پاناما پیپرز اور پاکستان: حکومت اور عسکری قیادت میں تفریق

پاناما لیکس نے پاکستان میں ایک تہلکہ مچا دیا، جب وزیرِ اعظم نواز شریف اور ان کے اہلِ خانہ کی غیر ملکی کمپنیوں اور “آف شور اکاؤنٹس” میں خفیہ دولت کی خبریں سامنے آنے لگیں۔ جب حکومت نے اس معاملے پر کسی بھی قسم کے تحقیقاتی اقدامات اٹھانے سے گریز کیا تو آرمی چیف راحیل شریف نے اپنے ایک بیان میں وسیع پیمانے پر احتساب کی ضرورت پر زور دیا۔ اس کے اگلے ہی روز چند حاضر سروس فوجی افسران کو بدعنوانی کے الزام میں اپنے عہدوں سے برطرف کر دیا گیا۔ عموماً سیاست دانوں کی بدعنوانی کے انکشافات کے بعد پاکستانی عوام بےبسی سے خاموش ہو جاتے ہیں، مگر اس مرتبہ فوج کے رد عمل کی بدولت ایسا نہیں ہوا۔ فوج کا اس معاملے میں ملوث ہونا خوش آئند ہے اگرچہ اس سارے معاملے کے پیچھے  فوج کا ہی نافذکردہ قانون ہے۔ پھر بھی، اب چونکہ حزبِ اختلاف اور عوام اس مسئلہ پر بیدار ہو چکے ہیں، آئندہ مستقبل میں پاناما لیکس کا سکینڈل مرکزِ توجہ بنا رہے گا۔

وزیرِ اعظم نواز شریف کی دل کی سرجری اور اس کے نتیجے میں ملک سے طویل غیر موجودگی کے باوجود پانامالیکس کا مسئلہ برقرار ہے۔ ناصرف یہ، بلکہ یہ بھی ثابت ہو گیا کے ان کے بغیر حکومت بخوبی چل سکتی ہے۔  اس غیر موجودگی سے نواز شریف کے مخالفین کوان کی معذولی کے مطالبات کرنے کا بھی سنہری موقع مل گیا۔ مخالفین نے وزیرِ اعظم کی وطن واپسی اور ان کے سوالات کی جوابدہی کرنے تک پارلیمانی “سیشنز” میں حصہ لینے سے انکار کیا۔  حزبِ اختلاف نے ، جس میں تحریکِ انصاف، پاکستان عوامی تحریک اور پیپلز پارٹی شامل ہیں، شریف خاندان کے خلاف “نیب” میں ریفرنس بھی درج کروایئ۔ ان جماعتوں نے الیکشن کمیشن کے پاس بھی شکایت درج کرایئ جس میں نواز شریف کے الیکشن کی نامزدگی کے کاغذات میں بیرونی اثاثے نہ دکھانے کے بنیاد پرانہیں نااہل قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا۔

فوج کی مداخلت کی وجہ سے نواز شریف نے اپنے اہلِ خانہ سمیت خود کو احتساب کے لیے عدالت کے سامنے پیش کرنے کا اعلان کیا، اور کہا کہ اگر ان پر لگائے ہوئے الزامات ثابت ہو گئے تو وہ وزیرِ اعظم کے عہدے سے مستعفی ہو جایئں گے۔ اس طرح جنرل شریف کے احتساب پر زور دینے سے سیاسی حکومت کے لئے ایک مثال قائم ہوئی، خاصکر جب خبریں ابھرنے لگیں کہ فوج کے عہدے سے ہٹا دینے والوں میں ایک تین سٹار جنرل بھی شامل ہیں۔ فوجی حکام نے برطرف ہونے والوں کی تعداد یا ان پر لگائے ہوئے الزامات کی کوئی تفصیلات نہیں پیش کیں۔

پاکستان میں فوج کی جمہوریت کے دائرہ کار میں مداخلت پر ایک عرصہِ دراز سے بحث چل رہی ہے۔ مگر فوج کا یوں اندرونی سطح پر دیانت داری اور “پروفیشنلزم” پر زور دینا ایک خوش آئند پیشرفت ہے۔ جنرل شریف کے بیان اور فوجی افسران کی برطرفی کے بعد عسکری اور سیاسی قیادت میں بڑے عہدہ داروں کا بغور جائزہ لیا جانے لگا۔ انہی پیشرفتوں کی بدولت میڈیا کی بھی حوصلہ افزایئ ہویئ اور اور جنرل مشرف کے اثاثوں پر بھی تحقیق شروع ہویئ۔ اس کے نتیجے میں یہ خبریں موصول ہونے لگیں کہ “انکوائری کمیشن” جنرل مشرف سے ان کے “آف شور اکاؤنٹس” میں بڑی تعداد میں دولت کی منتقلی کے بارے میں پوچھ گچھ کرے گا۔

پیپلز پارٹی اور نون لیگ کے بیچ پاناما لیکس کے معاملے کا مک مکا کرانے کے سمجھوتے کے بارے میں افواہیں غلط ثابت ہو چکی ہیں۔ بلاول بھٹو نے یہ پیش گویئ کی تھی کہ نواز شریف وطن واپسی کے بعد بھی پاناما لیکس کے مسئلے سے اپنی جان نہ چھڑا پایئں گے۔ حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے پاناما لیکس کی تحقیقات پر ایک مرتبہ پھر گفتگو شروع کر دی ہے، تاکہ حکومت کے تاخیری حربوں سے ان کے اتفاق کو نقصان نہ پہنچے۔ آپوزیشن جماعتیں بظاہر اس بات پر بھی متفق ہیں کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ سڑکوں پر نکل کر حکومت کے خلاف مظاہرے کریں گے۔ تحریکِ انصاف نے اس معاملے میں پہل کر کے اگست کے مہینے میں ملک بھر میں بدعنوانی کے خلاف مہم چلانے کا اعلان کیا ہے۔

آج پاک فوج کی پاکستانی سیاست کی اعلیٰ تفہیم کو سراہا جا رہا ہے، مگر ستم ظریفی تو یہ ہے کہ پاناما لیکس کے اس تمام تر معاملے میں کسی حد تک فوج کا ہی ہاتھ ہے۔ جنرل مشرف نے “نیشنل ریکنسیلیشن آرڈنینس” یا “این آر او” نافذ کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس کے تحت بےنظیر بھٹو کو اپنے خلاف درج بدعنوانی کے مقدموں کی جوابدہی کئے بغیر وطن واپس لوٹنے کی اجازت ملی۔ این آر او کا فائدہ نواز شریف نے بھی اٹھایا۔ این آر او کی ہی وجہ سے سیاستدانوں کی بدعنوانی سے نمٹنے کی ایک منفی مثال قائم ہو گئی۔ بعد میں مشرف نے این آر او کو ایک سیاسی غلطی تسلیم کیا، اور قوم سے معافی بھی مانگی۔

اس کے باوجعد، پاناما لیکس میں فوج کے کردار کی وجہ سے عوام کا رد عمل تبدیل ہوا ہے، کیونکہ عموماً عسکری یا سیاسی قیادت کے بدعنوانی اور بددیانتی کے ایسے کھلے واقعات کے بعد عوام بےبسی اور لاچاری کی وجہ سے لاپرواہی کا رویہ اختیار کر لیتی ہے۔ پاناما لیکس پر تحقیقات کا نتیجہ چاہے جو بھی ہو، بدعنوانی کے سامنے عوام کی خاموشی اب معمول نہیں رہے گی۔ اب چونکہ عوام حرکت میں آ چکی ہے، یہ مسئلہ نواز شریف اور نون لیگ کی حکومت کو آئندہ مستقبل میں پریشان رکھے گا۔

***

Image: Rizwan Tabassum-AFP, Getty

Posted in , Pakistan, Politics

Amina Afzal

Amina Afzal

Amina Afzal is an Islamabad-based researcher with an MSc in Defence and Strategic Studies from Quaid-i-Azam University. She recently graduated from the Monterey Institute of International Studies with a certificate in Non-Proliferation Studies. She worked as a GRA for the CNS James Martin Center for Non Proliferation Studies.

Read more


Continue Reading




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *