3441137838_c1672d94d6_o-1095×616

دنیا بھر میں سائبر سیکیورٹی ڈھانچہ زیادہ پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے اور نظام میں موجود کمزوریوں اور ممکنہ بحران سے بچاؤ کیلئے جدید نوعیت کے حفاظتی طریقہ کار کی ضرورت بڑھتی جا رہی ہے۔ سلامتی کے ضمن میں سائبر خطرات بڑے چیلنجز میں سے ایک ہوتے ہیں۔ جوہری نظام کے معاملے میں یہ بالخصوص ناگزیر ہوتا ہے کیونکہ یہاں سائبر دراندازی حفاظتی اور سلامتی طریقہ کار کو غیرموثر بنا سکتی ہے۔ بھارت جو انتہائی ضخیم اور بڑھتا ہوا جوہری منصوبہ رکھتا ہے، اس کے معاملے میں بھی یہ صورتحال کچھ مختلف نہیں ہے۔ بھارت سمیت بہت سے ممالک نے  برسہا برس سے جوہری شعبے میں مادی حفاظتی طریقہ کار کی تیاری کیلئے بھاری پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں ہونے والی تیز رفتار پیش رفت کے سبب سائبر یا متعدد نوعیت کے حملوں کے امکانات زیادہ بڑھ چکے ہیں۔ جیسے جیسے جوہری انفراسٹرکچر  کا سائبر ٹیکنالوجی سے انضمام بڑھ رہا ہے،  ویسے ویسے اسے ہیک کرنے، مداخلت کرنے اور ممکنہ طور پر اسے سبوتاژ کرنے کے  خطرات بھی بڑھتے ہیں۔ کسی بھی سائبر حملے کے لیے فریق مخالف کا ہدف نظام  میں موجود کمزوریوں کا فائدہ اٹھانا اور پھر اسے قابو میں کرتے ہوئے اپنی موجودگی کو ثابت کرنا ہوتا ہے۔ سائبر حملے کا نتیجہ جوہری/ ریڈیوایکٹومواد کی چوری، دشمن کی بدنیتی کے باعث تابکاری، جوہری تنصیبات، ری ایکٹرز کے ڈیزائنز سے متعلقہ حساس معلومات کی چوری کی صورت میں ہو سکتا ہے۔ سائبر حملوں کے ذریعے جوہری تنصیبات تک رسائی کا نتیجہ براہ راست تنصیبات، مواد اور اس کے بارے میں معلومات تک مادی رسائی کی صورت میں ہوسکتا ہے  جو کہ سائبر اور جوہری سلامتی کے باہمی ربط سے جڑے چیلنجز میں اضافہ کرتا ہے۔ بھارت کے سویلین و عسکری جوہری منصوبوں میں مختلف ترجیحات اور رازداری کے درجات کی بنیاد پر علیحدہ علیحدہ حفاظتی طریقہ کار ہیں۔ تاہم عمومی طور پر جوہری مواد کی حساس نوعیت کے پیش نظر ملک کے جوہری انفراسٹرکچر کی سلامتی میں سائبر سیکیورٹی ایک لازمی جزو ہونا چاہیئے۔

بھارت کے جوہری منصوبے کے پس منظر میں سائبر سیکیورٹی سے جڑے چیلنجز سے درست حد تک نمٹنے کے لیے موجودہ پالیسی لائحہ عمل کا جائزہ لینا نیز ان کمزوریوں کی شناخت کرنا ناگزیر ہے جن کا سامنا ملک کی جوہری تنصیبات کی حفاظت پر مامور نظام کو ممکنہ طور پر ہو سکتا ہے۔ مزید براں جوہری نظام میں ہونے والی سائبر مداخلت اور اس سے حاصل ہونے والے اسباق بھی بھارت کے لیے ایسے خطرات سے نمٹنے کیلئے  موثر آگہی کا ذریعہ ہو سکتے ہیں۔ بھارت اس میدان میں قیادت کرنے والے ممالک جیسا کہ امریکہ اور جاپان کے بہترین اقدامات سے بھی سیکھ سکتا ہے۔ مزید براں بین الاقوامی  تنظیموں جیسا کہ آئی اے ای اے سے روابط  اور ایسے اداروں سے جاری کیا جانے والا متعلقہ تحریری مواد بھی جوہری نظام میں سائبر سیکیورٹی کو مضبوط بنانے کیلئے لازمی ہے۔ بھارت کی جوہری تنصیبات میں بڑھتے ہوئے سائبر سیکیورٹی چیلنجز کے لیے کثیرالجہتی سوچ کی ضرورت ہے۔ چونکہ بھارتی جوہری سلامتی اور حفاظتی انفرااسٹرکچر میں سائبر ٹیکنالوجیز شامل کی جاتی ہیں، ایسے میں پالیسی سازوں اور متعلقہ صنعتوں کے لیے لازم ہے کہ وہ بین الاقوامی سائبر سیکیورٹی روایات سے زیادہ گہرائی تک ہم آہنگ ہوں، سائبر-جوہری سلامتی طریقہ کار کو بہتر بنانے کیلئے ہم خیال ممالک کے ہمراہ تعاون کریں اور ملک کے لیے زیادہ مضبوط سائبر جوہری سلامتی لائحہ عمل کی تیاری کیلئے فعال طریقے سے کام کریں۔

بھارت میں سائبر-جوہری سلامتی کا تعلق

بھارت میں سائبر سیکیورٹی کو اس وقت بڑے پیمانے پر اہمیت ملی جب جون ۲۰۱۳ میں سنوڈن لیکس میں امریکی قومی سلامتی ایجنسی (این ایس اے) کے  بھارت سمیت متعدد ممالک کی نگرانی کرنے کا انکشاف ہوا۔ سنوڈن لیکس اور ۲۰۱۳ کی سائبر سیکیورٹی پالیسی کے اجراء کے بعد سے بھارت نے اپنے سائبر سیکیورٹی ڈھانچے اور حفاظتی اقدامات کو بہتر بنانے کیلئے اقدامات کیے ہیں۔ سائبر سیکیورٹی اگرچہ بھارت کے جوہری سلامتی کے ڈھانچے میں اہم کردار رکھتی ہے تاہم یہ بحث کی جا سکتی ہے کہ تیزی سے بڑھتے اور ارتقاء پذیر سائبر خطرات پر ردعمل کے لیے انفرااسٹرکچر کی تعمیر و مضبوطی پر معمولی زور دیا جا رہا ہے۔ مجموعی طور پر  بھارت کی سائبر سیکیورٹی پالیسی سائبر حملوں اور دراندازی کے خطرات سے نمٹنے کیلئے بدستور ناکافی ہے۔  بھارت میں ۲۰۲۰ کے دوران سائبر حملوں کی تعداد میں ۳۰۰ فیصد اضافہ ہوا ہے اور فروری ۲۰۲۱ میں بھارت اس وقت شہہ سرخیوں کا حصہ بنا جب یہ انکشاف ہوا  کہ ۲۰۲۰ کے موسم گرما میں ممبئی میں بجلی کی بندش کی ممکنہ وجہ لداخ جھڑپوں کے دوران چین کا اس کے پاور گرڈ ہیک کرلینا تھا۔

۲۰۱۳ میں بھارتی حکومت نے اپنی نوعیت کی پہلی قومی سائبر سیکیورٹی پالیسی جاری کی تھی۔ تاہم ، آٹھ برس بھی اس پالیسی پر نظرثانی کی جانی باقی ہے۔ بھارتی وزیراعظم مودی نے اگرچہ اعلان کیا تھا کہ ۲۰۲۰ میں  ایک نئی قومی پالیسی ترتیب دی جائے گی لیکن اس کا اجراء تاحال باقی ہے۔ مزید یہ کہ  بھارت کے جوہری شعبہ اور اس کے سلامتی  ڈھانچے کا رازداری کے پردوں میں ہونے کا مطلب یہ ہوا کہ ۲۰۱۳ کی پالیسی میں جوہری شعبے کا واشگاف الفاظ میں تذکرہ یا اس پر خصوصی توجہ پالیسی کا حصہ نہیں۔ جوہری پالیسیوں کی طرح سائبر سیکیورٹی بھی عوام میں کم بحث میں آنے والا موضوع ہے۔ لیکن یہ کہنا بددیانتی ہوگی کہ بھارت کی جوہری پالیسی میں سائبر سیکیورٹی طریقہ کار شامل ہی نہیں کہ جو جوہری تنصیبات کی حفاظت کر سکیں۔ بھارت کے پاس ایک ڈیفنس سائبر ایجنسی اور ایک نیشنل ٹیکنیکل ریسرچ آرگنائزیشن ہیں جو ملک کو لاحق سائبر سیکیورٹی خدشات اور خطرات سے نمٹنے کے طریقہ کار کے لیے ذمہ دارہیں۔ علاوہ ازیں بھارت کے پاس کمپیوٹر ایمرجنسی ریسپانس ٹیمز موجود ہیں جو اہم نوعیت کے سائبر انفرااسٹرکچر کی حفاظت کے لیے نیشنل کریٹیکل انفارمیشن انفرااسٹرکچر پروٹیکشن سینٹر اور نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی کے ہمراہ مل کے کام کرتی ہیں۔ نیشنل سائبر کوآرڈینیشن سینٹر (این سی سی سی) بھارت کی عملی طور پر سائبر سیکیورٹی اور انٹرنیٹ کی نگرانی کرنے والی ایجنسی ہے، اس کی اصل ذمہ داری ابلاغ کے میٹا ڈیٹا کی پڑتال اور ایجنسیوں کے درمیان انٹیلی جنس مواد کے سلسلے میں تعاون کرنا ہے۔ مزید براں بھارت کے پاس ایک کمپیوٹر اینڈ انفارمیشن سیکیورٹی ایڈوائزری گروپ (سی آئی ایس اے جی) ہے جو ”انفارمیشن سسٹمز کے وقفے وقفے سے آڈٹ  نیز سائبر حملوں سے نمٹنے کیلئے ہدایات جاری کرنے اور اس کے بھارتی جوہری انفرااسٹرکچرپر اثرات میں تخفیف“ کیلئے ذمہ دار ہے۔

بھارت نے سائبرسیکیورٹی سے جڑے بڑھتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے متعدد کلیدی نوعیت کے ادارے قائم کیے ہیں۔ تاہم اس کے جوہری شعبے میں  سائبر سیکیورٹی پالیسیوں کی اثرانگیزی کا تعلق سائبر سیکیورٹی، سائبر انفرااسٹرکچر اور اسے چلانے والے اداروں کا موثر طور پر ایک وسیع تر جوہری سلامتی لائحہ عمل میں شمولیت سے ہے۔ قابل اور موثر سائبر سیکیورٹی طریقہ کار کے لیے بین الادارہ جاتی ہم آہنگی کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ ان طریقہ کاروں کو مضبوط کیا جا سکے۔  سرکاری حکام کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ سائبر سیکیورٹی پروٹوکولز اور طریقہ کار کو قبول کریں، ان کے ساتھ رابطے میں رہیں اور ان کے ارتقاء کیلیے باقاعدگی سے کام کریں تاکہ  تیزی سے بدلتے ہوئے سلامتی کے ماحول کی عکاسی ہو سکے۔  ایک موثر سائبر سیکیورٹی پالیسی کیلیے حالات اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں ترقی کی مناسبت سے مختصرالمدتی اور طویل المدتی نفاذ وتبدیلیوں کے لیے کرداروں، ذمہ داریوں اور ممکنہ منصوبوں کی وضاحت کے ساتھ شناخت بھی ضروری ہوتی  ہے۔ اس کے علاوہ اہم ترین امر یہ ہے کہ بھارتی پس منظر میں سائبرخطرات کو سمجھنے پر زور دینے کی نئے سرے سے ضرورت اور سائبر جوہری سلامتی کی اہمیت کا اعتراف انتہائی ضروری ہے۔ اوپر بیان کیے گئے چیلنجز اور ضروریات سے نمٹنے کے لیے ایک سائبر جوہری پالیسی اختیار کرنے کی ضرورت ہے جو تمام اداروں میں کردار اور ذمہ داریوں کی واضح شناخت کے ساتھ ساتھ سائبر خطرات اور کمزوریوں سے نمٹنے کے طریقہ کار، مزاحمتی اقدامات کی تشکیل اور ہنگامی صورتحال کی بھرپور منصوبہ بندی کیلیے کام  کرے۔

جوہری شعبے میں سائبر حملوں کے خطرات

جوہری شعے میں سائبر خطرات قدرے مختلف نوعیت کی آزمائشوں کا سبب ہوتے ہیں جس کے لیے مطابقت  کے حامل پائیدار لائحہ عمل درکار ہوتے ہیں تاکہ مسلسل بدلتے ہوئے خطرات میں تخفیف ہو سکے۔ جوہری نظام پر سائبر حملوں کے متعدد ایسے واقعات ہیں جو بھارت جیسے ممالک کو جوہری میدان میں ابھرتے ہوئے سائبر خطرات سے نمٹنے کے لیے سیکیورٹی انفرااسٹرکچر کو سمجھنے اور بہتر طور پر تیار کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ 

ایران میں سائبر خطرے اور حملے، خاص کر ۲۰۱۰ کا اسٹکس نیٹ حملہ جو یورنیئم افزودہ  کرنے والے نتانز پلانٹ پر ہوا تھا، جوہری نظام کے حامل کسی ملک کے لیے سائبر حملوں اور سائبر جنگ کے خطرات کو واضح کرتا ہے۔ اسٹکس نیٹ انتہائی باریک بینی سے ترتیب دیا گیا خطرناک میل ویئر ثابت ہوا تھا جس نے متعدد ممالک کے سلامتی طریقہ کار پر گہرے اثرات چھوڑے تھے۔ حال ہی میں، ۲۰۲۱ میں نتانز پر حملے جس  نے کنٹرول سسٹمز کو نشانہ بنایا اور افزودہ یورینیئم تخلیق کرنے والے سینٹری فیوجز کو بجلی کی فراہمی منقطع کی تھی، سائبر شعبے کی باریکیوں اور صلاحیتوں کو واضح کرتا ہے۔ سیاسی مفادات اور اثرات کو ایک جانب رکھ دیا جائے تو بھی ان دراندازیوں کے سلامتی پر اثرات بذات خود پریشان کن ہیں۔ بھارت کے بہترین مفاد میں یہی ہوگا کہ وہ عالمی حادثات سے سبق سیکھے اور ملکی سلامتی کے طریقہ کار کو مزید مضبوط بناتے ہوئے فوری نوعیت کے خطرات سے فعال طریقے سے نمٹے نیز سائبر سیکیورٹی کی فرسودہ اور کمزور ٹیکنالوجیز کو جدید ترین بنانے یا انہیں بدلنے کیلئے ان حادثات کو بطور مثال استعمال میں لائے خواہ یہ ایڈمنسٹریٹو کمپیوٹر نیٹ ورکس کی شکل میں ہوں (جیسا کہ کونڈکلم واقعے میں ہوا) یا پھر سیکیورٹی طریقہ کار میں ہوں جو جوہری تنصیبات میں پر خطر ٹیکنالوجیز کے نفاذ کا باعث ہوتے ہیں۔

جیسے جیسے بھارت کے جوہری عزائم میں اضافہ ہو رہا ہے، ویسے ہی سائبرمیدان میں خلا اور کمزوریوں کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔ یہ کمزوریاں ۲۰۱۹ میں تامل ناڈو میں کوڈن کلم جوہری بجلی منصوبے اور کرناٹکا میں انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن ہیڈکوارٹر پر میل ویئر حملے میں نمایاں طور پر دکھائی دیں۔ یہ سائبر دراندازی دراصل ڈی ٹریک کے نام سے پہچانے جانے والے ایک میل ویئر کی تبدیل شدہ شکل کے ذریعے ہوئی تھی۔ اسے ماضی میں بھارت میں معاشی اداروں پر حملے کے لیے استعمال کیا گیا تھا اور شمالی کوریا سے تعلق رکھنے والے لازارس گروپ نے تیار کیا تھا۔ یہ واقعہ اس امر کی ایک مثال ہے کہ ممالک کیوں اپنے سائبرجوہری سلامتی انفرااسٹرکچر سے مطمئن نہیں ہو سکتے یا انہیں نہیں ہونا چاہیئے۔

خوش قسمتی سے یہ میل ویئر ایڈمنسٹریٹو سسٹمز تک محدود رہا تھا۔ پلانٹ کو قابو میں کرنے یا پرزہ جات تک رسائی میں میل ویئر کی ناکامی کا سہرا ”ایئر گیپس“ نامی رسائی روکنے والے آلے کو جاتا ہے۔ ایئر گیپس سے مراد  ایسے ”کمپیوٹرز اور نیٹ ورکس ہوتے ہیں جو براہ راست انٹرنیٹ سے یا دیگر انٹرنیٹ کے حامل کمپیوٹرز سے منسلک نہیں ہوتے ہیں۔“ تاہم جہاں ایئرگیپس نے کوڈن کلم حادثے میں زیادہ شدید دراندازی کو روکنے میں مدد دی تھی، وہیں ماہرین نے مشاہدہ کیا کہ ”جوہری تنصیبات میں سائبر دفاع کے لیے استعمال ہونے والی بہت سے روایتی طریقہ کار بشمول فائر وال، اینٹی وائرس ٹیکنالوجی، اور ایئر گیپس آج کے دور کے کثیرالجہتی خطرات سے نمٹنے کے لیے کافی نہیں ہیں۔“ اس واقعے کے بعد سی آئی ایس اے جی نے  فوری اور مختصرالمدتی اقدامات تجویز کیے جیسا کہ ”انٹرنیٹ اور ایڈمنسٹریٹوانٹرانیٹ کے انسلاک میں سختی، علیحدہ کیے جانے کے قابل ڈیوائسز پر پابندی، ایسی ویب سائٹس اور آئی پیز جو مشکوک سرگرمیوں میں ملوث پائی گئی ہوں ان کو بلاک کرنا وغیرہ۔“

اگرچہ یہ غور تسلی بخشتا ہے کہ اہم جوہری سسٹمز میں دراندازی نہیں ہوئی تھی لیکن یہ واقعہ اس حملے میں سامنے آنے والی کمزوریوں کے بارے میں سنجیدہ نوعیت کے خدشات اٹھاتا ہے نیز عوام میں جوہری توانائی کے حوالے سے پہلے سے ہی محدود اعتماد کو ممکنہ طور پر مزید کم کرتا ہے۔ مختصرالمدتی اقدامات اگرچہ ضروری ہیں لیکن اگر یہ بڑے پیمانے پر طویل المدتی پالیسی میں تبدیلی سے میل نہ کھائیں تو ایسے میں یہ سائبر سیکیورٹی کی مجموعی اثرانگیزی میں اضافے میں معمولی کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ مختصرالمدتی اقدامات جیسا کہ سی آئی ایس اے جی نے تجویز کیا، اہم ہیں تاہم یہ محض ردعمل ہیں۔

قومی سائبر جوہری پالیسی، روایتی طریقہ کاروں (مثلاً ایئر گیپس اور فائروالز) کو تازہ ترین کرتے ہوئے تیزی سے ارتقاء پذیر ٹیکنالوجی کے ماحول سے مطابقت کی حامل ہمہ جہت سائبر سیکیورٹی حکمت عملی میں ڈھال سکتی ہے جو نتیجے میں  جوہری انفراسٹرکچر کی مزاحمتی صلاحیت کو بڑھائے گی۔

سائبر جوہری سیکیورٹی بین الاقوامی پس منظر میں: بھارت کے لیے سبق اور تجاویز

سائبر سیکیورٹی محض ایک قومی سطح کی آزمائش نہیں ہے۔ یہ عالمی سطح پر ممالک کو متاثر کرتی ہے اور لہذا اس کے لیے عالمی سطح کے حل کی ضرورت ہے۔ جوہری پس منظر میں، یہ از حد ضروری ہے کہ ایک جیسی ہم خیال قومیں تعاون کریں، کارآمد معلومات کا تبادلہ کریں اور سائبر حملوں کے بڑھتے خطرات سے نمٹنے کے لیے بہترین طریقوں کا تبادلہ کریں۔ ایسے بہت سے ممالک ہیں جیسا کہ امریکہ اور جاپان جن کے پاس اپنے جوہری نظام کے لیے جدید ترین اور طاقتورترین سائبر سیکیورٹی نظام موجود ہیں۔ ایسے ممالک متعلقہ خطرات سے نمٹنے کیلئے سائبر میدان میں ہونے والی پیش رفت اور جدت کے ساتھ فعال طور پر رابطے میں  رہتے ہیں تاکہ مزاحمتی اقدامات اور ہنگامی منصوبہ بندی کو مسلسل بہتر بنایا جاتا رہے۔ ایسے بین الاقوامی کرداروں کے ہمراہ تعاون بھارت کو سیکھنے کا موقع دے گا اور ان سیکھے گئے اسباق اور بہترین روایات کو ملکی سائبر جوہری انفرااسٹرکچر سے متعلقہ شعبوں میں ان کے نفاذ کا موقع دے گا۔

متذکرہ ممالک جن کے ہمراہ بھارت سویلین جوہری تعاون کے معاہدوں پر دستخط بھی کر چکا ہے، ان سے تعاون کے علاوہ بھارت برطانیہ اور روس جیسے شراکت داروں کے ہمراہ بھی تعاون کرسکتا ہے تاکہ بہتر سائبر جوہری انفرااسٹرکچر سے لیس ہوا جا سکے۔ یہ معاہدے تعاون کے وسیع تر مواقع کا احاطہ کرتے ہیں جیسا کہ معلومات کا تبادلہ، ری ایکٹر کے ڈیزائن پر ماہرانہ مشورے، جوہری حفاظت وغیرہ۔ موجودہ عالمی جوہری پس منظر میں سائبر سیکیورٹی کی بڑھتی ہوئی اہمیت کے پیش نظر بھارت کو چاہیئے کہ ان معاہدوں کے ذریعے تعاون سائبر جوہری میدان تک وسیع کرے۔ یہ ٹیکنالوجی و ماہرین کے تبادلے،  معلومات کے تبادلے کے معاہدوں  نیز جوہری نظام کے سیکیورٹی انفرااسٹرکچر کوبہتر بنانے کیلئے مشترکہ مشقوں اور ورکشاپس کے ذریعے ممکن ہوسکتا ہے تاکہ سائبر چیلنجز سے نمٹا جا سکے۔

مزید براں بھارت کیلئے یہ سود مند ہوگا کہ اگر وہ  سائبر میدان میں نجی شعبے کے ساتھ گہرے روابط قائم کرے۔  بھارت نے عمومی طور پر جوہری میدان میں نجی شعبے کی مداخلت کو محدود رکھا ہے۔ بھارت کا بڑی حد تک مقامی سطح پر تیار کیا گیا جوہری ہتھیاروں کا منصوبہ اور سویلین استعمال کے لیے جوہری توانائی کی صلاحیتیں مکمل طور پر حکومت کے قابو میں ہیں۔ اسی طرح جوہری تحفظ اور ملکی سلامتی کے لائحہ عمل بھی کلی طور پر سرکاری ایجنسیوں کے زیرنگیں ہیں۔ تاہم سائبر سیکیورٹی چیلنجز کے ضمن میں بالخصوص، بہت کچھ سیکھنے اور سائبر جوہری سلامتی کی روایات میں اپنانے کی ضرورت ہے۔ نجی کردار خواہ اداروں کی شکل میں ہوں یا انفرادی شخصیات کی، اپنی بدنیتی یا پھر اخلاقی عزائم کی بنیاد پر  سائبر سیکیورٹی کے تصور کو مسلسل چیلنج کر رہے ہیں۔ اس کیلئے اس شعبے کے ماہرین کی شمولیت برطانیہ جیسے ممالک کی سائبر سیکیورٹی پالیسیز کا حصہ رہا ہے، اور بھارت کو بھی چاہیئے کہ ملکی سائبر سیکیورٹی پالیسی میں اسی طرح کے ملتے جلتے تعاون کو شامل کرے۔

آخر میں، سائبر خطرات  کے ضمن میں بھارت کے جوہری نظام کے حوالے سے تشویش کی بنیادی وجہ پالیسی لائحہ عمل کے واضح، جامع اور اس کی مضبوطی پر توجہ کی کمی ہے۔  سائبر جوہری پالیسی کی کمی اس کی کمزوریوں، تعلیم و آگاہی کی کمی جیسے مسائل کے ساتھ ساتھ ایجنسیوں کے مابین وسیع تر تعاون اور سائبر خطرات پر ردعمل  کے حوالے سے صورتحال کی ابتری میں مزید اضافہ کرتی ہے۔ سائبر خطرات مسلسل بڑھ  رہے ہیں اور سائبر شعبے کی کثیرالجہتی نوعیت یہ حکم دیتی ہے کہ جوہری سلامتی کے ڈھانچے میں سائبر سیکیورٹی کو ترجیح دینے کی ضرورت ہے۔ جوہری میدان میں سائبر سیکیورٹی کو بھی اسی درجے کی مانند توجہ کی ضرورت ہے جو کہ اندرونی خطرات اور مادی حفاظت کو دی جاتی ہے۔ 

کونڈکلم واقعے کی بدولت نمایاں ہونے والے مسائل سے نمٹنے کے لیے مختصرالمدتی  اقدامات سامنے آئے۔ تاہم یہ سمجھنا بے حد ضروری ہے کہ ایک کامیاب سائبر سیکیورٹی پالیسی وہ ہوتی ہے جو زیادہ کثیرالجہتی طرز پر سائبر سیکیورٹی خطرات سے مسلسل نمٹتی رہتی ہے اور سائبر خطرات سے طویل عرصے تک نمٹنے کے لیے اسے کارآمد رکھنے کے لیئے کام کرتی ہے۔ بھارت کا موجودہ سائبرجوہری سیٹ اپ، سائبر خطرات سے نمٹنے کے ضمن میں وسیع تر پالیسی لائحہ عمل کو مناسب اہمیت نہیں بخشتا ہے۔ اس سلسلے میں بذریعہ سائبر جوہری پالیسی،   بھارت کے جوہری انفرااسٹرکچر میں سائبر سیکیورٹی طریقہ کاروں اور ان کی موثریت کا وقفوں کے ساتھ جائزہ لیا جانا ضروری ہے تاکہ ان خطرات سے نمٹنے کے لیے بہتر جوہری انفرااسٹرکچر سے لیس رہا جا سکے۔  جوہری سازوسامان اور انفرااسٹرکچر کی حساس نوعیت کے پیش نظر ایسی پالیسیز کی تخلیق ضروری ہے جو مختصرالمدتی اور طویل المدتی دونوں طرح کے حل پیش کریں اور بدلتی ہوئی  سلامتی کی ضروریات و پس منظر کے مطابق خود کو ہم آہنگ کریں۔ مزید براں ابھرتے ہوئے خطرات جو اب زندگی کا ناگزیر حصہ بن چکے ہیں، ان کے خلاف فعال طریقے سے ردعمل دینے کے لیے اپنی صلاحیتوں کی تعمیر، انہیں بہتر بنانے اور ان میں ارتقاء کے لیے اس شعبے میں اتحادیوں سے تعاون بھارت کے لیے ایک کلیدی موقع ہے۔

Click here to read this article in English.

Image 1: IAEA Imagebank via Flicker 

Image 2: via Wikimedia Commons

Share this:  

Related articles

بھارت میں ۲۰۲۱ کا جائزہ: اختلاف رائے کو دبانے کا ایک اور سال Hindi & Urdu

بھارت میں ۲۰۲۱ کا جائزہ: اختلاف رائے کو دبانے کا ایک اور سال

۲۰۲۱ کے سیاسی منظرنامے پر بھارت ایک بار پھر وہیں…

جنوبی ایشیا میں سائبر سیکیورٹی کے لیے دوطرفہ لائحہ عمل کی تشکیل Hindi & Urdu

جنوبی ایشیا میں سائبر سیکیورٹی کے لیے دوطرفہ لائحہ عمل کی تشکیل

۲۰۱۹ میں کونڈکلم میں واقع بھارت کے سب سے بڑے…

پاکستان کے لیے اہم غیر نیٹو اتحادی کا درجہ کھو دینے کا کیا مطلب ہوگا؟ Hindi & Urdu

پاکستان کے لیے اہم غیر نیٹو اتحادی کا درجہ کھو دینے کا کیا مطلب ہوگا؟

سقوط کابل کے بعد سے پاکستان اور امریکہ محتاط طریقے…