سی پیک کی راہ میں کیا رکاوٹیں ہیں؟

پچھلے سال، جب چینی صدر شی جین پینگ نے ۴۶ ارب ڈالر کے”سی پیک” منصوبے  کا اعلان کیا تو پاکستان میں خوشی کی لہر دوڑگئی۔ پاکستانی حکومت کی نظر میں اس منصوبے سے پورے خطے میں  خاطرخواہ تبدیلی پیدا ہو گی۔ حکومت کی اس مسرت کی وجہ کسی حد تک اس کی اپنی ڈانواڈول معاشی کارکردگی ہے، جس کی وجہ سےسی پیک کو پاکستان کے لئے ایک بڑے گیم چینجر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ مگر فی الوقت، سی پیک کی کامیابی کی راہ میں تین بڑی رکاوٹیں حائل ہیں۔

صوبائی آزردگی

جب سی پیک کا ابتدائی اعلان ہوا تو پاکستان کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں نے اس کی بھرپور حمایت کی؛ اس میں پاکستان مسلم لیگ (نواز) بھی شامل تھی۔ تاہم، جب اقتصادی طور پر چھوٹے صوبوں، جیسا کہ خیبر پختونخواہ اور بلوچستان، کی سیاسی جماعتوں نے محسوس کیا کہ ان کے سی پیک سے متعلقہ تحفظات پر غور نہیں کیا جا رہا، تو وہی جوش و خروش ایک گہری تشویش میں تبدیل ہو گیا۔

وزیرِ اعظم نواز شریف اب تک دو مرتبہ “آل پارٹیز کانفرنس” کی سربراہی کر چکے ہیں تاکہ ان صوبوں کی شکایات کا جائزہ لیا جا سکے۔ خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کی علاقایئ سیاسی جماعتوں نے بھی صوبوں کے خدشات پر روشنی ڈالنے کے لئے “آل پارٹیز کانفرنسز” کا انعقاد کیا ۔ معاملہ اتنا سنجیدہ ہو گیا کہ چین نے بھی اس بارے میں بیان جاری کرنا ناگزیر سمجھا۔ اسلام آباد میں چینی سفارتخانے کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ “تمام متعلقہ جماعتوں کو اس معاملے میں اپنے روابط اور تعاون کو مضبوط بنانا چاہئے۔” پاکستان کی تاریخ ایسے کئی تشویشناک واقعات سے بھری پڑی ہے جب بڑے ترقیاتی منصوبے سیاسی جھگڑوں کی بھینٹ چڑھ گۓ ۔ اندیشہ یہ ہے کہ سی پیک کو بھی ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایسے ناخوشگوار واقعات کی یاددہانی کے لئے کالاباغ ڈیم کا ناکام تجربہ کافی ہونا چاہئے۔

گلگت-بلتستان کا قانونی درجہ

پاکستان یہ دعویٰ کرتا ہے کہ آزاد کشمیر پر اس کو نیم خودمختارانہ اقتدار حاصل ہے، مگر چینی حکام شائد اس دعوے پر پوری طرح قائل نہیں ہو سکے۔ گلگت کے کچھ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ یہی وجہ ہے کہ اب اسلام آباد میں گلگت-بلتستان کو پاکستان کے پانچویں صوبے کی آئنی حیثیت دینے پر غور کیا جا رہا ہے۔

گلگت کو صوباٰئی درجہ دینا ایک جرأت مندانہ قدم ہو گا۔ یہ خطہ جموں کشمیر کے متنازعہ علاقے میں شامل ہے، اس لئے بھارت بھی اس پر دعویٰ کرتا ہے۔ پاکستان نے ہمشہ اس خطے میں مسئلہ کے حل کے لئے رائے شماری کا مطالبہ کیا ہے۔ اگر اب پاکستان اس علاقے میں اپنی پالیسی تبدیل کرتا ھے تو اسے اپنے کئ دہایئوں پرانے مطالبے سے پیچھے ہٹنا پڑے گا اور مسئلے کا حل اقوامِ متحدہ کے ذریعے کرنا لازمی ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ، ایسا کرنے سے یہ خدشہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ جواب میں بھارت مقبوضہ کشمیر کے کچھ حصّوں کو اپنی سرحدوں میں شامل کر لے گا۔ پاکستان کے لئے گلگت-بلتستان چین میں داخلے کا ایک اہم باب ہیں، مگر اس کے باوجود سی پیک کے تحت اس خطے میں کوئی “ہائڈروپاور (پن بجلی) اسکیم،” اقتصادی زون”،” یا کوئی اور “انفراسٹرکچر” کے ترقیاتی منصوبے تجویز نہیں کئے گئے، جبکہ اس علاقے میں ایسے منصوبوں کی سخت ضرورت ہے۔ گلگت-بلتستان ایک پسماندہ علاقہ ہے، اس کا قانونی درجہ کمزور ہے، اور اس کو سی پیک میں منصفانہ حصہ نہیں دیا جا رہا۔ ان سب وجوہات سے سی پیک کے لئے بے شمار مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔

سیکورٹی خطرات

پاکستان کا سیکورٹی ماحول بھی سی پیک کے لئے کئ مسائل کا باعث ہے۔ سی پیک کا پراجیکٹ کاشغر سے شروع ہو کر گلگت-بلتستان اور خیبر پختونخواہ اور پھر بلوچستان سے گزرے گا۔ گلگت-بلتستان کے برعکس، خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کو پیچیدہ سکیورٹی مسائل کا سامنا ہے کیونکہ ایک لمبے عرصے سے اس علاقے میں عسکریت اور علیحدگی پسند عناصر موجود رہے ہیں۔  حکومت نے چینی ایجنیئرز اور سی پیک کی پوری تجارتی شاہراہ کی حفاظت کے لئے ایک آرمی میجرجنرل کی سربراہی میں دس ہزار سے زائد فوجی اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ان اہلکاروں کی علاقے میں تعیناتی شروع ہو چکی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خارجہ پالیسی میں اختلافات کے باوجود، سی پیک کے اہم سٹریٹیجک معاملے پر سیاسی اور عسکری قیادت ایک صفحے پر ہیں۔ تعمیراتی تیزی اور حفاظتی اقدامات سے چینی کارکن تو اپنا کام کم سے کم مشکلات میں کر سکیں گے، تاہم بلوچستان میں بدامنی کی مکمل روک تھام ایک زیادہ مشکل امر ہو گا۔ علیحدگی پسند عناصر چینی کارکنوں کو بار بار نشانہ بنا چکے ہیں اور ریاست بھی بدستور ان کے حملوں کا شکار ہے۔

چینی ایغور عسکریت پسندوں کا مسئلہ بھی معاملے کی کشیدگی میں اضافہ کرتا ہے۔ چینی حکام ایغور عسکریت پسندوں کی افغان طالبان اور القاعدہ سے تعلقات کے بارے میں خاصے محتاط ہیں۔ حالیہ چین کے ان اسلامی عسکریت پسندوں نے حکومت کے خلاف اپنی جنگ وسیع کر دی ہے، اور ان کے پاکستان کے شمال مغربی علاقوں میں موجود دہشت گرد جماعتوں سے تعلقات ہونے کا یقین بھی پایا جاتا ہے۔ اسلام آباد اپنی سرحدوں میں موجود چین مخالف عناصر کو شکست دینے کا بھرپور عزم رکھتا ہے۔ تاہم، ایغور اور طالبان کا متحد ہو کر سی پیک کو نقصان پہنچانے کا خطرہ بدستور باقی ہے۔

بلاشبہ چین ان پیچیدگیوں سے بخوبی آگاہ ہے۔ اس منصوبے پر فیصلہ کرتے ہوئے چین نے پاکستان کے مسلسسل سیکورٹی خطرات اور سیاسی مسائل کو نظرانداز نہیں کیا ہو گا۔ اور پھرنصف صدی کے بہترین پاک-چین تعلقات نے چین کو اتنے وسیع منصوبے کا آغاز کرنے کا اعتماد دیا۔ تاہم پاکستان کے ناقابلِ اعتبار حالات کی وجہ سے چین کومنصوبے کی تکمیل تک بہت محتاط اور چوکس رہنا پڑے گا۔

***

Image: SM Rafiq Photography, Getty

Posted in , China, Economics, Pakistan, Security

Muhammad Daim Fazil

Muhammad Daim Fazil

Muhammad Daim Fazil is a lecturer in the Department of International Relations at the University of Gujrat, Sialkot Campus, Pakistan. He was July 2016 SAV Visiting Fellow at Henry L. Stimson Center, Washington DC. He has previously worked as a Media Researcher and Coordinator at Pakistan's state-run TV channel PTV NEWS. He holds an MSc degree in International Relations from the University of Sargodha, and an M.Phil in International Relations from National Defence University, Islamabad. His areas of interest include South Asia, Sino-Pak relations, and Afghanistan. He can be reached at daimfazil[at]gmail[dot]com.

Read more


Continue Reading




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *