوں میں اضافہ بھارت کی سلامتی کی ناگفتہ بہ حالت کو مزید خرابی کی جانب لے جائےگا۔ چینی خلائی پالیسی کے ذیل میں شامل رسائی مخالف/ داخلے پر پابندی کی پالیسی کے پس منظر میں دیکھا جائے تو چین کی خلا میں مقابلے کی صلاحیتیں بھی مستقبل میں بھارت کیخلاف استعمال ہوسکتی ہیں۔

این ڈی ڈبلیو پی نے پوری دستاویز میں بھارت کا نام  فقط تین بار لیا ہے لیکن یہ فرض کرنے کیلئے کوئی دلیل موجود نہیں کہ چین کی تازہ ترین پالیسی ہدایات بھارت کوغیر متاثرہ چھوڑیں گی۔ اس کے مقابلے میں، وائٹ پیپر کے  مندرجات ایک ایسے طاقتور عدم تحفظ کا شکار پڑوسی پر روشنی ڈالتے ہیں جو ایسے وقت میں علاقائی اور عالمی غلبہ کیلئے توانائی صرف کررہا ہے جب اس کے دنیا کی بڑی طاقتوں کے ساتھ تناؤ سے لیس تعلقات ہیں، جس سے بھارتی جغرافیائی تزویراتی ماحول پر نمایاں اثرات ہوں گے جبکہ خود نئی دہلی عالمی سطح پر اپنے کردار کو طاقتور بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ لہذا، بھارت کو چاہئے کہ وہ چین کے حوالے سے اپنے مفادات اور صلاحیتوں کا بھرپور اور حقیقتمندانہ تعین کرے اور اسکے مطابق پالیسی ہدایات تیار کرے۔ دوئم یہ کہ چینی فوج میں آنے والی تیز رفتار جدت کو مدنظر رکھتے ہوئے بھارتی سائبر اور آؤٹر سپیس کے میدان میں طاقت کے حصول کیلئے  مقامی سطح کی تحقیقاتی صلاحیتوں کا استعمال، مستقبل میں چین کے ساتھ کسی تنازعے کی صورت میں بامعنی ڈیٹرنس کے طور پر بروئے کار لایا جاسکتا ہے۔ سب سے آخر میں یہ کہ ایشیا پیسیفک میں اپنی تزویراتی خود مختاری برقرار رکھنے اور خطے میں چینی جارحانہ رویئے کو قابو میں کرنے کیلئے امریکہ اور چین کے درمیان باریک بینی کے ساتھ توازن کا قیام نئی دہلی کیلئے ناگزیر ہے۔ چین کے عروج سے مطابقت اختیار کرنے کیلئے بھارتی پالیسی ساز کام کررہے ہیں اور ۲۰۱۹ کا وائٹ پیپر حوالے کیلئے اہم نکتہ ہوگا نیز مستقبل میں چین کے ساتھ بھارتی تعلقات کے زمرے میں اسے بطور بنیاد استعمال ہونا چاہئے۔ 

***

.Click here to read this article in English

Image 1: U.S. Defense Intelligence Agency via Joint Chiefs of Staff website

Image 2: AFP via Getty Images

Posted in , China, Defence, Foreign Policy, Geopolitics, India, Indo-Pacific, Security

Mayuri Banerjee

Mayuri Banerjee

Mayuri Banerjee is a doctoral candidate in the Department of International Relations at Jadavpur University, Kolkata, India. Her PhD topic is "Politics of Memory in Sino-Indian Ties post the 1962 war." Previously, she worked as a Research Assistant at the Observer Research Foundation. She holds a Bachelor’s and Master’s degree in International Relations and received the Indu Bhushan Putatunda and Shanti Shudha Putatunda Memorial Award as well as a Sylff Research Fellowship. Her research interests include security and conflict resolution in South Asia, postcolonial readings of international relations theory, and India-China relations post-1962 war.

Read more


Continue Reading


Stay informed Sign up to our newsletter below





Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *